Urdu Novels

Back | Home |  

…٭٭٭…

’’تو تمہارا کیا خیال ہے اس پروپوزل کے متعلق؟‘‘ ملک حیات خان نے ثمر کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے پوچھا۔
’’میں نے آفتاب کو منع کر دیا تھا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ ملک حیات نے پُر سوچ نظروں سے دیکھا۔ ’’تم نے ایلیا سے پوچھا؟‘‘
ثمر نے ان کے ہاتھ سے گلاس واپس لے کر میز پر رکھتے ہوئے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
’’ایلیا نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم لوگ جو بھی فیصلہ کریں گے اسے منظور ہو گا۔‘‘
’’ہاں، تب آرب نہیں آیا تھا۔‘‘ ملک حیات خان نے تکیے سے ٹیک لگائی۔
ثمر کچھ خان دیر پہلے ہی آفتاب ملک کو گیسٹ روم میں چھوڑ کر ملک حیات کو سونے سے پہلے دوائیں دینے آئے تھے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘ ثمر نے کسی قدر تیزی سے پوچھا۔
’’بیٹا! کیا خبر وہ دونوں۔۔۔۔۔۔ آخر آرب نے کسی آس پر ہی آفتاب کو بھجوایا ہے۔ کچھ تو ہو گا نا۔ میں نہیں چاہتا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔‘‘
ثمر حیات خان ایک لمحے کو بالکل چپ کر گئے۔
’’اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ ایلیا ناخوش رہے۔‘‘ ملک حیات خان نے پھر کہا تو ثمر نے باہر سے گزرتے اسلم کو آواز دے کر ایلیا کو بلانے کے لئے کہا۔ وہ گھبرائی ہوئی سی آئی۔
’’کیا ہوا؟ بابا جان تو ٹھیک ہیں نا؟‘‘
’’ہاں۔۔۔۔۔ بیٹھو۔‘‘ ثمر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ یونہی گھبرائی گھبرائی سی بیٹھ گئی۔
’’ایلیا بچے!‘‘ ملک حیات نے اس کی طرف دیکھا۔ ’’تمہارے انکل آفتاب تمہارے لئے آرب مصطفی کا پروپوزل لائے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’بابا جان! جو آپ مناسب سمجھیں۔‘‘ اس نے سر جھکا لیا۔ ’’میں نے آپ سے کہا تو تھا، آپ جو بھی فیصلہ کریں، آپ کو اختیار ہے۔‘‘
ثمر کا چہرہ چمکنے لگا۔ لیکن ملک حیات سنجیدگی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’ہمارا خیال نہیں ہے آرب کے لئے۔ تم سمجھ سکتی ہو کہ کیوں۔۔۔۔۔ یوں تو اچھا لڑکا ہے وہ۔‘‘
’’جی بابا جان!‘‘ اس نے اب بھی سر نہیں اٹھایا تھا لیکن اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ تاہم جب وہ بولی تو اس کا لہجہ بہت صاف اور پُر اعتماد تھا۔
’’آپ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں بابا جان!‘‘
’’جیتی رہو۔‘‘ بے اختیار ان کے لبوں سے نکلا تھا۔ اور ثمر کو لگا تھا جیسے برسوں سے جلتے ہوئے دل پر کسی نے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ڈال دیئے ہوں۔ فرطِ جذبات سے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے مسکرا کر ملک حیات خان کی طرف دیکھا جن کی مسکراتی آنکھوں میں نمی پھیل رہی تھی۔
’’جائو بیٹا! آرام کرو جا کر۔ ایکچوئیلی میں چاہ رہا تھا کہ آفتاب کو کوئی حتمی جواب دینے سے پہلے تم سے بھی بات کر لوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی غلط فیصلہ تمہاری آئندہ زندگی میں دکھ گھول دے۔‘‘
وہ بنا کچھ کہے کھڑی ہو گئی۔ وہ یہاں بیٹھنا نہیں چاہتی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اور بیٹھی تو ضبط کھو دے گی اور وہ اپنے کسی بھی عمل یا حرکت سے بابا جان اور ثمر ماموں کو یہ باور نہیں کرانا چاہتی تھی کہ اسے ان کا فیصلہ منظور نہیں ہے۔ لیکن اپنے کمرے میں آتے ہی آنسو بے اختیار ہی آنکھوں سے نکل آئے تھے۔
تو آرب مصطفی! فیصلہ ہو گیا کہ ہمیں ہمیشہ الگ الگ راستوں پر چلنا ہے۔ اور یہ تو شاید ازل سے طے تھا۔ پھر میرے دل میں یہ خیال کیوں آیا؟‘

…٭٭٭…






ایک اور بے چین رات اس نے عجب کرب میں گزار دی۔
صبح بستر سے اٹھنا محال ہو رہا تھا۔ پورا بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا۔
’’ارے کیا ہوا؟‘‘ عفت مامی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ ’’تمہیں تو بخار لگ رہا ہے۔‘‘
’’ہاں، شاید۔‘‘ اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔
’’نہ، نہ۔۔۔۔۔ لیٹی رہو۔ اٹھنے کی ضرورت نہیں۔ میں یہاں ہی تمہارا ناشتہ بھجوا دوں گی۔‘‘
’’نہیں، میرا جی نہیں چاہ رہا کچھ بھی کھانے کو۔ ابھی پیناڈول لے لیتی ہوں تو۔‘‘
’’نہ، خالی پیٹ کوئی دوا مت لینا۔ ہلکا سا ناشتہ کر لو، پھر لے لینا ایک گولی۔‘‘
ایلیا خاموش ہو گئی۔ جانتی تھی اس کی ایک نہیں چلے گی۔ ان محبتوں کے سامنے بے بس ہو جاتی تھی وہ۔ عفت مامی کے جانے کے بعد اس نے آنکھیں موند لیں۔ کچھ دیر بعد ہی ثمر حیات اور ملک حیات خان چلے آئے۔ ان کے ساتھ ملک آفتاب بھی تھے۔
’’ارے، کیا ہو گیا میری بیٹی کو؟۔۔۔۔۔ رات تو بھلی چنگی تھی۔‘‘ آفتاب ملک نے ایک محبت بھری نظر اس پر ڈالی۔
’’کچھ نہیں انکل!‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ’’یوں ہی سر درد تھا اور شاید ہلکا سا ٹمپریچر۔ بس مامی خود بھی پریشان ہوئیں اور آپ سب کو بھی پریشان کر ڈالا۔‘‘
ملک حیات خان نے اس کے ستے ستے چہرے پر ایک پُرسوچ سی نظر ڈالی اور سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’اگر زیادہ طبیعت خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلوں۔‘‘
’’نہیں ماموں۔ بس پیناڈول لوں گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘






’’میں تو سوچ رہا تھا تم فارغ ہو پڑھائی سے تو تمہارے بابا جان سے اجازت لے کر تمہیں کچھ دنوں کے لئے ساہیوال لے چلتا ہوں۔ کچھ دن ہمارے ویران گھر میں بھی رونق لگ جائے گی۔‘‘ آفتاب ملک بھی ان کے پاس ہی بیٹھ گئے۔
’’یہ بھی کوئی زندگی ہے میاں!‘‘ ملک حیات نے تبصرہ کیا۔ ’’بچوں کو پال پوس کر بڑا کرو اور وہ بڑھاپے میں ہمیں تنہا چھوڑ جائیں۔‘‘
’’بس، جو نصیب میں لکھا ہو بابا جان!‘‘ ایلیا نے آفتاب ملک کے لہجے میں چھپے دکھ کو محسوس کیا۔ ’’بیٹے کو پاکستان میں رہنا پسند نہیں اور ہمیں اپنی مٹی چھوڑنا منظور نہیں۔‘‘ انہوں نے قہقہہ لگایا۔ سو وہ وہاں خوش، ہم یہاں مطمئن۔‘‘
’’انکل! میرا دل بھی چاچی سے ملنے کو بہت چاہ رہا ہے۔‘‘ اس نے بات کر کے ملک حیات کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔
’’ہاں، ٹھیک ہے۔ آفتاب ایک دن رک جائے تو چلی جائو ہفتہ بھر کے لئے۔‘‘ ملک حیات نے جیسے اس کے دل میں چھپی خواہش پڑ لی تھی۔
’’لیکن یار! جلدی واپس چھوڑ جانا۔ ہم بھی زیادہ دن اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
جہاں آفتاب ملک خوش ہوئے تھے، وہاں ایلیا کے چہرے پر بھی مسرت کے رنگ بکھر گئے تھے۔
’’ایسی بات ہے تو رک جاتا ہوں میں۔‘‘
ثمر اس دوران خاموشی سے ایلیا کے چہرے کا جائزہ لے رہے تھے۔
’اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور سرخ ہیں۔ لیکن کیوں؟۔۔۔۔۔ کیا آرب۔۔۔۔۔‘ تبھی عفت، اسلم کے ساتھ ناشتہ لے کر آ گئیں۔
’’اسلم! یہ ناشتہ رکھو یہاں۔ اور ایلا بیٹا! چلو منہ ہاتھ دھو لو اور ناشتہ کر کے میڈیسن لے لو۔‘‘
’’مامی! آپ۔‘‘ ایلیا شرمندہ ہو گئی۔ ’’میں نے کہا تھا، میں ادھر ہی آ جاتی ہوں۔‘‘
’’اچھا خاصا بخار لگ رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔‘‘ ان کے لہجے میں فکرمندی تھی۔ ’’میں تو کہتی ہوں ثمر! یہ ناشتہ کر لے تو ڈاکٹر کے پاس لے چلیں۔‘‘ وہ ثمر سے مخاطب ہوئیں تو ایلیا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ پتہ نہیں کس نیکی کا صلہ تھا یہ کہ اتنی محبتیں اس کا نصیب بن رہی تھیں۔ وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتی ہوئی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔

ختم شد

of 33 
Go