گہری اور پرسکون نیند لینے کے بعد وہ نہا کر فریش بھی ہو چکے تھے۔ سفید رنگ کے شلوار سوٹ میں پیروں میں سادا سی چپل ڈالے‘ وہ اونچے لمبے اس عمر میں بھی سمارٹ اور چاق و چوبند دکھائی دیتے تھے۔ ہاتھوں میں اسٹک وہ اب بھی عادتاً رکھتے تھے۔ کوئی چار سال پہلے پیر کے فریکچر کے باعث ہونے والے آپریشن کے بعد چلنے پھرنے میں دشواری کے سبب سے ڈاکٹر نے انہیں اسٹک استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا اور وہ لگاتار سال بھر اسٹک کے استعمال کے اتنے عادی ہو گئے کہ اب بھی وہ اسے استعمال کر لیا کرتے تھے۔
آغا جی اس کے تیور دیکھ کر مسکراتے ہوئے وہیں ٹھٹک گئے۔
’’یہ اتنی جارحیت سے کہاں پیش قدمی ہو رہی تھی؟‘‘
’’آپ کی خواب گاہ کی طرف‘ تاکہ آپ کو خواب غفلت سے… سوری خواب خرگوش کی دنیا سے نکال سکوں‘ حد ہوتی ہے آغا جی! پتا ہے آپ پورے تین گھنٹے سوئے ہیں‘ جبکہ قیلولہ کی حد بھی پار کر گئے۔ اتنا طویل قیلولہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جانا چاہئے۔‘‘
آغا جی نے ہنستے ہوئے اسٹک اس کے کندھے پر ماری۔
’’تو تم بھی سو لیتیں‘ کس نے کہا تھا ساری دوپہر ٹامک ٹوئیاں مارتی پھرو۔‘‘
’’ایسی وحشت تو کبھی نہیں ہوئی آغا جی‘ پورا گھر بھائیں بھائیں کر رہا ہے اوپر سے نیچے‘ نیچے سے باہر‘ باہر سے اندر۔ اف ممی پاپا اور بھابی تو چلو گئے سو گئے اس شخص کو بھی سیر سپاٹے ان ہی دنوں سوجھے تھے۔ کیا عیش ہیں… ادھر چھٹیاں آئیں ادھر سیر سپاٹے‘ آہ… سچ کہتے ہیں دنیا مردوں کی ہے۔‘‘اس نے ایک طویل ٹھنڈی سانس بھری۔
’’تو تمہیں کس نے روکا تھا چلی جاتیں اس کے ساتھ‘ پیشکش تو کی تھی اس نے۔‘‘ آغا جی لونگ روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔
’’جی ہاں ایسی پیشکش کا سوبار شکریہ‘ عین رخت سفر باندھتے ہوئے اوپری دل سے کہہ دیا۔ ’’چلنا ہے تو چلو میرے ساتھ۔‘‘ اتنا حسین ہے نا وہ۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ لیتی اس کے پیچھے۔‘‘ وہ منہ پھلا کر صوفے پر گر گئی۔
’’خیر حسین تو ہے وہ۔‘‘ آغا جی نے اس کی جھولتی برائون بالوں کی لٹ کو کھینچا‘ اس نے اپنی بھوری بھوری آنکھیں گھما کر آغا جی کو دیکھا پھر ہولے سے بے اختیار مسکرا دی۔
’’آپ کی انہی تعریفوں نے انہیں بلا کا خوش فہم بنا ڈالا ہے موصوف خود کو پرنس آف ڈریم خیال کرنے لگے ہیں۔‘‘
’’بھئی اب اپنی بوریت کا بدلہ اس بچارے سے تو مت لو۔ چلو صغریٰ کو کہو چائے لے آئے۔‘‘
’’چائے حاضر ہے۔‘‘ صغریٰ کسی بو تل کے جن کی طرح ٹرالی گھسیٹتی حاضر ہو گئی۔ آغا جی بروقت چائے ملنے پر بچوں کی طرح خوش ہو گئے۔
’’بچی‘ کام کی ہو گئی ہے شاباش۔‘‘ صغریٰ اس تعریف پر کھل اٹھی۔
’’خدا کرے کام کی ہی رہے۔ اب تو شاعری فرمانے لگی ہیں۔‘‘ اس نے گویا صغریٰ کے کسی سربستہ راز کو طشت ازبام کیا‘ آغا جی نے چشمے کی اوٹ سے چونک کر پہلے اسے پھر لہک لہک کر چائے بناتی صغریٰ کو دیکھا۔
’’سب کے شعر تو فرفر یاد ہونے لگے ہیں اسے۔‘‘ اس نے مزید بتایا۔ ’’کیوں صغریٰ۔‘‘
’’آہو جی بالکل‘ سنائوں آپ کو۔‘‘ وہ چائے کے ہمراہ یہ ستم کرنے کو تیار تھی۔ ابھی آغا جی کچھ کہتے بلکہ قوی امکان تھا اسے اس اقدام سے باز ہی رکھتے کہ وہ پٹ سے بولی۔
ادھر بھی دیکھ اے ظالم ! تمنا ہم بھی رکھتے ہیں
اگر تم ڈش رکھتے ہو تو کیبل ہم بھی رکھتے ہیں
’’اور جی ایک اور ٹرک پر لکھا تھا۔‘‘
سفر سے پہلے ڈیزل چیک کرنا ضروری ہے
مرنے سے پہلے ایک ظالم حسینہ پر مرنا ضروری ہے
’’باس… بس… بس۔‘‘ آغا جی گویا کراہ کر رہ گئے۔ چائے ان کے حلق میں پھنس کر رہ گئی تھی جبکہ وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہنستی چلی گئی۔
’’کمال ہے مجھے پتہ ہوتا اپنی صغریٰ کا ذوق اتنا بلند ہے تو میں پوری دوپہر بور کیوں ہوتی۔ اس غزل خواں سے مستفید نہ ہو جاتی‘ ایک مشاعرہ منعقد کروا ڈالتی۔‘‘
اس بات پر صغریٰ کی باچھیں کانوں تک جا پہنچیں مگرجو نظر آغا جی کے چہرے پر گئی تو مزید اپنے ذوق کے نمونے پیش کرنے کا خیال ترک کر ڈالا۔ وہ خشمگیں نظروں سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے پھر یکدم جلال میں آکر صغریٰ پر برس پڑے۔
’’دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا‘ خبردار جو آئندہ بسوں اور ٹرکوں پر نظر بھی ڈالی تم نے۔‘‘
انہیں یکدم غصے میں دیکھ کر صغریٰ بے چاری ہکا بکا رہ گئی پھر سرپٹ کمرے سے دوڑ لگا دی۔
’’چچ… چچ… اس زمانے میں شاعروں کا یہ انعام‘ دو شعر پر دو جھڑکی‘ شکر ہے اس نے پوری غزل نہیں سنا دی آپ کو ورنہ۔‘‘
’’بس کرو لڑکی تم بھی‘ تم نے ہی اسے اتنا بگاڑ ڈالا ہے‘ آ جائے تمہاری ماں اس کے کان کھینچے گی تو پھر پٹری پر آئے گی۔ چلو اٹھائو شطرنج۔ تمہاری بوریت کا بھی حل کرتے ہیں۔‘‘
’’ہرگز نہیں‘ شطرنج وطرنج آج نہیں ہو گی۔‘‘ اس نے سموسہ پلیٹ میں ڈالتے ہوئے حتمی لہجے میں گردن ہلائی‘ پھر آغا جی کی اٹھتی سوالیہ نظروں پر بولی۔
’’آج لوڈو کھیلیں گے آپ کا دل نہیں بھرتا آغا جی شطرنج سے۔ ساری عمر تو آپ شطرنج‘ بلیرڈ اور گولف کھیل کھیل کر ایویں شو مارتے رہے ہیں۔‘‘
آغا جی بے اختیار مسکراہٹ کو لبوں پر پھیلنے سے نہ روک سکے۔ وہ لوڈو اٹھا لائی تھی‘ انہوں نے اعتراض نہ کیا۔
’’دیکھو لڑکی ! بے ایمانی بالکل نہیں ہو گی۔‘‘
’’اب بے چارے لوڈو میں کتنی بے ایمانی ہو سکتی ہے آغا جی۔‘‘ وہ لوڈو کی بساط پر رنگ برنگی گوٹیں سجانے لگی۔
آغا جی اس شریر لڑکی کی ساری حرکتوں سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے پوری توجہ بساط پر جما رکھی تھی۔
’’یوں گھور گھور کر کیا دیکھ رہے ہیں سوئیٹ آغا جی‘ ابھی چھکا تو آنے دیجئے۔‘‘
اس نے کھٹ کھٹ کرنے کے بعد پانسہ پھینکا مگر دوسرے پل مایوسی سے برا سا منہ بنا کر گول ڈبے میں پانسہ ڈال کر آغا جی کو تھما دیا۔
X…X…X
یہ ایک وسیع مستطیل طرز کی لابی تھی جس میں ہلکا برائون رنگ کا دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔ سامنے بڑی سی کھڑکی کے عقب میں برائون کلر کے شہنیل کے وسیع صوفے کے وسط میں وڈیرہ مردان علی شاہ بیٹھا ہوا نظر آیا۔ وہ موبائل پر کسی سے محو گفتگو تھا‘ اس کے صوفے کی پشت پر دو ملازم سندھی اجرک کندھوں پر ڈالے ایک طرف کندھے پر بندوق لٹکائے چوکس کھڑے تھے۔ ان کے سر بلا ضرورت وڈیرہ مردان علی کے سر کے زاویے پر ہل رہے تھے‘ جیسے وہ بھی اپنے رئیس کے ساتھ موبائل پر کسی سے ہونے والی گفتگو میں شریک ہوں۔ شاید یہ بھی فرائض منصبی میں شامل تھا۔
دیکھنے میں وڈیرہ مردان علی شاہ مخصوص روایتی زمیندار دکھائی دے رہا تھا۔ چہرے پر کرختگی‘ رعب و دبدبہ تھا۔ اونچی اور چوڑی ناک کے نیچے گھنی مونچھیں تھیں۔ کلف لگے سفید شلوار قمیص میں تھا۔ کندھوں پر خوبصورت کامدار چادر تھی‘ پیروں میں مضبوط مردانہ گھسے تھے اور ایک ہاتھ میں سگار تھا جسے باتوں کے درمیان وقفے وقفے سے لبوں کے درمیان دبا لیتا تھا۔
’’بابا سائیں!‘‘ آمنہ نے کچھ لمحے توقف کے بعد انہیں متوجہ کرنا چاہا تو انہوں نے سر ہلا کر اور ہاتھ اٹھا کر بیٹھنے کا اشارہ دیا۔
’’بس یہی ہوتا ہے ادھر بابا سائیں نے گوٹھ میں قدم رکھا ادھر ان کی کالز شروع ہو گئیں۔ پلیز…‘‘ اس نے دیوار سے لگے دوسرے صوفے کی طرف ولید حسن کو بیٹھنے کی پیشکش کی۔
’’کبھی کبھی تو لگتا ہے ان کی اولاد ہم نہیں بلکہ سارے پاکستانی عوام ہیں۔ سیاست میں آکر تو بابا سائیں نے اولاد ہی کو کیا خود کو بھی بھلا ڈالا ہے۔‘‘
ولید حسن نے سن گلاسز سائیڈ ٹیبل پر رکھے اور گہری قدرے استہزائیہ سی سانس بھر کر وڈیرہ مردان علی شاہ کو دیکھا۔
اس کے لیے یہ چہرہ ناآشنا نہیں تھا تاہم ان سے باقاعدہ روبرو ملاقات کا یہ پہلا موقع تھا۔ اس کا ذہن ان کے بارے میں آمنہ علی کے جملے کے باوجود کسی طرح کی رائے دینے کو تیار نہ تھا۔ اس نے صرف آمنہ مردان علی کی طرف دیکھ کر مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔
’’ہاں تو بابا ولید! بھئی بڑا انتظار کروایا تم نے۔‘‘ مردان علی موبائل بند کر کے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا اور بے حد پرتپاک انداز میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا۔ وہ بھی مصافحہ کی غرض سے اپنی جگہ سے اٹھا مگر وڈیرہ مردان نے اس کے ہاتھ کو تھام کر پھر اسے خود سے لپٹا لیا۔ شاید یہ حملہ غیر متوقع تھا‘ یا پھر پذیرائی کا انداز حد سے زیادہ اپنائیت سے لبریز تھا وہ لحظہ بھر کو سٹپٹا گیا۔
بہرحال اس کے اعصاب پر خوشگواریت طاری رہی۔ جیسے اس کی بھی برسوں کی تمنا پوری ہوئی تھی ’’وڈیرہ مردان علی شاہ۔‘‘ سے روبرو ملنے کی۔
’’ہماری بچڑی آمنہ نے تو تمہاری تعریفیں کر کر کے ہمیں تو غائبانہ ہی تمہارا اسیر بنا ڈالا ہے‘ ماشاء اللہ۔‘‘ انہوں نے اس کے شاندار اور وجیہ سراپے پر بھرپور توصیفی نگاہیں ڈالیں۔ ان کی آنکھوں کی چمک میں لحظہ بھر کو اضافہ ہو گیا۔
’’جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا ہے۔‘‘ وہ تعریف کرنے کے معاملے میں اتنے ہی کشادہ دل تھے یا واقعی وہ اس سے مل کر مسرور ہوئے تھے بہرحال ظاہر تو کچھ ایسا ہی تھا۔
اس نے اپنی آنکھوں کو خفیف سی جنبش دے کر اس ستائش کو ایک مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ قبول کر لیا۔
یوں بھی اس کی شخصیت میں جو کشش تھی اور اس کی ذات میں سحر انگیزی تھی وہ خود بھی اس سے بخوبی آگاہ تھا۔ اس کی شخصیت بڑی جاندار‘ مسحور کن اور مغلوب کر لینے والی تھی۔
شاید یہ اعتماد اسے ہر اٹھنے والی اور لحظہ بھر ٹھٹک کر مسحور ہو کر پلٹنے والی نگاہ نے بخشا تھا۔
یا پھر اس حقیقت کا ادراک اسے تعلیم کے دوران ہوتا رہا تھا‘ جہاں خوبصورت اور امیر کبیر لڑکیاں بھی اس کی راہ میں بلامبالغہ آنکھیں بچھانے کو تیار رہتی تھیں۔
’’سفر آسان رہا نا بابا! کوئی تکلیف تو اٹھانی نہیں پڑی حویلی تک آنے میں؟‘‘
وہ اسے ساتھ لیے حویلی کے سب سے خوبصورت کمرے یعنی ایک آراستہ پیراستہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔
یہ مشرق اور مغرب کی آرائش کے امتزاج سے مزین تھا۔ جہاں جسم کو راحت اور آرام دینے کا عمدہ فرنیچر موجود تھا۔ مہنگا اور حسین ترین۔ کمرے میں جتنے بھی ڈیکوریشن پیس تھے سب امپورٹڈ تھے۔
اس نے سرسری انداز میں کمرے کا جائزہ لیا۔ وہ متاثر نہیں مگر حیران ضرور ہو رہا تھا۔
ایک غریب ملک جہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم تھے‘ جہاں غربت میں روز افزوں اضافہ ہو رہا تھا‘ مڈل کلاس طبقہ ختم ہوتا جا رہا تھا اور غربت کی نچلی سطح کی جانب عوام تیزی سے بڑھ رہے تھے‘ جہاں بیشتر گھر فرنیچر نام کی چیز سے بھی نا آشنا تھے‘ وہاں کے وزیروں کی صاحب اقتدار اور عالی مرتبہ لوگوں کی یہ آسودہ حالی‘ یہ عیاشیاں متاثر تو ہرگز نہیں البتہ متفکر اور رنجیدہ ضرور کر سکتی تھیں۔
وہ ایک آرام دہ صوفے پر بیٹھ گیا بلکہ تقریباً دھنس ہی گیا۔ عجیب روئی کے گالوں جیسے صوفے تھے‘ اگر اس کا قد چھٹ فٹ سے نکلتا نہ ہوتا تو وہ ان صوفوں میں عجیب سا دکھائی دیتا۔
وڈیرہ مردان علی شاہ کوئی عام ادنیٰ سا زمیندار نہیں تھا۔ ایک وسیع اراضی کا مالک ہونے کے علاوہ بطور ’’ایم پی اے‘‘ شہر میں اپنی شناخت اور شہرت رکھتا تھا۔
یہ شہرت اچھی کہلاتی ہے یا بری‘ بہرکیف یہ سوچنا عوام کا درد سر تھا‘ جبکہ بذات خود یہ ممبران اس شہرت اور شناخت پر ناصرف مطمئن تھے بلکہ کسی حد تک مغرور اور اپر کلاس ہونے کے زعم میں مبتلا۔
’’آپ کا گوٹھ واقعی بہت خوبصورت ہے اور رہی تکلیف کی بات تو مردان صاحب ! یہ اس وقت ہوتی جب جبراً بلایا جاتا‘ میں تو اپنی خوشی اور دیکھنے کی خواہش میں آیا ہوں اور جہاں خواہشات کا حصول مقصود ہو وہاں راہ کی تکلیفیں کہاں محسوس کی جاتی ہیں۔‘‘ وہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولا۔
وڈیرہ مردان علی شاہ کچھ متاثر ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
’’اچھا بول لیتے ہو۔‘‘ انہوں نے سگار لبوں سے نکالتے ہوئے فراخ دلی سے اسے سراہا۔
’’خاصے ذہین معلوم ہوتے ہو‘ بزنس مین کی اولاد ہو‘ یوں بھی اب دو اور دو پانچ کا نہیں دو اور دو بائیس کرنے کا زمانہ ہے۔ اولاد کو والدین سے زیادہ ذہین ہی ہونا چاہئے۔‘‘ وہ شگفتگی سے گویا ہوئے اور اپنی بات پر جیسے خود ہی محظوظ ہو کر ہنس دیئے۔
’’زمانہ تو خیر ہمارے یہاں ایسا ہے کہ دو اور دو پچاس سو بھی کر لیجئے تو بھی کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ اندھیر نگری شاید اسی خطے کے لیے کہا گیا ہے۔ کچھ مخصوص طبقے کے لیے تو ہرناجائز ہی جائز ہے۔‘‘
اس نے یہ کہتے ہوئے وڈیرہ مردان علی کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزرتے دیکھا۔ چہرے سے شگفتگی کے تاثرات یوں گم ہو گئے جیسے دھوئیں کا غول تیز ہوا کے جھونکے سے گم ہو جائے۔
وہ کسی احساس کے تحت سنبھل کر جلدی سے بولا۔
’’آپ کی حویلی کی آرائش بہت خوبصورت ہے۔‘‘
’’بس بابا‘ یہ بھی بچوں کے شوق رہ گئے ہیں‘ تمہارے والد صاحب بھی ساتھ آتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی‘ اسی بہانے ملاقات ہو جاتی۔‘‘
انہوں نے سگار ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور ملازم کا لایا ہوا تازہ حقہ گڑگڑانے لگے تھے۔
’’یہ بھی نہ آتے تو ہم کیا کر لیتے۔‘‘ ایک طرف خاموش بیٹھی آمنہ علی نے پہلی بار لب کشائی کی۔ گو کہ وہ خاموش بیٹھی تھی مگر اس کی نگاہیں مستقل ولید حسن کے سراپے میں الجھی ہوئی تھیں‘ یوں جیسے ’’ہمیں چہرے سے ہٹنا گوارا نہیں۔‘‘