Urdu Novels

Back | Home |  
جلدی تیار ہو کر نیچے آگئی تھی۔
’’ناشتہ…‘‘ بوا نے پکار اتھا۔ناشتے کی ٹیبل پر بوا مہمان کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں۔مہمان ڈان کے صفحات چہرے کے سامنے کئے چائے کے سِپ بھی لے رہا تھا۔
’’نہیں بہت دیر ہو جائے گی۔‘‘وہ ریسٹ واچ کا لاک بند کرتی ہوئی بولی۔
’’ایسی بھی کیا قیامت آگئی ہے۔عزیز چھوڑ دے گا۔یوں بھی یہ بھی نکل رہا ہے‘ ایک ضروری کام کے لئے۔راستے میں تمہیں بھی ڈراپ کر دے گا۔آجائو شاباش صبح خالی پیٹ رہنا سو بیماریوں کو دعوت دینا ہے۔‘‘بوا نے چائے بنا کر کپ بڑھایا‘ تو وہ انکار نہ کر سکی۔ ایک نظر محترم مہمان پر ڈالی‘ جو دھیان دیئے بغیر بزنس پیج کو بغور دیکھ رہے تھے۔اس نے ایک نگاہ ریسٹ واچ پر ڈالی تھی۔پھر ٹیبل کی جانب بڑھ آئی تھی۔ کھڑے کھڑے ہی کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا تھا۔دوسرے ہاتھ سے سلائس اٹھایا تھا۔
’’ارے تمیز سے بیٹھ کر کھائونا…‘‘بوانے ڈانٹا۔
’’اوں…ہوں…ایسے ہی ٹھیک ہے۔‘‘
اس نے بمشکل ایک سلائس کو ختم کیا‘ اور چائے کے سِپ لیتے ہوئے کپ ٹیبل پر دھر دیا۔تبھی عزیر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ یقینا وہ اس کی تمام کارروائی دیکھ چکا تھا‘ اسے جانا اگرچہ اس کے ساتھ تھا‘ مگر وہ اس سے قبل ہی باہر نکل آئی۔ گلاس ڈور کو تقریباً گھورتے ہوئے اس نے دیکھا تھا۔ایک …دو…تین…چار…پانچ…منٹ ایک ساتھ گزر گئے‘ مگر وہ جب برآمد ہوا تو وہ ارادہ باندھنے لگی کہ اسے نکل جانا چاہئے‘ خوامخواہ انتظار کروایا۔ اس نے فورا قدم بڑھادیئے۔ بجری کی سرخ روش چلتے ہوئے جانے کیسے اس کا پائوں مڑا‘ قریب تھا کہ وہ گرجاتی کہ ایک جست پیچھے تعاقب کرتے شخص نے فوراً اسے تھام لیا۔
’’تھین…تھینک یو…!‘‘وہ بمشکل خود کو سنبھالے ہوئے اسی قدر کہہ سکی۔
’’اٹس او کے …مگر ایسی بھی کیا جلدی ہے…‘‘وہ مسکرایا۔وہ دیکھتی رہ گئی‘ تب وہ آگے بڑھ گیا‘ اور پورچ سے گاڑی نکال لایا۔وہ جانے کس کیفیت میں گم یکسر بے خبر کھڑی تھی۔ اس نے ایک ساتھ کئی
ہارن دے ڈالے‘ اور تب وہ یکدم چونک کر دیکھنے لگی‘ پھر جلدی سے گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔
’’آپ روز اسی طرح آفس پہنچتی ہیں؟‘‘گاڑی گیٹ سے باہر نکالتے ہوئے اس نے دریافت کیا تھا‘ اور تب عفاف نے چونک کر دیکھا تھا۔ اس کے لبوں پر بڑی شریر سی مسکراہٹ تھی۔ وہ یقینا اس کی تمام کیفیتوں سے محظوظ ہوتا رہا تھا۔
’’جی نہیں!‘‘وہ اسی قدر کہہ کر آفس کا ایڈریس بتانے لگی تھی‘ تب عزیز حسن آفندی اس لڑکی کو دیکھتا رہ گیا تھا۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں‘ جو پہلی نگاہ میں بہت متاثر کرتے ہیں۔جیسے وہ اپنے اندر ایک مقناطیسیت رکھتے ہیں‘ اور بنا کوئی دستک دیئے دل میں گھسے چلے آتے ہیں‘ اور دل کے سنگھاسن پر بڑی بان اور شان کے ساتھ براجمان ہو کر حکمرانی کے سارے دائو پیچ استعمال کرنے لگتے ہیں۔یہ تمام باتیں فقط اس کے سننے میں آئی تھیں‘ مگر ذاتی طور پر وہ یہ سب باتیں نہیں مانتا تھا۔وہ نہ تو اس غیبی قسم کی مقناطیسی قوت کے کسی اسرار وبھید کو مانتا تھا‘ نہ ہی کسی کیوپڈ کے تیر کے یکدم چل جانے کو…بلکہ سرے سے اسے پہلی نظر کی محبت پر یقین ہی نہ تھا۔ وہ ہمیشہ دوستوں کے درمیان بیٹھا‘ اس موضوع پر لمبے چوڑے لیکچر دیا کرتا تھا۔
’’جس شخص کو آپ صحیح طور سے جانتے بھی نہیں…ڈھنگ سے دیکھ بھی نہیں پاتے…پہلی ہی نگاہ میں محبت کا شکار کیونکر ہو سکتے ہیں۔ان کی خوبیاں اور خامیاں آپ کی نگاہ سے یکسر پوشیدہ ہوتی ہیں‘ اس کی سوچ …اس کی عادات اس کی سوچ وفکر اس کے اندرونی احساسات کے متعلق جب آپ کچھ نہیں جانتے‘ تو پھر محبت کا راگ کیونکر ‘ محبت ظاہری قسم کے حسن سے تو نہیں ہو سکتی۔ہو سکتا ہے پہلی نگاہ میں نظر آنے والی شے بناوٹ سے لبریز ہو۔مصنوعی ہو‘ اور پھر پہلی ملاقات میں کوئی کتنا کھل سکتا ہے‘ پہلی نگاہ میں محبت ناممکن ہے۔ میں نہیں مانتا۔‘‘وہ کتنی ہی تاویلیں دیتا ہوا یکدم نفی میں سر ہلانے لگتا تھا‘ اور تب اس کے تمام دوست کھلکھلا کر ہنسنے لگے تھے۔ اویار محبت اندھی ہوتی ہے۔یہ بہت کچھ دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتی‘ اور بہت کچھ نہ دیکھتے ہوئے بھی دیکھ لیتی ہے۔ فقط دل کی آنکھوں سے۔‘‘یاسر کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہتا تھا۔
’’میں ایسا نہیں سوچتا‘ یہ ایک روایتی سوچ ہے‘ جس کا تعلق ہماری عشقیہ کہانیوں مثلاً ہیر رانجھا‘ لیلیٰ مجنوں‘ سوہنی مہینوال سے ہے۔ بھئی وہ فقط کتابوں کی باتیں تھیں‘ جو کتابوں سے نکل کر زبان زد عام ہوئیں‘ اور حقیقت کا روپ نظر آنے لگیں…لوگوں کو ان قصوں میں اتنی کشش محسوس ہوئی کہ وہ ان کو سچ لگنے لگے۔‘‘





‘‘مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے…یہ سچ ہو۔‘‘عامر کو جانے کیوں اختلاف ہوتا۔
’’ہو سکتا ہے اور ہونے میں بہت فرق ہے۔‘‘
ہیر رانجھا…وارث شاہ کا شاخسانہ تھا‘ اور رومیو جولیٹ…شیکسپیئر کی ایک کاوش …حقیقت فقط صفر۔‘‘
’’یعنی تم محبت کو نہیں مانتے۔‘‘یاسر ہنس کر دریافت کرتا۔
’’محبت کو میں مانتا ہوں‘ مگر پہلی نگاہ کی محبت کو نہیں…محبت بہت آہستہ آہستہ سر اٹھاتی ہے۔ یہ دودھ کا ابال نہیں…پہلی نگاہ میں تو محض آپ کو کوئی اچھالگ سکتا ہے‘ یا پھر برا…محبت آپ کو اس سے قطعی نہیں ہو سکتی۔‘‘
’’کسی کا اچھا لگنا ہی تو پہلی اسٹیج ہے۔‘‘عامر مسکرا کر کہتا ہے۔
’’مگر وہ محبت کیسے ہو سکتی ہے؟پسند تو بہت سی چیزوں کو کیا جاتا ہے‘ مگر وہ بہت سی چیزیں ہمارے لئے محبت کا درجہ تو نہیں رکھتیں۔ محبت تو سانسوں میں بسنے اور سینے میں دھڑکنے کا نام ہے‘ بے خود اور مدہوش کر دینے والی کیفیت محبت ہے‘ پہلی نگاہ میں اچھی لگنے والی شے ہمیں دوسری نگاہ میں بری بھی تو لگ سکتی ہے۔‘‘
’او یار تیری لوجک بہت مختلف ہے‘ کم از کم ہم تجھے مطمئن نہیں کر سکتے۔‘‘یاسر نفی میں سر ہلانے لگتا۔
’’ہاں تجھے مطمئن کرے گی ایک دن خود محبت۔‘‘
عامر مسکراتا۔
’’وہ کم از کم پہلی نگاہ کی محبت قطعی نہیں ہو گی۔‘‘
وہ نفی میں سر ہلاتا۔
’’تو پھر تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہ جائے گا۔‘‘
یاسر ہنستا۔
’’یہ تو جب کبھی کیوپڈ محترم کے تیر کا شکار ہوں گے‘ تو فوراً حفاظتی بند باندھتے ہوئے فرمائیں گے۔
سودا ہے عمر بھر کا کوئی کھیل تو نہیں
اے چشم یار مجھ کو ذرا سوچنے تو دے!
یاسر مسکراتا ہوا بولا تھا‘ اور اس وقت وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا تھا۔
اور اب بھی جب ان سب باتوں کو لمحہ بھر کو یاد کیا تھا‘تو وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا تھا۔محبت تو اب بھی نہیں تھی‘ مگر کوئی پیکر پہلی بار نظروں میں جچا ضرور تھا۔
’’عفاف کو گاڑی سے اتر کر اس نے وسیع وعریض رقبے پر پھیلی عمارت کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ بہت دیر تک نگاہ تعاقب میں رہی تھی۔
جب تک وہ عمارت میں داخل نہ ہو گئی تب تک۔
vvv
وہ شام کو چائے کے ساتھ صبح کا اخبار بھی دیکھ رہی تھی‘ جب رحمت نے آکر بتایا کہ فاطمہ کا فون ہے‘ اور تب وہ فوراً ہی اٹھ کر نیچے چلی آئی تھی۔لائونج میں بوا کے ساتھ بیٹھا وہ شام کی چائے کے ساتھ باتوں میںمصروف تھا۔وہ قریب سے گزرتی ہوئی فون اسٹینڈ کے قریب جار کی تھی۔
’’ہیلو فاطمہ خدا کا شکر ہے تمہیں میں یاد تو آئی۔‘‘
اس نے پہلا شکوہ یہی کیا۔





’’تم مجھے بھولی ہی کب تھیں مس عفاف فریدون خان…اور تم کیا سمجھتی ہو تم بھولنے والی شے ہو؟‘‘
فاطمہ جواب میں بولی تھی‘ اور وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی تھی۔
‘‘یہ جملہ کچھ پرانا نہیں ہو گیا۔‘‘
’’ہا ں مگر کچھ چیزوں اور باتوں کو دہرانا بہت ضروری ہوتا ہے۔‘‘
’’میں ابھی سوچ ہی رہی تھی تمہیں فون کروں۔‘‘عفاف بولی تو وہ ہنس دی۔
’’زہے نصیب…‘‘
’’بکومت …آئی ایم سیریس۔‘‘
’’چلو مان لیتے ہیں‘ ویسے کیوں آگئی ہماری یاد…‘‘
’’فاطمہ۔‘‘
’’اوکے…اوکے…کیا کر رہی ہو اس وقت؟‘‘
’’تم سے بات …!‘‘وہ مسکرائی۔
’’اور آفس؟‘‘
’’بہت تھکا دینے والی جاب ہے…مت پوچھو!‘‘
اس نے حقیقت سے کام لیا۔
’’تو کون کہتاہے کرو…کونسا کوئی فنانشل پرابلم ہے تمہیں۔‘‘فاطمہ نے کہا۔
’’فاطمہ بعض اوقات کچھ اندرونی مسائل بھی ہوتے ہیں‘ جو نظر نہیں آتے‘ مگر وہ نظر آنے والے تمام بیرونی مسائل سے کہیں زیادہ سنگین اور پریشان کن ہوتے ہیں۔‘‘
’’تو ضرورت تو ان مسائل کو حل کرنے کی ہے‘ ناکہ ان مسائل کے ساتھ بہہ جانے کی۔‘‘
’’فاطمہ!یہ ایک دوسرا فلسفہ ہے ہم اس پر پھر بحث کریں گے۔بس تم فوراً آجائو۔‘‘
’’خیریت…؟‘‘فاطمہ کو جیسے لمحہ بھر کو تشویش ہوئی۔
’’سب ٹھیک ہے…بس یونہی بہت دنوں سے تمہیں دیکھا نہیں ہے نا۔‘‘
’’اوہ تو یہ اداسی میری حسین صورت کو دیکھنے کی ہے۔‘‘فاطمہ شوخی سے مسکرائی۔
’’فاطمہ ‘ تم تو جانتی ہو کہ میں تمہارے بغیر ادھوری ہوں۔‘‘
’’اوہ…کہیں میں بے ہوش نہ ہو جائوں۔‘‘
فاطمہ ہنسی۔
’’اب یہ مت کہنا بکواس ہے۔‘‘
’’تو تم آجائونا…میرا گھر دور تو نہیں۔‘‘
’’ہاں دور تو نہیں‘ مگر تم جانتی ہو‘ میں کتنی مصروف ہوں۔‘‘
’’ایک تو جسے دیکھو وہی اپنی مصروفیت کا ڈھول پیٹتا نظر آتا ہے۔فارغ تو جیسے میں ہی ہوں۔‘‘فاطمہ یکدم خفا خفا سے لہجے میں بولی‘ تو وہ ہنس پڑی۔
of 10 
Go