Aanchal Khanis

Back | Home |  

 صبا ٹھہر جا۔ اریشہ غزل


’’آپ بھی کمال کرتے ہیں ایاز۔ اماں بی کو رہنے کے لیے ہم ہی نظر آئے‘ ان کے تین بڑے بیٹوں کی موجودگی کے باوجود… پھر تین کمرے کے اس مختصر سے فلیٹ میں وہ رہیں گی کہاں؟ ایک ہمارا کمرہ ہے‘ ایک بچوں کا اور تیسرا لائونج… جہاں سب مل کر ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں وہ اگر آ بھی گئیں تو رہیں گی کہاں؟‘‘ ثمرہ کے ہاتھوں کی طرح اس کی زبان بھی خوب چل رہی تھی۔ جب سے آفس سے آکر ایاز نے اماں بی کے آنے کی اطلاع دی تھی۔ اسے سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے تھے۔ آئندہ کے تفکرات پریشان کر رہے تھے۔ اماں بی کے وہاں رہنے کی صورت میں ان کی دونوں بیٹیاں بھی یقینا مہینے میں دو بار صرف صورت دکھاتیں بمعہ بچوں کے۔ رابی تو مصروفیت ہونے کے بہانے وہ اکثر ان کے گھر آنا ٹال جاتی تھیں مگر اب… تو لازماً انہیں ماں کی محبت کی خاطر آنا پڑے گا اور پھر ان کی خاطر داریاں الگ کرو اور دل چاہے نہ چاہے مسکر اکر ان سے ملنا پڑے گا پھر ان کے شرارتی بچوں کی حرکتیں الگ برداشت کرنی پڑیں گی۔ ایاز تو یہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ ابھی تو کتنی مشکل سے کمیٹیاں ڈال کر نیا کارپٹ ڈلوایا تھا۔ گھر کی آرائش کی چیزیں الگ تھیں پھر ان کی حفاظت کرتے پھرو۔ اس کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔
’’آپ کانوں میں روئی ڈالے بیٹھے ہیں‘ کچھ بولتے ہی نہیں۔‘‘ ثمرہ نے ایک بار پھر انہیں ٹوکا تھا جو بظاہر کتاب پڑھنے میں مصروف لگ رہا تھا۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی۔ سونے سے پہلے کچھ نہ کچھ پڑھا کرتا تھا اور یہ عادت اس وقت بھی کام آتی تھی جب ثمرہ غصے میں ہوتی تھی اور وہ اس سے بحث سے بچنا چاہتا تھا۔ اس وقت بھی اسے اندازہ تھا کہ وہ برہم ہے‘ اس لیے کتاب لیے بظاہر بے نیاز بنا بیٹھا تھا جب اس نے اچانک چیل کی طرح چھپٹا مار کر اس سے کتاب چھینی تھی۔
’’کیا ہے… بولتے کیوں نہیں؟ کب سے کہہ رہی ہوں مگر مجال ہے جو مسئلے کا حل ڈھونڈ سکیں۔ میری جان پر مسئلے ہی برساتے رہتے ہیں۔ اب بتائیں ہوگا کیا…؟‘‘ وہ ناراض نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
’’بھئی میں انہیں منع تو نہیں کر سکتا… آخر ان کا بیٹا ہوں‘ ان کا حق ہے مجھ پر…‘‘ ایاز نے کھنکار کر کہنا چاہا۔
’’واہ بھئی واہ۔ حق کی بات خوب کہی۔ ہمارے حق تو بڑے پورے ہو رہے ہیں جو ا ن کا حق یاد آ رہا ہے…‘‘ وہ لمحوں میں گیلی لکڑی کی طرح سلگ اٹھی تھی۔
’’ثمرہ! میں انہیں کل لا رہا ہوں اور تم اپنا موڈ ٹھیک کر لو۔ ان کے آنے سے پہلے… میں نہیں چاہتا ان کے سامنے کوئی بدمزگی ہو۔‘‘ ایاز نے سنجیدگی سے اس سے کہا۔
’’ہونہہ… میرا موڈ ایسا ہی رہے گا کسی کو برا لگتا ہے تو لگے…‘‘ وہ تن فن کرتی اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔ ایاز نے تاسف بھری نظروں سے اسے جاتے دیکھا اور پھر بظاہر کتاب کی طرف متوجہ ہو گیا مگر اب اس کا ذہن بھٹک رہا تھا۔
 

…٭٭٭…


کمال احمد کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ اپنی زندگی میں انہوں نے تمام بچوں کی شادیاں کر کے انہیں ان کے گھر بار کا کر دیا تھا۔ جب تک وہ زندہ رہے ان کے ذاتی گھر میں وہ سب بھائی مل کر رہتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد بڑے بھائی کے مشورے اور ماں کی رضامندی سے انہوں نے اس گھر کو بیچ دیا اور سب بچوں میں رقم منصفانہ تقسیم کر دی۔ گھر بیچنے سے ایک طرف یہ ہوا جو بیٹیاں پہلے ایک ہی گھر میں آتی تھیں اور باپ کے وقت میں ان کی خاطرمدارات میں بھابیاں بچھی جاتی تھیں‘ الگ ہونے کے بعد ان کے رنگ ڈھنگ ہی اور ہو گئے تھے۔ پہلے وہ باپ کے گھر آتی تھیں تو ان کی عزت ہوتی تھی‘ مان دیا جاتا تھا اب وہ بھائیوں سے ملنے آتیں تو کبھی ان کے بچوں پر اعتراضات ہوتے کبھی ان پر… بھابیوں کا منہ بنتا‘ بظاہر ابھی بھی کوئی منہ سے کچھ نہیں کہتا تھا مگر رویے بہت کچھ سمجھا دیتے تھے۔ اس لیے دونوں بیٹیوں نے آنا جانا محدود کر لیا۔ اگر اب کبھی وہ کسی بھائی کے گھر جاتی بھی تھیں تو وہاں جہاں ان کی ماں رہائش پزیر ہوتی اور یہ بات چاروں بھائیوں نے گھر بیچنے سے پہلے ہی طے کرلی تھی کہ فائقہ بیگم (اماں) کو ایک مہینے کے کے لیے ہر بیٹے کے گھر رہنا ہوگا۔ اس طرح کسی ایک پر مستقل بار نہیں ہوگا۔ شروع شروع میں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر پہلے تو بڑی بھابی کی بدمزاجی نے رنگ چڑھایا اور بڑے بیٹے نے اپنا ہاتھ کھینچا پھر چند مہینے ہی گزرے تھے کہ منجھلے بیٹے کی بیوی نے ناطقہ بند کیا تو مجبوراً انہیں تیسرے بیٹے کے گھر رہنا پڑا اور اب وہ تیسرا آسرا بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا تھا۔






انہوں نے آفس فون کر کے ایاز کو گھر بلوایا اور ساتھ لے جانے کی درخواست کی۔ ان کے بوڑھے چہرے پر اتنی رنجیدگی اور مایوسی تھی کہ وہ اپنی جگہ لرز اٹھا۔ حالاں کہ ثمرہ سے کوئی اچھی امید نہیں تھی۔ وہ ان کی ماں کے ساتھ پر ہی گھبرایا کرتی تھی۔ اس کا موڈ کافی خراب رہتا تھا اور اب اگر یہ مژدہ سنایا تو وہ کہیں آئوٹ ہی نہ ہو جائے۔ لے جانے کے لیے تو وہ انہیں فوراً ہی لا سکتا تھا مگر اس نے فوری طور پر یہ بہانہ کیا کہ ثمرہ گھر پر نہیں ہے۔ کل وہ آجائے گی تو میں شام میں آکر آپ کو لے جائوں گا۔ اس نے یہی سوچا تھا کہ اپنے طور پر پیار سے ثمرہ کو سمجھائے گا کہ بزرگوں کا سایہ تو ابرِ رحمت ہوتا ہے۔ گھر میں برکت رہتی ہے۔ ان کی دعائیں مصیبتوں میں کام آتی ہیں‘ پریشانیاں اس گھر کا رخ نہیں کرتیں جہاں بزرگ رہتے ہوں‘ دعا دیتے ہوں‘ مگر کیا ہوا تھا؟
گھر آ کر اس نے کھانا خاموشی کے ساتھ ختم کیا تھا اور جب وہ برتن سمیٹ رہی تھی تب اس نے یہ انکشاف کیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھوں سے چمچہ نکل کر پلیٹ کے اوپر جا گرا۔ حیران وپریشان فکرمند سی وہ اس کے قریب آن کھڑی ہوئی۔
’’مستقل رہیں گی… مگر کیوں… ؟ صرف ہم ہی رہ گئے ہیں اور تمہارے باقی بھائی بھی تو ہیں‘ وہ کیوں اپنی بیویوں کے آگے کچھ نہیں بولتے…؟ واہ بھئی واہ‘ یہاں مفت کی غلام نظر آتی ہوں میں۔‘‘ وہ پھر طیش میں بڑبڑا رہی تھی۔ برتنوں کو اٹھا پٹخ رہی تھی۔ یہ اس کی خفگی اور ناراضگی کا اظہار تھا۔
’’ثمرہ! وہ میری ماں ہیں۔ میں انہیں انکار نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’ہاں صرف ہم پر حکم چلا سکتے ہو… ہمیں نوکر بنا سکتے ہو اور تم کچھ نہیں کر سکتے۔ کم ازکم اپنے بھائی سے اتنا ہی کہنا تھا کہ وہ ان کی بھی ماں ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہے۔ وہ بڑے تینوں تو ہاتھ جھاڑ کر الگ ہو گئے۔ ہم مفت میں مصیبت پالتے پھریں…‘‘ وہ تنفر سے کہہ رہی تھی۔ اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس کا یہی ردِعمل ہونے والا ہے۔ وہ ماں کو لانے سے پریشان نہیں تھا۔ صرف ثمرہ کے رویے نے اسے فکرمند کر رکھا تھا۔ اگر کل یہی رویہ اس کا فائقہ بیگم کے سامنے رہا تو وہ کیا سوچیں گی…؟ آج جس طرح انہوں نے ایاز کو بلایا تھا اور لے جانے کی بات کی تھی‘ ثمرہ نے ان کے لفظوں میں وہ درد اور آنکھوں میں جلتا کرب نہیں دیکھا تھا وگرنہ کبھی اس طرح برہم نہ ہوتی۔ ایسے وقت میں جب وہ اس سے آس لگائے بیٹھی تھیں۔ وہ کس طرح انہیں مایوس کر دیتا… چاہے اسے ثمرہ کو ناراض ہی کرنا پڑے‘ اسے اپنی ماں کی لاج رکھنی تھی۔ بیٹا ہونے کا مان رکھنا تھا۔
’’تو پھر تم کل آرہے ہو نا؟‘‘ فیاض بھائی اس سے پوچھ رہے تھے۔
’’جی بھائی۔‘‘ اس نے سر ہلایا تھا اور اس کے جواب پر اس نے سلمیٰ بھابی کے چہرے پر فاتحانہ اور آسودہ مسکراہٹ دیکھی تھی جب کہ اماں بی کا چہرہ مزید اتر گیا تھا۔
 

{…٭٭٭…}


دوسرے دن ایاز انہیں گھر لے آیا تھا۔ بچے دادی کو دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے جب کہ فائقہ بیگم بے حد اداس اور چپ چپ سی تھیں۔ وہ تین بہوئوں کے رویے دیکھ چکی تھیں اور اب آخری امید بچی تھی۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھیں طے تو یہی کیا تھا کہ وہ ثمرہ کے کسی معاملے میں نہیں بولیں گی‘ نہ کسی سے شکوہ کریں گی‘ نہ شکایت… شاید زندگی ان کے لیے اس گھر میں آسان ہو جائے اور زندگی کے آخری دنوں میں ان کے لیے آسانی ہو جائے۔ بچے کچھے دن وہ یہاں پورے کر سکیں مگر… ثمرہ کو دیکھ کر ان کی آنکھوں کے کنارے گیلے ہو رہے تھے۔ چہرے پر سختی اور تنائو لیے ثمرہ اپنے کام نمٹا رہی تھی۔ نہ مسکراہٹ نہ خوشی کا اظہار… عجیب بے حسی اور بیزاری سی تھی جو انہیں ماحول میں نظر آ رہی تھی اور اس کے ایک ایک رویے سے جھلک رہی تھی۔
’’یہ لیں اماں! کباب بنائے ہیں ثمرہ نے… بہت اچھے بناتی ہے اور یہ بریانی ابھی تک ویسی ہی پڑی ہے۔ آپ کھا نہیں رہیں کچھ بھی…‘‘ ایاز ایک ایک چیز میں ان کا خیال رکھ رہا تھا۔ یہ ان کا وہ بیٹا تھا جو تینوں بھائیوں اور دونوں بہنوں سے چھوٹا تھا اور سب کی بچی کچھی محبت اور توجہ ہی اسے مل سکی تھی۔ وہ اتنے سارے بچوں میں کبھی اس کے ساتھ انصاف نہ کر پاتی تھیں۔ اکثر بڑے بھائی بہنوں کی گود میں سوار وہ ان کی گود اور توجہ کے لیے مچلتا رہتا تھا مگر انہیں گھر اور بڑے بچوں کی ذمہ داریوں میں کم ہی وقت مل پاتا تھا۔ آج وہی بیٹا ان کے سامنے تھا اور بچوں کی طرح ان کا دل بہلانے اور ثمرہ کی طرف سے ان کا دل صاف کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ انہیں رونا آنے لگا۔ دل کی اداسی چہرے پر اتر آئی تھی۔






’’اماں کیا بات ہے‘ کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘ ایاز نے فی الحال بچوں کے کمرے میں ہی ان کا بستر سیٹ کروا دیا تھا۔ کھانا بھی انہوں نے برائے نام کھایا تھا۔ وہ چائے کا کپ لیے کمرے میں آیا تو وہ سوچتی نظر آئیں۔ وہ ٹوک بیٹھا۔
’’کچھ نہیں بیٹا…‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولیں۔
’’پھر بھی اماں! میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی سب فکروں سے آزاد ہو جائیں اور آرام سے یہاں رہیں۔ کوئی شکوہ‘ شکایت ہو تو مجھ سے کہہ لیں۔ ثمرہ سے کوئی نادانی ہو جائے تو آپ مجھے دس جوتے لگا لیں مگر خوش رہیں جیسے بابا کے وقت میں آپ کے چہرے پر خوشی رہتی تھی‘ میں ایسے ہی آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ تھامے بڑی محبت سے کہہ رہا تھا۔
’’میرے سب بچے خوشحال ہیں۔ اپنی زندگی میں مگن اور خوش ہیں۔ اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاہیے…‘‘ وہ اتنے عرصے میں پہلی بار مسکرائی تھیں۔
’’بس میں بھی یہی چاہتا ہوں اماں! آپ خوش رہیں‘ مجھے آپ کی دعائیں چاہئیں۔‘‘ ایاز کہہ رہے تھے اور دروازے کے پیچھے کھڑی ثمرہ کے اندر جیسے آگ لگ رہی تھی۔
’’ہونہہ‘ خوش دیکھنا چاہتے ہیں … ان کی خوشی کے آگے میں کتنی ہی ناخوش رہوں ان کی بلا سے…؟‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں آ ئی تھی‘ فون کی بیل بجی تو اس نے بیزاری کے ساتھ فون اٹھایا تھا۔ حالاں کہ اس وقت اس کا کسی سے بات کرنے کا موڈ نہیں تھا۔ سر لپیٹ کر پڑ جائے۔ دل ایسا ہی ہو رہا تھا۔
’’بھابی! میں مریم بات کر رہی ہوں۔ فیاض بھائی نے بتایا تھا کہ اماں آپ کی طرف آئی ہیں۔‘‘ سلام دعا کے بعد مریم پوچھ رہی تھی۔
’’صحیح سنا ہے۔ اب فیاض بھائی تو ہمیشہ سے ہی بدلحاظ رہے ہیں مگر تمہارے بھائی کو تو رشتوں کی شرم وحیا اور پاسداری رکھنی تھی‘ اس لیے وہ اماں کو لے آئے ہیں۔‘‘ وہ لہجے میں تنفر بھر کر کہہ رہی تھی۔ اس کے کڑوے لفظوں سے اس کے موڈ کا اندازہ ہو رہا تھا۔ دوسری طرف مریم اس کے لہجے پر گھبرائی۔
’’اچھا تو پھر میں کسی دن اماں سے ملنے آئوں گی۔ میری طرف سے انہیں سلام کہیے گا اور بھائی کو بھی۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے رابطہ منقطع کیا تھا۔
’’ہونہہ‘ سلام کہیے گا…‘‘ اس نے گردن جھٹکی تھی۔ ’’اچھی مصیبت۔ ہے اب ان کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔‘‘ وہ جھنجلاتے ہوئے لیٹی تھی تب ہی ایاز کمرے میں آئے تھے۔
’’رانی صاحبہ کا موڈ خراب لگ رہا ہے۔‘‘ ایاز اس کے پاس آبیٹھے تھے۔
’’بات نہیں کریں مجھ سے… آپ نے وہی کیا جو آپ کا دل چاہا۔ دوسرے بھائیوں سے سبق حاصل کرتے تو کبھی اماں کو ساتھ لے کر نہ آتے۔ مہینے بھر کی بات اور تھی اور اب مستقل رہنے کی … اب ان کی ساری ذمے داریاں ہمارے سر پر پڑ جائیں گی۔ آپ کی تنخواہ پہلے ہی کون سی زیادہ ہے… اوپر سے ان کی دوا کا خرچا‘ اوپر کے ہزار اخراجات…‘‘ وہ بڑبڑا رہی تھی۔
’’پہلی بات تو یہ کہ اماں بیمار نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی دوا لیتی ہیں۔ دوسرے ان کے اخراجات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں‘ جس کا تم ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو۔ تیسرے خرچا میں اٹھا رہا ہوں‘ خود کروں گا اگر اضافی بوجھ پڑا تو… تم کیوں فکرمند ہوتی ہو…؟‘‘ ایاز نے نرمی سے اسے سمجھایا۔
’’پھر بھی یہ تو زیادتی والی بات ہے۔ تینوں بھائی عیش سے رہیں اور ہم خواہ مخواہ مصیبت پیٹیں…‘‘ وہ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھی تھی۔
’’دیکھو ثمرہ! زیادتی کی بات کرتی ہو تو وہ تمہارے ساتھ نہیں بلکہ ان لوگوں نے اماں کے ساتھ کی ہے‘ انہیں نہ رکھ کر… ان کی اہمیت کو تسلیم نہ کر کے ان کا دل دکھا کر… تم کیا سمجھتی ہو ایسی عورت جس کے بیٹے بہوئیں اسے رکھنا نہ چاہیں کیا وہ اندر سے خوش ہو سکتی ہے… اس کا دل ایک پھوڑے کی طرح دکھتا رہتا ہے۔ تم مزید اس دل کو مت دکھائو۔ اللہ بھی دل دکھانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ آج ہماری نیکی کل نجانے ہمیں کس صورت میں ملے‘ تم نہیں جانتیں…‘‘ وہ کہتے کہتے اداس ہو گئے اور ان کے پیٹھ موڑ کر لیٹنے پر ایک لمحے کے لیے ثمرہ کو افسوس ہوا۔ وہ اپنی ہی سوچوں سے لڑتی جھگڑتی نجانے کب سو گئی اسے خبر ہی نہ ہوئی…
 

{…٭٭٭…}






وہ سمجھتی تھی فائقہ بیگم کے آنے سے کام میں اضافہ ہوگا مگر غیرمعمولی طور پر انہوں نے اس کے کام بانٹ لیے تھے۔ صبح میں بچوں کو ایاز اسکول چھوڑتے ہوئے آفس جاتے تھے۔ دوپہر میں ثمرہ کو اپنے کام چھوڑ کر انہیں لانا پڑتا تھا مگر اب فائقہ بیگم انہیں لے آتی تھیں اور بچوں کا دل بھی ان سے لگا رہتا تھا۔ پہلے ماں کا گھیرائو کیے وہ اس کے کان کھاتے رہتے تھے‘ اب فائقہ بیگم کی صورت میں انہیں بہتردوست اور ساتھی میسر آ گیا تھا۔ دادی کے ساتھ وہ گھر سے قریبی پارک جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سودا سلف بھی وہی لا دیتی تھیں۔ شروع میں ثمرہ نے انہیں منع کرنا چاہا پھر ان کے اصرار پر یہ ذمے داریاں ان پر ڈال کر بھول گئی۔
’’کبھی اپنے ساتھ اپنی ساس کو بھی لے آیا کرو۔‘‘ ثمرہ کی ماں اسے ٹوکتے ہوئے بولیں۔
’’امی! گھر میں تو برداشت کرتی ہوں۔ کیا اب ہرجگہ انہیں لگائے پھروں…؟‘‘ اس نے سر جھٹکتے ہوئے تلخی سے کہا۔
’’ثمرہ! وہ تمہاری ماں کے برابر ہیں بیٹا۔ بولتے ہوئے سوچ لیا کرو کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ انہوں نے اسے تنبیہہ کی۔
’’امی! موڈ آف نہ کریں۔ اتنے دنوں کے بعد آئی ہوں۔ آپ کو میرے بجائے میری ساس کی فکر ستا رہی ہے…؟ اپنی باتیں کریں نا… یہ بتائیں نمرہ کے سسرال سے کوئی آیا تاریخ لینے…؟ اب تو اسے بی۔ اے کرے بھی سال بھر ہونے کو آ رہا ہے۔‘‘
’’فراز کی بڑی دو بہنیں بیٹھی ہیں۔ پہلے ان کا کہیں ہو جائے تو پھر سوچیں گے وہ لوگ۔‘‘ انہوں نے اصل بات بتائی۔
’’اس طرح تو کوئی بات یا شرط انہوں نے منگنی کرنے سے پہلے نہیں رکھی تھی۔ اب اس قسم کی باتوں کا کیا جواز ہے؟ ایک سال بعد انہیں یاد آرہا ہے کہ ان کی دونوں بیٹیاں کنواری بیٹھی ہیں؟‘‘ ثمرہ نے پریشانی سے کہا۔
’’کیا کہہ سکتے ہیں بیٹا! اب تو جو وہ کہیں گے وہی ماننا ہوگا۔‘‘ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں۔
’’امی! ایک تو آپ سیدھی بہت ہیں‘ جو انہوں نے کہا آپ نے سن لیا۔ ذرا غصہ دکھانا تھا۔‘‘ وہ انہیں مشورہ دے رہی تھی۔
’’بیٹا ایسے معاملوں میں گرما گرمی اچھی نہیں ہوتی۔ سعید بھی ان سے بات کرنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے منع کر دیا۔ ابھی کون سی نمرہ کی عمر نکلتی جا رہی ہے۔ اچھا ہے وہ کوئی کمپیوٹر کورس کر لے گی۔ سال بھر میں ہو سکتا ہے فراز کی بہنوں کے بھی نصیب کھل جائیں۔‘‘ وہ اپنی کہہ رہی تھیں۔
’’بھابی! کہاں ہیں… اتنی دیر ہو گئی ہے مجھے آئے ہوئے۔ کیا کمرے میں سونا منا رہی ہیں؟‘‘ وہ طنز سے ہنسی تھی۔
’’ثمرہ!‘‘ خدیجہ بیگم نے اسے ٹوکا تھا۔ ’ ’بیٹا وہ صبح سے اٹھی ہوئی ہے۔ تمہیں پتہ ہے سعید کے آفس کا راستہ بالکل الگ ہے اور بچوں کا اسکول بالکل الگ راستے پر ہے۔ اس لیے وہی بے چاری پہلے سب کو ناشتا کراتی ہے پھر بچوں کو اسکول چھوڑتی ہے۔ سودا سلف بھی خود ہی لاتی ہے۔ میرے تو جب سے جوڑ درد کرنے لگے ہیں کچھ کیا ہی نہیں جاتا۔ بیٹھ جائوں تو کھڑا نہیں ہوا جاتا اور اگر کوشش کر کے کھڑی ہو جائوں تو پھر بیٹھا ہی نہیں جاتا۔‘‘ وہ اپناحال سنا رہی تھیں۔
’’یہ لیں باجی! گرما گرم چائے اور سموسے…‘‘ نمرہ ٹرے اٹھائے کمرے میں آئی تھی۔
’’سموسے کس سے منگائے… بہت ٹیسٹی ہیں؟‘‘ ثمرہ نے کھاتے ہوئے تعریف کی۔
’’کل بھابی نے بنائے تھے۔ آپ کو تو پتا ہے انہیں کوکنگ کا کتنا شوق ہے۔ سموسے اور رول تو وہ گھر میں ہی بنا کر رکھتی ہیں۔ کوئی آئے تو فوراً تل کر دے دو۔‘‘ نمرہ بتا رہی تھی۔
’’یہ تو ہے۔ ہماری بھابی ہیں بہت سگھڑ… شوہر کے ساتھ ساس کو بھی مٹھی میں کیے بیٹھی ہیں۔‘‘ وہ طنزیہ کہہ رہی تھی۔
’’بیٹا! کبھی میٹھا بھی بول لیتے ہیں۔‘‘ خدیجہ بیگم کو اس کی اس سوچ پر افسوس ہوا۔

of 2 
Go