Urdu Novels

Back | Home |  

’’اور اگر وہ ہتھکڑی لے کر چلا گیا، تو۔۔۔۔۔؟‘‘ زینت بیگم نے سوال کیا۔
’’تو آپ، مجھ سے کام چلا لیجئے گا۔‘‘ باسط نے شرارت سے کہا تو زینت بیگم مسکرا دیں اور اسے گلے سے لگا لیا۔
ایئرپورٹ پر اُن کی نظریں منتظر تھیں، اپنے چاند سے بیٹے کو دیکھنے کے لئے۔ باسط نے بھی کتنے عرصے سے اُسے نہیں دیکھا تھا۔ بس نیٹ اور فون کے ذریعے اکثر بات چیت ہو جاتی تھی۔
فلائٹ کے آنے کا اعلان ہوا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ آنے والے مسافروں کے ناشناسا چہروں میں سے سبط حسن ملک کے آشنا خدوخال نظر آئے۔ باسط اور زینت بیگم کے مُردہ جسموں میں جیسے زندگی دوڑ گئی۔
گرے کلر کے ٹو پیس سوٹ کے اندر بلیو کلر کی ٹائی لگائے، سامان کی ٹرالی دھکیلتا وہ بہت نپے تلے قدم اُٹھاتا باہر آ رہا تھا۔ ماں اور بھائی کو دیکھ کر وہ اُن کی جانب آیا۔
برسوں بعد ملے بیٹے کو سینے سے لگاتے ہی دل کے دھڑکنے کا احساس ہوا تھا۔ ایسا محسوس ایک ماں کو تب ہوتا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ اپنے بچے کو اُٹھاتی ہے، اُس کے چہرے کو دیکھ کے اس کے خدوخال کا جائزہ لیتی ہے، اس کے ننھے منے پائوں چھوتی ہے۔ آج پھر زینت بیگم کو سبط کی پیدائش کا گمان ہوا تھا۔ وہ لمحہ اپنی تروتازگی کے ساتھ آج پھر اُن کے روبرو تھا۔
اور پھر ایئرپورٹ سے گھر تک کا سفر اسی لمحے کے ہمراہ کٹا تھا۔
vvv
’’میرے نیہر سے آج مجھے آیا
یہ پیلا جوڑا۔۔۔۔ یہ پیلا جوڑا
یہ ہری ہری چوڑیاں‘‘
ڈھولکی کی تھاپ پر سبھی نوجوان لڑکیوں نے شور ڈالا ہوا تھا، جن میں فاخرہ کے ساتھ سجل، اریبہ اور صبا پیش پیش تھیں۔ عثمان اور عدنان بھی موجود تھے۔ عدنان مووی بنا رہا تھا اور عثمان کونے میں کھڑا، طرح طرح کی لڑکیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ فنکشن اپنے عروج پر تھا۔ رات بھی نکھری نکھری تھی۔ فضا میں کچھ خنکی کا احساس بھی ہوتا تھا۔
کچھ دیر گزری تو اس ہستی کی آمد ہوئی کہ جس کے لئے نیہر سے پیلا جوڑا اور ہری ہری چوڑیاں بھیجی گئی تھیں۔۔۔۔۔ جو اس فنکشن کی سب سے خاص ہستی تھی۔۔۔۔ مہندی مایوں کا فنکشن شروع ہونا






تھا۔۔۔۔ سبز رنگ کے دوپٹے اور پیلے گوٹے والے جوڑے میں لپٹی دُلہن، سجن گھر جانے کے لئے اپنا جسم صندل کی خوشبو اور چندن سے رنگنے لگی۔ سات سہاگنیں باری باری اس کے بالوں میں تیل اور چہرے پہ اُبٹن لگانے لگیں۔ سہاگنوں کے بعد لڑکیوں نے دُلہن کے ہاتھ پہ مہندی رکھنا شروع کی۔ عدنان مووی بنانے میں مصروف تھا اور عثمان بڑی دلچسپی سے، کونے میں کھڑا یہ تمام منظر دیکھ رہا تھا۔ بظاہر تو یہ سارا منظر اُس کی دلچسپی کا تھا، لیکن اس دلچسپی کا مرکز وہ کومل سی لڑکی تھی، جس نے کئی دنوں سے اُس کی نیندوں پہ دھاوا بول رکھا تھا۔ کئی دنوں سے سکون کو گرفتار کر رکھا تھا۔۔۔۔ جس کا چہرہ کسی ہوا کے مسحور کن جھونکے کی طرح آنکھوں کے سامنے آتا اور کہتا کہ میں ہی ہوں تمہاری زندگی کی گرم دوپہروں میں چلنے والی خوشگوار ہوا، تمہاری آنکھوں پہ چاند ٹانکنے والی شخصیت۔۔۔۔ تمہاری صبا۔۔۔۔
وہ کتنی دیر سے صبا کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی بہت ہی لمبی ریشمی زلفوں کو، اُس کی ہر ہر ادا کو۔۔۔۔ چنری کے سبز کپڑوں میں ملبوس اس چاند سراپے کو۔ یوں تو اریبہ کا چہرہ بھی صبا ہی کے جیسا تھا، لیکن پھر بھی عثمان کو اس چہرے میں کوئی ایسی بات تو نظر آئی تھی، جو اریبہ کے چہرے پہ نہ تھی۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ خدوخال بھی محبت میں بے معنی ہو جائیں۔ کسی کی آنکھیں، ناک، ہونٹ، محبوب کے جیسا ضرور ہو سکتا ہے لیکن وہ آپ کا محبوب نہیں ہو سکتا۔ محبت، بھلا ایسا کیا پھونک دیتی ہے، کسی بھی عام شخص کے اندر کہ وہ خاص ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اس کی باتیں۔۔۔۔ اس کے خیال۔۔۔۔ ماورائی حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔۔ وہ بھولے سے بھی ذہن کے کواڑوں سے ہٹتا نہیں۔۔۔۔۔ مٹتا نہیں۔۔۔۔۔ جاتا نہیں۔۔۔۔
اپنا گھر سمجھ کر دل کے نہاں خانوں میں بس جاتا ہے۔۔۔۔دل کے ہر ہر گوشے پہ اپنا حق جتاتا ہے۔۔۔۔
وہ کونے میں کھڑا، کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اس پار ایک پھول سی لڑکی تھی، جس کی یک طرفہ محبت کی چنگاری کئی دن پہلے اس کے اندر چل پڑی تھی اور اب اُس کے جسم کے اندر موجود ہر ہر عضو پہ اثر دکھاتی جا رہی تھی۔۔
سجل اُس کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔اُسے اُس کی موجودگی کا احساس قطعی نہیں ہوا تھا۔
’’کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ وہ کون سی لڑکی ہے؟‘‘ سجل نے اُس کے کافی نزدیک سرگوشی کی تھی۔ وہ چونک پڑا۔
’’لڑکی۔۔۔۔کون سی لڑکی؟ یہاں تو بہت سی لڑکیاں ہیں۔‘‘ اس نے اپنے اندر کے شدت پسند لڑکے کو چھپانا چاہا۔
’’لڑکیاں تو بہت ساری ہوتی ہیں، عثمان! مگر محبت ایک سے ہوتی ہے۔ میں دوست ہوں، عثمان! پوچھنے کا حق رکھتی ہوں۔ بتائو، تم کس کو سوچ رہے تھے؟‘‘ سجل نے اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’کوئی نہیں، سجل!‘‘






’’جھوٹ مت بولو، تمہیں اتنا سیریس میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ بولو۔۔۔۔فاخرہ، اریبہ یا کوئی اور۔۔۔۔؟‘‘ سجل ضد پہ اڑ گئی تھی۔
’’وعدہ کرو، اُسے نہیں بتائو گی۔‘‘ عثمان پگھلنے لگا۔
’’کسے۔۔۔۔؟‘‘ سجل سمجھ دار تھی۔
’’صبا کو۔‘‘ وہ فوراً بول پڑا اور سجل کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’دیکھا۔۔۔۔ اُگلوا لیا ناں۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ سیّد عثمان شاہ کا دل آیا ہوا ہے، مس صبا بیگ پر۔‘‘ سجل نے شرارت سے اُسے دیکھا تھا۔
’’ویسے تمہیں پتہ ہے کہ کون صبا ہے اور کون اریبہ۔۔۔۔؟‘‘
’’ہوں۔۔۔۔ پتہ ہے۔ جس کی ناک کے نیچے ایک ننھا سا تِل ہے، وہ ہے میری صبا اور جو مسکراتی ہے تو اُس کے گال میں معصوم سا گڑھا پڑتا ہے، وہ ہے میری صبا۔ جس کی آواز باریک اور مترنم ہے، وہ ہے میری صبا۔۔۔۔ جس کے بال زیادہ لمبے اور پتلے ہیں، وہ ہے میری صبا۔‘‘ عثمان بہت والہانہ پن سے بولا۔
’’بس، بس۔۔۔۔ بڑی ریسرچ کر رکھی ہے، تم نے صبا کے اوپر۔ تم تو پوری کتاب لکھ لو گے۔‘‘ سجل مسکرا دی۔
’’دوست ہو گی تو نہیں بتائو گی، اُسے۔‘‘
’’دوست تو میں اُس کی بھی ہوں، مسٹر مجنوں!‘‘ سجل یہ کہہ کے دوڑی تھی، اُس بھیڑ کی طرف جہاں پہ سبھی لڑکیاں تھیں اور عثمان مسکرا دیا تھا۔
vvv
سبط حسن ملک کو اس نامانوس خوشبو نے پاگل کر کے رکھ دیا تھا۔ کتنے برس بعد اس کے احساس پہ یہ خوشبو چھائی تھی اور اسے اندر سے جھنجوڑے جا رہی تھی۔ یہ خوشبو اُس کے کمرے کی خوشبو تھی۔ اس کی چاردیواری کی خوشبو تھی، جو پیدائش کے بعد سے اُس کا مسکن رہا تھا۔ یہیں اُس نے کتنے سال گزارے تھے۔ کبھی سو کر، کبھی جاگ کر تو کبھی خاموش بیٹھ کر۔۔۔۔ اس کمرے کی ایک ایک چیز اس کی اپنی تھی۔ یہ خوشبو، یہ بستر۔۔۔۔ کہ جس پہ اس کے بچپن سے لے کر جوانی تک کی راتیں تھیں۔
یہ شیشہ ۔۔۔۔ جس میں اپنا آپ دیکھتے وہ بڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ اسی آئینے نے ننھا اسکول جاتا سبط دیکھا تھا۔ اسی آئینے میں کالج پہنچنے والا، دُبلا پتلا سبط دیکھا تھا۔۔۔۔ اور وہی آئینہ۔۔۔۔ آج ڈاکٹر سبط

of 167 
Go