Urdu Novels

Back | Home |  

ہمایوں کی بے ساختہ شعرگوئی پر ہنسی بکھر گئی۔
’’اپنی ملکیت ہو گئی ہے۔ آنکھوں کو بند کر کے کیوں دیکھیں؟‘‘ وہ بے حد اطمینان سے گویا ہوا اور صوفے کی گداز بیک سے ٹیک لگا لی۔
آج تو یوں بھی اس کا اعتماد قابل دید تھا۔
’’ہاں جیسے اب تک تو تم آنکھیں بند کر کے ہی دیکھتے آئے تھے۔‘‘ مونا بھابی کی بات پر زبردست قہقہہ پڑا۔
’’تب عقل کی آنکھوں سے دیکھتا تھا‘ اب دل کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے بچہ۔‘‘ واجدہ خالہ کا بیٹا سلطان اس کی پشت کی طرف ہی کھڑا تھا‘ پھر اس کا کندھا تھپکتے ہوئے بولا۔
’’دیکھو جی بھر کر دیکھو۔ ان چڑیلوں کی باتوں سے بالکل مت گھبرائو۔ یہ تونیگ کے چکر میں ہیں۔ ان کا بس چلے تو آدھی جائیداد اپنے نام لکھوا کر دولہا کو دلہن کے دیدار سے فیض یاب کریں۔ ۔‘‘
’’کچھ خدا کا خوف کریں سلطان بھائی! بھلا آپ نے کب آدھی جائیداد ہمارے نام لکھوا دی تھی‘ ہم نے تو محض 10ہزار میں آپ کو جاذبہ بھابی کا دیدار کرادیا تھا۔‘‘ مونابھابی اس الزام پر تڑپ کر بولیں۔
’’بہرحال میں تو بالکل غریب سابندہ ہوں‘ میرے پاس تو دینے کیلئے کچھ نہیں۔ بالکل خالی جیب۔‘‘ اس نے جلدی سے ایک ہاتھ اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے جیب کو تھپتھپایا تھا پھر ایک ٹھنڈی سانس کھینچی۔
’’اور بالکل خالی دل۔‘‘ یہ جملہ اس نے آہستگی سے صرف شہرینہ کو سنانے کو کہا تھا۔
ادھر سب ایک شور مچا رہی تھیں اس کی خالی جیب والی بات کسی کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور وہ نہایت سکون کے ساتھ سب سے نمٹ رہا تھا‘ اس کاسکون درہم برہم کر کے۔ شگستگی‘ دل گرفتگی اس کے دل پر چٹکیاں بھر رہی تھی‘ اس کا دل چاہا وہ یکلخت یہاں سے اٹھ کر بھاگ جائے‘ اس شور ہنگاموں‘ ہائوہو‘ قہقہوں سے دور اور جا کر کسی گوشے میں بیٹھ کر اتنا روئے اتنا روئے کہ دل رک جائے‘ سانس تھم جائے۔
اس کی بھاری گمبھیر ہنسی اس کے دل پر کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔ بھابی کی کسی بات پر اس نے محظوظ ہو کر بڑا سا قہقہہ لگایا تھا‘ ادھر وہ تذلیل کے احساس سے چور چور ہو گئی‘ اسے لگا وہ اس پر ہنس رہا ہو‘ اس کی شکست پر قہقہے لگا رہا ہو۔
پھر وہی کشیدگی‘ رنجیدگی اس کے دل سے امڈنے لگی۔ مگر اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا‘ وہ سارا وقت سب کی نگاہوں کا مرکز بنی رہی۔ اس کے رویوں کی کاٹ سے سوائے خود کو سلگانے کے کچھ نہ کرسکی۔

٭…٭…٭


ولید نے اپنے کمرے کو بے حد خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیاتھا‘ ہر شے سے نفاست اور عمدگی جھلک رہی تھی۔
تازہ گلاب کی مہک چہارسو بکھری ہوئی تھی۔

میں قائلِ خود رائی الفت سہی لیکن
آدابِ محبت سے تو بیگانہ نہیں ہوں


وہ ساری رسمیں نمٹا کر کسی فاتح جرنیل کی طرح کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اسے یقین تھا وہ شکست کھائے ہارے ہوئے سپاہی کی طرح سرجھکائے بیٹھی خوف سے کانپتے دل کے ساتھ اس کے آنے کا ایک ایک لمحہ گن رہی ہو گی۔
اس کا دل آویز سراپا نگاہوں تلے باربار آ رہا تھا‘ وہ اندر آیا تو اسے شدید قسم کا ذہنی جھٹکا لگا‘ اس کا گلابوں سے مہکتا بیڈ خالی تھی بلکہ پورا کمرہ ہی بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ بیڈ پر پڑی ایک چٹ اور سلیپنگ پلز کی خالی بوتل دیکھ کر اسے اپنا دماغ بھک سے اڑتا محسوس ہوا‘ سارا نشہ ہرن ہو گیا‘ اسے جلاتے ستانے کا سارا پلان ہی دماغ میں بکھر کر رہ گیا۔
بس ایک عجیب سی وحشت نے دل کو جکڑ لیا۔
اس نے پرچہ پر ایک نظر ڈالی پھر اسے وہیں پھینک کر حواس باختہ کھڑکی کی طرف آیا جو چوپٹ کھلی ہوئی تھی۔
یہ لان کا پچھلا حصہ تھا جو آج روشنی سے نہایا ہوا تھا‘ اس کی بھٹکتی متوحس نظریں یکدم شہرینہ پر جا پڑیں جو کھڑکی سے ذرا فاصلے پر کیاری کے پاس پڑی تھی‘ اس کا دمکتا دوپٹہ بیدردی سے کیاری میں پڑا تھا جبکہ ایک کونا سر سے ڈھلک کر کندھے پر اٹکا ہوا تھا۔ اس کی ڈھلکی ہوئی گردن نے اس کے حواس گھما ڈالے۔ اس کا دل سینے میں پھیلا سکڑا مگر لہو رگوں میں رک رک کر دوڑنے لگا۔
’’شیری‘ شیری! آر یو آل رائٹ۔‘‘ وہ اسے جھنجوڑنے لگا۔
اس کے جھنجھوڑنے پر وہ ذرا سا کسمسائی‘ پلکیں بمشکل کھول پائی‘ ولید کو اس کی سنہری آنکھوں میں موت کا خمار ڈولتا دکھائی دینے لگا۔






اس کی نظروں میں سلیپنگ پلز کی خالی بوتل گھومنے لگی۔
’’کیا کر آئی ہو بیوقوف لڑکی! کتنی پلز لی ہیں؟‘‘ اس نے اسے شانوں سے تھام کر سیدھا کیا۔
زندگی میں پہلی بار اسے اپنا سارا اعتماد‘ ساری طراری دھوئیں کے غول کی طرح ہوا میں تحلیل ہوتی محسوس ہونے لگی۔
’’میں آپ کی نفرت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ سسکی بھر کر بے حد پست آواز میں بولی جیسے اتنا بولنا بھی اس کیلئے شدید مشکل ہو رہا ہو۔
’’تو کون تم سے نفرت کرتا ہے شیری! تم سے بھلا میں نفرت کر سکتا ہوں؟ مائی گاڈ! وہ تو صرف مذاق تھا۔‘‘
وہ خوف اور وحشت سے اسے دیکھنے لگا۔
اس نوبت کاتو اس کے پاس تصور بھی نہ تھا‘ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنا شدید ردعمل ہو گا اس دیوانی لڑکی کا۔ اسے لگا بھابی کی آواز کہیں سے کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح اس کے ذہن پر کھٹ کھٹ لگ رہی ہو۔
(لڑکیاں نازک حساس پروں والی تتلیوں کی مانند ہوتی ہیں ولید! انہیں آزمائش‘ بیگانگی کی تیز آنچ پر نہیں رہنے دینا چاہیے‘ ان کے پر جل جاتے ہیں۔ وہ راکھ ہو جاتی ہیں اور پھر راکھ کے اس ڈھیر میں تم جیسے مرد تاعمر چنگاری ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔)
’’شیری! یو آر مائی لائف۔ بھلا اپنی زندگی سے‘ اپنی روح سے کوئی نفرت کرسکتا ہے‘ وہ تو محض غصہ تھا۔‘‘ وہ اسے نرمی سے تھامتے ہوئے بولا۔
’’اٹھو! شاباش۔ ۔‘‘ مگر وہ اس کا ہاتھ دھکیلتے ہوئے رو دی۔
’’آپ تو مجھے قتل کر دینا چاہتے تھے‘ میں نے سوچا میں خود ہی اپنی زندگی ختم کر لوں تاکہ میرے لگائے ہوئے زخموں کی تلافی ہو جائے اور آپ کی گردن پر ناحق خون نہ آئے میرا۔‘‘
’’پاگل ہو تم۔‘‘ وہ ندامت اور رنج سے اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ ڈھانپے سسکیاں بھر رہی تھی۔  اس کاسجا سنورا روپ آنسوئوں  سے بھیگا جا رہا تھا۔
’’شیری! آئی ایم سوری۔ اگر تم میرے مذاق سے ہرٹ ہوئی ہو۔ میرا مقصد تمہیں نیچا دکھانا‘ شکست سے دوچار کر کے لطف اٹھانا نہیں تھا۔ پاگل لڑکی تمہاری محبت تو میرے لئے تازہ ہوا کی طرح ہے جس میں میں زندہ ہوں‘ جس سے میری روح کی بقا ہے۔‘‘
وہ اس کے چہرے سے اس کے مشک بار بالوں کی جھالروں کو ہٹاتے ہوئے اس کے خوبصورت چہرے میں ایک پل کے لئے کھو گیا۔
وہ بے ساختہ پلکوں کی باڑھ جھکا گئی تھی۔
’’کتنی پلز کھا لی ہیں بوتل تو پوری خالی ہے۔‘‘ اچانک اسے حادثے کی سنگینی کے احساس نے جکڑ لیا۔
’’بتائو۔ کتنی پلز کھائی ہیں‘ مائی گاڈ! تمہیں اندازہ ہے تم کیا کر چکی ہو۔‘‘ اس کا سر سراتا لہجہ واہموں‘ اندیشوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔
اور شہرینہ کادل چاہا وہ یونہی آنکھیں بند کئے اسے اپنے لئے پریشان‘ متوحش دیکھتی رہے‘ اس کے خوبصورت جملوں سے اپنے دل کی سوکھی دھرتی نم کرتی رہے۔
سارے تپتے ہوئے لمحوں کا حساب بس ایک پل میں ہو گیا تھا جیسے سوکھی زمین پر ابر کا ٹکڑا برس کر برسوں کی پیاس آن واحد میں مٹا جائے۔
یوں کہ کوئی گوشہ‘ کوئی کونہ سوکھا نہ رہے۔
اس کے دل میں قوس قزح کی طرح عجیب سی تابندگیاں جھلملانے لگیں۔
اس نے آنکھیں کھول دیں اور ساتھ ہی آگے ہاتھ کر کے وہ مٹھی بھی کھول دی جس میں اس نے ساری سیلپنگ پلز چھپا رکھی تھیں۔
ولید کو ایک بار پھر اعصابی جھٹکا لگا تھا۔
وہ اپنی شریر مسکراہٹ کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر مسکراہٹ اسکے ہونٹوں سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔
’’مائی گاڈ… یہ سب!۔‘‘ وہ پہلے ان پلز کو پھر اسے گھورنے لگا۔
’’یہ میرا نہیں بھابی کا ڈرامہ تھا سچ مچ۔‘‘ وہ اس کے گھورنے پر معصوم سی شکل بنا کر جلدی سے بولی اور جھٹکے سے کھڑی ہو گئی مگر وہ بھی پوری طرح اپنے اعصاب سنبھال چکا تھا‘ اس کے بھاگنے کی راہیں مسدود کرتے ہوئے اس کی کلائی پکڑ لی۔ دل میںپھیلا خوف کاسکوت ایک چھناکے سے ٹوٹا تھا۔ اطمینان کی ایک خفیف سی لہر اس کے اعصاب سے گزر گئی تھی‘ اس کے ہونٹوں پر ایک طویل اذیت کے بعد کشادہ مسکراہٹ پھوٹی تاہم وہ بظاہر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر اسے گھورتے ہوئے بولا۔
’’ڈرامہ بھابی کا تھا مگر پلے تو تم کر رہی تھیں نا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اتنی اچھی ایکٹنگ کرو۔‘‘ اس نے ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ دیوار سے جا لگی۔






’’آئی ایم سوری ولید!۔‘‘ وہ منمنائی۔
’’کیا سوری۔ کتنے دنوں کی ریہرسل تھی۔‘‘ وہ دیوارسے ایک ہاتھ ٹکا کر اس پر جھکا اور اسے ہنوز گھورتا ہوا بولا۔ اس کی نگاہوں کے پار استحقاق کی وارفتہ چمک تھی‘ جس نے شہرینہ کی پلکوں کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ وہ خود کو ان نگاہوں سے پگھلتا محسوس کرنے لگی۔
’’کوئی ریہرسل نہیں تھی۔‘‘ وہ اس کی گرفت سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’اوہ… تو یہ پانچ سال کا تجربہ تھا جو تم پر انڈیلا گیا ہے۔‘‘
بھابی اور تانیہ کو ایک درخت کی آڑ سے یکدم کھلکھلا کر نکلتے دیکھ کر وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔
’’کہو مان گئے نا عورت کی صلاحیتوں کو۔‘‘ بھابی نے ابرو اچکا کر جیسے اسے چڑایا۔ ’’ساری ہوا نکل گئی ہے نا۔ کیسے گڑگڑا کر معافیاں مانگی جا رہی تھیں‘ کیسے اظہار ہو رہا تھا۔‘‘
وہ کچھ دیر پہلے کے لمحات کا تصور کر کے جیسے محظوظ ہو کر ہنس رہی تھیں۔
’’ظاہر ہے بندہ بشر ہوں‘ کسی کو مرتے دیکھ کر ہمدردی کا جذبہ تو بیدار ہو ہی جاتا ہے۔‘‘ اس کا اعتماد لوٹ رہا تھا‘ وہ یکدم خود کو بے حد ہلکاپھلکا محسوس کرنے لگا۔
دل ہی دل میں اس پلان کو بھی سرہاہے بغیر نہ رہ سکا تھا۔
’’آگے کی بھی پلاننگ کی ہے یا یہ مجھے کرنا ہو گا۔‘‘ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا شگفتگی سے شہرینہ پر ایک نظر ڈال کربولا۔
نظر کیا تھی شوق کا ایک پورا جہان آباد تھا ان نگاہوں میں‘ وہ مارے شرم کے کٹ کر رہ گئی۔
’’تم اگر کہو تو آگے کی بھی پلاننگ ہم کر دیتے ہیں۔‘‘ بھابی شرارت سے لبوں کا کونا دانتوں میں دبا کر آگے بڑھنے لگیں تو اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر ان کا راستہ روک دیا۔
’’میرا خیال ہے آپ نے اپنی چھوٹی سی عقل کا پہلے ہی ضرورت سے زیادہ استعمال کر لیا ہے۔ اب آپ دونوں سیدھے سیدھے سدھاریئے۔ یہ وسیم ہمیشہ ہی غلط موقعوں پر آپ کی نکیل چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ اس نے گویا ٹھنڈی سانس کھینچتے ہوئے وسیم کی عقل پر ماتم کیا تھا۔
’’احسان مانو میرا‘ یہ تو سچ مچ شیری پلز کھا چکی ہوتی اور تم صحرا میں پچھاڑیں کھانے کیلئے رہ جاتے۔ ۔‘‘ بھابی نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا۔
’’افسوس کہ اس احسان پر میں آپ کو کوئی بدل نہیں دے سکتا‘ میری جیب پہلے ہی آپ خالی کروا چکی ہیں۔‘‘ تانیہ اور بھابی دونوں کھل کھلا کر ہنس پڑیں۔
’’البتہ تمہارا انعام کیا ہونا چاہیے اس بہترین ایکٹنگ پر۔‘‘ وہ شہرینہ کی طرف بڑھا۔
اس کی پرشوق نگاہوں میں رنگ ہی رنگ تھے‘ وہ رنگ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے۔
’’تمغہ محبت۔‘‘ جاتے جاتے تانیہ نے شرارت سے لقمہ دیا تھا۔ ولید کا قہقہہ برجستہ تھا‘ پھر وہ ہلکی سانس بھرتے ہوئے بولا۔
قمر دل کیا ہے میں تو ان کی خاطر جان بھی دے دوں
مری قسمت اگر ان کو نہ پھربھی اعتبار آئے
بھابی اور تانیہ بے ساختہ ہنستی ہوئی گئی تھیں۔
شہرینہ نے اسے دیکھا تو اس نے دل آویز تبسم کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام لیا۔
اس کے ہاتھ کی محبت بھری گرمی نے یکلخت اس کی خوش نما پلکوں کو شرم و حیا سے جھکا ڈالا۔
صدیوں کے فاصلے لمحوں میں پاٹے جا سکتے ہیں‘ اگر آپ کے ہاتھ میں اعتبار کا سوئی دھاگہ ہو۔ بس آپ ٹانکا لگاتے چلے جائیں‘ محبت کی خوش نما چادر خودبخود بنتی چلی جائے گی‘ ہاں خیال رکھیں کہ آپ کا ہر ٹانکا متوازن ہو۔ دراصل ہر جذبے کی بقا‘ اعتدال اور توازن میں ہے بلکہ دنیا کا پورا نظام ہی اعتدال پر قائم ہے‘ اس کی بقا توازن پر ہے جس طرح مسلسل بھاگنے والے گر جاتے ہیں جبکہ سست قدموں والے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں مگر درمیانی رفتار والے اپنا سفر بغیر ہانپے کر جاتے ہیں۔
جذبات‘ احساس اور کیفیات میں توازن قائم ہو تو زندگی نہ صرف حسین ہو جاتی ہے بلکہ آسان بھی لگنے لگتی ہے۔ بندھن دلوں سے مشروط ہوتے ہیں۔ انہیں رویوں میں تلاش نہیں کرنا چاہیے‘ رویئے تو حالات‘ واقعات کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں مگر ان کا اثر بندھن اور محبت پراس وقت پڑتا ہے جب آپ ان کے تابع ہو جاتے ہیں۔

(ختم شد)

 

of 168 
Go