گویا اس کی دانست میں ابھی کچھ کسر باقی تھی۔ اپنے نشتر جیسے رویوں سے اس کی پور پور چھید ڈالنے کے باوجود اس کی سرد مہریاں جو اس کی روح تک میں شگاف ڈال چکی تھیں اور جان لیوا جملے، جو اس کی عزت نفس اور خود داری کو روندتے ہوئے گزر جاتے… جیسے کبھی کبھی وہ کہتا۔
’’تم میرے سر پر لٹکی تلوار کی طرح ہو جو جان لیتی نہیں مگر جان سلب کر کے ضرور رکھتی ہے۔،،
کتنی تحقیر ہوتی اس کے لفظوں میں…جو اس کے اندر سسکتی عزتِ نفس کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی۔ بیزاری کا عروج… نفرت کی انتہا … وہ مر کر بھی زندہ رہتی…دوبارہ تل تل مرنے کے لیے … اور کتنا کچھ سنور جائے گا ناں، اس کے نہ ہونے سے…فقط ایک فیصلے ہی کی تو تاخیر ہے…
وہ فیصلہ جسے کر لینے کے بعد وہ کہتی تھی کہ اپنے میکے نہیں جائے گی۔ خودکشی کا کوئی ایک راستہ تو نہیں ہوتا، میکے سے منسلک وہ بیڑیاں جو اسے پابندِ زباں بندی بنا چکی تھیں، اس کی راہ روک لیتیں…جیسے اس سے منسلک کئی رشتوں میں بندھی بچیاں دامن گیر ہی تو ہو جائیں گی۔
’’پھپھو، ہمارا کیا بنے گا…اب تو ابا بھی نہیں رہے…،،
’’خالہ جانی، آپ جانتی ہیں ناں ماما کتنے دکھ اٹھاتی ہیں، دادی کتنا ستاتی ہیں ماما کو…،،
ابا کا بوڑھا وجود…اماں کی بیمار حالت اور سب سے آخر میں اس کی ماں جائی ظل سحر کے بالوں میں چمکتے چاندی کے تار … اماں تو پہلے ہی گھائل ہیں، جانے کن کن فکرات کو سینے سے لگا کر دل کا جان لیوا مرض پال بیٹھی ہیں۔ اس کی تباہی پر ڈھے جائیں گی…انہیں تو پہلے ہی ایک فکر کھائے جاتی ہے۔ وہ اکثر آہ بھر کر کہتیں۔ ’’ہائے میری ظل سحر، میری زندگی ہی میں اس کی شادی ہو جائے، اللہ جلد ہی کوئی اچھا سا رشتہ بھیج دے۔،،
وہ نظریں چرا جاتی۔ اپنی آزردگی کو لعن طعن کرتی…وہ وقت یاد کرتی جب اماں خود اس کے لیے اتنی ہی پریشان رہتیں۔ ان سب کی زندگیوں کو مزید انتشار، اُلجھنوں اور مسائل سے بچانے کے لیے یہ سودا مہنگا تو نہیں…
جب زندگی گزارنی ہی ٹھہری تو کیا حرج ہے، اپنے بخت کی ہولناک سیاہیوں کو صرف مقدر کا لکھا سمجھ کر پی جانے، عزت نفس، خود داری کو کچلتے چند کڑوے کسیلے رویے سہہ جانے کا خسارہ اُٹھا لینے میں …
کیاہوا جو اپنی زندگی پل پل اذیت دیتا، ناسور بن کر گزرے…اپنے درد کو خود ہی پی جانے کی اذیت…اس اذیت سے بڑھ کر نہیں جو اس سے منسلک پیارے رشتوں کی اذیتوں میں اضافہ کر جائے۔ ان کی اُلجھنوں کو بڑھا دے…
کیا ہوا جو ایک درد مسلسل جان سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ اماں ابا تو کیا، کسی نے بھی یقیناً اس کا برا نہ چاہا ہو گا۔ اب اس کے نصیب ہی کھوٹے تھے تو یہ ان کا تو قصور نہیں ناں…ان تلخ و ترش رویوں کو پل پل پی جانے میں جاں کازیاں ہوتا ہے تو کیا ہوا۔ اپنے ان پیارے مخلص رشتوں کو سکون بخشنے کے عوض یہ سودا اتنا مہنگانہیں۔
وہ جب بھی نئے سرے سے ہمتیں اور حوصلے مجتمع کرتی، اندر سے ٹوٹ پھوٹ جاتی، تمنائیں سسکتی رہتیں مگر اپنے قدم مضبوط محسوس ہونے لگتے۔
…٭٭٭…
’’خالقِ کائنات کی حسین ترین تخلیق ہیں یہ لڑکیاں۔،، جہاںزیب گھنٹہ بھر بالکونی میں کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کے نظارے کر کے لوٹا اور صوفے پر ڈھیرہو گیا۔ ’’کیوں میاں علامہ تمہارا کیا خیال ہے؟،،
اس نے اخبار کے مطالعے میں گم اصغر پر نگاہ ڈالی۔
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا!
عمیر ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا اور اب شیشے کے سامنے کھڑا شد و مد سے بال بناتے ہوئے جہاںزیب کی بات پر لقمہ دینے کی فرصت نکال ہی لی۔
’’میری رائے فی الوقت محفوظ ہے۔،، اس نے عمیر کے شعر کو سمجھ کر بھی برا مانے بغیر جواب دیا تھا اور ایک جمائی لیتے ہوئے کچن کا رخ کیا۔
’’محفوظ…،، جہاںزیب سپرنگ کی مانند اچھلا تھا۔ ’’وہ بڈھا کھوسٹ جو چوڑیوں کی فروخت کے بہانے لڑکیوں کی نرم و نازک کلائیوں سے کھیلتا ہے۔ تم نے اس سے تعارف کب اور کیوں حاصل کرلیا؟،،
’’تمہارا ہم مزاج تھا ناں اس لیے۔،، عمیر نے پھر لقمہ دیا۔ ’’معلوم ہے ناں کہ تمہیں چُھو کر گزرنے والی ہو اسے بھی اصغر کو پیار ہے، بالکل ایسے جیسے لیلیٰ کے کتے سے بھی مجنوں کو عشق تھا اور وہ جو فلموں میں میاں مجنوں کا گریبان تار تار دکھائی دیتا ہے تو وہ اسی عشق کا خمیازہ ہوتا ہے۔،، عمیر نے بال بناکر پرفیوم استعمال کیا تھا اور استری اسٹینڈ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
’’بائی دی وے، آج تمہیں سونے سے فرصت کیسے مل گئی؟،، یہ سوال جہاںزیب کے لیے تھا۔
’’جاگ کر یہ جو کچھ کیا کرتے ہیں، اس سے لاکھ درجہا بہتر ان کا سوتے رہنا ہے۔،،اصغر کچن سے کافی کے مگوں کے ہمراہ فرنچ فرائیز کی پلیٹ لیے نمودار ہوا تھا اور پھر جہاںزیب کے پاس ٹھہر کر پلیٹ اس کی جانب بڑھائی۔ ’’ٹیسٹ کر کے بتائو، کیسے بنے ہیں۔ آج کا یہ تجربہ تمہارے نام۔،،
جہاںزیب نے ایک ٹکڑا اٹھاکر منہ میں رکھا۔ اصغر بغور اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
’’انتہائی بدمزہ ہیں۔،، اس نے جلدی جلدی منہ چلا کر ٹکڑا نگلا اور اصغر کی امیدوں پر پانی پھیرا۔
’’مجھے تم سے یہی امید تھی۔ عمیر، تم ٹیسٹ کر کے بتائو۔،،
اب اس کی پلیٹ کا رخ عمیر کی جانب تھا کہ جہاںزیب کی رائے پر کچھ ایسا خاص بھروسہ بھی نہ تھا اسے لیکن عمیر نے پلیٹ کی جانب ہاتھ بھی نہ بڑھایا۔
’’ان کی شکل و ہیئت دیکھ کر ہی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ چپس کم از کم میرے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔،،
’’مگر کیوں؟،، اصغر بلبلایا تھا کہ ابھی تو پسینہ بھی نہ خشک ہوا تھا۔ ناقدری سی ناقدری تھی۔
’’مائی ڈیئر اصغر، آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے فرنچ فرائیز کے لیے آلوئوں کا چھلکا اُتار لینا لازمی ہوا کرتا ہے۔،،
’’دیٹس اِٹ، اتنی دیر سے میں بھی ان فرنچ فرائیز کے بدلے ہوئے ذائقے پر غور کررہا تھا۔،، جہاںزیب ایک بار پھر اچھلا تھا۔
عمیر نے اس کے یوں اچھلنے پر ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
’’تمہارے صوفے میں کھٹمل تو نہیں ہیں، بات بے بات اچھل رہے ہو، عمیر اس سے لاکھ درجہا بہتر ہے کہ کونے میں مصلیٰ سنبھال کر بیٹھ جائو اور میری کامیابی کے لیے دعا کرو۔،،
’’گویا ایک اور انٹرویو۔،، جہاںزیب جیسے کراہا تھا۔ ’’انٹرویو میں کامیابی کی بھی کچھ امید ہے۔،،
’’بالکل ہے،قابلیت کی جگہ ڈگریاں، ڈومیسائل کی شکل میں مسائل کا انبار اور تجربہ صرف انٹرویو دینے کا، یوں سمجھ لو کہ ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
عمیر بڑی دلجمعی سے پانی چھڑک چھڑک کر استری میں جتا ہوا تھا۔
’’کب آئے گا وہ مبارک دن، جب ہر شے میں شیئر ہو گا ون تھرڈ، ون تھرڈ اینڈ ون تھرڈ۔،، جہاںزیب نے واضح دہائی دی تھی کہ عمیر کے حصے کی ادائیگیاں کر کر کے اس کی جیب وقت سے پہلے دہائیاں دینے لگتی تھی۔
’’تم ڈرو اس وقت سے جب ایک آواز آئے گی ’’ہالٹ،، اور کہیں سے ایک بندوق کی نال تمہاری کنپٹی پر آکر ٹھہر جائے گی اور تمہارے ڈیڈی…،،
’’عمیر یار،تمہیں خدا کا واسطہ…!،، جہاںزیب کے لہجے میں بس پیروں میں گر پڑنے کی کسر رہ گئی تھی۔
’’تمہیں وہ والا محاورہ یاد ہے ناں…،،
"Think the devil, and devil is there" عمیر مسکرایا۔
’’اوئے، میرے باپ کو شیطان کہتا ہے۔،، جہاںزیب پھر اچھلا۔
’’نہیں، میں تو تجھے شیطان کی اولاد کہہ رہا ہوں۔،،
’’میں سب سمجھتا ہوں، تُو جتنا کھڑا نہیں ہے، اتنا گڑا ہے۔،، اس نے سمجھ کر بھی نہ سمجھنے کا سا تاثر دیا تھا۔
’’یار، گھڑوں کا ذکر نہ کر، اپنے چمپانزی کو گائوں کی کوئی مٹیار یاد آجائے گی۔،،
’’کیا چیز ہے یہ اپنا گھونچو، ہر مرض کی دوا، ٹو ان ون، بلکہ آل ان ون۔،،
’’ہاں،لاکھوں میں ایک اور سب سے نیک۔،، عمیر کو یونہی قافیے ملانے کا شوق تھا۔ دونوں نے مشترکہ قہقہہ لگایا۔
…٭٭٭…
میڈم یزدانی!
امید ہے کہ آپ بہ خیریت ہوں گی۔
اس بار خط لکھنے میں کچھ تاخیر ہو گئی مگر آپ بخوبی جانتی ہیں کہ یہ وقوفہ میرے اپنے اندر کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔ میرے اندر پھیلتی تاریکی اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگتی ہے۔ احساس کا زہر روزن مانگنے لگتا ہے۔ تنگیٔ وقت دامن گیر نہ ہو تو شاید یہ سلسلہ کبھی نہ رکے کہ آپ سے باتیں کرنا کتھاسس کا ایک ذریعہ بن گیا ہے اور یہ کتھاسس ہی اب زندہ رہنے کا جواز ہے۔ میرے اندر پلتے پنپتے احساس کے زہر کو نگل لینے والا ایک جواز…روز و شب کی تفصیل سے آگاہ کرنے بیٹھ جائوں تو خط ایک بار پھر طویل ہو جائے گا۔
کبھی کبھی کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ مصائب سے منسلک اذیتوں کو واضح کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں اور آپ جیسے مخلص دوست ایک غیر متعلقہ اُلجھن میں مبتلا رہیں، میرا کتھاسس آپ کی ٹینشن میں اضافہ کر جائے، مجھے منظور نہیں…
میڈم یزدانی، آپ کہتی ہیں کہ آپ کو رباب فاطمہ کہوں، آپ میری دوست ہیں۔ آپ بھی مجھ سے وہ کچھ شیئر کرنا چاہتی ہیں جو اب تک کسی سے نہ کہہ سکیں۔
میڈم یزدانی، شاید حیات نے مصائب کا زہر چکھا بھی نہ تھا۔ ان دنوں کو یاد کروں تو اک سراپا تخیل میں ضرور چھب دکھاتا ہے۔ محبت سے پُر مسکان سے سجا ایک چہرہ،ماں کے روپ کا سا مہربان عکس لیے جھلملاتا ہے۔ وہ چہرہ آپ کا چہرہ ہے۔ بالکل ماں کے اسی جھلملاتے ممتا کے نور سے منور چہرے کی مانند… وہ روپ، وہ عکس مزاحم ہے کہ دوستی میں حد بندی کو نظر انداز نہ کیا جائے، اپنا اندر آپ کے سامنے کھول کر رکھ دوں تو شاید پُرسکون ہو جائوں مگر آپ کی بے سکونی بھی تو مجھے منظور نہیں۔ اپنے آپ سے وابستہ ایک ایک دکھ کو اگر قطرہ قطرہ بھی آپ میں منتقل کردوں تو جل تھل ہو جائے گا مگر آپ سیراب نہ ہو پائیں گی شاید بپھر اٹھیں گی۔ سمندروں کی سرکش موجوں کی مانند اپنا اختیار کھو دیں گی۔ مجھے آپ کا سکوت بھاتا ہے اور یہ سکوت مجھ سے متقاضی رہا کرتا ہے کہ کتھارسس خودغرضی نہ بن جائے۔ میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔ دوستی کے اس رشتے کی پائیداری کی خواہاں ہوں۔ لفظ بوجھل ہو جائیں تو سماعتیں اکتانے لگتی ہیں۔ اپنے وجود میں آکٹوپس کی مانند پیوست ان دکھوں کو نوچ نوچ کر پھینکنے لگوں تو شاید لہولہان ہو جائوں۔ زبان زدعام ہو جائوں اور میں فسانہ نہیں بننا چاہتی۔ صدیوں سے مہر بہ لب، کسی دیمک زدہ شیلف میں سجی گرد سے اَٹی کتاب کی مانند، سربستہ راز کی طرح کسی مشتاق لمس کی منتظر ہوں۔ آپ اس کتاب کی گرد اپنی نرم و نازک پوروں میں سمیٹ لیں تو اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا رہے گی۔
آپ کی دائمی خوشیوں کی دعاگو
حرماں نصیب
ربیعہ
…٭٭٭…
موسم غضب ڈھا رہا تھا۔ عمیر اخبار لے کر ٹیرس میں چلا گیا جہاں جہاںزیب پہلے سے موجود تھا۔ راکنگ چیئر پر جھولتے ہوئے آنکھیں موندے بہ ظاہر کسی خیال میں مستغرق چہرے پر سنجیدگی کی گہری چھاپ…اور عمیر سے بڑھ کر کون واقف تھاکہ اس گہری چھاپ کے عقب میں بھی کتنی شوخیاں پوشیدہ ہیں۔
فضا اب بھی اَبر آلود تھی۔ گزشتہ روز کی برسات کے باعث اطراف کی بلڈنگیں دھلی دھلائی اور نکھری نکھری سی نظر آرہی تھیں۔ آٹھویں منزل سے نیچے سڑک پر گزرتی گاڑیاں اور چلتے پھرتے لوگوں کھلونوں کی مانند نظر آرہے تھے۔
ٹیرس سے منسلک کمرے کے دروازے پر اصغر نمودار ہوا تو اس کا اشتیاق عروج پر جا پہنچا۔
’’کیا بنا…کیا رہا…؟،، اس کی بے چین آواز پر جہاںزیب نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔
اگرچہ دریافت کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اصغر کے چہرے پر درج تاثرات چیخ چیخ کر ناکامی کا اعلان کرہے تھے۔ تھکن کا ایک واضح احساس جیسے منجمد تھا پھر بھی اس نے کہا۔ ’’صفر…،،
دونوں کے منہ لٹک گئے۔
’’جمعے کا وقت قریب ہے اور ناکامی کا یہ عالم…پارٹنر تم کچھ اور ٹونے ٹوٹکے آزمائو شاید بہتر نتیجہ برآمدہو۔،، یہ مشورہ جہاںزیب کی جانب سے مفت عنایت کیا گیا تھا۔’’مجھے یاد ہے میری امی گوشت نہ گلنے پر خربوزے کے چھلکے استعمال کیا کرتی تھیں۔ تم بھی ٹرائی کر کے دیکھو۔،،
جہاںزیب کے اُکسانے پر اصغر تھکے تھکے قدموں سے لوٹ گیا تھا۔ اس کے ٹوکنے کے بعد عمیر نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا تھا۔
|