| Back | Home | |
||
|
دھوپ ڈھل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ فاطمہ رضوی
’’رونمائی کا تحفہ پسند آیا مژگان بیگم؟‘‘ سلگتے ہوئے انگارے کی مانند سنسناتا لہجہ اور خنجر کی نوک کی طرح کٹیلے الفاظ‘ جس نے اس کی تمام حسوں کو مفلوج کردیاتھا۔ آنکھوں میں تمسخرانہ رنگ لئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے استفسار کررہاتھا اور دوسری جانب مژگان حیدر پتھر کا بت بنی بس ایک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی۔ کہ ابھی وہ کہے گا’’ارے مژگان میں تو مذاق کررہاتھا ۔ اوروہ کہے گی کہ یہ کیسامذاق ہے جس نے میری جان ہی نکال دی۔‘‘ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا وہ ہنوز تنفر وتحقیر کے رنگ چہرے پر سجائے کسی فاتح جنرل کی طرح اپنی جیت کے نشے میں ڈوبا مکروہ ہنسی ہنس رہاتھا۔ ’’کیا ہوا‘ خوشی سے سکتہ ہوگیا ؟‘‘وہ اس کے قریب آکر انتہائی معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کربولا۔ اس سمے مژگان کے منجمد ذہن نے شعور کی وادی میں قدم رکھا۔ وہ انتہائی تیزی سے پیچھے ہٹتی چلی گئی۔مارے استعجاب وصدمے کے اسے لگا جیسے اس کا سارا جسم شل ہوگیا ہو اور زبان جیسے کٹ گئی ہو۔ مژگان کی ساکت وصامت آنکھوں میں حیرت وبے یقینی اور غم وغصے کے رنگ بیک وقت ابھرے تھے۔ ’’یہ…یہ کیا ہے آزرملک؟‘‘انتہائی دقتوں سے اس نے اپنے حلق سے یہ الفاظ نکال کر ہونٹوں کی جانب دھکیلے۔’’مم میرا قصور کیا ہے؟‘‘ ہونٹ ایک بار پھر ساکت ہوگئے۔وہ ابھی تک پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے ہاتھ میں پکڑے پیپر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا غذ کے پرزے کو رنج وصدمے سے دیکھتی تو کبھی حیرت واستعجاب میں گھر کر سامنے کھڑے آزر ملک کو۔ جو کل رات ہی اسے بیاہ کر اپنے گھر میں لایا اور ساری رات گزرنے کے بعد جب فجر کے وقت کمرے میں قدم رنجہ فرمائے تو رونمائی میں یہ کاغذ کاچھوٹا سا ٹکڑا اسے تھمادیا۔ جس نے اس کی ذات کی دھجیاں بکھیردی تھیں۔ جس نے اسے شدید غم وصدمے کی عمیق وادیوں میں دھکیل دیاتھا اور صرف ایک ہی پل میں اس کی جگنو جیسی آرزوئیں تتلی کی مانند رنگ برنگی خواہشات ‘ وہ سنہرے خواب اور روپہلے ارمان جو وہ اپنے پلّو میں باندھ کر لائی تھی راکھ کاڈھیر بن گئے۔ یہ پرزہ نہیں آگ کا ایسا گولہ تھا جس نے اس کی روح کو پوری طرح سے جھلسا کر رکھ دیاتھا۔ جس نے اسے زمین میں پڑے اس سوکھے پتے کی مانند حقیر کردیاتھا جو لوگوں کے قدموں تلے آکر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔ روح تو اس کی ریزہ ریزہ ہوہی گئی تھی اب وہ اس جسم کو کیسے بچائے گی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ ایک طلاق یافتہ لڑکی کو معاشرے میں موجود زہریلے ناگ کیسے قدم قدم پر ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک طلاق یافتہ لڑکی ’’لڑکی‘‘نہیں رہتی بلکہ ایک انتہائی ترحم آمیز چیز بن جاتی ہے جس سے ہر کوئی بنائوٹی ہمدردی جتا کر اپنے مفاد پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ’’آہ آذر ملک…! تم نے میرے کس گناہ کی اتنی بھیانک سزا دی ہے کہ میری ہستی مٹی بھی ہوجائے گی لیکن یہ سزا ختم نہیں ہوگی۔‘‘ مژگان جو رات بھر آذر کے کمرے میں نہ آنے کی وجہ سے عجیب قسم کے خوف وخدشات میں گھرگئی تھی۔ وہی خوف وخدشات حقیقت کا پیراہن پہنے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ دکھ کی تند وتیز لہر نے اس کے وجود کو پوری طرح سے لپیٹ میں لے لیا‘ وہ بے تحاشا رودی۔ آذر ملک اسے پھوٹ پھوٹ کے روتا دیکھ کر ایک لمحے کو نادم سا ہوا لیکن اگلے ہی پل انتقام وبدلے کی آگ تیزی سے بھڑک اٹھی۔ جسے مژگان کے آنسو بھی بجھانے میں ناکام رہے۔ ’’ہاں… ایسے ہی وہ بھی تو روئی تھی۔ اپنی بربادی پر‘ کتنی بے بسی تھی اس کی آنکھوں میں ‘ کتنی بے چارگی تھی اس کی سسکیوں میں‘ کتنا اذیت ناک کرب تھا اس کے چہرے پر‘ جیسے وہ جان کنی کے عالم سے گزررہی ہو۔‘‘ آذر ملک خودفراموشی کے عالم میں بولتا چلا گیا۔ مژگان نے بے حد چونک کر سراٹھایا۔ آج میرا انتقام پورا ہوگیا مژگان حیدر! جس کی آگ میں‘ میں پورے دوسال سے جل رہاتھا۔ میرا دل سلگتا ہوا انگارہ بن گیا تھا۔ لیکن آج‘ آج میں پرسکون ہوگیا ۔‘‘وہ سرشاری سے بولا۔ ’’کون وہ… آذر ملک کون وہ؟ جس کا انتقام تم نے مجھ سے اتنابھیانک لیا۔ آخر کیا بگاڑاتھا میں نے اس کا‘ جس کے جواب میں تم نے مجھے صرف ایک رات بعد ہی طلاق۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں بولتے بولتے چپ ہوگئی۔ آنسوئوں کا گولہ گویاحلق میں پھنس سا گیا۔ ’’شکر کرو مژگان حیدر‘ میں نے تمہارے ساتھ کچھ رعایت برتی ہے بلکہ کافی رعایت برتی ہے۔ کیونکہ میں کامران حیدر کی طرح اتنا رزیل اور بدکار آدمی نہیں ہوں‘ اگر ایسا ہوتا تو تمہارے ساتھ اتنا برا سلوک کرتا کہ تمہارے خاندان کی سات نسلیں بھی اسے فراموش نہیں کرپاتیں۔‘‘ وہ تنفرآمیز لہجے میں انتہائی رعونت سے ہنکارا بھرتے ہوئے بولا۔ اس کی سرخ آنکھوں میں گویا شعلے لپک رہے تھے۔ ’’کامران بھیا۔‘‘ اس کا وجود جیسے زلزلوں کی زد میں آگیا۔ ’’تم…تمہاری کامران بھیا سے کیا دشمنی تھی؟جس کا تاوان تم نے میری ہستی کی دھجیاں اڑاکے وصول کیا؟‘‘ مژگان حیرت کے سمندر سے بمشکل خود کو نکال کر بولی۔ ’’کامران حیدر جومژگان کا سگا بھائی تھا۔ جو دوسال پہلے ہی اپنی خالہ زاد روما سے شادی کرکے آسٹریلیا جابساتھا۔ آخر اس نے ایسا کیا کیا؟ جس کاانتقام آذر ملک نے مجھ سے لیا۔ مژگان کے دماغ میں یہ سوال بری طرح چکرانے لگا۔ ’’آذر پلیز‘ مجھے بتائو بھیا نے ایسا کیا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے میری زندگی برباد کردی۔‘‘ وہ انتہائی بے چینی وبے قراری کے عالم میں بولتے بولتے پھر سے رودی۔ اور اپنی چھوٹی نند اسے ہمیشہ تنکے کی مانند آنکھوں میں کھٹکتی تھیں۔ جبکہ مسز حیدر کا سلوک اپنی بہو کے ساتھ شفقت آمیز تھا۔ عظمیٰ بیگم فی الحال مصلحت وخاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے تھیں۔ کیونکہ عظمیٰ کے باپ محبوب مرزا نے مہران حیدر کا سرپرست بن کر اس کے بزنس میں اپنا کافی کنٹرول رکھا ہوا تھا۔ عظمیٰ سے چھوٹی روما بھی خاصی مکار تھی۔ نجانے کب اس نے کامران حیدر کو اپنی زلف کے شکنجے میں جکڑ لیاتھا۔ مسز حیدر کو کوئی اعتراض نہیں تھا‘ لہٰذا دونوں کو منگنی کے بندھن میں باندھ دیاتھا۔ اس رشتے سے عظمیٰ بیگم بہت خوش تھی کیونکہ اس طرح گھر میں پورا ہولڈصرف ان کا ہوجائے گا۔ روما اور کامران دوسال پہلے شادی کرکے آسٹریلیا چلے گئے تھے۔ مہران حیدر کی ایک بیٹی عبیر اور بیٹا عمیر تھا۔ جبکہ روما اور کامران فی الحال اس علت میں پڑنا نہیں چاہتے تھے۔ نجانے مسز حیدر کی تربیت میں کیا کمی رہ گئی تھی کہ کامران حیدر ایسے لڑکوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا تھا جن کا مشغلہ معصوم اور بھولی بھالی لڑکیوں کو محبت کے پرفریب جال میں پھنسا کر اپنا مقصد پور اکرناتھا۔ کچھ کامران حیدر بھی فطرتا دل پھینک اوررنگین مزاج قسم کا لڑکا تھا۔ یونیورسٹی میں اسے نشاء جیسی معصوم اور پرکشش لڑکی ٹکراگئی حالانکہ کامران روما سے منسوب تھا لیکن باہر کی لڑکیوں کے حسن اور نسوانی کشش سے فائدہ اٹھانا اسے برا نہیں لگتا تھا۔ جبکہ نشاء سچ مچ کامران جیسے آوارہ صفت بھونرے سے محبت کربیٹھی اور کامران حیدر نے اس کی آنکھوں میں محبت وچاہت کی خوشنماپٹی باندھ کر اس کا سب کچھ چھین لیا۔ جب نشاء نے شادی پر زور دیا تو اس نے راستہ بدلنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا ۔ اب نشاء کی کشش بھی کامران کے لئے ختم ہوچکی تھی۔ باہر جانے کے لئے وہ کافی عرصے سے کوشش کررہاتھا۔ نشاء سے جان چھڑانے کے لئے وہ روما سے شادی کرکے آسٹریلیا بھاگ گیا اور وہاں کی رنگینیوں میں روما کے ساتھ کھو کر نشاء کو بالکل فراموش کرگیا اور آج وہ دو سال بعد اپنی پیاری سی بہن کی شادی میں پاکستان آیا تھا جس کی گریجویشن کرتے ہی جھٹ پٹ شادی طے ہوگئی تھی۔ آذر ملک کے ساتھ جو بہت بڑے بزنس کا مالک تھا۔بزنس کے سلسلے میں ہی وہ مہران حیدر سے ملا۔ مہران حیدر آذر سے کافی متاثر ہواتھا۔ آذر ملک دو تین بار گھر بھی آیا اور وہیں مژگان کو دیکھ کر اس نے اپنارشتہ پیش کردیا جسے کامران حیدر نے فوراً قبول کرلیا اور آذر ملک نشاء کا بھائی تھا ‘جوکامران حیدر سے بدلہ لینے آیا تھا۔ ان دنوں جب نشاء کے ساتھ یہ حادثہ ہوا لندن میں مقیم تھا۔ بہن پر گزرنے والے سانحہ کا پتہ چلا تو بھاگ کر پاکستان آیا۔ مارے ندامت وشرم کے نشاء بھائی کے سامنے بھی نہیں آئی۔ وہ خود ہی اس کے کمرے میں گیا۔ مسز ملک نے اسے کامران حیدر کے بارے میں سب کچھ بتادیاتھا‘جو انہوں نے نشاء سے پوچھا تھا۔ اسے نشاء پر اس بات کا غصہ تھا کہ وہ کیوں کامران حیدر کے فریب میں آگئی‘ لیکن اس کی اجاڑ صورت اور آنکھوں میں ویرانی دیکھ کر وہ اپنا غصہ بھول گیا اور اسے گلے لگا کر بچوں کی طرح رودیا اور پھر اسی رات نشاء نے بلیڈ سے اپنے ہاتھ کی نس کاٹ ڈالی اور ہمیشہ کے لئے خود کو لمبی نیند سلادیا۔ وہ جونیند کی اتنی کچی تھی کہ ذرا سی آہٹ پر چونک کر اٹھ جاتی تھی۔ مرنے کے بعد بھی اس کے معصوم چہرے پر دکھ واضمحلال کے رنگ اور اضطراب کا عکس نمایاں تھا۔ آذر کو ایسا لگ رہاتھا کہ سختی سے بھینچی ہوئی زندگی سے محروم مردہ آنکھوں میں ابھی بھی آنسو موجود ہیں۔ ان ساکت وصامت ہونٹوں پر بہت سی آہیں اور سسکیاں باہر نکلنے کو مچل رہی تھیں۔ آذر ملک انتقام واشتعال کی زد میںآکر کامران حیدر کوشوٹ ہی کردیتا لیکن نشاء کے صدمے میں مسز ملک کو سخت ہارٹ اٹیک ہوا۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کا بتایا تو یوں وہ اپنا انتقام فی الفور ایک طرف رکھ کر ماں کی تیمارداری میں لگ گیا۔ وہ انہیں لندن اپنے ساتھ لے آیا۔ مسز ملک کا آپریشن تو ہوگیا لیکن ان کی صحت دن بہ دن گرتی چلی گئی اور ایک دن خود بھی نشاء کے پاس چلی گئیں۔ ان دو سالوں میں آذر نے کافی ٹھنڈے دماغ سے کامران سے بدلہ لینے کا سوچا اور پھر اسے یہ راستہ سب سے بہترین نظر آیا کہ کامران حیدر کو اسی کی بہن کے ذریعے ایسی سزا دی جائے کہ موت کے بعد بھی اسے سکون نہ مل سکے۔ اور وہ جو سوچے سمجھے پلان کے تحت اس گھر میں آیا تھا‘آج اس کا پلان انتہائی کامیابی سے دوچار ہواتھا۔ |
||