Urdu Novels

Back | Home |  
سہتی۔ آنے جانے والوں کی خاطر تواضع حسبِ مراتب کرتی اور پھر بھی خوش رہتی۔
’بھلا اس ساری مصروفیت میں مشتری کو اپنی ذات سے جڑی کوئی بھی چھوٹی سی بھی حاصل راحت؟ بڑا سخت گڑبڑ گھٹالا ہے بھئی۔‘
بیلا نے سر کو ہلکا سا جھٹکا دے کر باہر نظر آتے منظر کی طرف دھیان لگانا چاہا۔
بات بات پر سوچنے کی اُسے پرانی لت تھی۔ شاید بچپن سے ہی وہ ایسی تھی اور اُسے اپنی یہ عادت خود دل و جان سے پسند تھی۔
برائی بھی کیا تھی، اس میں۔
’صرف یہ کہ تھوڑی دیر کے لئے اپنے ’’حال‘‘ سے الگ ہو گئے اور بس۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ’’حال‘‘ بھی ایسا کون سا اعلیٰ و ارفع، دل پسند قسم کی چیز ہے، جس میں آنکھیں کھولے بس جیے ہی چلے جائو۔‘
زن زن کرتے کتنے ہی مناظر تیزی سے گزرتے چلے گئے۔ کالج کے گیٹ پر ہی اُسے مدیحہ مل گئی۔
بس اسے تھوڑے فاصلے پر اُتارتی تھی اور سامنے ہی سڑک پر کھڑا ہوا پانی، آتے جاتے لوگ بڑی دقتوں کے ساتھ پار کر رہے تھے۔
’’میری توبہ، جو آئندہ ایسے موسم میں گھر سے نکلوں۔ مگر میری تو شامت مجھے گھر میں بھی ٹکنے نہیں دیتی۔‘‘
گیٹ سے کلاس کی طرف جاتے ہوئے وہ بڑبڑاتی رہی۔ بیلا، خاموشی سے سنے گئی۔ اور جب وہ ذرا سانس لینے کو رُکی تو اُس کے بھی منہ سے نکل ہی گیا۔
’’مجھے بھی نانی بہت منع کر رہی تھیں، آج کالج آنے سے۔ ناراض بھی ہو گئیں شاید۔‘‘
’’تو تمہیں مان لینی چاہئے تھی نا، اُن کی بات۔‘‘ مدیحہ چلتے چلتے رُک سی گئی۔ ’’اپنی خوش قسمتی کی قدر کرو کہ گھر میں تمہاری پروا کرنے والے بھی ہیں۔ مجھے دیکھو، امی تو چلو، سوتیلی ہیں، پر ابا کو بھی اپنے دوسرے بچوں میں گم رہ کر میرا خیال نہیں آتا۔ آج صبح دودھ والا بھی نہیں آیا تو چائے تک نہیں بن سکی۔ باقی سارے بچوں نے آج اسکول سے چھٹی کی ہے، سو ناشتہ بھی دیر سے ہی بنے گا۔‘‘





بات کے اختتام پر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ بیلا سے جواباً کچھ بھی نہ کہا گیا۔ حالانکہ وہ بھی روزانہ ہی ناشتہ کر کے نہیں آتی تھی، لیکن اُس کے اور مدیحہ کے جذبات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
شروع کے تین پیریڈ پڑھائی چلتی رہی۔ پہلے دو پیریڈ انگلش کے اور پھر ہسٹری کا۔
بریک ٹائم خالی ملتے ہی وہ مدیحہ کو لے کر کینٹین کی طرف آ گئی۔
آج لڑکیاں معمول سے کہیں کم تھیں، اس لئے یہاں رش بھی کم تھا۔ پیٹیز اور کولڈ ڈرنکس لے کر وہ دونوں، لائبریری کی سیڑھیوں پر آ بیٹھیں۔
’’پتہ ہے، بیلا! کبھی کبھی تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ ہی کیوں رکھا ہوا ہے۔ نہ کسی کو میری ضرورت ہے اور نہ محبت۔ پھر میرے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
مدیحہ آج ہمیشہ سے زیادہ اُداس تھی۔ بہت چھوٹی عمر میں ماں کو کھو دینے کے بعد اُسے بہت سے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بیلا کو اُس کی اُداسی خود بہت زیادہ اُداس کرتی تھی مگر اس کا اظہار وہ کم ہی کرتی تھی۔
’’خیر، دو افراد تو کم از کم ہیں ہی، جو تمہیں یاد کر کے آٹھ آٹھ آنسو بہائیں گے۔ ایک میں اور ایک بے چارہ ملتان میں بیٹھا، یاور۔‘‘
اُداس سے اُداس گھڑیوں میں بھی یہ نام، مدیحہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لے ہی آتا تھا، اس وقت بھی وہ کچھ جھینپ کر ہلکے سے ہنس پڑی۔
’’خوامخواہ ہی۔۔۔۔ میرے لئے صرف تم ہی ہو۔ یاور کو تو پتہ نہیں، میرا نام، میری شکل اب یاد بھی ہو گی یا نہیں۔ پانچ چھ سال تو نکل ہی گئے ہیں بیچ میں۔ بلکہ اب تو خالہ کو بھی یہاں آئے دو سال ہو گئے ہیں۔‘‘
وہ جس قسم کے حالات کا شکار تھی، اس میں خوش گمان رہنا، ناممکن سی بات تھی۔ وسوسوں کا کُہر، اُمید کی کرن کو چمکنے ہی نہیں دیتا تھا۔ بیلا پھر بھی اُسے حوصلہ دیئے ہی جاتی۔
’’خالہ تمہاری طرف سے کبھی بھی غافل نہیں ہو سکتیں۔ اتنی محبت سے انہوں نے منگنی کی تھی۔ حالانکہ اُس وقت تو ان باتوں کا ایسا کوئی وقت بھی نہیں تھا۔‘‘
مدیحہ کی آنکھیں پھر سے مسکرانے لگیں۔





نویں جماعت میں پڑھتے ہوئے یاور سے منگنی کا ہو جانا، اُس وقت تو کوئی ایسا محبوب واقعہ نہیں لگا تھا، بس لے دے کر یہی احساس تھا کہ اکلوتی خالہ، مارے محبت کے، سوتیلی والدہ کے چنگل سے نکالنے کے لئے تدبیر لڑا رہی ہیں اور اس کے لئے بس یہی کافی تھا کہ وہ سختیوں اور محرومیوں سے نکل کر خالہ کے سجے سجائے گھر میں مزے سے رہے گی۔ مگر وقت نے کچھ اور ہی جمع تفریق کر کے رکھی ہوئی تھی۔
’’ابھی بہت چھوٹی ہے، ذمہ داریاں اُٹھانے کے لئے قطعی نا اہل۔‘‘
یہ سوتیلی ماں کا قطعی فیصلہ تھا، جس میں ردوبدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور ایمانداری کی بات تو یہ تھی کہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ سو مدیحہ کی شادی انٹر کے امتحان کے بعد طے پائی۔ جب تک وہ انٹر کا امتحان دے کر فارغ ہوئی، خالہ کا نامعلوم جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ پہلے، جو وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے دوڑی چلی آتی تھیں، اب دوسرے تیسرے مہینے فون تک نہ کرتیں اور یاور تو منگنی کروا کر ایسا گیا کہ پھر پلٹ کر اِدھر آیا ہی نہیں۔ اِدھر اُدھر رشتے داروں سے سننے کو مل بھی جاتا کہ وہ اب پڑھائی ختم کر چکا ہے، وہ اب نوکری پر لگ گیا ہے۔ اور پھر خالہ کے ہی فون سے پتہ چلا کہ وہ کسی ٹریننگ پر چلا گیا ہے۔
’’امی تو اب کھلم کھلا کہنے لگی ہیں کہ اُن کا ارادہ بدل گیا ہے۔ انہیں یہاں سے ملے گا بھی کیا۔ نہ صورت، نہ شکل اور نہ ہی جہیز۔ اور سچ بات تو یہی ہے نا!‘‘
مدیحہ نے کتنی ہی سچائیوں کی کڑواہٹ کو اپنے اندر اُتار کر زندگی کو جیا تھا۔ پھر بھی یہ ایک سچائی تھی، جسے قبول کرنا خود اُس کے لئے ازحد مشکل ثابت ہوتا تھا۔
بیلا نے ایک نظر اُس کے پھیکے پڑتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر بڑی نرمی سے بولی۔
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بے کار کے اندیشے مت پالو۔ ایگزام کتنے قریب آ گئے ہیں، سب کچھ بھول کر اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ اگلے سال اِن شاء اللہ ہمارا گریجویشن بھی مکمل ہو جائے گا۔‘‘
’’میرا تو یہ گریجویشن بھی تمہارے ہی طفیل ممکن ہوا ہے، ورنہ شاید میٹرک کے بعد ہی آگے پڑھائی ناممکن ہو جاتی۔ اگر تم میری دوست نہ ہوتیں، بیلا! تو میرا تو نہ جانے کیا بنتا۔‘‘
مدیحہ ذہین بھی تھی اور محنتی بھی۔ کلاس کی سب سے اچھی طالبہ تصور کی جاتی تھی۔ اب تو ایک سال سے اُسے وظیفہ بھی مل رہا تھا۔ مگر بیلا نے جس طرح ہر آڑے وقت میں اُس کا ساتھ دیا تھا، وہ
of 31 
Go