| Back | Home | |
||
|
’’نہیں چاچا جی! وہاں جو میری ماں ہے نا، وہ رو رو کر ادھ موئی ہو جائے گی۔ جب تک میں اس سے نہیں ملوں گا، تب تک اسے چین نہیں آئے گا۔‘‘ علی کا لہجہ لالی کی محبتوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’ٹھیک ہے، جیسی تمہاری مرضی۔‘‘ چودھری طالب علی بولے، پھر سکینہ بیگم سے مخاطب ہوئے۔ ’’شعیبی کی ماں!‘‘ انہوں نے کئی برسوں بعد سکینہ بیگم کو اس طرح مخاطب کیا تھا۔ وہ حیرت سے شوہر کو تکنے لگیں۔ ’’بھئی دیکھ کیا رہی ہو؟ شعیبی کا کمرہ ٹھیک کرا دو، میں علی اور مومو کے ساتھ کراچی جا رہا ہوں، تاکہ شعیبی کو لے آئوں۔ وہ بھی تو میرا پُتر ہے، وہ ان خوشیوں سے کیوں محروم رہے؟ میری نوں (بہو) بھی آ جائے گی اور پوتا بھی۔‘‘ چودھری طالب علی نے کہا۔ ’’سچ طالب!۔۔۔ پھر کہو۔‘‘ سکینہ بیگم اپنی جگہ سے اُٹھیں اور بے یقینی سے شوہر کو دیکھنے لگیں۔ ’’اب تو جب شعیبی آ جائے گا، تب تمہیں یقین آئے گا۔‘‘ چودھری طالب علی نے ہنس کر کہا۔ سب کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ چودھری طالب علی نے بھی یہ سب کچھ سنا اور صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ ان کی پلکوں کے گوشوں میں ڈھیروں آنسو اٹک گئے اور پھر پلکوں کا بند ٹوٹ گیا اور آنسو گالوں پر اُتر آئے۔ چودھری شوکت علی نے ان آنسوئوں کو بہنے دیا۔ یہ تو خوشی کے آنسو تھے، جو بہت عرصے بعد ان کی آنکھوں میں آئے تھے۔ بہت مشکل سے اور بہت لمبی اماوس کاٹ کر انہیں یہ خوشی ملی تھی، جو سنبھالے نہ سنبھل رہی تھی اور وہ اس خوشی کا سواگت بھی آنسوئوں سے کر رہے تھے۔ یہ خوشی کیا کم تھی کہ انہوں نے شعیبی اور مومو کے ساتھ مل کر چودھری طالب علی کو بھرپور شکست دی تھی۔ (تـمـت بـالـخـیـر) |
||