Aanchal Khanis

Back | Home |  

دانش کدہ……مشتاق احمد قریشی
شیطان کی حقیقت قرآن کی روشنی میں
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


ترجمہ :۔اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ’’حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورانہ کیا۔میرا تم پر کوئی زور تھا ہی نہیں میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیاکہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اورتم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔اب مجھے الزام نہ دو‘خود اپنے آپ کو ملامت کرو‘یہاںنہ میں تمہاری فریادرسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریادرسی کرسکتے ہو۔اس سے پہلے جو تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اس سے میں بری الذمہ ہوں‘ایسے ظالموںکے لئے دردناک عذاب کی سزا یقینی ہے۔ (ابراہیم۔ ۲۲)
آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے روز محشر کانقشہ کھینچا ہے جب سب کی سب مخلوقات کو زندہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیاجائے گا اور ہر ایک کا حساب ہورہا ہوگا۔ جب راہ حق پر چلنے والے اہل ایمان کو جنت کی طرف بھیج دیاجائے گا تو اہل دوزخ کا حساب کتاب شروع ہوگا تب اللہ تبارک وتعالیٰ اہل دوزخ جنہوں نے اپنی دنیا کی زندگی اپنے حساب سے عیش وآرام میں شیطان کے بہکائے میں آکر اس کی پیروی کرتے گزاری ہوگی دریافت کرے گا کہ تم نے راہ حق کیوں نہیں اپنائی جبکہ تمہیں ہر قسم کی ہدایت ورہنمائی پہنچادی گئی تھی جیسا کہ اس سورۂ کی آیت ۲۱ میں ارشاد باری ہے وہ جواب دیں گے اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھاتے اب تو سب یکسا ں ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر دونوں ہی برابر ہیں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘ اہل جہنم آپس میں ہی باتیں کریں گے کہ جنیتوں کو جنت اس لئے ملی ہے کہ وہ اللہ کے سامنے روتے اورگڑگڑاتے تھے۔ آئو ہم بھی اللہ کی بارگاہ میں آہ وزاری کریں شاید اللہ ہمیں بھی معاف کردے۔پھر وہ خوب روئیں گے آہ وزاری کریں گے لیکن انہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ پھر وہ باہم مشورہ کریں گے کہ جنتیوں کو جنت ان کے صبر کی وجہ سے ملی ہے آئوہم بھی صبر کرتے ہیں‘ پھر وہ صبر کا بھرپور مظاہرہ کریں گے‘لیکن انہیں اس کابھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ پھر وہ سب کے سب کہیں گے اب ہم چاہے کچھ بھی کرلیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘اب چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ان اہل دوزخ کی یہ گفتگو ومکالمے قرآن حکیم میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً سورۃ مومن ۴۷‘۴۸ سورۃاعراف ۳۸‘۳۹ سورۃ الاحزاب ۶۶‘۶۸ اس کے علاوہ آپس میں بھی جھگڑیں گے اورایک دوسرے پہ الزامات لگائینگے امام ابن کثیر کے قول کے مطابق ان کا جھگڑا میدان حشر میں ہوگا اس کی تفصیل سورۃ سبا کی آیت ۳۱‘ ۳۳ میں بیان فرمائی گئی ہے۔جب اہل جہنم میں چلے جائیں گے تو شیطان ان جہنمیوں سے کہے گا‘ تمہارے گلے شکوے اس حد تک تو درست ہیں کہ اللہ سچا ہے اور میں جھوٹا ہوں‘ اللہ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے‘ وہ حق تھے‘ ان کے مقابلے میں میرے تمام وعدے توسراسر دھوکہ اور فریب تھے‘ میں نے تمہیں جو امیدیں دلائیں جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیئے‘ جن خوش نما توقعات کے جال میں تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر تمہیں یہ یقین دلایا کہ اول تو آخرت کچھ نہیں ہے بس یہ دنیا ہی دنیا ہے وہ سب تو میرا ڈھکوسلا تھا اور یہ بھی کہ جب میں نے تمہیں سمجھایا کہ فلاں حضرت بڑے پہنچے ہوئے ہیں ان کی تصدیق سے تم صاف بچ نکلوگے‘ بس ان کی خدمت میں نذرو نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو پھر جو جی چاہے کرتے پھرو تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں حضرت جی ہیں نا‘نجات کا ذمہ ان کا ہے یہ ساری باتیں تو میرا وہ حربہ تھیں جن میں پھنسا کرمیں نے تمہیں راہ حق سے ہٹایا میں نے تو تمہیں صرف مشورہ ہی دیا تھا عمل تو تم نے خود کیا تھا قصور تو سراسر تمہارا ہے کہ تم نے کیوں میری بات مانی۔
وہ اپنی صفائی میں کہے گا کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم خود راہ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں راہ حق سے ہٹایا تو ضرور ثابت کرو پھر جو چاہو مجھے سزا دو میں مان لوں گا‘تم خود اگر چاہتے اور کوشش کرتے تو دعوت حق کو قبول کرتے میں نے تو صرف اتنا کیا ہے کہ حق کے مقابلے میں تمہیں باطل کی دعوت دی‘ سچائی کے مقابلے میں جھوٹ وفریب کی طرف تمہیں بلایا‘ نیکی کے مقابلے میں بدی کی طرف تمہیں پکارا اس کی سزا مجھے ملی ہے میں بھی تمہارے ساتھ جہنم واصل ہوچکا ہوں لیکن تمہیں جو سزا ملی ہے اس کے ذمہ دار تم خود ہو اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تمہاری اپنی ہے۔ میری باتوں میں نہ کوئی دلیل تھی نہ ہی کوئی حجت -نہ میرا کوئی تم پردبائو تھا‘ میری بے دلیل پکار کو تم نے مان لیااور اللہ کے پیغمبروں کی دلیل وحجت سے بھرپور باتوں کو تم نے رد کیا تھا۔ سورۃ النساء آیت ۱۳۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’شیطان ان سے وعدے کرتا اور آرزوئیں دلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکہ ہیں۔‘‘
ترجمہ :۔ اور جب ہم نے فرشتوں کوحکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا‘ وہ جنوں میں سے تھا‘ اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی‘ پھر بھی تم اسے اوراس کی اولاد کومجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنارہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے‘ ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدل ہے۔ (الکھف۔۵۰)
آیت مبارکہ میں جہاں فرشتوں کا حکم الٰہی سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے بارے میں ذکر فرمایا گیا ہے وہیں اس بات کی خبر بھی دی جارہی ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہیں بلکہ وہ جنوں میں سے تھا‘ اس کامطلب ہے کہ ابلیس جن تھا فرشتہ نہیں تھا چونکہ وہ فرشتوں کے ساتھ موجود تھا اس لئے وہ بھی اس حکم میں شامل تھا لیکن جن اللہ کی صاحب اختیار مخلوق ہیں اس لئے اس نے اپنے اختیار سے کام لے کر اللہ کی نافرمانی کی۔ آیت مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ایسے تمام بندوں کو آگاہ فرما رہا ہے جو یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ابلیس بارگاہ الٰہی کامردود ولعین اور راندہ درگاہ ہے اوراللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں بھی بار بارارشاد فرما رہا ہے کہ ابلیس تمہارا کھلا دشمن ہے اس لئے جو بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان اور اس کی ذریت کو دوست بنائے گا یعنی احکام الٰہی سے انحراف کرے گا اور شیطان کی پیروی کرے گا وہ درحقیقت خود پر بڑا ہی ظلم کرے گا ایسے لوگوں کو اور اہل ایمان کویہ اطلاع بھی دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان ظالموں کو ان کے برے اعمال کابڑا ہی برا بدلہ دے گا‘ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کی بہتری اور فلاح چاہتا ہے اس لئے اس نے بار بار ہر قوم قبیلے میں اپنی ہدایت ورہنمائی کے لئے اپنے پیغمبر بھیجے تاکہ اس کے بندے باخبر رہیں کہ شیطان جس کی وہ پیروی کررہے ہیں وہ نہ صرف ان کا دشمن ہے بلکہ وہ تو روز اول سے تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی دشمن چلا آرہا ہے‘ انسان سے اس کی دشمنی میں کمی کے بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سخت ترین تنبیہہ اور ہدایت وتاکید کے باوجود بھی انسان اپنے اختیار






سے اگر کام لے کر اللہ کی راہ نہ اپنائے اور احکام الٰہی پر عمل پیرانہ ہو تو یقنـاً وہ خود اپنے آپ سے دشمنی کرے گا اور اللہ کے نزدیک اس کاشمار ظالموں میں ہوگا اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اپنے رحم کے سائے سے بھی دور کردیتا ہے اور روزِ آخرت انہیں ان کو بداعمالی کی پوری پوری سزا ملے گی یہی نصیحت و خبر اس آیت مبارکہ میں دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ جو بڑا ہی رحیم و کریم اور پروردگار ہے وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا بلکہ جو لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کیلئے قرآن حکیم میں ہر قسم کی ہدایت ارشاد فرمادی ہے جیسا کہ الکھف کی آیت ۵۴ میں ارشاد ہوا ہے۔
ترجمہ :۔ ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کو(سمجھانے) کیلئے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ (الکھف‘۵۴)
آیت مبارکہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے انسان کو حق کاراستہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ہر وہ طریقہ استعمال کیا جس سے انسان کو سمجھایاجاسکتا ہے۔ یعنی‘ وعظ‘ تذکرہ‘ امثال‘ واقعات‘دلائل‘ وبراہین اس کے علاوہ بھی انہیں بار بار اور مختلف انداز بیان سے سمجھایا گیا ہے یعنی جہاں تک دلیل وحجت کاتعلق ہے قرآن نے حق واضح کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی‘ دل ودماغ کومتاثر کرنے کے جتنے مؤثرطریقے ممکن ہیں اختیار کئے گئے لیکن انسان سخت نادان اور جھگڑالو ہے اس لئے اس پر نہ تو وعظ ونصیحت کااثر ہوتاہے نہ ہی دلائل وبراہین کا‘ اور اگر انسان اس کے باوجود بھی نہ سمجھے اور اللہ کی اور اس کے احکام کی تکذیب ونافرمانی کرے تو پھر ان کے لئے اللہ کی وعید ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کاانتظار کریں ایسے لوگ بغیر سزا کے سیدھے نہیں ہوتے‘ یعنی جب کوئی شخص یاگروہ دلیل وحجت اورتمام خیرخواہانہ نصیحت کے مقابلے میں جھگڑالوپن پر اتر آتا ہے اور انحراف کرتے ہوئے حق کامقابلہ جھوٹ ا ور مکر و فریب سے کرنے لگتا ہے اور اپنے کرتوتوں کابراانجام دیکھنے سے پہلے کسی کے سمجھانے سے اپنی غلطی ماننے پرتیار نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دل پر مہر لگادیتے ہیں قفل چڑھا دیتے ہیں اور وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جو بڑا ہی رحیم و کریم ہے وہ اپنے تمام ہی بندوں سے بڑے رحم کامعاملہ فرماتا ہے بندہ چاہے کتناہی نافرمان کیوں نہ ہو‘ اللہ تعالیٰ کایہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت کسی سے کوئی خطا کوئی قصور سرزد ہواسے اسی وقت پکڑ کر سزا دے ڈالے۔ وہ مالک وخالق جس کی شان کریمی ورحیمی بے پناہ ہے وہ مجرموںکو پکڑنے میں جلدبازی سے کام نہیں لیتا مدتوں انہیں سنبھلنے سدھرنے کاموقع دیتا رہتا ہے‘مگر سخت نادان ہیں وہ لوگ جو اللہ کی اس ڈھیل‘ اس کرم کو غلط سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ کچھ بھی کرتے رہو کچھ نہیں ہوگا۔ان سے کبھی باز پرس نہیں ہوگی‘ لیکن جب اس کو پکڑآجاتی ہے توپھر انسان کو کوئی راستہ نہیں ملتا اللہ کی گرفت سے بچنے کااور کوئی دوسرا ایسا راستہ ہے ہی نہیں جو کسی بندے کو اللہ کی پکڑ سے بچاسکے۔
ترجمہ :۔پس وہ تمام کے تمام سب گمراہ لوگ جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیئے جائیں گے۔ اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر بھی وہاں آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ کہ قسم اللہ کی! یقینا ہم تو کھلی غلطی پر تھے۔ (الشعرأ۔۹۴ تا۹۷)
آیاتِ مبارکہ میں ارشاد باری تعالیٰ کے ذریعے ایسے تمام لوگوں کو خبردار اور ہوشیار کیا جارہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت وبندگی چھوڑ کر دوسروں کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے اور احکام الٰہی سے ان کے کہنے سے انحراف کرتے یاانہیں نظرانداز کرتے ہیں ان کے بارے میں اطلاع دی جارہی ہے کہ نہ صرف ایسے تمام افراد جو لوگوں کو بہکاتے اور اللہ کی راہ سے ہٹاتے ہیں اور شیطان کی ذریت کا کردارادا کرتے ہیں وہ تو جہنم رسید ہوں گے ہی ان کے ساتھ ان کی بات ماننے والے ان کی فرمانبرداری واطاعت کرنے والے بھی جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے اور اس طرح اوپر تلے ڈال دیئے جائیں گے جیسے کوڑا کرکٹ ڈال دیاجاتا ہے۔
آیت مبارکہ میں ایسے تمام لوگوں کو ہدایت ونصیحت کی جارہی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر کسی بھی طرح اللہ کی نافرمانی کرتے اور کراتے ہیں ان کو حشر کی تصویر دکھا کر سمجھایاجارہا ہے کہ صرف اطاعت الٰہی میں ہی تمہاری عافیت وبھلائی ہے اللہ کی راہ چھوڑ کر جو بھی راہ اختیار کروگے وہ تمہیں صرف جہنم ہی میں لے جائے گی۔ اللہ کا تو ایک ہی سیدھا اور سچا راستہ ہے کہ احکام الٰہی پر ان طریقوں سے عمل پیرا ہوجائو جن کی تاکید وہدایت اس کے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا راستہ ہی انسان کو سیدھاجنت کے باغوں میں لے جاتا ہے اس کے علاوہ تمام راستے شیطان کے بنائے اور بتائے ہوئے ہیں انسان کو اپنے اختیار سے ہی ان برے اور جہنم کے راستوں سے بچنا اور سیدھے راستے پر چلنا ہے۔آیات میں اللہ کے باغی اور سرکش لوگوں کی حالت زار کا ذکر کیا گیاہے جو ابلیس کے بہکائے میں آکر اور اپنی عقل‘ارادے‘ سے کام نہ لے کر اپنے اختیار کا غلط استعمال کرکے شیطان کے بتائے ہوئے راستوںپر چلتے ہیں ان کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ آخرت میں ا ن کا کیا حشر ہونے والا ہے۔ صاحب قاموس لکھتے ہیں کہ رکب‘ اکب‘ اور کبک سب کے معنی ہیں سر کے بل اوندھا کرکے نیچے پھینک دینا اور کبکب کی ترکیب استعمال کرنے کامطلب ہے کہ اہل دوزخ کواس طرح سر کے بل پھینکا جائے گا کہ وہ لڑھکنیاں کھاتے ہوئے نیچے جا گریں گے‘ تمام جھوٹے معبود اوران کے تمام پرستار اور ابلیس اوراس کے تمام معاون ومددگار کو دوزخ میں الٹا کرکے پھینک دیاجائے گا پھر وہاں ان میں آپس میں ہی نوک جھونک اور ایک دوسرے پہ الزام تراشی شروع ہوجائے گی۔ تب انہیں احساس ہوگا اوروہ اس کااقرار بھی کریں گے کہ وہ کس قدر غلطی پر تھے اور اللہ کی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ اس حشر کو پہنچے ہیں۔ قرآن حکیم میں جگہ جگہ بار بار عالمِ آخرت کے عبرت ناک مناظر کانقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں ہی آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کہ وہ جو راہ اختیار کررہے ہیں ٹھیک ہے احکامِ الٰہی کے عین مطابق ہے یانہیں ہے۔
چند قرآنی آیات سے ہم بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ روز آخرت اہلِ دوزخ کی کیسی بدتر حالت ہوگی۔
 

(جاری ہے)