Aanchal Khanis

Back | Home |  

 زرد پتوں کے دکھ… سمیرا شریف طور…قسط نمبر 2
گزشتہ قسط کا خلاصہ


والدین کی یکے بعد دیگرے حادثاتی اموات کے بعد دونوں بہنیں لائبہ اور ضوفشاں اپنے گھر میں تنہا رہتی ہیں تاہم ان کا کزن شہود اور اس کی بیوی مہ جبین ان کے پڑوس میں مقیم ہیں اور ان سے بے حد محبت بھی کرتے ہیں۔
شہود کی غیر موجودگی میں لائبہ کے گھر کی واردات کی رپورٹ کے لیے لائبہ مہ جبین کے مشورے پر تھانے جاتی ہے تو اے ایس پی فوزان صدیقی کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔
فوزان صدیقی وہ نیک سیرت و فرض شناس انسان تھا جو ماضی کے حوالے سے اس کا محسن رہا تھا۔ فوزان صدیقی کے ذہن و دل میں لائبہ کے لیے اس وقت کی چاہت ابھی تک زندہ تھی۔ تاہم ماضی کے اس اندوہناک حادثے نے نا صرف ان دونوں کے والدین کو چھین لیا تھا بلکہ ان کی حالیہ زندگی میں بھی زہر گھول رکھا تھا۔ جس کے سبب ان کی نیک نامی کو بھی داغ لگا تھا۔
واردات کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں فوزان صدیقی کو بار بار لائبہ کے گھر آنا پڑتا ہے۔ جس کے سبب ضوفشاں‘ جن کا کردار پہلے ہی لوگوں کے نشانے پر ہے۔ مزید افواہوں کی زد میں آتا ہے۔
ماضی کے حوالے سے لائبہ بار بار فرسٹریشن کا شکار ہوجاتی ہے۔
 (اب آگے پڑھیے)
’’میری نیناں میری بہن تھی۔ بہت معصوم‘ بہت پیاری‘ میری جان تھی اس میں زندگی اور خوابوں ‘سچائی اور انسانیت کی باتیں کرنے والی وہ لڑکی وحشی درندوں سے لڑپڑی اور پھروہ ہم سب کو چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘ وہ اس چوڑے چکلے بھرپور مرد کو دیکھے گئی جس کی آنکھیں پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ آواز رقت آمیز تھی مگر وہ آنسو بہنے کی بجائے دوبارہ کہیں اندر ہی اترنے لگے۔
’’اوہ … آئی ایم سوری۔‘‘ فوزان صدیقی کو حوصلہ دینے کے لیے بالکل غیر ارادی طور پر اس کے مضبوط مردانہ ہاتھ پر اپنا ننھا سا سفید ہاتھ رکھ دیا۔ وہ چونک کر لائبہ کو دیکھنے لگا۔ جس کی آنکھوں میں آنسو تو جمع تھے مگر وہ انہیں اندر اتارنے کے جتن کررہی تھی۔
’’لائبہ! آپ کو دوبارہ دیکھ کر مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ بہت دکھ بھی ہوا۔ اس رات آپ کی گہری گرے گرین آنکھوں نے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ بہت ہی روئی سی‘ ڈر اور ہراس سے مزین تھیں۔ کچھ چھن جانے کے خوف سے سہمی ہوئی لیکن اس دن اپنے آپ میں آپ کی آنکھیں دیکھ کر مجھے لگا جیسے آپ بھی نیناں کی طرح ان وحشی لوگوں کانشانہ بن گئی ہیں۔ بہت اذیت ہوئی تھی آپ کو دیکھ کر… آپ نے اس دن میرے کانسٹیبل کے بارے میں جو کچھ کہا وہ حقیقت تھا۔ دکھ تو اس بات کا تھا کہ میں انتہائی کوشش کے بعد بھی آپ کی آنکھوں سے خوف اور ہراس کو نہیں نکال پایا تھا۔ مجھے لگا جیسے اس خوف اور ہراس نے مل کر آپ کی آنکھوں میں ایک ککر جما دیا ہے۔ سمجھتی ہیں نا ککر کیا ہے؟‘‘ وہ اب اس کی گہری گرے گرین آنکھوں میں بڑی گہرائی سے جھانک رہا تھا۔ لائبہ نے اسے تسلی دینے کے لیے رکھا گیا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ہٹا لیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
’’پتا نہیں ضوفی کیا کررہی تھی جو ابھی تک نہیں لوٹی تھی۔‘‘
’’آپ ایسی جگہ سے شاید کبھی گزری ہوں‘ جہاں سبز تھور کی طرح سطح ہوتی ہے۔ اگر کبھی اچانک اس تھور زدہ سطح پر پائوں پڑجائے تو نیچے گہرا پانی ملتا ہے۔ پانی تو ویسے ہی تھا مگر اس پانی پر ککر جم گیا تھا۔ اچانک پائوں پڑنے پر پانی کی سطح واضح ہوگئی۔ مجھے لگتا ہے آپ کی ان آنکھوں میں بھی یہی کیفیت ہے۔ بے تحاشا رونے کی خواہش‘ بہت کچھ کہنے کی آرزو…مگر آپ اوروں کی خاطرمسلسل اپنی اس خواہش کو دبارہی ہیں۔ آپ نے اپنی آنکھوں میں مچلتے اس طوفان کے اوپر خوف کی گہری تہہ جمادی ہے جو ککر بن گئی ہے۔ آپ مجھ پر اعتماد کرسکتی ہیں۔ دکھ کہہ دینے سے بہت ہلکا پھلکا ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ بہت ہی خلوص سے پیشکش کررہاتھا۔’’وہ دکھ جوآپ ضوفشاں اور بھابی سے بھی نہیں کہہ سکتیں۔‘‘ اس نے لائبہ کو دیکھا جو سر کو نفی میں ہلاتے آنسو روکنے کی کوشش کررہی تھی۔ ’’آپ اتنی بے اعتماد کیوں ہوگئی ہیں۔ زندگی ہر ایک کو آزماتی ہے۔ کسی پر مشکل وقت بہت دیرپا ہوتا ہے اور کسی پر بہت جلد ٹل جاتا ہے بتائیں مجھے اس بات کے علاوہ ایسا کیا دکھ ہے آپ کو جو دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہا ہے؟ آپ کہنا بھی چاہتی ہیں اور کہہ بھی نہیں پاتیں۔‘‘ وہ مسلسل اس کی روح کو ادھیڑنے کی کوشش میں لگا ہواتھا۔ یہ آخری جملے لائبہ کی روح پر تازیانے کی مانند لگے تھے۔ اس کی زخمی زخمی روح ذلت وتکلیف کی شدت سے بلبلانے لگی وہ بھی ایک دم چیخ اٹھی۔
’’چپ ہوجائیں‘ پلیز چپ ہوجائیں… مجھ سے کچھ مت پوچھیں… بڑی مشکل سے میں نے اپنے کرچی کرچی وجود کو اکھٹاکیا ہے۔ بڑی تکلیف سے جینے کا حوصلہ کیا ہے۔ اس دنیا والوں نے بہت






برا کیا میرے ساتھ‘ آپ تو میری زخمی بلبلاتی روح پر تازیانے نہ لگائیں۔‘‘ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔ وہ ترحم بھری نظروں سے اس ٹوٹی پھوٹی لڑکی کو روتے دیکھتا رہا۔
’’عرصہ بیت گیا ہے مجھے یہ آبلہ پائی کاسفر برداشت کرتے۔ لوگوں کی تحقیر بھری نظریں ان کے طنز اور تمسخر میں لپٹے فحش جملے‘ ایک عرصے سے سہہ رہی ہوں۔ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا‘ کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ‘پھر یہ آزمائش ختم کیوں نہیں ہوتی۔ اگر زندگی ہر ایک کو آزماتی ہے تو چند سکھ بھری گھڑیاں بھی نصیب میں کرتی ہے پھرمیری سزا اتنی طویل کیوں ہوگئی ہے؟ اتنی طویل کہ نہ میں اپنے جینے کی کوئی دعا کرسکتی ہوں اور نہ مرنے کا سامان! ‘‘ وہ ٹوٹی پھوٹی لڑکی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اپنا دکھ کہہ رہی تھی۔ فوزان کے اندر اک ہوک اٹھی۔ وہ جس اذیت سے گزرآئی تھی اور اب جس اذیت سے گزر رہی تھی ویسی ہی اذیت وہ اپنے اندر بھی محسوس کررہاتھا۔ موت تکلیف دہ امر نہیں مگر بار بار مرنا بہت تکلیف دہ موت ہے۔ بھلا اس سے بہتر کون جان سکتا تھا۔
’’بس لائبہ حوصلہ رکھیں۔وقت ایک سا نہیں رہتا‘ زندگی اتنی ہی تلخ ہے۔ اس کو سہنے کے لیے بس حوصلہ چٹانوں کا سا ہونا چاہیے۔‘‘ انداز تسلی دینے والا تھا۔
’’ہونہہ …! چٹانوں کا سا حوصلہ…میں نے اس سے بڑے حوصلے کیے ہیں اپنی تڑپتی ماں کو موت کی آغوش میں سوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اپنے باپ کو اپنے دکھ پر جان ہارتے دیکھا ہے۔ وہ دونوں چلے گئے سب ساتھ چھوڑ گئے‘ اس کے باوجود میں زندہ ہوں کیا یہ حوصلہ کم ہے۔ اگر میں نے چٹانوں کا ساحوصلہ نہ کیاہوتا تو اس وقت آپ لائبہ افتخار کی قبر پر کھڑے ہوتے اس کے سامنے نہیں۔ سنا آپ نے …‘‘ اپنے دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے اس نے کہا تو فوزان صدیقی خاموش ہوگیا۔ خاموش تو لائبہ بھی ہوگئی تھی۔ دونوں طرف بالکل خاموشی تھی یہ معنی خیز بولتی ہوئی خاموشی دونوں کے زخموں کو چھیلنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس سے پہلے کہ یہ خاموشی مزید گہری ہوتی‘ ضوفی کی تیز آواز پر دونوں چونک گئے تھے۔
’’ارے فوزان صاحب آپ ابھی تک یہاں… ؟ ‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
’’آئی ایم سوری! بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ انہوں نے بلوایا تھا‘ اس وقت میں نماز ادا کررہی تھی۔ اس لیے دیر ہوگئی۔ میں سمجھی شاید آپ چلے گئے ہیں۔‘‘ فوزان صدیقی اور ضوفی آمنے سامنے کھڑے تھے وہ اسے نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ جلدی سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ سرجھکا کر تیزی سے باقی ماندہ مٹر چھیلنے لگی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ضوفی اس کی سرخ آنکھیں اور روئی ہوئی صورت دیکھ کر پریشان ہوجائے۔
’’ہاں… میں بس جانے ہی والا تھا۔‘‘ فوزان صدیقی کہہ رہا تھا۔ اس کی بات پر بھی اس نے اپنا جھکا سر نہ اٹھایا۔
’’یقینا پری نے آپ کو خاصا بور کیا ہوگا؟‘‘ ضوفی خاموش کام کرتی لائبہ کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’نہیں…! بھئی میں ان کی سنگت میں بالکل بور نہیں ہوا۔ ہر مزاج کے لوگوں میں بہت جلد گھل مل جاتا ہوں۔ یہ تو پھر ایک بہت اچھی بولنے والی ہیں اور میں ایک اچھا سامع۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے ضوفی کی بات کی تردید کی۔
’’واقعی! یہ تو بہت اچھی عادت ہے۔ آپ واحد شخص ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں ورنہ پری سے جو بھی ملتا ہے وہ ان کی خاموش طبعی اور کم سخنی پرضرور بور ہوتا ہے۔‘‘
’’بس سمجھ لیں‘ اپنی اپنی رائے ہے۔‘‘ وہ اب اٹھلا رہا تھا۔ مسکراہٹ خودبخود لائبہ کے ہونٹوں کو چھو گئی۔ وہ قدرے سنبھل چکی تھی۔ سر اٹھا کر دونوں کو دیکھا۔ وہ واقعی اس شخص کی اس ’’خاص الخاص‘‘ شخصیت سے متاثر ہوچکی تھی‘ پھر جلد ہی وہ اپنے سابقہ پرا عتماد موڈ میں آگئی تھی۔ ضوفی کے آنے پر وہ مزید تھوڑی دیر بیٹھ کرجانے کے لیے اٹھ گیا۔
’’اوکے لائبہ! اللہ حافظ میں پھر کسی دن فرصت سے آئوں گا۔‘‘ وہ بطور خاص اسے مخاطب کرکے جاتے جاتے بھی اپنے پرخلوص رویے کا مظاہرہ کرگیاتھا۔ ضوفی اسے گیٹ تک باہر چھوڑنے گئی تھی‘ اس کے واپس لوٹنے تک وہ اسی شخص کی ذات میں الجھی رہی۔
 

…٭٭٭…


پھر وہ کئی دن تک غیر محسوس طریقے سے اس کی منتظر رہی۔ ہر آہٹ پر چونک جاتی‘ ہر بیل پر بھاگ کر گیٹ کھولتی‘ فون کی گھنٹی بجتی تو ضوفی سے پہلے خود اٹھ کرریسیو کرتی۔ مگر ہر دفعہ ناامید ہوجاتی تھی۔ اندر باہر ایک بے کلی سی پھیلنے لگی تھی۔ وہ اپنی اس کیفیت پر خود بھی پریشان تھی کہ اسے اس کاانتظار کیوں تھا؟
’’مجھے اس کی ذرا سی ہمدردی پر اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے۔‘‘ آخر اکتا کراس نے خود کوسرزنش کی مگر پریشانی جوں کی توں برقرار تھی۔
’’پری کیا بات ہے آپ مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔‘‘ ضوفی جو کئی دنوں سے اس کی کیفیت دیکھ رہی تھی ایک دن پوچھ ہی بیٹھی۔






’’کچھ نہیں ہوا… بس ہلکی پھلکی تھکن محسوس کررہی ہوں آج کل ۔‘‘ اس نے ضوفی کو تو ٹال دیا مگر خود کو نہ ٹال سکی۔ البتہ اتنا ہوا کہ پہلی جیسی پریشان نہیں تھی۔ کافی حد تک خود کو نارمل کرلیاتھا۔
ضوفی کے کالج جانے کے بعد وہ بھی یونیورسٹی کو نکل رہی تھی جونہی گاڑی اپنی گلی سے مڑی وہاں پولیس پجارو میں چند انسپکٹرز دیکھ کر رک گئی۔دو پولیس کانسٹیبلز جمیلہ کے اسی آوارہ بدمعاش نذیر کو پکڑ کر گاڑی میں بٹھارہے تھے۔ اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ہمراہ فوزان صدیقی تھا۔ لائبہ کی گاڑی دیکھتے ہوئے وہ جلدی سے دروازہ کھول کر اس کی طرف آگیا۔
’’السّلام علیکم۔‘‘ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ بھی جلدی سے اتری۔
’’وعلیکم السّلام۔آپ یونیورسٹی جارہی ہیں؟‘‘
’’جی… اس شخص کو کس جرم میں پکڑا گیا ہے؟‘‘اس کے بارے میں جاننے کے لیے لائبہ کو تجسس ہوا۔
’’ہے بس اس کا بھی ایک جرم… آپ اس وقت یقینا جلدی میں ہوں گی پھر کبھی ملاقات ہوگی…اللہ حافظ…‘‘ وہ جس عجلت میں آیاتھا اسے متجسس چھوڑ کر اسی عجلت میں چلا گیا۔ وہ اس سے ’’پھر کبھی‘‘ کے بارے میں دریافت کرتے کرتے رہ گئی۔ اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تو وہ بھی اندر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی مگر اس دفعہ جمیلہ خاتون کی بے وقت کی مداخلت نے اسے روک دیا۔
’’مل گیا سکون تجھے ڈائن! میرے بچے کو گرفتار کروا کر؟ ‘‘آتے ہی اس نے نہ آئو دیکھا نہ تائو اس پر چڑھ دوڑی۔ وہ تو اپنی جگہ ہکابکا رہ گئی۔
’’دیکھیے‘ آپ کابیٹا جیسا اوباش فطرت ہے‘سارا محلہ جانتا ہے۔ مجھ پر کیوں الزام لگا رہی ہیں‘ بھلا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اسے گرفتار کروانے کی؟ ‘‘اردگرد بچوں مردوں اور لوگوں کو اکھٹے ہوتے دیکھ کر اس نے ہمت کرکے کہہ دیا۔
’’ارے واہ لڑکی! منہ سنبھال کر بات کر۔ تو بھی جیسی ہے تیرے بارے میں بھی سارا محلہ جانتا ہے۔ مجھے اچھی طرح خبر ہے تیرے اس پولیس والے سے کیسے تعلقات ہیں یونہی تو روز یہاں نہیںآتا۔ تونے گرفتار نہیں کروایا تو تیری بہن نے تو کروایا ہے۔ بڑی آئی تھی کل دھمکی دینے والی۔ میں تمہیں گرفتار کروادوں گی۔‘ ‘ہونہہ! پتہ نہیں یہ عورت کیا کہہ رہی تھی‘ اس کے تو کچھ پلے نہیں پڑرہاتھا۔ ہمت کرکے گاڑی ان لوگوں کے ہجوم سے نکال کر لے آئی۔ سارا وقت یونیورسٹی میں خالی دماغ سے کام کرتی رہی۔ ٹھیک سے کچھ پڑھابھی نہ پائی تھی۔ جیسے تیسے پیریڈ لے کر گھر لوٹی تو ضوفی آچکی تھی۔ آتے ہی اس سے پوچھ گچھ شروع کی۔
’’تمہیں کچھ پتا چلا ہے جمیلہ کابیٹا گرفتار ہوگیا ہے؟‘‘ تفتیشی نظروں سے گھورتے بات شروع کی۔
’’اچھا…! کب ہوا؟‘‘ بغیر چونکے اس نے آرام سے پوچھا۔
’’تم نے اسے گرفتار کروایا ہے۔اس کی ماں کہہ رہی تھی تم نے شکایت کی ہے؟‘‘ اب کی بار اس نے غصے سے پوچھا تھا۔
’’پری! مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کسی کوگرفتار کروانے کی…؟ اس کے کرتوت تو سب ہی جانتے ہیں‘ ہوگیا ہوگا اپنے کسی کالے دھندے کی وجہ سے گرفتار۔ شکر ہے اب کچھ عرصہ سکون رہے گا۔ خوامخواہ زندگی سے اکتاہٹ ہونے لگی تھی۔‘‘ اس کی بات بھی اسے مطمئن نہ کرپائی تھی۔
’’ضوفی! اب ہمارے درمیان ایسی کیا انہونی ہوگئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کچھ چھپانے کی کوشش کریں۔‘‘ اس نے ضوفی کو خاصے غصے سے دیکھا۔
’’پری!میرا یقین کریں۔ آپ تو یونہی پریشان ہو رہی ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا۔ وہ اس کے برابر بیٹھ کر بغور دیکھنے لگی۔
’’ضوفی! میری آنکھوں میں دیکھ کر بتائو‘ اصل بات کیاہے؟‘‘ ہاتھ سے اس کا چہرہ اونچا کیاتووہ ہونٹ کاٹتی شش وپنج میں گرفتار ہوگئی۔
’’جمیلہ کابیٹا ہر روز مجھے کالج آتے جاتے تنگ کرتا تھا۔ اتنے رکیک الفاظ اور گھٹیا گفتگو کرتاتھا کہ حد نہیں۔ کل بھی اس نے بدتمیزی کی اور میرا ہاتھ پکڑ لیاتھا۔ مجھ سے برداشت نہ ہوااور میرا ہاتھ اس پر اٹھ گیا۔ وہ مجھے برے نتائج کی دھمکیاں دینے لگا تھا۔ میں گھبراگئی۔ اس وقت تو گھر آگئی‘ بعد میں عصرکے قریب بیل ہوئی تھی میں نے جاکر گیٹ کھولا تو دونوں ماں بیٹا تھے۔ دندناتے ہوئے اندر گھس آئے‘ بدتمیزی کرنے لگے۔ میں نے بھی سنائیں تو چوکیدار نے انہیں زبردستی باہر کیا۔ اس وقت آپ سو رہی تھیں۔ اتفاق سے فو زان بھائی بھی آگئے۔ میں رو رہی تھی‘ وہ پریشان ہوگئے اور مجھ سے تمام صورت حال اگلوالی‘ مجھے تسلی دی۔ مجھے نہیں پتا تھا وہ اسے واقعی گرفتار کرلیں گے۔‘‘
ساری بات سن کر وہ اپنی جگہ پر ساکت ہی ہوگئی۔ پتانہیں انہی کے ساتھ ہر بار ایسا کیوں ہو رہا ہے؟’’ اگر اس شخص نے کچھ کردکھایاتو…‘‘ یہ خیال لائبہ کی جان نکال دینے کو کافی تھا۔






’’ضوفی! تم نے مجھے یہ سب کچھ کل ہی کیوں نہیں بتایا…؟‘‘
’’آپ پریشان ہوجاتیں اس لیے…‘‘ اس نے اس کاہاتھ تھام کر اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔
’’اب تو یقینا میں بہت خوش ہو رہی ہوں۔‘‘ اس نے طنزیہ کہتے اس کاہاتھ جھٹک دیا۔
’’کیا ہوگیا ہے پری! آپ کو…؟ اچھا ہوا وہ گرفتار ہوگیا ہے۔ چند سال تو سکون سے گزریں گے۔ پہلے بھی وہ پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب ہے چوری اور قتل کے جرم اس پر عائد ہیں جب بھی پکڑا جاتاتھا‘ کچھ دے دلا کر فارغ ہوجاتاتھا مگر اب اس دفعہ میرے ہاتھوں میں پھنسا ہے‘ اتنی جلدی جان چھوٹنے والی نہیں۔ آپ پریشان مت ہوں۔‘‘ وہ رسان سے اسے سمجھانے لگی۔
’’خاک پریشان نہ ہوں‘ اتنا تو اثرورسوخ ہے اس کا… اب بھی اگر وہ بچ گیا اوراس نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کردی تو بولو کیا کریں گے ہم…؟ خدانخواستہ اس نے اگر تم کو…‘‘وہ رک گئی۔ وہ تو تصور کرکے ہی کانپ گئی۔ کسی قسم کی غلط بات ذہن میں نہ لاسکی۔ ضوفی سے فارغ ہو کر اس نے پہلی فرصت میں فوزان صدیقی سے رابطہ کیا تھا۔
’’فوزان صدیقی صاحب! میں لائبہ افتخار۔‘‘ پہلے بھابی کو ساری صورت حال بتا کر پھران ہی کے مشورے سے وہ ان ہی کے گھر سے فوزان کے آفس فون کررہی تھی۔
’’ارے آپ…! کیسے یاد کیا آپ نے اس وقت…؟‘‘ دوسری طرف سے اس کی آواز آئی تھی۔
’’آپ آج رات فارغ ہوں گے‘ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے ملنے کی وجہ بتانے سے گریز ہی کیا وہ کچھ دیر سوچتا رہا تھا پھر بولا۔
’’آئی ایم سوری لائبہ! میں آج رات کیا‘ پورا ہفتہ ہی فارغ نہیں ہوں۔ ایک بہت ضروری کیس کی جانچ پڑتال میں پورا ہفتہ شہر سے باہر ہی گزاروں گا۔ ابھی میں نکلنے ہی والا تھا۔ پلیز برامت مانیے گا۔ آج کل کام کا بہت بوجھ ہے‘ سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں۔ ان شاء اللہ میں جیسے ہی فارغ ہوا آپ کی طرف آئوں گا۔‘‘ معذرت خواہانہ لہجے میں وہ بات کررہاتھا۔
’’ٹھیک ہے میں آپ کی واپسی کاانتظار کروں گی۔‘‘ بڑی ناامید ہو کر اس نے فون بند کیا تھا۔ اب اسے نجانے کتنے دن انتظار کی سولی پر ٹنگے رہنا پڑے گا۔ بھابی کو موصوف کی مصروفیت کا بتا کر وہ اپنے پورشن میں آگئی۔ بڑی مشکلوں سے اس نے ایک ہفتہ گزارا تھا۔ ہفتہ گزرنے کے بعد اس نے متواتر دودن تک فوزان صدیقی کو فون کیا مگر مل ہی نہیں رہا تھا۔ وہ جب ناامید ہوگئی تو وہ خود چلاآیا۔ آنے سے پہلے اس نے فون کرکے اسے اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ وہ جب ان کے ہاں آیا تو اس نے خود ہی اس کے لیے گیٹ کھولاتھا۔
’’خیریت! آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں؟‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے بغور لائبہ کا جائزہ لیا۔ وہ قصداً مسکراتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
’’آپ بتائیے جس کام کے لیے آپ شہر سے باہرگئے تھے وہ ہوگیا۔‘‘
’’جی …! کافی حد تک ہوگیا ہے۔‘‘
’’مبارک ہو۔‘‘
’’شکریہ۔آپ نے بتایا نہیں آپ پریشان کیوں ہیں۔‘‘ وہ ایک دفعہ پھراسی بات پر آگیا۔ وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر اس کے لیے چائے کاانتظام کرنے اٹھ گئی۔ پھر اچانک رک گئی۔
’’آپ کھانا کھائیں گے یا چائے پئیں گے؟‘‘ اس نے کافی پرسکون انداز میں بیٹھے فوزان سے پوچھا۔
’’آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے نیاسوال داغ دیا۔ اس نے یونہی کندھے اچکائے۔
’’میرا خیال ہے یہ کھانے کاوقت ہے‘ میں کھانا لگواتی ہوں۔‘‘ آداب میزبانی نبھانے کو وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ ضوفی کے ساتھ مل کر میز پر کھانا لگوایا‘ پھرخود ہی وہ اسے کھانے کی میز پر لے آئی۔
’’سیدھا آفس سے ادھر آرہا ہوں‘ کھانے کی شدید طلب مجھے بھی ہو رہی تھی۔‘‘ ان دونوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھتے ہو ئے اس نے کافی بے تکلفی سے کہا تھا۔ کھانا بالکل خاموشی سے کھایا گیا تھا۔ دونوں میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے وقفے وقفے سے اسے مختلف چیزیں پیش کرتی رہیں۔ کھانا کھا کر وہ لائونج میں آگئے تو ضوفی ان کے لیے چائے لیے چلی آئی۔ دونوں کو باری باری کپ تھمانے کے بعد ایک کپ خود بھی لے کر وہاں بیٹھنے لگی تو اس نے اسے ٹوک دیا۔
’’تمہیںپڑھنا نہیں‘ جائو جاکر اپنی اسٹڈی کرو۔‘‘ اس کے سخت لہجے پر جہاں وہ منہ بسورتی باہر نکل گئی تھی وہاں فوزان صدیقی بھی چونکا۔
’’آخر بات کیا ہے‘ آپ اتنا سسپنس کیوں پھیلا رہی ہیں؟‘‘

of 5 
Go