ایلیا کو بتایا تھا کہ ورجینیا آنے کے صرف تین سال بعد اس کا ہسبنڈ ایک حادثے میں اپنی ٹانگیں کٹوا بیٹھا تھا اور اس نے چار سال اس اجنبی شہر میں تنہا اس کی خدمت کی۔ اور پھر چار سال بعد وہ مر گیا تب بھی وہ پاکستان واپس نہیں گئی۔ کیونکہ اس کے دو بیٹے تھے اور اسے ان کے مستقبل کے لئے جنگ کرنا تھی۔ اب اس کا بڑا بیٹا پندرہ سال کا اور چھوٹا گیارہ سال کا تھا۔
’’میں نے بہت محنت کی ہے ایلیا! اور بہت تھکی ہوں۔ کبھی سوچتی ہوں یہاں رہنے کا فیصلہ صحیح تھا۔ کبھی سوچتی ہوں شاید غلط تھا۔ لیکن وہاں پاکستان میں بھی کون تھا میرا۔ ایک چچا جان اور چچی۔ میرے ڈیڈ تو میری شادی سے چند ماہ پہلے ہی وفات پا گئے تھے اور ماما میرے بچپن میں۔۔۔۔۔ سو مجھے تویہاں ہی رہنا تھا، اپنے بچوں کے لئے۔ میرے پاس یہ تھے۔ لیکن تمہارے پاس تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ کوئی آسرا نہیں ہے۔ اور یہاں اکیلے اس طرح جینا آسان نہیں ہے ایلی! پھر وہاں پاکستان میں تمہارا بھرا پُرا گھر ہے۔ تم ایاز سے کہو تمہیں پاکستان بھیج دے۔ جب وہ تمہیں پسند نہیں کرتا، تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتا، تمہیں پل پل اذیت دیتا ہے، تمہیں اپنے بچوں کی ماں نہیں بنانا چاہتا تو پھر کیوں رہ رہی ہو تم؟۔۔۔۔۔ میں چچا جان سے سب کہہ دیتی ہوں۔‘‘
’’نہیں، پلیز۔‘‘ اس نے نینا کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔ ’’آپ انکل سے کچھ نہ کہیں۔‘‘
ایاز ملک نے نینا عادل کے واشنگٹن آنے کے دوسرے دن ہی اُسے سمجھایا تھا۔
’’خبردار! جو تم نے نینا سے کوئی بات کی۔‘‘
اور اُس نے نینا سے کچھ نہیں کہا تھا۔ لیکن نینا تو خود ہی جان گئی تھی سب کچھ۔
’’کیا کیتھی آئی ہے یہاں؟‘‘ ایک روز ایاز ملک اپنے آفس میں تھا، نینا عادل نے اس روز اپنے کام سے چھٹی کی تھی اور اپنے بچوں کو ان کے سکول چھوڑ کر اس کے پاس آ گئی تھی۔ وہ نینا کے منہ سے کیتھی کا نام سن کر حیران رہ گئی تھی۔
’’یہ کیتھی کون ہے؟‘‘
’’کیتھرائن ہے۔۔۔۔۔ آجی کی دوست۔۔۔۔۔ آجی دراصل اسی سے تو شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن چچا جان نے اس کی شادی تم سے کر دی اور حقیقتاً تم اتنی پیاری ہو کہ ایاز کیتھی کو بھول گیا ہو گا۔ تمہارے ساتھ کیسا ہے وہ؟۔۔۔۔۔ اور یہ تم دونوں ابھی تک اکیلے کیوں ہو؟۔۔۔۔۔ چچی جان نے بطورِ خاص مجھ سے کہاتھا کہ جب واشنگٹن جائوں تو تم سے پوچھوں۔ آجی اکلوتا ہے نا اور چچا جان اور چچی جان دونوںکو بہت شوق ہے کہ اس کے بچے ہوں۔ پہلے تو آجی بھی کہتا تھا کہ اس کے ڈھیر سارے بچے ہوں گے۔‘‘
نینا عادل ہنسی تھی۔ لیکن وہ یونہی ساکت بیٹھی رہی۔ اب وہ سولہ سال کی معصوم لڑکی تو نہیں تھی کہ نہ جان سکتی کہ ایاز ملک اسے ماں بننے کا اعزاز نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس معاشرے میں رہ کر وہ اتنا تو جان ہی چکی تھی اب۔
’’ایلیا! تم چپ کیوں ہو؟ کیا آجی۔۔۔۔۔؟‘‘ اور اسے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ آنکھوں میں چمکتے آنسوئوں کے قطروں نے سب کہہ دیا۔ نینا عادل حیران سی اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’تم تین سال اور تین ماہ میں اسے فتح نہیں کر سکیں۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں حُسن کی دولت سے دل کھول کر نوازا ہے۔‘‘
پھر نینا عادل نے کتنا ہی چاہا تھا کہ وہ سب کچھ انکل آفتاب ملک کو بتا دے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی تھی۔ حالانکہ مہینے دو مہینے بعد ان کا فون ضرور آتا تھا، صرف اس لئے۔ ایاز تو خود ہی آفس میں ان سے بات کر لیتا تھا۔ ان بیتے چار سالوں میں ایک بار وہ خود آ کر مل بھی گئے تھے۔ تین ماہ کا وہ عرصہ جب وہ اور آنٹی یہاں رہ رہی تھیں اس کے لئے ایک خواب جیسا تھا۔ ایاز کتنی نرمی اور محبت سے بات کرنے لگا تھا۔ مگر ان کے جاتے ہی۔۔۔۔۔
’’تم جانتی ہو ایلیا! ایاز کس کے پاس جا رہا ہے؟‘‘ اُسے رخصت کر کے جب نینا عادل اس کے سامنے آ کر بیٹھی تھی تو ازحد افسردہ لگ رہی تھی۔ ’’کیتھی کے پاس۔ وہ کچھ بیمار ہے۔ اور دیکھنا، ایک دن وہ اس سے شادی بھی کر لے گا۔‘‘ لیکن وہ یونہی بے حس سی بیٹھی رہی تھی۔
’’میں نے کہا ہے اس سے کہ تم اسے قبول نہیں ہو تو وہ تمہیں فارغ کر دے۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے۔ تم اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکتی ہو۔ کسی اچھے انسان کے ساتھ۔ لیکن پتہ ہے، وہ ڈرتا ہے چچا جان سے۔۔۔۔۔ چچا جان نے اپنی قسم دے رکھی ہے اُسے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں چچا جان کو راضی کر لوں تو وہ اسی وقت۔۔۔۔۔‘‘
ایلیا کے دل میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوا تھا۔ لیکن وہ ساکت بیٹھی رہی تھی۔
’’خیر، یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ پہلے میں تمہاری چچا جان سے بات کرا دوں گی۔‘‘
اور پھر نینا عادل نے ہی اس کی بات انکل آفتاب سے کروائی تھی۔
’’اچھا۔۔۔۔۔ اچھا، تم اُداس ہو۔‘‘ وہ ہنسے تھے۔ ’’تو آ جائو۔ لیکن اُس ناہنجار نے تو کچھ نہیں کہا؟‘‘
’’نہیں انکل!‘‘اس نے بہ مشکل اپنے آنسو پیئے تھے۔ پتہ نہیں انکل آفتاب ہمیشہ ہی ایاز ملک سے بدگمان کیوں رہتے تھے۔ شاید وہ جانتے تھے۔
ٹھیک ایک ماہ بعد نینا عادل نے اس کے ہاتھ میں پاکستان کا ٹکٹ تھمایا تھا۔
’’دو دن بعد تمہاری فلائٹ ہے۔ میں نے آجی کو بتا دیا تھا لیکن وہ نہیں آ سکتا۔ تمہیں کچھ خریدنا ہو یا اپنے اپارٹمنٹ سے سامان لانا ہو تو حذیفہ کے ساتھ چلی جانا۔‘‘ اس نے اپنے بڑے بیٹے کا نام لیا تھا۔ ’’میں آج بہت بزی ہوں۔ یہ کمبخت پیسہ دیتے ہیں لیکن کام بھی گدھوں کی طرح لیتے ہیں۔‘‘
لیکن اُسے کیاخریدناتھا بھلا۔ اور پھر اس کے پاس رقم بھی کہاں تھی۔ اور اپنا ضروری سامان تو وہ پہلے ہی جا کر لے آئی تھی۔ چند جوڑے کپڑے ہی تو تھے بس۔ زیور کے نام پر دو چوڑیاں ہاتھوں میں تھیں اور ایک لاکٹ سیٹ تھا جو وہ وہاں سے پہن کر آئی تھی۔
’’آجی سے بات کرو گی۔۔۔۔۔؟‘‘ شام کو جب نینا آفس سے آئی تو اس نے پوچھا تھا۔
’’نہیں۔۔۔۔۔ میں بھلا کیا کروں گی؟‘‘ ان چار سالوں میں بھلا کہاں اس نے خود سے ایاز ملک سے بات کی تھی جو اب کرتی۔
’’ایلی۔۔۔۔۔!‘‘ نینا نے اس کے ہاتھ تھام کر نرمی سے کہا تھا۔ ’’تم جب پاکستان جائو تو سب کچھ بتا دینا اپنے والدین کو اور اپنی زندگی مزید برباد مت کرنا۔ آجی سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ وہ بچپن سے ہی ایسا ہے۔ ضدی اور اکھڑ سا۔ جس بات پر اڑ جائے، اڑ جاتا ہے۔ ورنہ تم میں کیا نہیں ہے۔ اور نہیں تو اپنی امی کو تو بتا سکتی ہو نا سب کچھ۔‘‘ اُسے خاموش دیکھ کر نینا عادل نے کہا تھا۔
’’میری امی، میری اسٹیپ مدر ہے۔‘‘ اس نے پہلی بار نینا عادل کو بتایا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔ تب ہی تو۔‘‘ نینا عادل نے ہونٹ سکیڑے تھے۔ ’’اتنی کم عمری میں تمہیں اس بندھن میں باندھ دیا گیا۔ سولہ سال بھی کوئی عمر ہوتی ہے شادی کی۔‘‘
’’اُس روز میں اپنے سکول سے رزلٹ کارڈ لینے گئی تھی اپنی فرینڈ کے ساتھ۔ میرے بہت اچھے نمبر تھے۔ اور بڑے بھیا نے کہا تھا وہ مجھے کنیئرڈ کالج میں داخلہ دلوا دیں گے۔ لیکن جب واپس آئی تو بوا خیرن نے کہا، مجھے ابی جان ڈرائنگ روم میں بلا رہے ہیں۔‘‘
اُس روز اس نے پہلی بار نینا عادل کو اپنی شادی کا احوال بتایا تھا۔ نینا دھیان سے سن رہی تھی۔
’’اور جب میں ڈرائنگ روم میں آئی تو وہاں میں نے آفتاب انکل کو بھی ابی جان کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔ اس سے پہلے میں نے اپنے ہوش میں صرف دو بار انہیں دیکھا تھا۔ ایک بار بڑے بھیا اور ایک بار چھوٹے بھیا کی شادی پر۔ لیکن انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میری امی کی ڈیتھ پر وہ ہمارے گھر میں تین چار دن رہے تھے اپنی مسز کے ساتھ۔ لیکن مجھے کچھ یاد نہیں آیا تھا۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتے رہے۔ میں سلام کر کے کچھ دیر یوں ہی کھڑی رہی۔ میرے ہاتھ میں میرا رزلٹ کارڈ تھا۔
’’ادھر بیٹھو، میرے پاس آ کر۔‘‘
میں جھجکتی ہوئی بیٹھ گئی تھی۔ انہوں نے مجھ سے میرا رزلٹ کارڈ لے کر دیکھا تھا۔ مجھے مبارکباد دی اور پانچ سو روپے دیئے۔ پھر ابی جان کی طرف دیکھا تھا۔
’’بہتر تو تھا اسفند! کہ تم اسے کم از کم انٹر کرنے دیتے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ ابی جان کے چہرے پر سختی تھی۔ ’’اگر تمہیں انکار ہے تو پھر میں کل ہی اس کا نکاح پڑھا دیتا ہوں زریاب خان سے۔‘‘
’’نہیں، نہیں۔۔۔۔۔ میں نے انکار کب کیا ہے؟ تم تیاری کرو۔ آج پیر ہے نا۔ آج سے ٹھیک چھ دن بعد میں اتوار کو بارات لے کر آ رہا ہوں۔ بلکہ تیاری بھی کیا کرنا ہے، اللہ کا دیا سب کچھ ہے میرے پاس۔‘‘
’’تم نے اچھی طرح سوچ لیا ہے نا آفتاب! بعد میں نہ کہنا دوست نے دھوکا دیا۔ میں نے تمہیں ساری بات بتادی ہے اور زریاب کو انکار نہیں۔ وہ تمہاری بھابی کی بات ٹال نہیں سکتا۔‘‘
میں ہونق سی بیٹھی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ تب انکل آفتاب نے ابی جان سے کہاتھا بلکہ درخواست کی تھی۔
’’اسفند! کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اپنی بیٹی سے کچھ دیر تنہائی میں بات کر لوں؟‘‘ ابی جان اُٹھ کر باہر چلے گئے تھے۔
’’ہاں، ہاں۔۔۔۔۔ تم بات کرو۔ میں تمہاری بھابی کو بتا دوں۔ کہیں وہ چلی ہی نہ گئی ہو۔ آج اُسے پنڈی جانا تھا۔‘‘
تب آفتاب انکل مجھ سے میری دلچسپیاں پوچھتے رہے اور باتوں باتوں میں انہوں نے پوچھا تھا۔
’’تمہیں اپنے گھر میں سب سے اچھا کون لگتا ہے؟‘‘
’’بڑے بھیا۔‘‘ میں نے فوراًکہا تھا۔ ’’اور بوبی اور پنکی بھی اچھے لگتے ہیں۔‘‘
’’اور وہ آرب مصطفی؟۔۔۔۔۔ وہ کیسا ہے؟‘‘
’’بہت لڑاکا ہے۔۔۔۔۔ بھیا سے بچپن میں بہت لڑتا تھا، اس لئے مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا۔ ویسے ہے بھی سڑیل سا۔ اس کی چھوٹے بھیا، بڑے بھیا کسی سے بھی دوستی نہیں ہے۔ سب سے جلتا ہے وہ۔ اور چھوٹی امی اسے کسی سے بات بھی نہیں کرنے دیتیں۔ حالانکہ بڑے بھیا نے تو چاہا تھا کہ دوستی کر لیں اس سے۔ لیکن انکل! اس نے بڑے بھیا کو بالکل لفٹ نہیں کروائی۔ اور مجھے تو زہر لگتا ہے وہ۔ اس نے شاید انوشہ کو بھی منع کر دیا ہے۔ وہ بھی مجھ سے بات نہیں کرتی۔‘‘
تب آفتاب انکل نے میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’آج سے میں نے تمہیں اپنی بیٹی بنا لیا ہے۔ تمہیں اپنے بیٹے کی دلہن بنا کر اپنے گھر لے جائوں گا۔‘‘
میری پلکیں جھک گئی تھیں۔ مجھے آفتاب انکل سے بے تحاشا شرم آئی تھی اور وہ ہنس دیئے۔ میں صرف سولہ سال کی تھی۔ مجھے پڑھنے کا شوق تھا۔ شادی سے متعلق میرے ذہن میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ ایک خوبصورت مرد کا ساتھ، اچھے اچھے کپڑے، گہنے اور سیر و تفریح۔ میں نے شابی بھیا کو بڑے بھیا کی سنگت میں بہت خوش دیکھا تھا۔ شابی بھابی میرے ابی کی کزن کی بیٹی تھیں۔ بڑے بھیا ایک بار جھنگ گئے تھے تو ان کے لبوں پر ہر وقت شابی بھابی کا ہی نام رہنے لگا تھا۔ ان کی والدہ کو وہ خالہ جان کہتے تھے۔
’’خالہ جان کی بیٹی شہاب بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔ بہت خوب صورت، سلیقہ مند۔ اس کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے۔‘‘
’’یہ شہاب کیا نام ہوا؟‘‘ چھوٹے بھیا نے مذاق اُڑایا تھا۔ ’’تصور میں قدرت اللہ شہاب آ جاتے ہیں۔‘‘
لیکن بڑے بھیا کو تو جانے خالہ نے کیا گھول کر پلایا تھا کہ انہوں نے شادی کی رٹ لگا دی۔ اور ابھی پڑھ ہی رہے تھے کہ شادی کر لی۔ خالہ جان نے ابھی جان کو بھی ہاتھ میں کر لیا تھا کہ جو وہ فوراً ہی رضامند ہو گئے۔ اور چھوٹے بھیا کیوںپیچھے رہتے۔ بڑے بھیا کی شادی کے دو سال بعد وہ بھی اپنی ایک کلاس فیلو پر مر مٹے۔ اور یوں روشی بھابی بھی اس گھر میں آ گئیں۔ چھوٹی امی نے غیرت دلائی۔
’’لو۔۔۔۔۔ بہن ابھی بیٹھی ہے اور بھائی شادی رچا بیٹھے۔‘‘
’’بہن کا جب وقت آئے گا تو اس کی شادی ہو جائے گی۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘ چھوٹے بھیا منہ پھٹ تھے۔
’’چھوٹے بھیا کی جب شادی ہوئی تو میں آٹھویں کلاس میں پڑھتی تھی۔۔۔۔۔ میں تو خوش تھی نینا عادل! کہ میری شادی ہو رہی ہے۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ ایک سزا ہے جو مجھے بھگتنی ہے۔ چھوٹی امی راولپنڈی جا چکی تھیں۔ ابی جان نے آفتاب انکل کو بتایا۔
’’دراصل ان کی رشتے کی چچا کا انتقال ہو گیا ہے اور انہیں جانا تھا۔ لیکن خیر، تین چار دن تک آ جائیں گی۔ تم اتوار کو بارات لا سکتے ہو۔‘‘
انہوں نے مجھے جانے کا اشارہ کیا اور میں دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔
’’ہائے، اتنی جلدی۔‘‘ ابی جان نے آفتاب انکل کے جانے کے بعد سب کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ بڑے بھائی نے احتجاج کیا۔
’’ایلی ابھی بہت چھوٹی ہے ابی جان!‘‘
’’کوئی چھوٹی نہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی چاند چڑھائے، میں اسے عزت و آبرو کے ساتھ رخصت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے دونوں بھابیوں سے کہا تھا کہ وہ ان چنددنوں میں کچھ کپڑوں کی شاپنگ کر لیں میرے لئے۔
پھر شابی بھابی اور روشی بھابی نے سات آٹھ ریڈی میڈ جوڑے خرید لئے۔ ابی جان، شابی بھابی کو ساتھ لے کر ایک سیٹ اور چوڑیاں بھی لے آئے تھے۔ مجھے اپنا ویڈنگ ڈریس کچھ خاص پسند تو نہیں آیا تھا لیکن خاموش رہی۔ ابی جان نے ایک ہوٹل میں بارات کے استقبال کا انتظام بھی کر لیا تھا۔
’’بارات کے ساتھ کچھ زیادہ لوگ نہیں ہوں گے۔ صرف پچاس ساٹھ۔‘‘ انہوں نے بڑے بھیا کو بتایا تھا۔
جس روز چھوٹی امی راولپنڈی سے آئی تھی، اس روز روشی بھابی لائونج میں ڈھولکی رکھے گانے گا رہی تھیں اور میں پاس ہی پیلا دوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی۔ روشی بھابینے چھوٹے بھیا سے کہہ کہہ کر
|