Aanchal Khanis

Back | Home |  

 تقاضئہ وفا۔۔۔۔۔ انعم خان


’’اماں پلیز بس کریں۔جو میں نے کہہ دیا، سو کہہ دیا۔‘‘ ارحم بخاری گویا ایک ہی بحث سے تنگ آ چکا تھا۔ لہجہ انتہائی اکتاہٹ آمیز ہونے کے ساتھ ساتھ حتمی بھی تھا۔ اماں نے گھور کر اسے دیکھا تو وہ نگاہ چُرا گیا۔
’’ناں تو بیٹا جی۔کیا ساری عمر کنوارے ہی رہو گے؟‘‘ سکندر بخاری نے بیٹے کی قطعیت اور بیوی کے چہرے پر چھائی افسردگی کو محسوس کرتے ہوئے اپنا لہجہ قدرے نرم اور آہستہ ہی رکھا۔
’’شایدنہیں بلکہ یقینا۔‘‘ اب کے وہ بھی مدھم لہجہ میں بولا۔
’’کوئی نہیں بھیا‘اب ہم آپ کی ایک نہ سنیں گے۔ بہت کرلیا ہم نے انتظار‘ اب آپ کو ہاں کرنا ہی پڑے گی۔‘‘ قندیل نے بھی یہاں چپ رہنا مناسب نہ سمجھا۔مگر اماں نے تو گویا چُپ سادھ لی تھی۔ ارحم نے خاموشی سے آصفہ بیگم کی طرف دیکھا، وہ ہنوز لبوں پر قفل ڈالے بیٹھی تھیں جبکہ قندیل کچھ بے تاب سی اُسے دیکھے جا رہی تھی۔ ارحم نے ایک نظر باپ کو دیکھا جو نارمل تاثرات سمیت ٹھنڈے دماغ کے ساتھ معاملہ ہینڈل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ سو انہیں مخاطب کرنا زیادہ مناسب تھا۔
’’گزرا وقت واپس نہیں آتا ابو! جب میں نے آپ سے شادی کی بات کی تھی، تب آپ میںسے کوئی راضی نہ تھا، سو میں چپ ہو گیا اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں شادی کروں تو اب میرا دل نہیں مانتا۔ میرے دل میں کسی کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ وہ نہایت سپاٹ انداز میں کہتا ایک نظر سب پر ڈالتا باہر نکل گیا۔سکندر بخاری نے ایک لمبی سانس خارج کی اور آصفہ بیگم کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں آئے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ چند لمحے کمرے میں گہرا سکوت چھایا رہا۔ ارحم کو شادی کے لیے قائل کرنے کی ایک اور ناکام کوشش سے سبھی افسردہ تھے۔ قندیل کی آنکھوں کی چمک بھی ماند پڑ گئی تھی۔
’’مایوس مت ہو، مایوسی کفر ہے۔ وہ ضدی ہے۔ اس کے ساتھ جو ہوا وہ اس کے لیے ہمیں قصوروار سمجھتا ہے۔ میں سمجھائوں گا اُسے۔ وہ مان جائے گا۔ ہمیں تھوڑا صبر کرنا ہوگا۔‘‘ بالآخر سکندر بخاری نے ہی اس سکوت کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں تسلی دینی چاہی مگر اماں جان کا ذہن تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ جبھی آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھیں۔
’’کوئی انتظار نہیں کرے گا اب، اب یا تو وہ بہو کی ڈولی لے کے آئے گا یا پھر میرا جنازہ لے کرجائے گا۔ بتادیجئے گا اسے۔‘‘ وہ کہتے ہی کمرے سے باہر نکل گئیں۔قندیل نے حیرت سے سکندر بخاری کی طرف دیکھا۔ وہ دھیرے سے مسکرائے۔
’’یہاں تو سیر پر سوا سیر والی بات ہو گئی۔ بیٹا اگر اپنی ضد پر قائم رہنا چاہتا ہے تو ماں اب اپنی ضد دکھائے گی۔ بہرحال قندیل بیٹی دعا کرو کہ اس گھر کا امن و سکون برقرار رہے۔‘‘ وہ کچھ فکرمند سے بولے۔
’’آمین!‘‘ قندیل نے دل ہی دل میں کہا۔
’’بخاری ہائوس‘‘ میں پچھلے ایک سال سے حل نہ ہونے والا موضوع زیرِبحث چلا آ رہا تھا اور یہ موضوع نہایت پُرکشش، مردانہ وجاہت کے حامل، اعلیٰ تعلیم یافتہ، بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز اماں جان کے لاڈلے سپوت ارحم بخاری کی شادی سے متعلق تھا جس کے لیے سبھی مثبت جواب کے لیے محوِانتظار تھے مگر دوسری جانب ایک ہی رٹ جاری تھی۔
’’میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔‘‘جس پر سب پریشان تھے۔ تقریباًسب نے اس کو راضی کرنے کی اپنی سی کوشش کی مگر بار بار ناکامی، لیکن اب اماں جان کی سوچیں کسی اور طرف پرواز کرنے لگیں کہ گویا اِس دفعہ بیٹے سے ہاں سننا ہی مقصود تھا۔
گرمی کے آغاز سے قبل موسمِ بہار انتہائی خوش گواریت لیے، پرندوں کی میٹھی بولی کے سنگ ہَوائوں کے دوش پرٹھنڈک کااحساس دے رہا تھا۔ ایسے میں ’’بخاری ہائوس‘‘ کے خوب صورت لان میں ارحم دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لیے شام کو وہاں چہل قدمی کر رہا تھا اوراپنے سب سے ناپسندیدہ موضوع ’’شادی‘‘ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اپنے تئیں وہ شادی نہ کرنے کا اٹل فیصلہ کرچکا تھا مگر گھر والوں کا پُرزور اصرار کبھی کبھی اسے اپنے آپ میں بے بس کر دیتا۔ مگر اُسے خود سے کیا برسوں پرانا وعدہ نبھانا تھا اور وہ وعدہ تاعمر اپنی محبت کے حصول میں ناکامی کے بعد کسی اور سے شادی نہ کرنے کا تھا۔ جسے وہ آخری سانس تک پورا کرنا چاہتا تھا۔
سکندر بخاری اُسے دور سے ہی لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ارحم اردگرد سے بے نیاز اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھا۔ یہ بہترین موقع تھا آصفہ بیگم کی بات ارحم تک پہنچانے کا۔ اس خیال کے آتے ہی وہ لان کی طرف بڑھے۔ ارحم انہیں دیکھ کر اپنی جگہ رک گیا۔
’’آئیے ابو!‘‘
’’کیا سوچ رہے تھے برخوردار۔‘‘ وہ اس کے برابر رک گئے۔
 






’’سوچنا کیا ہے ابو! ٹینشن ہی ٹینشن ہے۔ تنگ آ گیا ہوں میں ایک ہی بات، ایک ہی رٹ سے۔ کیا اِس گھر میں کوئی اور موضوع زیرِبحث نہیں لایا جاسکتا؟‘‘ ارحم جواباً اکتاہٹ آمیز لہجے میں بولا۔
’’لایا جا سکتاہے۔ کیوں نہیں لایا جا سکتا اگر تم ہماری بات مان لو تو ساری ٹینشن دور ہو جائے گی تمہاری بھی، ہماری بھی۔‘‘ سکندر صاحب خاصی سنجیدگی سے بولے۔ جبھی ارحم کے چہرے کے زاویے بدلے۔
’’پلیز ابو!‘‘ لہجہ کسی حد تک بے بس بھی تھا۔ قدرے توقف کے بعد پھر بولا۔ ’’میں نہیں کرنا چاہتا شادی وادی۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں میری مجبوری؟ نہیں کر سکتا میں اپنی محبت کا بٹوارا۔‘‘
’’کیسی محبت ارحم…وہ محبت جو آج سے آٹھ سال پہلے کسی اور کی ہو گئی؟ جس نے تمہاری قطعاً پروا نہ کرتے ہوئے اپنے والدین کی مانی۔ تمہاری وہ محبت جو آج اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش گوار زندگی گزاررہی ہے۔‘‘ پچھلے ایک سال سے ارحم کی ٹال مٹول اب سب کی برداشت سے باہر ہو گئی تھی۔ ’’محبت، بٹوارا، شادی نہ کرنے کی ضد… آخر برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔‘‘ سکندر صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی سخت لہجہ میں بولے۔ارحم نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔ یک دم ناگوار سی خاموشی پھیلی۔ سچ واقعی کڑوا ہوتا ہے اور اُسے برداشت کرنا سو گنا مشکل و دشوار بھی۔
’’یار ارحم! خود کو ایک حد کے اندر قید رکھنا کوئی معیوب بات نہیں ہے مگر زندگی بھر کا روگ پالنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ تمہارے ساتھ جو ہوا اس کا ہمیں دکھ ہے مگروقت کبھی اپنی جگہ نہیں رُکتا۔ چلتا رہتا ہے۔ اب تم تیس سال کے ہو چکے ہو۔ تمہاری عمر کے سبھی دوست حتیٰ کہ وہ لڑکی بھی اب تین بچوں کی ماں بن چکی ہے۔ کچھ سوچو۔‘‘ انہوں نے پھرنرم رویہ اپناتے ہوئے اُسے سمجھانا چاہا۔ مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا۔
’’کیا سوچوں ابو! میرا دل نہیں مانتا۔ اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘
’’تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔‘‘ وہ ہنسی روکتے ہوئے بولے۔ ’’ بس اب تمہاری ماں ہی تم سے بات کرے گی۔‘‘ وہ جانے لگے۔ ’’اور ہاں…‘‘ پھر جیسے کچھ یاد آنے پر مڑے۔ ’’تمہاری اماں کافرمان ہے کہ اب یا تو تم ڈولی لے کے آئوگے یا پھر ماں کا جنازہ لے کر جائو گے۔ سمجھے!‘‘ یہ کہتے ہی وہ باہر نکل گئے۔
’’اب کیا کروں؟‘‘ ارحم نے ناگواری سے سوچا۔ اس کے خیال میں کچھ بھی اس کے حق میں ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔

…٭٭٭…


دن گزرتے رہے، ارحم اپنی ضد پر قائم رہنا چاہتا تھا۔ سو آصفہ بخاری کے سامنے گیا ہی نہیں۔ وہ بھی وقتی طورپر چپ سادھے بیٹھی تھیں کہ اب ایک ہی مرتبہ بولیں گی۔ البتہ ان کی نظریں اچھی لڑکی کی متلاشی رہتیں۔ دو تین شکل و صورت سے پسند بھی آئیں مگر عادات و اطوار کو دیکھتے ہوئے وہاں بات نہ چلائی۔ اور اگرکوئی پسند آ بھی جاتی تو بڑی بہو سلمیٰ وہاں بات ہونے نہ دیتی کیوں کہ اِس میں بھی اُس کی اپنی غرض شامل تھی۔ اپنے کمائو، خوب صورت اور وجیہہ دیور کے لیے محترمہ سلمیٰ صاحبہ اپنی لاڈلی بہن راضیہ کو دلہن بنانے کے سپنے سجائے بیٹھی تھیں۔ جو شکل میں تو اس سے کافی خوب صورت تھی مگر عادات و مزاج میں دونوں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کا کمال جانتی تھیں۔ شاطر دماغ کے ساتھ دس گز لمبی زبان سیر پہ سوا سیر کی مثال تھی اور آصفہ بیگم ایک تلخ ناقابلِ برداشت تجربے کے بعد دوسرے سے گریزاں تھیںہر مرتبہ بہو کو ٹال جاتیں۔
ان دِنوں سلمیٰ میکے گئی ہوئی تھی۔ آصفہ بیگم کے پاس نادر موقع تھا کہ کوئی اچھی، خوب صورت، خوب سیرت، سلجھی ہوئی لڑکی دیکھ کر رشتے کی بات چلا دیں اوراسی سلسلے میں قندیل ان کی معاون بن گئی تھی۔
’’اماں! میری نظر میں ایک لڑکی ہے۔‘‘ شام کو وہ آصفہ بیگم کی گود میں سر رکھے بولی۔
’’اچھا… کون ہے وہ؟‘‘
’’اماں آپ کی پسند کے عین مطابق خوب صورت، خوب سیرت، سلیقہ شعار اور سلجھی ہوئی، ایک دَم بھیا کے ساتھ پرفیکٹ لگے گی اور شاید آپ اُس سے مِل بھی چُکی ہیں۔‘‘
’’ملنے کے بعد بھی وہ ہیرا میری آنکھوں سے اوجھل رہا؟ تعجب ہے! اچھا بتائو تو کون ہے وہ لڑکی؟‘‘ اماں حیرت سے استفسار کرنے لگیں۔
’’اماں میری دوست عالیہ ہے ناں! اُس کی بہن کی بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’عالیہ کی بہن! کون سی؟ عالیہ سمیت تمام بہنوں کو ذہن میں لاتے ہوئے انہوں نے پھر سے پوچھا۔
’’تابندہ صدیقی!‘‘ قندیل نے ایک ادا سے نام لیا۔
’’تابندہ صدیقی… وہی جو لکھتی ہے؟‘‘ نام یاد آتے ہی اماں کی آنکھوں کے سامنے موہنی سی صورت گھوم گئی۔






’’جی اماں! ہر دِل عزیز رائٹر تابندہ صدیقی۔ سچ میں اماں وہ بھیا کے ساتھ بہت اچھی جوڑی رہیں گی۔‘‘ قندیل خوشی خوشی بتانے لگی۔ اماں جان خاموشی سے سوچنے لگیں۔ ’’ہے واقعی وہ بہت نیک اور قابل۔ میں بات کرتی ہوں تمہارے ابو سے اور پھر سلمیٰ کے آنے سے قبل ہی رشتے کی بات چلاتے ہیں۔‘‘ وہ لڑکی کے متعلق سوچنے لگیں جو واقعی انہیں ہر لحاظ سے اپنے بیٹے ارحم بخاری کے لائق لگی تھی۔
ایک بار وہ قندیل کے ساتھ عالیہ کے گھر گئیں اور اس سے ملیں۔ ملنے سے قبل بھی مختلف ڈائجسٹوں میں اس کی کہانیاں شوق سے پڑھتیں بلکہ اس کے اندازِتحریر، الفاظ کی پختگی اور افسانوی باتوں سے ہٹ کے معاشرتی مسائل کوخوب صورتی سے اجاگر کرنا اس کی شخصیت کے سلجھائو کا غماز تھا۔ جو دیگر قارئین کے ساتھ آصفہ بخاری کو بھی اس کا پرستار بنا گیا تھا اور اب اپنی من پسند رائٹر کو بہو بنانے کے خیال سے انہیں خوشی کے ساتھ ساتھ فخر بھی محسوس ہو رہا تھا۔ رات میں ہی انہوں نے سکندر بخاری سے بات کی جس کے بعد وہ بولے۔
’’بیگم!پہلے ارحم کو تو راضی کرلیں۔ پھر دیکھ لیں گے لڑکی۔‘‘
’’اب ارحم کو راضی ہونا پڑے گا۔ ایک ماں کی ممتا اُسے راضی کرے گی۔ بس میں چاہتی ہوں کہ ایک دو دن میں ہم بات آگے بڑھائیں۔‘‘ وہ پرعزم لہجہ میں بولیں۔
’’چلو پھر جیسے تم سب کی مرضی۔‘‘ انہیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ مزید دو دن گزرے۔ گھر کے ماحول میں بظاہر ٹھہرائو سا آ گیا تھا۔ ارحم پُرسکون تھا، خوش بھی تھا کہ پچھلے دو دنوں میں کسی نے دوبارہ اس سے بات نہیں کی۔ البتہ اپنے تئیں اُس نے آصفہ بیگم کا سامناکرنے سے گریز ہی برتا۔ سکندر بخاری بھی آنے والے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اب یا تو معاملہ حل ہو جانا تھا یا پھر قیامت کا طوفان برپا ہونے والا تھا۔ آصفہ بیگم نے ارحم سے بڑے اسفند بخاری کو تمام حالات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی بیگم سلمیٰ کو کچھ بھی بتانے سے منع کیا اور وہ تو تھے ہی سدا سے امن پسند، فساد اور لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور رہنے والے مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ اس سے بالکل برعکس ہم سفر کا ساتھ نصیب ہوا۔ آج شام کو انہوں نے جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ تابندہ صدیقی کے گھر جانے سے قبل اسفند بھائی اماں کے کہنے پر مٹھائی اور پھل لے آئے تھے اورگاڑی میں رکھ دیے ‘ جبھی ارحم گھر میں داخل ہوا۔
’’یہ سب کس لیے؟‘‘ اس نے چھوٹتے ہی اسفند بخاری سے استفسار کیا۔’’کسی کے گھر اگر اپنے ہی مقصد کے لیے خالی ہاتھ جایا جائے تو یہ ایک غیر اخلاقی فعل تصور کیا جاتا ہے۔‘‘ اسفند بھائی نے جواب دیا۔
’’کیا مطلب‘ کیسا مقصد؟‘‘ وہ کچھ نہ سمجھا۔
’’ابھی مقصد نہ پوچھو بیٹا جی… جائو آرام کرو۔ واپس آ کر بتائیں گے۔‘‘ جواباً ابو نے کہا۔ اسی دوران آصفہ بیگم اور قندیل گاڑی تک آئیں۔
’’اسفند بھائی جلدی کریں، دیر ہو رہی ہے۔‘‘ قندیل آتے ہی بولی۔
’’اماں کہاںجا رہے ہیں آپ سب؟‘‘ ارحم کچھ نہ پتا چلنے پر پریشان ہو گیا۔ اماں کچھ نہ بولیں اور سرسری سا اُسے دیکھتے ہوئے گاڑی میں جا بیٹھیں اور اسفند نے گاڑی اسٹارٹ کی اور وہ سب چلے گئے۔
’ابو! آپ ہی کچھ بتائیں!‘‘ سکندر صاحب جو گیٹ کی طرف جا رہے تھے ارحم نے انہیں پکارا۔
’’بیٹا! ابھی تو میں دوست کی طرف جارہا ہوں۔ واپس آ کر بات کرتے ہیں۔‘‘ وہ جلدی ظاہر کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ ارحم الجھی ہوئی سوچوں کے ہمراہ اندر آ گیا۔ البتہ اس کے دل کاآنگن بہت اداس تھا۔ محبت کے حصول میں ناکامی کے بعد اس کا دل یوں ہی امنگوں سے عاری اندھیروں میں گِھر کر کسی بھی خواہش سے اچاٹ رہتا تھا۔ تو کبھی کبھی تھک کر قسمت کی ستم ظریفی پر اللہ تعالیٰ سے شکوہ بھی کر بیٹھتا۔
’’کیوں اے خدا! میرے ساتھ ہی کیوں؟ کیوں مجھے عمر بھر کا روگ لگایا۔ کیوں محبت میرے لیے لا حاصل رہی… کیوں؟‘‘
تھکن سے چُور وہ بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا۔

٭٭٭٭


وہاں موجود سبھی لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ ابھی تابندہ کے گھر والوں نے باقاعدہ  کوئی جواب نہیں دیا تھا لیکن سوچنے کے لیے وقت مانگا تھا۔ قندیل اور عالیہ کی دوستی کی وجہ سے دونوں گھرانے ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اسی لیے اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔ تابندہ سلام دعا کے بعد ان کے سامنے چائے اور دیگر لوازمات رکھ کراپنے کمرے میں چلی گئی۔
’’اچھا بہن اب ہم چلتے ہیں۔ ویسے بھی اب آنا جانا لگا ہی رہے گا… بس آپ ہمیں ناامید مت کیجیے گا۔‘‘ آصفہ بخاری نے اجازت لیتے ہوئے ان سے کہا تو وہ مسکرا دیں۔ گھر واپسی تک






کے سفر میں جہاں تابندہ صدیقی زیرِ گفتگو تھی وہیں ایک اور فکر ارحم کی ذات سے بھی جُڑی تھی۔ آصفہ بیگم اس رشتے سے مطمئن نظر آ رہی تھیں۔
’’بھیا آپ نے ابھی بھابی سے کچھ نہیں کہنا۔‘‘ ساتھ ہی ساتھ ایک اور فکر قندیل کو لاحق ہوئی۔
’’جو حکم جناب عالیہ!‘‘ اسفند بھائی نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
’’اسفند بیٹا ایک دو دن میں سلمیٰ کو بھی لے آنا۔ بات چھپانے پر وہ ناراض ہو گی مگر اب میرے خیال میں معاملہ اس کی پہنچ سے دور ہے۔ آج بھی سب اس کا پوچھ رہے تھے۔ اگلی بار ساتھ لے چلیں گے۔‘‘ آصفہ بیگم اس کا خیال آنے پر بولیں۔
’’بہتر اماں۔‘‘ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ گھر پہنچے تو ارحم ٹی وی دیکھنے میں مشغول تھا۔ سکندر صاحب شام کا اخبار پڑھ رہے تھے‘ انہیں اندر آتا دیکھ کر اخبار ایک سائیڈ پر رکھا۔ایک نظر ارحم پر ڈالی جو ٹی وی آف کرکے ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
’’آپ میں سے اب کوئی مجھے اصل بات بتائے گا؟ وہ خفگی بھرے لہجے میں بولنے لگا۔
یار صبرتو کر! اسفند نے اسے ٹوکا۔
اماں کے وجود میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی جسے ارحم محسوس نہ کر سکا البتہ سکندر بخاری برسوں کی سنگت کے پیشِ نظر پل بھر میں جان گئے کہ یقینا بات ہو گئی ہے۔
’’ٹھیک ہے نہ بتائیں… ویسے بھی اس گھر میں کبھی کسی نے میرے بارے میں نہیں سوچا تو اب بھی مجھے جان لینا چاہیے کہ میری بات کی کسی کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘ سب کی خاموشی پر وہ ناراضگی سے چڑ کر بولا۔
’’ارحم! فضول کی باتیں مت کرو۔‘‘ ابو نے جواباً اسے سختی سے گھورا۔ آصفہ بیگم نے بھی شکایتی نظروں سے بیٹے کو دیکھا مگر منہ سے کچھ نہ بولیں۔ ارحم احتجاجاً وہاں سے واک آئوٹ کر گیا۔
’’اماں بتا دیں نا بھیا کو…‘‘
’’ہاں کروں گی میں اس سے اکیلے میں بات۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔

٭٭٭


باہر موسم بڑا سہانا تھا۔ بارش ہونے کا امکان تھا۔ گھر کے سب ہی افراد لان میں بیٹھے گفتگو میں مصروف تھے۔ قندیل نے گرما گرم چائے کے ساتھ موسم کی مناسبت سے پکوڑے بھی فرائی کر لیے تھے۔
’’اچھا اماں! میں سلمیٰ کو لانے جا رہا ہوں۔‘‘ اسفند بھائی نے چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے کہا اور چلے گئے۔
’’شادی کے بعدیہ ایکسٹرا ڈیوٹی ہے۔ کبھی بیوی کو میکے چھوڑنے جائو اور کبھی لینے۔ اسی لیے ایک مرتبہ پھر میری شادی سے توبہ…‘‘ ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا اور گرما گرم پکوڑا منہ میں ڈالا۔
’’توبہ تو اب تمہارے فرشتوں کی بھی قبول نہیں ہوگی بیٹا!‘‘ سکندر صاحب نے اُسے باور کروانا چاہا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ وہ یک دم چونکا۔
’’وقت آنے دو… سب مطلب واضح ہو جائیں گے۔‘‘ اب کہ وہ مسکرائے۔ اِس دفعہ ارحم بِنا کچھ بولے اٹھ کر چلا گیا۔
’’قندیل! تم ذرا مجھے عالیہ کے گھر کا نمبر ملا دو… اگر وہ کوئی مثبت جواب دیں تو ہم کل ہی اُن کے گھر جائیں گے۔‘‘ آصفہ بیگم نے اُسے مخاطب کیا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
’’جواب مثبت ہوا تو ہم اُن سے شادی کے لیے بھی جلدی کا کہیں گے۔‘‘ وہ شوہر سے کہہ رہی تھیں۔
’’اور ارحم کوکیاکہیں گی بیگم صاحبہ؟‘‘وہ متفکر ہوئے۔
’’رات میں بات کروں گی ارحم سے۔‘‘ کہتے ہوئے وہ قندیل کے اشارے پر فون کی طرف بڑھیں۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اصل مقصدکی طرف آئیں۔ جواب مانگنا چاہا تو انہوں نے گھر آنے کی دعوت دی۔ جو آصفہ بیگم نے خوش دلی کے ساتھ قبول کر لی۔
غروبِ آفتاب کا وقت قریب تھا۔ جبھی ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہوئی۔ گرمائش دیتے دِن کے برعکس شام کا پہر خاصا ٹھنڈا ہو گیا تھا۔کچھ ہی دیر میں اذانیں شروع ہوئیں۔ مرد حضرات

of 4 
Go