| Back | Home | |
||
|
’’تو اپنی اس جنت کے لیے محبت قربان کرنے جا رہا تھا۔‘‘ممی نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھاما۔
’’پگلے مجھے آگاہ کیوں نہیں کردیا۔‘‘ممی کو لمحہ بھر میں اپنی تربیت پر رشک آیا‘ کتنا سعادت مند بیٹا تھا۔ ’’ممی!میں ماموں کا ا میج خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔وہ میرے بزرگ ہیں ‘حالانکہ یہ انکشاف خود میرے لیے بہت بڑا تھا‘ مگر ممی!‘‘ممی نے دریافت کیا۔ ’’اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘اس نے سر شار سا ہو کر دوبارہ بچوں کی طرح ممی کی گود میں سر رکھ دیا۔ ’’آئی لوّ یو ممی!‘‘وہ بچوں کی سی معصومیت سے بولا‘ تو ممی مسکرادیں۔ ’’کل میرے بیٹے کی رسم ابٹن ہے۔‘‘ممی بولیں‘ تبھی اس کا دھیان لمحہ بھر میں عفاف کی جانب چلا گیا۔ ’’ممی آپ کی اجازت ہو تو آپ کی بہو کو منانے چلا جائوں۔‘‘وہ سر اٹھائے مسکراتا ہوا دریافت کر رہا تھا۔ لمحہ بھر پہلے جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا‘ تو جیسے برسوں کی تھکن اس کے ساتھ تھی۔جسم جیسے روح سے خالی تھا‘ اور اب لمحہ بھر میں کیسی زندگی دوڑ رہی تھی‘ اس کے چہرے پر ممی اس کا سر شار سا چہرہ دیکھ کر مسکرادیں اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ ’’تھینک یو ممی…!‘‘وہ بولا اور پھر اٹھ کر باہر نکل گیا‘ اور ممی سوچنے لگی ان کی ذرا سی کوتاہی ایک ہنستے بستے دل کو ہمیشہ کے لیے سناٹوں کی مہیب گہرائیوں میں دفن کرنے جارہی تھی‘ اور اگر ویسا ہو جاتا تو!‘‘اور وہ یہ سوچ کر ہی دہل گئی تھیں۔ ’’خدایا شکر ہے تو نے مجھے ایک نا انصافی کرنے سے بچا لیا۔ شادی کا گھر جیسے ماتم کدہ تھا‘ وہ داخل ہوا تو سامنے ہی لائونج میں فاطمہ بیٹھی نظر آگئی۔ ’’وہ کہاں ہے؟‘‘اس نے پہلا سوال یہی کیا۔ ’’اپنے کمرے میں ہے۔‘‘وہ سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔’’پاگل لڑکی ہے۔بالکل منہ سر لپیٹے اپنے کمرے میں پڑی ہے۔میں نے آپ کے فون کے متعلق نہیں بتایا۔اتنی ایگریسو ہو رہی ہے‘ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا جس طرح وہ کمرے کی اشیاء کو اٹھا پٹخ کر رہی تھی‘ مجھے لگ رہا تھا جیسے ایک لمحے میں مجھے بھی اٹھا کر ایک طرف پھینک دے گی۔‘‘وہ مسکرائی۔ ’’جانے آپ کا کیا حال کرے گی۔‘‘وہ مسکرایا۔ ’’بے فکر رہو مجھے اسے ہینڈل کرنا آتا ہے۔بوا کہاں ہیں؟‘‘ ’’وہ بھی اپنے کمرے میں ہیں۔‘‘فاطمہ نے بتایا تو وہ سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ ’’عزیر!‘‘فاطمہ نے پیچھے سے پکارا‘ وہ لمحہ بھر میں رک کر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا۔‘‘ ’’بیسٹ آف لک…!‘‘اس نے انگوٹھے کا نشان دکھانے کے ساتھ ہی مسکرا کر دوستانہ انداز میں کہا‘ تو وہ مسکرادیا۔ ’’تھینک یو…!‘‘ اس نے بہت ہولے سے کمرے کا دروازہ کھولا‘ وہ بالکل سامنے ایزی چیئر پرآنکھیں موندیں بیٹھی تھی۔پیلے جوڑے میں رنگت بھی بے حد پیلی ہو رہی تھی۔ اس سے ہر طرح کا تعلق ختم کرنے کے بعد بھی اس کے نام کا جوڑا نہ اتارا تھا‘ محبت کا کتنا دلربا انداز تھا۔ ’’ایک طرف …انکار…اور دوسری طرف اسی آگ میں دہکنا۔ وہ لمحہ بھر کو مسکرایا‘ اور پھر ہولے قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب آن رکا۔کچھ لمحوں تک اسے یونہی تکا‘ پھر آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آن رکا‘ کچھ لمحوں تک اسے یونہی تکا پھر آہستہ سے اس پر جھک گیا۔ محبت نے دھیرے سے پیشانی پر دستک دی…وہ جھٹ سے آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی‘ دیکھتی چلی گئی‘ جیسے سارا منظر خواب ہو‘ وہ بے یقین انداز میں سر نفی میں ہلانے لگی۔ ’’عزیر حسن آفندی پلیز مجھے ڈسٹرب مت کرو۔ میں بھول جانا چاہتی ہوں تمہیں‘ پلیز مجھے یوں یاد مت آئو پاگل ہو جائوں گی۔‘‘وہ جیسے اسے خواب وخیال سمجھ کر مخاطب ہوئی۔
عزیر نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھاما۔
’’پاگل تو تم ہو…میری دیوانی…میری پگلی!‘‘ وہ مسکرایا‘ وہ جیسے یکدم خواب سے جاگ گئی‘ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ‘اور اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکنے لگی‘ گویا وہ خواب نہیں واقعی حقیقت تھا۔ اس کی کیفیت پر جانے کیوں وہ مسکرا دیا‘ وہ جانے کیوں دو قدم دور جا رکی‘ عزیر نے مضبوط ہاتھ بڑھا کر اسے تھاما۔ ’’آئندہ مجھے بھولنے کی بات مت کرنا کوئی خواب وخیال نہیں ہوں۔ایک حقیقت ہوں جیتی جاگتی…تمہارے روبرو ہوں اور تمہارا ہوں…سرتا پائوں اپنی دیوانی کے سامنے…یقین کرو۔‘‘وہ دھیمے لہجے میں جیسے سر گوشی کرتا ہوا شرارت سے مسکرایا تھا۔ اس کی کمرکے گرد اس کا بازو حمائل تھا۔اس کے باوجود میں لمحہ بھر میں جیسے بجلی سی کوندنے لگی تھی۔ہر قسم کی کیفیت سر پر پائوں رکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی تھی‘ سانسوں میں سنسناہٹ سی تھی۔ ’’تم…آپ یہاں کیسے…؟‘‘وہ یکدم بوکھلا گئی تھی‘ وہ اسے حواس باختہ دیکھ کر جیسے محظوظ ہوتے ہوئے ہنسا۔ ’’خود ہی تو جال بن کر قید کیا تھا…اب اسیر کہاں تک بھاگتا‘ رہائی ممکن نہیں تھی۔‘‘اس کی خوبصورت زلفوں کو ہاتھوں سے چھوتے ہوئے جیسے مکمل استحقاق کے ساتھ شرارت کی۔ وہ لمحہ بھر میں الٹتے قدموں چلتی ہوئی دیوار سے جا لگی‘ اس کی دیوانگی سمجھ سے بالا تر تھی۔ حواس خطا کیسے نہ ہوتے۔ ’’میں…میں نے آپ سے کہا تھا…‘‘ ’’کیا…؟…محبت کا کوئی اظہار تو آج تک کان سننے سے محروم رہے‘ محبت کے دو میٹھے بول تک تو تم نے کہے نہیں۔‘‘وہ مکمل طور پر غیر سنجیدہ تھا وہ زچ ہو گئی۔ ’’پلیز…عزیر!‘‘آنکھیں یکدم ہی پانیوں سے بھر گئیں‘ تب وہ اسے دیکھتا ہوا دھیمے انداز میں مسکرایا۔ پھر اس کے سامنے جا رکا‘ اور ایک ہاتھ دیوار پر اور دوسرا ہاتھ اس کے شانے پر رکھتے ہوئے گویا ہوا۔ ’’عفاف…سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔ ہماری راہوں میں کہیں کوئی بند راستہ نہیں پڑتا۔ بلیومی…!‘‘وہ اسے سنجیدہ ہوتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے بولا‘ تو وہ اسے چونک کر دیکھنے لگی۔ ’’مگر…!‘‘ ’’اوں…ہوں…!‘‘ہاتھ شانے پر سے اٹھا کر اس کے لبوں پر رکھ دیا‘ اور کچھ مزید کہنے سے باز رکھا۔ ’’اپنی دلہن کو جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں‘ مجھے تو معلوم ہی نہ تھا‘ ساجن کے نام کے جوڑے میں اتنے سادہ سے انداز کے باوجود حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔‘‘لہجہ اتنا گمبھیر تھا کہ اس کے چہرے پر یہاں سے وہاں کئی رنگ بکھرتے چلے گئے‘ اور اس سے قبل کہ وہ کچھ مزید کہتی وہ بولا۔ ’’زندگی ہار اور جیت نہیں ہے…پیار بھی ہے‘ اور پیار میں اگر ارادے پکے اور یقین مستحکم ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے‘ ہو سکتا ہے ہمیشہ اور ہر ایک کے ساتھ ایسا نہ ہوتا ہو‘ مگر ہماری جیت‘ ہماری کامیابی ‘ہماری محبت کی ثابت قدمی کے باعث ہے…ہم ساتھ تھے ‘ہم ساتھ ہیں‘ کچھ دیر کو راستے گجل ضرور ہوئے تھے‘ مگر اب ساری ڈور سلجھ چکی ہے‘ اب کوئی مشکل نہیں۔ ’’خوشبوئوں کا سفر ہمارا منتظر ہے کچھ مت سوچو مزید…بس میری نظروں میں دیکھو …دیکھو یہاں پیار ہے نا…تم ہونا۔‘‘ وہ محبت لٹاتے لہجے میں بولا تھا۔ اور وہ اس لمحے اس کی جانب تکنے لگی تھی۔ واقعی اس کی نظروں میں ناصرف اپنا عکس جھلماتا نظر آرہا تھا‘ بلکہ نظروں کی محبت بھری تپش‘ جیسے وجود کو اندر تک سلگا رہی تھی۔ وہ زیادہ دیر تک نہ دیکھ سکی تھی۔ اور آنکھیں جانے کیوں اس گھڑی چھلکنے لگی تھیں۔’’اوں ہوں!‘‘عزیرحسن آفندی نے اس کی پلکوں کے سارے موتی محبت کی پوروں سے چن لیے تھے‘ اور تب اس کے پاس مزید کوئی جواز نہ بچا تھا‘ کوئی ترددباقی نہ رہا تھا۔ اس نے دل کی آواز کو بغور سنتے ہوئے بہت ہولے سے اس کے فراخ سینے پر سر رکھ دیا تھا ‘اور ایک اطمینان جیسے روح میں سرایت کرنے لگا تھا۔ جو شخص اپنی پوروں سے اس کی پلکوں کے سارے اشک چن سکتا تھا وہ مشکل راستوں کی تمام رکاوٹیں بھی یقینا دور کر سکتا تھا۔ یہ اطمینان یہ یقین تمام عمر کے لیے کافی تھا۔ ختم شد |
||