| Back | Home | |
||
|
وہ شرمندہ سے ہو گئے اور انہوں نے بے اختیار بانہیں پھیلا دیں۔ اُسے منانے کا اور اپنے دل کی تڑپ کرنے کا ایک ہی طریقہ تو تھا اُن کے پاس۔ ’’مومو۔۔۔۔!‘‘ ان کے لب کپکپائے اور بازو پھیلے ہی رہے۔ مگر وہ ہمیشہ کی طرح اُن کے پھیلے ہوئے بازوئوں میں دوڑ کر نہیں سمائی، ان کے سینے سے لگ کر اور چھوٹے چھوٹے مکے مار کر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ بس خالی خالی، اُداس اُداس سی نظروں سے اُنہیں تکتی رہی، پھر ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ تب وہ ایک قدم آگے بڑھے۔ ’’میرے پاس آئو، جان! مجھے پتہ تھا کہ تم انتظار کر رہی ہو گی۔ مگر میں بیمار ہو گیا تھا، میری زندگی! میں تم سے ملے بغیر بھلا رہ سکتا تھا بیٹا؟‘‘ وہ بڑی شکستہ سی آواز میں بول رہے تھے۔ ’’آپ جب بھی نہیں آتے تو بیماری کا بہانہ کر دیتے ہیں۔‘‘ اس نے آنکھوں میں آئے آنسوئوں کو ہتھیلی سے پونچھا۔ ’’بیٹا! میں بہانہ نہیں کر رہا ہوں، سچ کہہ رہا ہوں۔ تمہیں کیا خبر کہ ہر منگل کا میں کتنی شدت سے منتظر رہتا ہوں۔ اور اب بھی بیماری کے دوران منگل کے دن میری حالت بُری ہو گئی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میری سوہنی سے دِھی میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ جو تڑپ میں محسوس کرتا تھا، وہ تمہیں کیسے بتائوں؟‘‘ انہوں نے خاموش ہو کر اُس آٹھ سالہ بچی کو دیکھا، جو اب بھی ٹکر ٹکر اُنہی کو دیکھے جا رہی تھی۔ ’’اپنے بابا کو معاف نہیں کرو گی، بیٹا؟۔۔۔۔ دیکھو، میں کتنی دُور سے آیا ہوں چاند۔ صرف تم سے ملنے، تمہیں پیار کرنے۔ کیا اپنے بابا کو پیار کرنے کو تمہارا جی نہیں چاہتا؟‘‘ انہوں نے بڑی آس سے پوچھا۔ ’’بابا!‘‘ وہ اُن سے لپٹ گئی۔ اُسے خود پر اختیار نہ رہا تھا۔ اس نے خود پر کتنا جبر کیا تھا، باپ کو سامنے دیکھ کر دل کتنا مچل اُٹھا تھا۔ جی چاہا تھا کہ دوڑ کر اس سے لپٹ جائے اور اپنی تمام کسک مٹا ڈالے۔ وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ اس کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا۔ ’’آپ اتنے دن کیوں نہیں آئے؟‘‘ ’’پُتر! بتایا تو ہے کہ میں بیمار تھا۔‘‘ وہ اسے بے تحاشا چوم رہے تھے۔ اور وہ تھی کہ روئے جا رہی تھی۔ ’’میں بیمار ہوتی ہوں، تب بھی آتی ہوں۔ آپ کیوں نہیں آ سکتے؟‘‘ وہ ہار ماننے والی نہیں تھی۔ ’’بیٹا! یہ بھی دیکھو، کتنی دُور سے آتا ہوں۔‘‘ ’’پھر مجھے ساتھ لے چلو، بابا!۔۔۔۔ میرا دل یہاں نہیں لگتا۔ لے چلو گے نا؟‘‘ ’’بیٹا! تم نے خود ہی تو میرے ساتھ چلنے سے انکار کیا تھا۔ اب میں کیسے تمہیں لے جائوں؟‘‘ انہوں نے نہایت آہستگی سے کہا۔ ’’بابا! اب میں خود کہہ رہی ہوں، مجھے لے چلو۔ چاچا اور اماں مجھے بہت مارتے ہیں۔‘‘ ’’کیسے لے چلوں؟‘‘ وہ ایک آہ بھر کر بولے۔ ’’بابا! وہ مارتے ہیں اور میں بہت روتی ہوں۔ اگر میں رو رو کر مر گئی تو۔۔۔۔؟‘‘ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔ ’’نہ پُتر! ایسی بات نہیں کرتے۔ تُو تو میری زندگی ہے۔ تُو نہ ہو گی تو میں کیسے زندہ رہوں گا؟ تُو تو میری روح ہے، میرا دل ہے۔ اور اگر دل نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہتا۔ پھر بتا، میں کیسے روح کے بغیر زندہ رہوں گا؟ ان آنکھوں کی روشنی تیری ہی وجہ سے تو قائم ہے۔ اگر تُو ہی نہ رہی تو میرے لئے یہ دنیا اندھیر ہو جائے گی۔ میں تو اندھا ہو جائوں گا۔ بیٹا! مرنے کے متعلق مت سوچا کر، ابھی تو تُو بہت چھوٹی ہے۔‘‘ انہوں نے اُس کے مرجھائے ہوئے گال چوم لئے۔ وہ تو جیسے بے خود ہوئے جا رہے تھے۔ کبھی اس کے ننھے ننھے ہاتھ چومتے، کبھی پیشانی پر بوسوں کی بھرمار کر دیتے۔ پھر وہ نیچے بیٹھ گئے اور اُسے گود میں بٹھا لیا۔ ’’بیٹا! دیکھو، میں تمہارے لئے سیب لایا ہوں۔‘‘ انہوں نے تھیلے سے سرخ سیب نکالا اور جیب سے ننھا سا چاقو نکال کر اسے چھیلنے لگے۔ وہ ہمیشہ اس کے لئے ڈھیروں پھل لایا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے۔ ’’بابا! ہمارا باغ اس سے بھی خوب صورت ہے؟‘‘ مریم نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’ہاں پُتر! ہمارے سب باغ بہت خوب صورت ہیں۔ کبھی تم دیکھنا چاند! ایک وقت ایسا آئے گا، جب وہ سب کچھ تم دیکھ سکو گی۔‘‘ وہ سیب کاٹ کر اس کی ایک قاش مریم کے منہ میں ڈالتے ہوئے بولے۔ ’’بابا! آپ منہ کھولیں۔‘‘ اُس نے دھیرے سے کہا تو انہوں نے ہنستے ہوئے منہ کھول دیا اور اس نے سیب کی ایک پھانک ان کے منہ میں ڈالی اور بے اختیار ہنس دی اور انہیں یوں لگا، جیسے نقرئی گھنٹیاں بج اُٹھی ہوں، یا پھر ننھے ننھے چاندی کے گھنگھرو بج اُٹھے ہوں۔ ’’میری سوہنی دِھی!‘‘ انہوں نے اسے اپنی بانہوں میں بھینچ کر اس کے سنہرے گھنگھریالے بال چوم لئے۔ ’’جان! تم اسکول میں پڑھو گی؟‘‘ ایک دم انہوں نے پوچھا۔ ’’ہاں بابا! میں پڑھوں گی۔ میں نے اماں سے کہا تو وہ خاموش رہیں، مگر چاچا۔۔۔۔‘‘ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، جیسے کوئی غلط بات منہ سے نکلنے والی ہو۔ ’’پُتر! بتا، کیا کہا چاچا نے۔۔۔۔؟‘‘ ’’وہ۔۔۔۔ وہ، بابا۔۔۔۔!‘‘ مریم بتاتے ہوئے ہچکچا رہی تھی۔ ’’مومو! تُو بتا، مجھ میں سب سننے کا حوصلہ ہے۔‘‘ انہوں نے اس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’بابا! وہ کہہ رہے تھے کہ کون سی تیرے باپ کی کمائی ہے، جو کہ تیری پڑھائی پر خرچ کروں؟ شکر کر کہ تجھے روٹی بھی دے دیتا ہوں۔‘‘ مومو نے من و عن سب کچھ بتا دیا۔ ’’وہ کہہ رہا تھا کہ تیرا باپ ذلیل ہے، جس نے تجھے میرے پاس چھوڑ رکھا ہے۔۔۔۔ پھر اماں نے اُسے چپ کرا دیا۔‘‘ ’’ذلیل، کمینہ، بے غیرت۔‘‘ ان کے ہونٹ کپکپائے اور مٹھیاں بھنچ گئیں۔ ’’اس کی یہ مجال کہ وہ چودھری شوکت علی آف حسن پور کو ذلیل بتائے؟۔۔۔۔ میں ٹوٹے کر دوں گا اُس کے۔‘‘ مارے غصے کے ان کا جسم کانپنے لگا اور غصے کی شدت سے چہرہ سرخ ہو گیا۔ ’’بابا! آپ اسے کچھ نہ کہیں، ورنہ۔۔۔۔‘‘ ’’ورنہ کیا؟‘‘ چودھری شوکت علی نے مومو کے سر پر ٹھوڑی ٹِکا کر کہا۔ ’’وہ۔۔۔۔ مجھے مارے گا، بابا! ۔۔۔۔ اماں کو مارے گا۔‘‘ مومو ملتجی لہجے میں بولی۔ ’’اچھا چھوڑو، گولی مارو۔ لو، یہ کیلے کھائو۔‘‘ مومو بہت سمجھ دار لڑکی تھی۔ ابھی وہ صرف آٹھ برس کی تھی، مگر اپنی عمر سے زیادہ ہوشیار۔ وقت نے اسے اتنی چھوٹی عمر میں ہی دنیا شناس بنا دیا تھا، اسے سب کچھ سکھا دیا تھا۔ ابھی تو اسے زندگی میں کتنے ہی نشیب و فراز دیکھنے تھے۔ وہ گھر میں ہونے والی تمام تلخیوں کو گھونٹ گھونٹ حلق میں اُتارتی رہتی اور جب ہر منگل کو اس کا بابا اسی باغ میں اس سے ملنے آتا تو وہ اس کے سینے سے لگ کر، پلکیں موند کر سب کچھ بھول جاتی۔ وہ گزشتہ آٹھ ماہ سے اپنے باپ سے اسی طرح چھپ چھپ کر ملتی تھی۔ اس کی ماں یہی سمجھتی کہ وہ چودھری دلاور کے ہاں کام کر رہی ہو گی۔ ہر روز تو وہ کام کرتی تھی، مگر صرف منگل کے روز وہاں سے غائب ہو جاتی تھی اور پھر اُس کی پناہ گاہ یہ چھوٹا سا باغ ہوتا، جہاں وہ اپنے بابا کی منتظر رہتی۔ پتّا بھی کھڑکتا تو اُس کا ننھا سا دل سینے میں بے طرح دھڑک اُٹھتا۔ اس نے تو خود کو ہوش سنبھالتے ہی انتظار کرتے پایا تھا۔ اپنے باپ کا انتظار۔ اُس کی محبتوں کا انتظار اُس کی چاہتوں کا انتظار بانہوں میں سمانے کا انتظار اور اُس کے سینے سے لگ جانے کا انتظار۔۔۔۔ وہ پورا ہفتہ اسی انتظار کی سُولی پر لٹک کر گزارتی اور جوں جوں چودھری شوکت علی کے آنے کا وقت قریب ہوتا، وہ بے چین ہو جاتی۔ اور جب وہ آجاتے |
||