Aanchal Khanis

Back | Home |  

 پتھروں کی پلکوں پر۔۔۔۔۔۔نازیہ کنول نازی ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر31


ہَوائیں دل دُکھائیں گی
سنو پاگل!
کھڑے رہنے سے کیا حاصل؟
ہوا تو بس یہی ہوگا
ہَوائیں دل دکھائیں گی
نگاہیں بھیگ جائیں گی
چلو‘ اندر چلے آئو!
سنا ہے جو بھی مرضی سے چلا جائے
کبھی واپس نہیں آتا۔
’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں۔ بے شک اللہ کی یاد میں ہی دلوں کا چین ہے۔‘‘
قرآن پاک کھلا ہوا اس کے سامنے رکھا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر اس مقدس کتاب کے پاک اوراق پر گر رہے تھے۔ سورہ الرعد کی بظاہر کتنی چھوٹی سی آیت تھی مگر‘ بہت گہرا مفہوم سمیٹے ہوئے تھی اپنے اندر…!
وہ مفہوم کیا تھا؟
دلوں کے چین کی کہانی کیا تھی؟
اللہ ربّ العزت کی پاک ذات نے اس بظاہر چھوٹی سی آیت میں علم و حکمت کے کتنے خزانے پوشیدہ رکھے تھے؟ زندگی سے ہارے ہوئے وہ مایوس لوگ‘ جنہیں اعلیٰ ڈگری ہولڈرز ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا۔ جن کے دل بہترین‘ ماہرین ڈاکٹرز کے علم میں لا علاج ہوچکے تھے۔ یہ آیت ان ’’ناکارہ دلوں‘‘ کی شفا تھی۔ دوا تھی۔ بہت گہرے راز تھے اس آیت کے اندر۔ سمندر کی تہوں سے بھی زیادہ گہرے راز۔جنہیں سمجھنے کے لیے بہت سمجھ کی ضرورت تھی۔
ایک ایک حرف‘ ایک ایک لفظ حکمت سے بھرا ہوا تھا اور وہ رو رہی تھی۔
اپنی لا علمی و غفلت پر اپنی نادانی پر…!
اس کے نزدیک وہ کتاب صرف احترام سے بہت اونچی جگہ رکھ کر سجا دینے کے لیے تھی۔ یا پھر کبھی بے سکونی و بے قراری اور فرصت کے لمحات میں زور زور سے ہل کر وہ الفاظ دہرا لینے کے لیے۔ وہ کبھی سمجھ ہی نہ سکی کہ اس کتاب کا حق کیا ہے؟ ایسی کیا بات ہے اس کتاب میں‘ جو اللہ ربّ العزت نے اس پاک کتاب کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مکمل قرار دے دیا۔ زندگی میں واقعی کچھ باتوں کی سمجھ بہت دیر سے آتی ہے۔ پہلے پارے سے تیرہویں پارے تک کے سفر میں جیسے اس کی شخصیت ہی بدل گئی تھی۔ کیسے کیسے حالات و واقعات سے آگاہی ہو رہی تھی۔ کیا کیا آشکار نہیں ہوا تھا اس پر۔
اب کوئی اسے دیکھتا تو شاید پہچان ہی نہ پاتا کہ وہ گائوں کی وہ گوری ہے جو لڑائی جھگڑے میں مردوں کو بھی مات دیتی تھی۔ جسے محض تن کر چلنا آتا تھا۔ جو اپنی شادی سے لے کر بھائی کی موت تک زندگی سے بے زار‘ حالات سے نالاں‘ خدا سے شکوے کرتی پھرتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت جو آنسو تھے وہ ان گزرے دنوں کی کوتاہیوں کے آنسو تھے جو کنکر بن کر اس وقت آنکھوں میں چبھ رہے تھے۔ وہ رو رہی تھی اور اس کا دل جیسے پہلو میں کٹتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’اے میرے مالک! میرے معبود حقیقی! اے واحدہ‘ لاشریک! میری کیا اوقات جو تیری شان رحیمی و کریمی سے کوئی شکوہ کروں۔ میں تو تیرے ٹکڑوں پر پلنے والی بھکارن ہوں۔ تو عطا کرے تو تیرا شکر ادا کروں گی اور محروم کردے تو صبر کروں گی۔ مجھے میری کم فہمی و غفلت کے لیے معاف کردے مالک! شیطان مردود سے بچا کر اپنی پناہ کے حصار میں لے لے۔‘‘
اور اس دعا کے ساتھ سکون کی لہر جیسے اس کے رگ و پے میں اترتی جا رہی تھی۔
 

٭…٭…٭


شجاع اسپتال سے سیدھا گھر چلا آیا تھا۔ اس کی بیٹی تھی کہ امامہ کے لیے روتی روتی سو گئی تھی۔ جب کہ دماغ کی شریانیں جیسے پھٹنے کو تیار ہو رہی تھیں۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ کچھ کھا کر سو






رہتا۔ اسے لگا وہ زندگی میں کبھی کسی عورت کی وفا نہیں پا سکے گا۔
اس رات ایک مرتبہ پھر امامہ کے لیے سوچتے ہوئے اور سلگتے ہوئے اس نے بہت زیادہ سگریٹ پی تھی۔ اس کا موبائل تاحال آف تھا۔ چوکیدار کو بھی اس نے سختی سے ہدایت کردی تھی کہ کوئی بھی ملنے کے لیے آئے‘ اسے مطلع نہ کیا جائے۔ دل اس وقت جیسے  ساری دنیا سے  کٹ جانے کی خواہش کر رہا تھا۔
’’وہ کہاں کس حال میں ہو گی؟‘‘ یہ سوال اس کے اندر آتش فشاں بنا ہوا تھا۔
ایک کے بعد ایک سگریٹ ختم ہو رہی تھی اور اسی کے ساتھ سلگتے آنسوئوں کا لاوا تھا جو گالوں پر بہہ نکلا تھا۔
’’کاش میں تمہیں تمہاری بے وفائی کی سزا دے سکتا امامہ حسن! کاش…!‘‘ اس کے نکاح کے روز والی تصویر کو ہاتھوں میں لیے اس نے حسرت سے سوچا تھا اور وہاں تقدیر ایک نئی کہانی رقم کرنے جا رہی تھی۔
 

٭…٭…٭


’’شکریہ ارسلان اس وقت اگر تم موقع پر نہ آتے تو جانے میرا کیا حال ہوتا۔‘‘ سڑک کنارے سنگی بنچ پر نڈھال بیٹھی وہ کہہ رہی تھی اور ارسلان کے لبوں پر یوں چپ کا قفل لگا تھا جیسے وہ کچھ بھی بولا تو اس کی ذات چٹخ جائے گی۔
کچھ لمحے یونہی خاموشی کی نذر ہوگئے تھے۔ جب وہ بولا۔
’’مجھے خبر نہیں تھی کہ تم وہاں ہو یا ہوسکتی ہو‘ مجھے تم سے ایسی حماقت کی توقع بھی نہیں تھی۔ میں تو محض اپنا سامان لینے آیا تھا وہاں۔ ان لوگوں سے میرا جھگڑا چل رہا تھا ایک لڑکی کی وجہ سے‘ اسی لیے میں مزید وہاں ان لوگوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا مگر‘ سامنے جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرا خون کھولا دیا۔ کاش وہ دونوں کتے مرجاتے میرے ہاتھوں۔‘‘ وہ ابھی بھی کھول رہا تھا۔
امامہ حسن نے اس کی دی ہوئی شال ٹھیک کر کے کندھوں کے گرد لپیٹ لی۔
’’وہ کتے ہیں تو تم کیا ہو ارسلان۔ جو کام وہ کرتے ہیں وہی تم بھی کرتے ہو‘ تم نے مجھ سے کہا کہ تم بے قصور ہو‘ تم پر وہ کیس جھوٹا بنا تھا۔ مگر حقیقت میں تم بے قصور نہیں تھے۔ تم پر بنا وہ کیس جھوٹا نہیں تھا۔ بس تم مجھے فریب دیتے رہے۔ میری محبت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر حماقتیں کرواتے رہے مجھ سے۔‘‘
’’جانے دو‘ اب ان باتوں کا فائدہ نہیںہے۔ مجھے بتائو تم اب کیا چاہتی ہو‘ میرے ساتھ چلو گی یا اس ایس پی کے گھر چھوڑ آئوں تمہیں؟‘‘ وہ مضطرب تھا اس لیے اس کی بات کاٹتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
امامہ حسن کی آنکھیں پھر سے جلنے لگیں۔
’’اس شخص کے گھر میں اب میرے لیے کوئی جگہ نہیں رہی ہے ارسلان! گِر گئی ہوں میں اس کی نظروں سے تم پلیز کسی دارالامان میں پہنچا دو مجھے۔‘‘
’’خاموش ہوجائو۔‘‘ اس بار وہ دہاڑا اور اگلے کچھ ہی لمحوں میں وہ اس کے لیے ٹیکسی روک رہا تھا۔ امامہ نے اس کے بعد پھر لب نہیں کھولے۔
’’فی الحال ہم میری ایک دوست کے گھر جا رہے ہیں۔ جہاں میرا قیام ہے۔ میں اس سے کہوں گا تم باہر سے پاکستان دیکھنے آئی ہو۔ تم بھی یہی کہنا اوکے۔‘‘ وہ اسے ہدایت کر رہا تھا۔ امامہ چپ چاپ ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔
’’ایک بات پوچھوں ارسلان؟‘‘ کچھ لمحوں کی مسافت کے بعد اس نے لب کھولے۔
’’ہوں۔‘‘
’’تم ضرورت کے لیے کب تک محبت کرتے رہو گے۔‘‘
’’میں ابھی تمہارے کسی سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں امامہ! لہٰذا چپ رہو پلیز۔‘‘ وہ اضطراب کا شکار تھا اور امامہ وجہ جانتی تھی تبھی اس کے جواب پر رخ کھڑکی کی طرف موڑ کر بیٹھ گئی۔ سر سیٹ کی پشت گاہ سے ٹکاتے ہی کچھ مناظر پھر ذہن کی اسکرین پر روشن ہوئے تھے اور وہ جیسے کانپ کر رہ گئی تھی۔
’’کیا ہوتا اس وقت اگر اس کا ربّ اس پر کرم نہ کرتا…؟ اور وہ وقت جب اس کے حوصلے جواب دے گئے تھے۔ اس وقت ارسلان حیدر کو رحمت بنا کر اس ’’قتل گاہ‘‘ کی طرف نہ بھیجتا؟‘‘ قریب تھا کہ آنکھیں پھر چھلک پڑتیں۔ اس نے جلدی سے پلکیں موند لیں۔
’’میں تمہیں معاف نہیں کروں گی شجاع حسن! اپنی زندگی کے اس حادثے کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘
 

٭…٭…٭






اس نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا تھا اور پھر جیسے اٹھانا بھول گیا۔
انوشہ گھر پر نہیں تھی‘ جمال صاحب کو بستر سے نکل کر دروازے تک آنے میں کئی منٹ لگ گئے۔
’’السّلام علیکم انکل!‘‘
’’وعلیکم السّلام تو یہ تم ہو؟ میں سمجھا کوئی شرارتی بچہ یونہی تنگ کر رہا ہوگا۔ آئو اندر آجائو۔‘‘ دروازہ کھول کر شاہ زر پر نگاہ ڈالتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے پریشان ہوگئے تھے۔ شاید بریرہ کے ہاتھوں اسی شاہ زر کے لیے انوشہ کو پہنچنے والی تکلیف وہ ابھی تک فراموش نہیں کر پائے تھے۔ شاہ زر نادم سا ان کے خلوص پر اندر بڑھ آیا۔
نزہت بیگم لائونج میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ شاہ زر پر نگاہ پڑتے ہی ان کے چہرے کا رنگ بھی بدلا تھا۔ شاید انہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ ان کی تلاش میں یہاں بھی پہنچ جائے گا۔
’’السّلام علیکم آنٹی۔‘‘ وہ جھکا تھا۔ نزہت بیگم نے پریشان نگاہوں سے جمال صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔
’’وعلیکم السّلام کیسے ہو بیٹا!‘‘
’’الحمد للہ! ٹھیک ہوں‘ آپ کیسی ہیں۔ مجھے بتایا بھی نہیں اور شہر چھوڑ دیا؟‘‘ ان کے پاس بیٹھتے ہی اس نے گلہ کیا۔ جواب میں وہ بے بس سی۔ نظروں کا رخ پھیر گئیں۔
’’بس مجبوری بن گئی تھی بیٹے!‘‘
’’میں شرمندہ ہوں آنٹی! میں نہیں جانتا کہ اس روز بریرہ نے انوشہ سے کیا کہا‘ مگر اس روز جو بھی ہوا ہوگا‘ مجھے اس کی بہت اذیت ہے۔ آپ نہیں جان سکتیں میں اس روز کے بعد کتنا اپ سیٹ رہا ہوںبہر حال میں نے بری کو چھوڑ دیا ہے۔‘‘ بہت بڑی بات کو اس نے بہت روانی سے کہہ دیا تھا۔ نزہت بیگم ہکّا بکّا سی اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہو۔‘‘
’’سچ کہہ رہا ہوں آنٹی! ہمارا اب ایک ساتھ چلنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔‘‘
’’مگر کیوں؟ بریرہ اچھی لڑکی ہے۔ اگر انوشہ کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہو بھی گیا ہے تو اسے در گزر کردو کیونکہ انوشہ کی شادی ہوگئی ہے۔‘‘ ایک پہاڑ اس نے گرایا تھا اور دوسرا نزہت بیگم نے گرا دیا۔ وہ چکرا ہی تو گیا تھا۔
’’انوشہ کی شادی؟‘‘
’’ہاں انوشہ کی شادی! زاور کا بہت اچھا دوست ہے سرمد۔ انگلینڈ میں رہتا ہے۔ابھی تک شادی نہیں کی اس نے‘ انوشہ کے بیٹے سے بھی بہت پیار کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہو رہی ہے۔‘‘
’’مگر…!‘‘
’’مگر کیا…! ساری عمر گھر بٹھا کر تو نہیں رکھ سکتے اسے!‘‘
اس بار نزہت بیگم کے لہجے میں لچک نہیں تھی۔ شاہ زر کو لگا اس کا دل رک جائے گا۔
’’کیا انوشہ اس شادی سے خوش ہے؟‘‘
’’نہیں۔ مگر جلد ہی ہوجائے گی زندگی بھر حالات سے سمجھوتا ہی تو کیا ہے اس نے‘ اب بھی کرلے گی۔‘‘
ہاں اس کے مزید رکنے کا جیسے کوئی جواز نہیں رہا تھا۔ مگر پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری۔
’’آنٹی! میں انوشہ کے لیے اپنا پرپوزل پیش کرنے آیا تھا۔‘‘
’’جانتی ہوں مگر یہ ممکن نہیں۔‘‘
’’کیوں ممکن نہیں ہے؟ میں اس کے لیے بریرہ رحمن کو طلاق دے چکا ہوں۔‘‘
’’بہت غلط کیا تم نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے تمہیں ہم سے بات کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’بات ہی تو کرنے آیا ہوں آنٹی! اور غلط بھی کچھ نہیں ہوا۔ میرے اور انوشہ کے بیچ اب تک جو ہوتا رہا ہے‘ وہ غلط تھا آنٹی! اسی غلطی کو صحیح کرنے کی کوشش میں یہاں تک آیا ہوں میں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ آئیے میرے ساتھ‘سب بتاتا ہوں۔سوری انکل! میں یہ بات آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔‘‘
اس نے آر یا پار کرنے کی ٹھان لی تھی۔ جمال صاحب اور نزہت بیگم دونوں اس کا منہ دیکھتے رہ گئے۔






اگلے دو منٹ کے بعد وہ علیحدہ کمرے میں نزہت بیگم کو بتا رہا تھا۔
’’انوشہ کی بربادی کا ذمہ دار میں ہوں آنٹی! اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ میں نے کیا۔ میں نے عین نکاح کے وقت شافیہ کی بے وقوفی کا سبب زاور کو سمجھا اسی لیے انتقام کی آگ میں انوشہ کا وجود جلا دیا۔ میں بہت شرمندہ ہوں آنٹی! ایک پل کا سکون میسر نہیں ہے مجھے وہ بچہ جو میرا خون ہے۔ میں اسے مزید محرومیوں کا شکار نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے ساری کشتیاں جلا کر یہاں آپ کی دہلیز پر چلا آیا ہوں۔ خدا کا واسطہ ہے آنٹی! مجھے معاف کردیں اور میری خوشیاں پانے میں میرا ساتھ دیں پلیز!‘‘ شاہ زر کا حال اس وقت کسی سوالی سے مختلف نہیں تھا۔
نزہت بیگم پتھرائی ہوئی بے یقین آنکھوں سے اسے دیکھے گئیں۔
’’بہت تمانچے کھا لیے ہیں میں نے حالات کے اب مزید کچھ مت کہیے گا آنٹی پلیز! وہ لڑکی صرف میرے لیے بنی ہے۔ اسے صرف میں خوش رکھ سکتا ہوں اور کوئی نہیں۔‘‘ وہ سوال کر رہا تھا اور نزہت بیگم کے دماغ میں اس کی صرف ایک ہی بات گونج رہی تھی۔
’’انوشہ کی بربادی کا ذمہ دار میں ہوں آنٹی۔‘‘
اس بات کے بعد اب کچھ بھی کہنے کی گنجائش رہی ہی کہاں تھی۔ اب جو بھی کرنا تھا بہت سمجھداری سے کرنا تھا انہیں۔‘‘
 

٭…٭…٭


صاعقہ چارپائی پر بیٹھی تھی تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔
’’لگتا ہے آگیا تیرا ہیرو۔‘‘ آمنہ نے دستک سنتے ہی سرگوشی کی اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ صائمہ اندر کمرے میں پانی نکال رہی تھی۔ اس نے دھڑکتے دل سے دروازہ کھول دیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام! آئو۔‘‘ کتنا خوب صورت لگ رہا تھا وہ اس وقت اس کے لیے نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھنا دشوار ہوگیا۔
’’سوری! مجھے تھوڑی دیر ہوگئی۔ وہ اصل میں باس نے ایک ضروری کام سے بھیج دیا تھا۔ میں نے ابھی ایک دوست سے بات کر کے گھر کا انتظام کرلیا ہے۔ تمہیں جو ضروری سامان لینا ہے وہ لے لو‘ شام تک یہ گھر خالی کردیں گے ہم۔‘‘
’’لیکن زین! تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت…‘‘
’’چپ! دادی اماں نہ بنی رہا کرو ہر وقت میری۔‘‘
اس کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا تو پاس کھڑی آمنہ نے صاعقہ کو مسکرا کر دیکھا انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا دیا۔ اگلے ہی پل عباد شرٹ کے بازو فولڈ کیے کمرے سے سامان نکال رہا تھا۔ سمعان کو بخار تھا لہٰذا آمنہ رشک بھری نگاہوں سے صاعقہ کو دیکھتی دوسرے کمرے میں سمعان کے پاس چلی آئی۔
’’کون آیا ہے؟‘‘ اسے پاتے ہی سمعان نے آنکھوں سے بازو ہٹایا تھا۔ وہ چارپائی کے کنارے پر ٹک گئی۔
’’صاعقہ کے آفس سے کوئی صاحب آئے ہیں۔ مدد کے لیے شام تک کہتے ہیں۔ شفٹنگ ہوجائے گی۔‘‘
’’ایان کا پتا چلا کہاں گیا ہے؟‘‘
’’نہیں شاید صاعقہ کو پتا ہو‘ تمہارا بخار کیسا ہے اب؟‘‘
’’پتا نہیں تم جائو اب اپنے گھر۔ سارے دن اِدھر ہی نہ گھسی رہا کرو۔‘‘
’’کیوں نہ رہوں‘ تمہیں کیا تکلیف ہے میرے گھسے رہنے سے۔‘‘
’’مجھے کوئی تکلیف نہیں‘ تمہارے سسرال والوں کو ہوسکتی ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں گئے ایسے سسرال والے‘ میرا سسرال یہی ہے بس!‘‘
’’پاگل پن کا مظاہرہ مت کرو‘ کچھ نہیں دے سکتا میں تمہیں۔‘‘
’’مجھے تم سے کچھ چاہیے بھی نہیں‘ سوائے نام کے سمجھے تم!‘‘
سمعان جانتا تھا وہ اس سے کبھی جیت نہیں سکے گا۔ تبھی خاموش ہوگیا۔
’’اور ویسے بھی میں اپنی ماں کو منا کر ہی تم سے شادی کروں گی۔ بے فکر رہو تم!‘‘ جل کر کہتی وہ اٹھ کر اس کے کمرے کا سامان سمیٹنے لگی۔ سمعان پھر سے آنکھوں پر بازو رکھ کر اپنے آنسو ضبط کرنے کی

of 4 
Go