انتظار کا موسم… نسیم ارشد
ایک طویل تھکادینے والے مرحلے سے گزر کر جب وہ خواب گاہ میں پہنچا تو مارے حیرت کے چکرا کر رہ گیا۔ محترمہ مہر یعنی دلہن صاحبہ سیاہ جینز اور سفید لان کے کلیوں والے کُرتے میں ملبوس انتہائی انہماک سے کمپیوٹر پر مصروف تھیں۔ مہندی رچے ہاتھوں کی مخروطی انگلیاں سبک روی سے کی بورڈ پر محترک تھیں۔ چہرہ بالکل صاف شفاف تھا۔ بیوٹیشن کی محنت واش روم میں بہہ چکی تھی اور ساتھ ہی وہ تگڑی سی رقم بھی جو بیوٹی سیلون میں ادا کی گئی تھی۔ ہیئر اسٹائل شاید بہت پیچیدہ تھا۔ تبھی تو ڈریسنگ ٹیبل پر ہیئر پنز کا ڈھیر پڑا تھا۔ کچھ پنیں ہلکے انگوری کارپٹ پر بکھری ہوئی تھیں۔ عروسی لباس بیڈ پر ڈھیر تھا اور زیورات ڈریسنگ ٹیبل پر… بالوں کو کس کے جوڑے کی شکل دی گئی تھی‘ عمر نے طویل سانس خارج کرتے ہوئے جائزہ مکمل کیا۔
کی بورڈ ہنوز کھٹ کھٹ چل رہا تھا یعنی اس کی موجودگی کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ بالکل متوازن انداز میں چلتا ہوا وارڈ روب کی طرف گیا اور شب خوابی کالباس نکال کر واش روم میں چلا گیا۔ پچیس تیس منٹ شاور لے کر اس نے اپنا دماغ ٹھنڈا کیا اور باہر آیا تو وہ اسی طرح مصروف تھی گویا اگلی پچھلی کسر آج ہی پوری کرے گی اور تمام رکے ہوئے کام آج ہی مکمل ہوں گے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر بال برش کرنے لگا‘ ساتھ ہی اس نے آئینے میں سے مہر کا جائزہ لیا۔ اس کے چہرے پر انہماک کی بنا پر ایک متفکر تاثر تھا۔ کافی دیر عادتاً بال سنوارنے کے بعد وہ پلٹ کر روم فریج کی طرف گیا۔ ٹھنڈے دودھ کا گلاس اور سیب لے کر وہ بڑے سکون سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ مہر کی مصروفیت میں کوئی کمی نہ ہوئی‘ وہ سیاہ فائل سامنے رکھے برق رفتاری سے ٹائپ کرتی چلی جارہی تھی۔ گلاس خالی کرکے اس نے میز پر رکھا اور بیڈ کی طرف گیا لیکن بیڈ پر ریشمی کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا۔
’’مہر…!‘‘ وہ چلتا ہوا اس کے پاس جاکر اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ مہر کے ہاتھ سیکنڈ کے دسویں حصے کے لیے رکے پھر متحرک ہوگئے۔ ’’مہر!‘‘ اس نے مہر کے شانے پر ہاتھ رکھا اور اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔
’’کیا ہے؟‘‘ اس نے پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ انداز بالکل سپاٹ تھا۔
’’بیڈ پر سے اپنا لباسِ فاخرہ اٹھائو‘ مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ وہ کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ وہیں کھڑا مانیٹر پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔ مہر کوئی اسائنمنٹ ٹائپ کررہی تھی۔ رف میں بہت زیادہ کٹنگ اور اوور رائٹنگ تھی۔ عمر سیاہ فائل میں کلپ صفحات کو سرسری نظر سے دیکھنے لگا۔ وہ وہیں کھڑا تھا جب مہر دوبارہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ اس نے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا وہی ڈھیر اب صوفے پر پڑا تھا۔ عمر نے لمبی سانس کھینچ کر موتیے اور گلاب کی مہک کو اپنے اندر جذب کیا۔
’’مہر! مجھے بے ترتیبی سے الجھن ہوتی ہے‘ یہ سب ٹھیک نہیں۔‘‘ اس نے ناپسندیدہ نظروں سے ڈریسنگ ٹیبل پر بکھرے زیورات اور صوفے پر پڑے لباس کو دیکھا۔
’’مجھے سے زیادہ کون جانے گا کہ تم زندگی میں ہر کام کو کس قدر ترتیب اور صفائی سے کرنے کے عادی ہو۔‘‘ مہر نے اس کی کمرے میں موجودگی کے ایک گھنٹے میں پہلی بار کوئی لمبی بات کی تھی۔ انداز سرد تھا‘ لفظ بہت چبا چبا کر ادا کیے گئے تھے۔
’’اچھا! اتنا جانتی ہو مجھے؟‘‘ وہ زیر لب مسکرایا۔ مہر کی نگاہیں مانیٹر پر تھیں‘ وہ چپ رہی۔ ’’جب جانتی ہو تو مانتی کیوں نہیں؟‘‘ کچھ دیر کے توقف سے وہ گویا ہوا۔ ’’سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ بولو!‘‘ اس نے نرمی سے مہر کے کندھے کو چُھوا۔
’’بیڈ خالی ہوچکا ہے ‘ سوجائو اور مجھے کام کرنے دو۔‘‘ اس نے عمر دراز کے ہاتھ کو جھٹکا۔ عمر کی اَنا پر کاری ضرب پڑی‘ ہونٹ بھینچ کر اس نے خود پر قابو پایا۔
’’اگر تم نے چند سیکنڈ کے اندر یہ فضول کام نہ چھوڑا تو میں کمپیوٹر آف کردوں گا۔‘‘ اس نے پھرکوشش کرکے اپنا لہجہ معتدل رکھا۔ ’’کم آن مہر!‘‘ اس نے کی بورڈ پر چلتے اس کے ہاتھ کو تھاما۔ مہر نے ایک جلتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی اور پھنکارتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میرے ذاتی معاملات میں دخل دینے کی کوشش مت کرنا اور ہاں مجھے ہدایات لینے کی عادت نہیں ہے۔ سمجھے تم!‘‘ عمر نے کوئی تاثر نہ دیا۔ ’’تمہیں صرف بے ترتیبی سے الجھن ہوتی ہے اور مجھے تمہارے وجود سے‘ تمہارے نام سے حتیٰ کہ تمہارے خیال سے بھی الجھن ہوتی ہے۔ بتائو کرسکتے ہو ترتیب درست…؟ اگر میں تمہیں برداشت کرسکتی ہوں تو تم صرف یہ بے ترتیبی برداشت نہیں کرسکتے؟ تمہیں کرنی پڑے گی۔ کچھ لو کچھ دو۔ سمجھے!‘‘ وہ دھیمے لہجے میں غرائی۔
’’تمہاری کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔ میں تو تم سے عشق کرتا ہوں اور جواباً تم…‘‘ اس نے باقی باتوں کو نظر انداز کردیا۔ غالباً اسے یہی ایک جملہ قابل گرفت لگا تھا۔
’’جس کے پاس جو ہو‘ وہ وہی دیتا ہے اور رہی اس نام نہاد عشق کی بات‘ تو تم عشق نہیں کاروبار کرتے ہو۔ کاروباری نکطۂ نگاہ سے… ہے نا!‘‘ اس نے گہرا طنز کیا۔ عمر حوصلے سے پی گیا۔
’’تم تھوڑا سا غلط بول گئیں‘ میں عشق کو صرف عشق سمجھتا ہوں۔ تم سمجھنے کی کوشش تو کرو۔‘‘ اس کی بات سنے بغیر مہر تیزی سے صوفے کی طرف بڑھی۔ بھاری لہنگا‘ دوپٹا وغیرہ اس نے بڑی مہارت سے تہہ کیا اور وارڈ روب میں رکھ دیا۔ زیورات کو ڈبوں میں بند کرکے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں رکھا اور واپس اس کی طرف آئی۔ عمر نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے۔
’’ایک لفظ نہیں‘ ایک لفظ بھی نہیں۔ جائو سو جائو جاکر۔ تمہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے الجھن ہوتی ہے‘ کبھی دوسروں کے بارے میں سوچا ہے؟ ایسا دہرا معیار اور دوغلاپن…؟‘‘ وہ درشتی سے کہتی ہوئی رخ موڑ گئی۔ عمر کچھ دیر اس کی پشت پر نظریں جمائے کھڑا رہا پھر پلٹ گیا۔
’’میں لائٹ آف کررہا ہوں۔‘‘
’’کردو!‘‘ مہر نے جان چھڑائی۔ لائٹ بند ہوچکی تھی لیکن مانیٹر کی اسکرین سے نکلتی ہوئی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔
’’مہر! کمپیوٹر آف کردو‘ مجھے روشنی میں نیند نہیں آتی۔‘‘
’’جن کے اندر اندھیرے ہوں‘ انہیں باہر بھی اندھیرے ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘ زہر میں بجھے الفاظ اس کی سماعتوں میں اتار کر وہ ملحقہ اسٹڈی روم میں چلی گئی۔ کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ اس کے پیچھے چلا گیا۔
’’مہر! مجھے اکیلے میں نیند نہیں آرہی۔‘‘
’’عمر! تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ وہ غصے میں بے قابو ہوگئی۔ عمر کی دھڑکن بے ترتیب ہوگئی۔ آج پہلی بار مہر نے اس کا نام پکارا تھا۔ ’’صرف عمر… یعنی رشتے کی نوعیت بدلنے سے رویے بھی بدلیں گے۔‘‘ وہ اس کے خوب صورت ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا جن سے چند لمحے پہلے اس کا نام نکلا تھا۔ اس کی بے خود اور پرتپش نگاہیں مہر کوپگھلانے لگیں۔
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ مہر کی خفگی آمیز آواز اسے واپس کھینچ لائی۔
’’میں صرف تمہیں چاہتا ہوں‘ اگر تم یقین کرسکو تو کرلو۔‘‘
’’اور تمہارے خیال میں محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے؟‘‘ اس کا لہجہ سلگنے لگا۔
’’مہر! میںنے تمہارے ساتھ شادی کی ہے اور بس…‘‘ وہ نہ جانے کیوں اور کیسے اس قدر لچک کا مظاہرہ کررہا تھا ورنہ خلاف مزاج ذرا سی بات ہوجانے پر وہ زمین اور آسمان ایک کردیا کرتا تھا۔
’’ہاں شادی کرنا تھی تمہیں مجھ سے… جیسے بھی ممکن ہوتا۔ اب ہوگئی ہے اور واقعی بڑی مہارت اور صفائی سے تم نے سب کو بے وقوف بنایا ہے‘ اب اور کیا چاہتے ہو تم… مجھے یقین دلانا چاہتے ہو؟ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی۔ میرے یقین کرنے نہ کرنے سے میرے چاہنے نہ چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اگر یقین نہ کروں گی تو کچھ نہیں ہوگا‘ کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح جیسے میں تمہاری دلہن نہیں بننا چاہتی تھی مگر بن گئی ہوں۔ میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ بھی نہ ہوسکا۔ تم یہ فضول کوششیں ترک کردو اور مجھے سکون لینے دو یا تم مجھ پر زندگی اس قدر تنگ کردینا چاہتے ہو کہ میں سانس بھی نہ لے پائوں؟‘‘ عمر کا وجود جھٹکوں کی زد میں تھا۔
’’تم یہاں اسٹڈی میں کیوں آئی ہو؟‘‘ بہت دیر بعد اس نے خود کو بولنے کے قابل پایا تھا۔
’’میں سب کچھ تمہاری مرضی سے نہیں کروں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن تم سب کچھ اپنی مرضی سے بھی نہیں کرو گی۔ ابھی تم نے خود کہا ہے کہ تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ کہتے ہوئے عمر دراز نے مہر کو ننھی سی گڑیا کی طرح بازوئوں میں اٹھالیا اور بڑی احتیاط سے بیڈ پر لٹادیا۔
’’تمہارے چاہنے اور نہ چاہنے سے مجھے بہت فرق پڑتا ہے مہر! میں تمہاری چاہت کے بغیر تمہیں دیکھوں گا بھی نہیں‘ چُھونا تو بہت دور کی بات ہے۔ بے کار کے خدشے دل سے نکال دو اور پُرسکون ہوکر سوجائو۔‘‘ ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ کر اس نے مرکزی لائٹ بند کرکے نائٹ بلب جلادیا اور ساتھ ہی اے سی کی کولنگ بڑھا دی۔
’’عمر…!‘‘ لمحوں کا سر ایک بار پھر تھما۔ عمر دراز کا رواں رواں سماعت بن چکا تھا۔
’’بولو!‘‘
’’مجھے کچھ دیر کام کرنا ہے‘ تم سوجائو۔‘‘
’’کام صبح بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’صبح نہیں ہوسکتا‘ ولیمے کا فنکش‘ مہمانوں کا ہنگامہ… مجھے کل یہ اسائنمنٹ جمع کروانی ہے۔‘‘
’’اوکے!‘‘ عمر نے کروٹ بدل کر کمبل سر تک تان لیا‘ غالباً اسے کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ مہر کے اندر ایک بار پھر توڑ پھوڑ شروع ہوگئی۔
’’تو میں اب پابند ہوگئی ہوں تمہاری مرضی اور اجازت کی… نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوگئی ہوں اتنی کہ کمپیوٹر استعمال کرنے سے پہلے مجھے تمہاری اجازت و رضا مندی کی ضرورت پڑے اور میں
کچھ وقت اسٹڈی میں اپنی مرضی سے نہ گزار سکوں؟ تم نے مجھے مغلوب کرلیا اور تم برابر مجھے ہراتے چلے جائو گے اور میں اتنی بے بس ہوں کہ تمہاری بات ماننے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں اور میں… جو وقت کو اپنے مطابق ڈھالنے کے خواب دیکھا کرتی تھی‘ اب ذرا ذرا سی بات کے لیے مجھے تمہاری طرف دیکھنا پڑے گا۔ تمہاری ابرو کی جنبش میری خواہش‘ میری خوشی اور اختیار پر اثر انداز ہوا کرے گی۔ اب ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے حکم چلانے اور رعب جمانے کا… تم نے آج تک اپنی من مانی کی‘ تم نے حالات کا رخ ہمیشہ اپنی طرف موڑے رکھا‘ تم نے وہی پایا جو تم نے چاہا۔ تو کیا میں حالات کا ایک حصہ ہوں‘ یا میں کسی گاڑی کا برانڈ نیو ماڈل ہوں یا کسی فارن یونیورسٹی کی ڈگری۔ جسے تم نے حاصل کرلیا ہو؟ کیوں بھول رہے ہو تم کہ مہر جمال ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔ ایک باشعور اور آزاد لڑکی! جو دیکھ سکتی ہے‘ سُن سکتی ہے‘ اپنے اچھے بُرے کا فیصلہ خود کرسکتی ہے۔ محض اپنی انا کا پرچم سر بلند رکھنے کے لیے تم نے میری ذات کی نفی کی اور اب نفی کا یہ سلسلہ آگے بڑھا رہے ہو۔‘‘ مہر کی آنکھیں جلنے لگیں۔ ’’تم نے یہ نہ سوچا کہ میں کس بحران سے گزر رہی ہوں۔ منافقت کے طور ہی سہی کچھ تو خیال کیا ہوتا۔ تھوڑا سا ہی سہی…‘‘ اسے بیڈ سے اپنا لباس اٹھانا یاد آگیا پھر وہاں سے وارڈ روب میں اور جیولری جو اس نے ڈبوں میں رکھی تھی اور… پھر لائٹ بھی آف کی تھی۔ ’’یہ تو حد ہی ہوگئی کہ مجھے اسٹڈی سے اٹھا لایا۔ یعنی میں واقعی اپنی مرضی سے ہل بھی نہیں سکتی۔ ایسے جیسے تم نے مجھ سے شادی نہیں کی بلکہ تم نے مجھے خریدا ہے۔ بہت بڑی خوش فہمی اور حماقت… جوں جوں وہ سوچ رہی تھی‘ غصے کا گراف بلند ہوتا جارہا تھا۔ اس نے بڑے جوش سے کرسی دھکیلی اور کھڑی ہوگئی۔ ٹچ ٹچ ٹچ کمرے کی ساری لائٹیں آن ہوچکی تھیں۔ ڈریسنگ ٹیبل کا دراز کھول کر اس نے جیولری کے ڈبے باہر نکالے اور ایک ایک چیز اٹھا کر پھینکنے لگی۔ چوڑیاں‘ نیکلس‘ ائیررنگز‘ ہلکے انگوری کارپٹ پر جا بجا گولڈ اور ڈائمنڈ کے مختلف زیورات بکھر چکے تھے۔ چوڑیاں گول گول گھومتی ہوئی بیڈ کے نیچے تک جاپہنچی تھیں۔ اس کا اشتعال بڑھتا جارہا تھا۔
’’ترتیب اور سلیقہ… ہونہہ!‘‘ اس نے الماری کھول کر لہنگا باہر نکالا اور الماری کے پٹ زور سے بند کیے۔ کھٹکے کی آواز سے عمر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کمبل منہ سے ہٹایا‘ تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چُندھیا گئیں۔ اس نے بے اختیار آنکھیں دونوں ہاتھوں سے رگڑیں۔ مہر نے آگے بڑھ کر کمبل کھینچ لیا۔ وہ حواس باختہ رہ گیا۔ مہر نے زور سے بھاری لباس اس کے اوپر پھینکا۔ کچی نیند سے بیدار ہونے کے سبب عمر کے حواس پوری طرح بحال نہیں ہوئے تھے‘ اس لیے وہ ناسمجھی کی کیفیت میں سرخ آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’تمہیں الجھن ہوتی ہے بے ترتیبی سے اور روشنی میں تمہیں نیند نہیں آتی؟ ہے نا! اب لائٹ آف کرکے دکھائو اور مجھے کہہ کر دیکھو کہ میں یہ چیزیں اٹھا کر ان کی جگہ پر رکھوں اور اب مجھے کمپیوٹر آف کرنے کی دھمکی دو پھر میں تمہیں بتائوں کہ مہرجمال کیا چیز ہے… یہ دیکھو یہ پیپرز ہیں نا جو میں پرنٹ نہ کرپائی تمہارے کمپیوٹر آف کرنے کی وجہ سے…‘‘ اس نے کمپیوٹر پرنٹر سے نکالے صفحات ا س کے آگے لہرائے۔ ’’یہ لو!‘‘ اس نے صفحات ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور ششدر بیٹھے عمر دراز کے منہ پر دے مارے۔
’’مہر!‘‘ عمر کا ہاتھ ایک دم اٹھا لیکن مہر نے راستے میں ہی تھام لیا۔
’’عمر دراز! میں تمہاری باندی نہیںہوں جو یہ بدتمیزی برداشت کروں۔ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی کبھی نہ کرنا۔ میں کسی چک کی گنوار مٹیار نہیں ہوں‘ جو تمہارے رعب میں آجائوں اور نہ ہی تمہاری کوئی تھرڈ کلاس احساس کمتری کی ماری یونیورسٹی فیلو جو تم سے متاثر ہوجائوں۔ زمین آسمان ایک کردوں گی اگر کوئی ایسی ویسی حرکت کی…‘‘ اس نے جھٹکے سے عمر کا ہاتھ چھوڑا۔ ’’میں اس گھر میں دلہن بن کرآئی ہوں اور یہ کمرا میں تمہارے ساتھ نہیں بلکہ تم میرے ساتھ شیئر کروگے۔ برابری کی بنیاد پر… سمجھے! میں جیسے چاہوں رہوں‘ تم جو چاہو کرو۔‘‘ وہ یک ٹک اس کے برہم انداز اور شعلے برساتے شبنمی ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا‘ مہر کے ہاتھ کا لمس اس کے مضبوط ہاتھ پر ٹھہر سا گیا تھا۔
زخم بھی لگاتے ہو پھول بھی کھلاتے ہو
کتنے کام لیتے ہو ایک مسکرانے سے
وہ سانس روکے اس کو گرجتے برستے دیکھ رہا تھا۔
’’اچھا آغاز ہے یاالٰہی!‘‘ عمر نے اوپر کی طرف دیکھا۔ وہ خود کو ڈھیلا چھوڑ کر تکیے پر ڈھیر ہوگیا۔ خوش بُو میں رچا نازک دوپٹا منہ پر اوڑھ لیا۔
’’اتنی بکواس کا یہ اثر…؟‘‘ مہر نے جھلا کر بیڈ کے گرد لگی پھولوں کی لڑیاں نوچنا شروع کردیں۔ عمر چھلانگ لگا کر اس تک پہنچا اور اسے بازوئوں سے پکڑلیا۔
’’ارے یہ غضب نہ کرو‘ کمرے کی سجاوٹ پر ہزاروں روپے خرچ ہوئے ہیں۔ کچھ تو اپنے مجازی خدا کی خون پسینے کی کمائی کا خیال کرلو۔‘‘ اس نے مہر پر جھکتے ہوئے کہا‘ وہ خود کو چھڑا کر پیچھے ہٹی۔ ’’مجھے یقین ہے کہ تمہارا اوپری خانہ خالی ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’اپنی حدود میں رہو۔‘‘ وہ سلگ کر چٹخی۔
’’اوکے میم! اب سوجائو تین بج چکے ہیں۔‘‘اس نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اوہ سوری! تم اپنی مرضی کی آپ مالک ہو۔ چاہو تو سوجائو چاہو تو… جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ وہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔
’’پتا نہیں یہ شخص میرا خون کھولانے سے باز کیوں نہیں آتا۔ مجال ہے جو کوئی ایک دن بھی میری زندگی میں آرام سے گزرنے دیا ہو اور اب ساری عمرکے لیے مسلّط ہوگیا ہے۔‘‘
’’عمر! تم مجھے طلاق دے دو۔‘‘ اس نے جھلاہٹ میں بلا سوچے سمجھے خود کلامی کی۔ عمر کا ہاتھ پوری قوت سے گھوما اور مہر بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کا ایک ہی جملہ عمر کو جلا کر خاکستر کر گیا تھا‘ سارے نرم احساسات ساری مصلحت کوشی بھک سے اڑ گئی تھی۔
’’اب اگر ایسی فضول بات کبھی بھی کی تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔‘‘ عمر نے جھک کر اسے کندھوں سے تھام کر سیدھا کیا اور پہلی بار انتہائی سخت لہجے میں تنبیہہ کی پھر اسے جھٹکتے ہوئے سیدھا ہوگیا۔ مہر کی آنکھوں میں سیلاب اتر آیا تھالیکن عمر نے رخ پھیر لیا تھا۔
’’میری نرمی کا اس قدر ناجائز فائدہ… بہت غلط بات ہے مہر!‘‘ وہ محض سوچ کر رہ گیا۔ اس نے مہر کا جوڑا اٹھا کر الماری میں رکھا۔ ایک ایک کرکے سارے زیورات اکٹھے کیے اور ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں رکھ کر کمپیوٹر کی طرف بڑھ گیا۔ مہر وہیں روتے روتے سوچکی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا اور اٹھ کر اس کے پاس آگیا۔ احتیاط سے کمبل اس پر ڈال کر اس نے لائٹس آف کیں اور دوبارہ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گیا۔ برق رفتاری سے ٹائپ کرتے ہوئے اس نے اسائنمنٹ کے پرنٹ دوبارہ نکالے۔ شکر ہے مہر نے اصل اسائنمنٹ نہیں پھاڑی تھی۔
٭…٭…٭
موبائل فون مسلسل بجنے پر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر موبائل فون کان سے لگایا۔
مہر تم اتنی وقت کی پابند ہوکہ…‘‘
’’سوری یار! اسائنمنٹ مکمل نہیں ہوسکی۔‘‘ اس نے راحیلہ کی بات کاٹی۔
’’لیکن مہر…!‘‘ راحیلہ حیران ہوئی
’’بس کہا نا!نہیں ہوسکی۔ پھر کیوں پیچھے پڑگئی ہو؟‘‘
’’یار! میں صرف حیران ہوں کہ تمہیں اپنے ولیمہ کے دن بھی اسائنمنٹ جمع کروانے کی فکر لگی ہوئی ہے؟‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ تمہاری اسائنمنٹ سر نصیر تک پہنچ چکی ہے اور میں حیران ہوں کہ تم شادی انجوائے کرنے کی بجائے کتابوں میں مغز ماری کررہی ہو۔ خدا کا خوف کرو مہر!‘‘ راحیلہ نے اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ اسے ڈانٹا۔
’’اچھا! ٹھیک ہے‘ اللہ حافظ۔‘‘ اس نے جلدی سے لائن کاٹ دی۔ ساری سستی حیرانی کی نذر ہوچکی تھی۔ ’’اسائنمنٹ کیسے پہنچی۔ عمر دراز؟ نہیں‘ وہ صرف کمینگی دکھا سکتا ہے۔ اب خود تو چل کر اسائنمنٹ جانے سے رہی۔‘‘ کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ ’’صبح ہی صبح یہ انکشاف ہونا تھا۔‘‘ اس نے بدمزگی سے ٹائم دیکھا۔ ’’اوہ! ایک بج چکا ہے‘ (دوسرا انکشاف)ٖ۔‘‘ وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ عمر کمرے میں نہیں تھا۔ وہ فریش ہوکر آئی تو ملازمہ ناشتا لاچکی تھی۔
’’میں ناشتا ڈریسنگ روم میں کروں گی۔‘‘ اس نے خاصی نخوت سے کہا اور بال سلجھانے لگی۔ملازمہ خاموشی سے ٹرالی واپس لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ڈائننگ روم میں پہنچی تو لائونج اور دوسرے کمروں میں گہما گہمی نے اسے چونکا دیا۔ وہاں قریبی عزیز رشتہ دار تھے‘ جو شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھے بغیر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور چائے پینے لگی۔ ایک دن کی دلہن دن کے ڈیڑھ بجے ڈائننگ روم میں اکیلی ناشتا کررہی تھی۔ عمر کی بہن تارا آپی نے عمر کو وہاں بھیجا تاکہ رشتہ داروں کے سامنے ہونے والی ممکنہ شرمندگی سے بچا جاسکے۔ عمر نے بمشکل تمام ایک کپ چائے زہر مار کی ورنہ بے وقت اتنی گرمی میں وہ بھی دن کے اس حصے میں چائے پینا اسے بہت ناگوار لگ رہا تھا۔ اسے سامنے بیٹھ کر چائے پیتا دیکھ کر مہر کے انداز تیکھے ہوگئے۔
’’اچھی طرح فارمیلیٹز پوری کرواتی ہوں تمہیں…‘‘ اس نے دانت پیستے ہوئے سلائسز کی پلیٹ اپنی طرف کھسکا لی اور سلائس پر بڑی باریک بینی سے مارجرین لگانے لگی۔کافی دیر بعد اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے کارن فلیکس میں چمچ چلانا شروع کردیا پھر آملیٹ اپنی پلیٹ میں رکھ کر اس کی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھا کر منہ میں رکھے۔ ’’تاج! اخبار لائو۔‘‘ اس نے تلے ہوئے انڈے پر سیاہ مرچ چھڑکتے ہوئے بڑی فرصت سے ملازمہ کو پکارا۔ عمر چائے ختم کرچکا تھا۔ اب اس کی تائو دلانے والی فضول حرکتیں دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگا۔ ملازمہ اخبار لے کر حاضر ہوگئی۔ ادارتی صفحہ کھولتے ہوئے اس نے نیا حکم جاری کیا۔ ’’تاج! میں ناشتے میں جوس پیتی ہوں۔ ایک گلاس جوس لائو فوراً…‘‘ وہ اطمینان سے اخبار پڑھنے لگی۔ عمر کا جی چاہ رہا تھا اس کا گلا دبا دے۔ چند منٹ بعد تاج جوس لے آئی۔ اب مہر کیا کرتی۔ وہ توناشتے میں بمشکل چائے کا ایک کپ اور مکھن لگے سلائس لیتی تھی‘ بے وقت ناشتے نے ویسے ہی بھوک اڑا دی تھی۔ مارے باندھے اس نے محض عمر کو دکھانے کے لیے ایک دو گھونٹ جوس کے پیئے۔ اسی وقت عمر کا سیل فون بج اٹھا۔ اس نے یک گونہ سکون محسوس کرتے ہوئے سیل اٹھایا اور ڈائننگ روم سے نکل گیا۔ اب بیٹھنا بے کار تھا۔ اخبار اٹھا کر مہر اپنے کمرے میں چلی آئی۔