دونوں۔‘‘ اس نے عثمان کو تسلی دی۔ ’’لیکن۔۔۔۔ شادی تک تو یہ سلسلہ اسی طرح چلے گا۔ روزانہ تمہاری امی تمہیں بھیج دیں گی، اریبہ کی ہیلپ کے لئے۔‘‘ عثمان نے پیش گوئی کی۔ ’’کچھ دنوں ہی کی تو بات ہے، عثمان! صبر کرو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اریبہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی سبط بھائی کو ہمارے متعلق بتائیں گی اور وہ دونوں مل کے امی کو منائیں گے۔‘‘ صبا کا لہجہ پُر اُمید تھا۔ ’’ہونہہ، تمہارے سبط بھائی۔۔۔۔ جو بڑی بڑی خونخوار آنکھوں سے مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے میں ان کا گناہ گار ہوں۔ مجھے نہیں لگتا، وہ کبھی ہمارے حق میں کچھ کر سکیں گے۔ آئی ڈونٹ تھِنک سو۔‘‘ عثمان نے بھی تیّقن سے کہا۔ ’’تم بھی ناں، عثمان! دیکھو، مجھے سبط بھائی پہ تو نہیں، لیکن اریبہ پہ پورا پورا یقین ہے۔ تم بندوں سے نہیں تو کم از کم، اللہ سے تو پُر اُمید رہو۔ اِن شاء اللہ، سب کچھ بہتر ہو گا۔‘‘ صبا نے یہ کہہ کے فون رکھ دیا۔ ننھی علیزہ کو نیند آ گئی تھی۔ صبا نے اُسے بیڈ پہ اپنے ساتھ لٹا دیا، لیمپ آف کیا اور خود بھی آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئی۔ دوپٹہ اُتار کے بیڈ کی سائیڈ پہ رکھ دیا۔ تھکاوٹ اس قدر تھی کہ اُسے فوراً نیند آ گئی۔ سبط نے کمرے کا دروازہ کھولا، مانوس ایئر فریشنر کی دل آویز خوشبو نے اُس کے روم روم کو معطر کر دیا۔ یہ چنبیلی کے پھولوں اور صندل کی ملی جُلی خوشبو، اریبہ کے من پسند روم اسپرے کی تھی۔ وہ ہر روز کمرہ صاف کروا کے یہ اسپرے چھڑک دیا کرتی تھی۔ واش روم، الماری، بیڈ روم کا ہر ہر کونا اس خوشبو سے مہکا کرتا تھا۔ سبط، کارپٹ پہ بے آواز قدموں سے چلتا، ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا پہلے الماری تک آیا، گھڑی اُتارتے ہوئے اُس نے ایک نظر بیڈ کی طرف دیکھا، بیڈ کے ساتھ رکھے کاٹ میں علی اور بیڈ پر علیزہ پُرسکون فرشتوں جیسا چہرہ لئے گہری نیند میں گم تھے۔ اور علیزہ کے چہرے کے بالکل ہی پاس وہ پری چہرہ تھا۔۔۔۔ وہی چہرہ، جس نے روزِ اول سے دل قبضے میں کر لیا تھا۔۔۔۔ جس نے پہلے دن سے احساسات میں ہلچل مچا دی تھی۔ سبط حسن کو آج ایک بار پھر اپنی خوش قسمتی پہ ناز ہوا۔ میں کتنا خوش قسمت ہوں، مجھے اریبہ جیسی خوب صورت اور چاہنے والی بیوی ملی ہے۔ ’’ہاں، میں دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہوں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ میری تقدیر سب سے اچھی لکھی گئی ہے۔‘‘ خود کلامی کی سی کیفیت میں چلتا ہوا، نیم تاریک کمرے میں رکھے بستر تک آیا۔ اُس کے صبیح چہرے پہ بالوں کی لٹیں بکھری تھیں۔ سبط نے وہ لٹیں اپنی اُنگلیوں سے ہٹائیں۔۔۔۔ تکیے پہ رکھا سفید، نرم و ملائم ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا۔ اور لمس کے ایک غیر متوقع احساس نے صبا کی آنکھیں جھٹ سے کھول دیں۔۔۔۔ اُسے ہوش کی دنیا میں واپس آنے اور یہ سمجھنے میں ذرا وقت لگا کہ وہ سبط حسن ہے۔
سبط اپنی انگلیوں سے مسلسل اس کی انگلیوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک یونہی چھوتے رہنے کے بعد وہ ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جانے لگا۔ اور یکایک صبا نے ہاتھ چھڑا لیا۔ ’’سبط بھائی!‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ فوراً اُٹھی۔ اُس کی زبان سے بھائی کا لفظ سن کے سبط بھی سمجھ گیا کہ وہ صبا ہے۔ صبا منٹ کے سوویں حصے میں بیڈ سے اُتری، لیمپ آن کر دیا اور اپنا دوپٹہ اُٹھا کے اوڑھ لیا۔ ’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔۔۔ اریبہ کہاں ہے؟‘‘ سبط نے غصے سے کہا۔ ’’وہ جیولر کے پاس گئی ہے۔ مجھے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے چھوڑ گئی ہے۔‘‘ صبا کی آواز نیند سے بھری تھی۔ ’’یہ میرا پرسنل بیڈ روم ہے۔۔۔۔ اس میں کسی کا اس طرح سونا مجھے پسند نہیں۔۔۔۔ اور یہ میں تمہیں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں، مگر تمہاری عقل میں بات نہیں آتی۔‘‘ سبط کی تلخی نے صبا کی حساس آنکھیں فوراً نم کر دیں۔ وہ بنا کچھ کہے اپنا آپ سنبھالتی کمرے سے باہر چلی آئی۔ ’’ناگوار گزرتا ہے مجھے اس لڑکی کا وجود۔۔۔۔ اور ہمیشہ ہر وقت وہ اسی طرح کی حرکتیں کرتی ہے۔ اپنی بہن کی ہم شکل ہونے کا فائدہ اُٹھاتی ہے۔ اُسے پتہ ہی نہیں کہ یہ اریبہ کی طرح کبھی نہیں بن سکتی۔‘‘ سبط نے غصے سے اپنا وجود بیڈ پہ گرا دیا۔ سائیڈ ٹیبل پہ رکھے موبائل پہ میسج کی بِیپ ہوئی۔ سبط نے اُٹھا کے میسج پڑھا۔ ’’تمہارے بِن رہنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔ پلیز جلدی سے آ جائو ناں۔۔۔۔ تمہارا عثمان۔‘‘ عثمان کے ایس ایم ایس نے تو گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اور سبط کے روم روم میں آگ لگ گئی۔ ’’تھرڈ کلاس لڑکی۔۔۔۔ بڑی پارسا بننے چلی ہے۔ لڑکوں سے اس طرح کے تعلقات ہیں۔۔۔۔ طریقہ ہے نہ تمیز۔۔۔۔ ہر وقت مجھے ورغلاتی رہتی ہے۔‘‘ سبط نے ایک مسلسل غلط فہمی کو غلط رنگ میں رنگ لیا تھا۔ دروازے کے باہر لائونج میں بیٹھی صبا رو رہی تھی۔ گو کہ سبط سے اُسے کبھی بہتر روّیہ نہیں ملا تھا، لیکن اُسے افسوس یہ ہو رہا تھا کہ سبط نے کبھی اُسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ نجانے وہ ہمیشہ ایسا سخت، کرخت اور درشت روّیہ کیوں رکھتا تھا۔۔۔۔ نجانے کیوں؟۔۔۔۔ کیوں؟۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔؟‘‘ آنسو زار و قطار اُس کے چہرے پہ ٹپک ٹپک کے گر رہے تھے۔ احساسِ تذلیل کچوکے لگا رہا تھا۔
’’کیا میں اتنی گری پڑی لڑکی ہوں کہ وہ ہمیشہ اسی طرح میری توہین کرتے ہیں۔۔۔۔۔؟ اور پھر یہ گھر میری بہن کا ہے، ہاں میری بہن کا۔۔۔۔ اور اگر اس کا گھر نہ ہوتا تو میں بار بار اپنی ذلت کروانے کے بعد یوں نہ آتی۔ نہیں آئوں گی۔۔۔۔ میں دوبارہ کبھی نہیں آئوں گی۔‘‘ وہ آنسوئوں سے چہرہ بھگوئے خود سے ہم کلام تھی۔ اُس کا دل چاہا کہ وہ عثمان سے بات کرے۔۔۔۔ اُس نے یہاں وہاں دیکھ کے اپنا موبائل دیکھا۔۔۔۔ اُسے یاد آیا کہ وہ اندر رہ گیا۔ ’’دفع کرو۔۔۔۔ میں نہیں جائوں گی، کمرے میں۔۔۔۔ بھاڑ میں جائے موبائل۔‘‘ ابھی اُس نے ایسا سوچا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور سبط باہر آیا۔۔۔۔ اسی غصے والی کیفیت میں چلتا وہ صبا کے پاس آیا اور موبائل اُس کی ہتھیلی پہ آ کے رکھ دیا، جو بج رہا تھا۔۔۔۔ اور موبائل دینے کے بعد سبط اسی رفتار سے کمرے میں چلا گیا۔ تذلیل کا احساس، جو اُسے کتنی دیر سے رُلا رہا تھا۔۔۔۔ اور بڑھ گیا۔ اُس نے آگے دیکھا نہ پیچھے، فوراً اپنا بیگ اُٹھاتی سبط حسن کے عالی شان گھر سے باہر آ گئی۔ گو کہ دوپہر کا وقت تھا اور رکشہ بھی اُسے دُور سے ملنا تھا۔ لیکن احساسِ تذلیل نے اُسے وہاں ٹھہرنے نہ دیا اور وہ تیز تیز قدموں سے ویران سڑک کو عبور کرتی چلی گئی۔
ختم شد
|