’’شرم تو نہیں آتی، پاکستانی فلموں پر انگلش فلموں کو ترجیح دیتے ہوئے۔ یہ ہمارا کلچر تو پورٹریٹ نہیں کرتیں۔‘‘
حدید نے اسے غیرت دلانی چاہی۔
’’اگر لاچے پہن کر زیورات سے لدی پھندی، ناچتی کودتی، کھیت تباہ کرتی ہیروئن ہماری ثقافت کا حصہ ہے تو پھر کہو؟ ہالی وڈ والوں کو تو ہم بے حیا، کافر کہہ کر مووی کا نہ دیکھنے والا سین فارورڈ کر دیتے ہیں مگر تم یہ بتائو کہ جب یہی صورتِ حال پاکستانی فلم دیکھتے ہوئے بھی درپیش ہو تو ہمیں کیا کہنا چاہئے؟ اور پھر مجھے ذرا یہ تو بتائو کہ آج کل کون سی پاکستانی مووی ہے، جو ہم بلا جھجک اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں جس میں ہماری ثقافت، ہمارا کلچر پیش کیا گیا ہو؟‘‘
اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے وہ اسے مطلع کرنے والے انداز میں بولا۔ ’’یہ اس سال کی بہترین فلم ہے جو تُو نے ابھی دیکھی ہے۔‘‘
’’ہو گی یار! میں کب کہہ رہا ہوں کہ نہیں ہے۔ لیکن تُو میرا ٹیسٹ جانتا ہے۔‘‘ وہ اطمینان سے بولا۔
’’پانچ دفعہ میں سینما پر یہ مووی دیکھ چکا ہوں۔ ہر بار نیا مزا آیا ہے۔‘‘ وہ بہت لہک کر کہہ رہا تھا۔ زاہد نے کراہ کر اسے دیکھا۔
’’میرا خیال ہے، تُو پاگل ہو گیا ہے۔‘‘
’’بکواس نہیں کرو۔‘‘ وہ آرام سے کہتا کارپٹ پر نیم دراز ہوا اور دو کشن اوپر تلے سر کے نیچے رکھ لئے۔ ’’پتہ نہیں، تمہیں محبتیں جمع کرنے کا جنون کیوں ہے؟‘‘ زاہد نے طویل سانس لی تھی۔
’’نشہ ہے اس میں بھی۔۔۔۔۔۔۔ تجھے کیا خبر؟‘‘ وہ آنکھیں موند کر شرارت آمیز لہجے میں بولا۔
’’چلو مان لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ ’’اور‘‘ کی ہوّس کیوں ہے تمہیں؟‘‘ زاہد تقریباً زچ ہو کر پوچھ رہا تھا حالانکہ یہ بحث ہفتے میں ایک بار ضرور ہوتی تھی اور تمام سوال و جواب دونوں کو، رٹ چکے تھے مگر پھر بھی عادتاً ایک آدھ جھڑپ اس موضوع پر ضرور ہو جاتی تھی۔
’’اور کی ہوّس نہیں ہے، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ یار! مجھے ورائٹی چاہئے۔‘‘ وہ جھلّا کر بولا تو زاہد کو ہنسی آ گئی۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورائٹی کیسی؟‘‘
’’سیدھی سی بات ہے یار! ماں باپ سے لے کر دوسرے تمام رشتوں کی محبتیں مجھے حاصل ہیں، سوائے شادی سے پہلے والی محبت کے۔‘‘ قدرے جھنجلاہٹ بھرے انداز میں بات شروع کرنے کے بعد آخر میں اس کا انداز خواب ناک سا ہو گیا تھا۔ زاہد نے قدرے تاسف سے سر ہلایا۔
’’شرم کرو ذرا، اتنی فضول فلمیں دیکھو گے تو یہی اثرات رونما ہوں گے۔ مجھے دیکھ لو، فُل ایکشن فلمیں دیکھتا ہوں مگر مکھی تک نہیں ماری۔ ایک تُو ہے کہ سوار کر کے بیٹھ گیا ہے رومانس کو سر پر۔‘‘
’’یہ میری نیچر ہے۔ فلمیں میں نے بچپن سے دیکھنا شروع نہیں کیں۔‘‘ وہ سکون سے بولا۔ یہ بات زاہد بہت اچھی طرح جانتا تھا مگر وہی بات کہ اس موضوع پر نت نئی بحث کرنا ان دونوں کا مشغلہ تھا۔
’’چہ۔۔۔۔۔۔۔۔ چہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بری قسمت پائی ہے تم نے۔ ماتھا جا کے پھوڑا بھی تو چنگیز خان کی رشتے دار سے۔‘‘
زاہد بظاہر تو ہمدردی جتا رہا تھا مگر حدید اس کے انداز میں چھپی شرارت اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ وہ بھڑک اُٹھتا اگر زاہد نے اس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ نہ رکھا ہوتا تو۔ وہ اطمینان سے بولا۔
’’اب تم دیکھنا، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اب تو منگیتر ہے میری یار!‘‘
’’ہاں۔‘‘ زاہد بے اختیار ہنسا۔ ’’مگر صرف منگیتر ہی ہے، ہیروئن نہیں۔ یہ مت سمجھنا کہ وہ تم سے میٹھی میٹھی باتیں کرے گی یا آدھی آدھی رات تک فون پر حالِ دل سنائے گی۔‘‘
’’کیوں نہیں سنائے گی؟‘‘ حدید کو اس کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
’’اس لئے میری جان! کہ تجھے لفٹ تو اس نے تب بھی نہیں دی تھی، جب وہ صرف تیری ’’پھوپھی کی بیٹی‘‘ تھی۔‘‘ زاہد ہنسا۔
’’یہی تو پوائنٹ ہے۔ اسی لئے تو منگیتر بنایا ہے اسے۔ یار! تھوڑا انجوائے تو کرنا چاہئے نا ہر رشتے کو۔‘‘ وہ سرشاری سے بولا۔
’’تو شادی کر لینا یار!‘‘ زاہد نے مشورہ دیا۔
’’یعنی بِنا محبت کے؟‘‘ وہ بھویں اُچکا کر بولا۔
’’بکواس نہیں کرو۔ تمہارا کیا مطلب ہے کہ میاں بیوی میں محبت نہیں ہوتی؟‘‘ زاہد خفگی سے پوچھ رہا تھا۔
’’نری مجبوری ہوتی ہے۔ ان دونوں کے پاس اور کوئی چوائس ہی نہیں ہوتی، سوائے ایک دوسرے سے محبت کرنے کے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہو، جو مجھے بے انتہا چاہے۔ میں اس سے دور رہوں تو مجھے مس کرے۔ اپنی چاہتوں کا اظہار کرے۔‘‘
’’ہاں اور تُو ایک ڈائیلاگ بولے تو وہ چار ڈائیلاگز بول دے۔‘‘ اس کے بے خود سے انداز کو زاہد نے تُند لہجے میں کاٹا۔ وہ ٹیمپو خراب ہونے پر اسے گھورنے لگا۔ پھر بولا۔
’’تو کیا غلط ہے اس میں؟ رضی کی منگیتر کو دیکھا ہے۔ ایک دن اُسے فون نہ کرے تو چار دفعہ کال کرتی ہے اُسے؟‘‘
’’حالانکہ اس کی کوئی تک نہیں ہے۔‘‘ زاہد کُڑھا۔
’’کیا بے تکی بات ہے اس میں؟‘‘ وہ بحث پر اُتر آیا۔
’’منگنی کوئی مضبوط رشتہ نہیں ہوتا۔ یہ تو بس ایک معاہدہ ہوتا ہے یعنی لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کے لئے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی کوئی قانونی حیثیت ہمارے مذہب تک میں نہیں ہے۔ پھر لڑکیاں کیسے اپنے جذبات اور احساسات ایک قطعی غیر محرم سے شیئر کر سکتی ہیں۔ بہت غلط ہے یہ۔‘‘
زاہد بالکل سنجیدہ تھا۔
’’منگنی بھی ایک باقاعدہ رشتہ ہوتا ہے۔‘‘ حدید نے لقمہ دیا۔
’’مگر غیر محرم۔‘‘ زاہد نے فوراً کہا۔ ’’اور کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی غیر محرم سے لڑکیاں رومانس بگھار سکتی ہیں۔‘‘
’’تم اس بات کو مذہب کے حوالے سے کیوں دیکھتے ہو؟ معاشرتی نظریے سے دیکھو۔‘‘ وہ چِڑ کر بولا تو زاہد نے تاسف سے اسے دیکھا، پھر طنزاً بولا۔
’’آگاہ کرنے کا شکریہ۔ میں یہ سوچے ہوئے تھا کہ ہم اسلامی معاشرے میں رہ رہے ہیں۔‘‘
’’میرا مطلب یہ نہیں تھا۔‘‘ وہ شرمندہ ہوئے بغیر بولا۔ مگر زاہد نے اسے صفائی پیش نہیں کرنے دی۔
’’تمہارا بالکل یہی مطلب تھا۔ تم چاہتے ہو کہ تمہاری منگیتر تم سے فلمی انداز میں اظہارِ محبت کرے۔ اپنی بے قراریوں کی داستانیں تمہیں سنائے۔‘‘
’’ہاں۔ اور میرے ساتھ ڈوئٹ گائے۔ یہ کہنا تم شاید بھول گئے ہو۔‘‘ زاہد کے تُند لب و لہجے کو اس نے تپ کر کاٹا تو وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بھی ہنس دیا۔
’’تیرا کوئی اعتبار بھی نہیں۔‘‘
’’ویسے ایسا ہو بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
’’میں بالکل مائنڈ نہیں کروں گا۔‘‘ وہ شرارت سے آنکھ دبا کر ہنسا تو زاہد نے بھی اس بار اُس کا ساتھ دیا تھا۔