Urdu Novels

Back | Home |  
ارشاد کے پاس جانا۔
اُس کے کالج پر جا کر کھڑا ہونا۔
ایک خاموش سا فخر کا احساس، جو عباس کی لگن پر اُسے خود پر ہونے لگتا تھا، دبے دبے سے غصہ میں تبدیل ہونے لگا۔
’’کاش! وہ اس دہرے رویہ کو اپنانے کے بجائے بہت سچائی سے صرف مدیحہ کا ہاتھ تھام لیتا تو میں کتنا فخر محسوس کرتی، اُس پر بھی اور خود پر بھی۔‘‘
’’میں تمہارے لئے چائے لاتی ہوں۔ باتوں میں خیال ہی نہیں رہا کہ تم ابھی امتحان دے کر آ رہی ہو، تھکی ہوئی ہو گی۔‘‘
مدیحہ کی امی کو آدابِ میزبانی یاد آنے لگے تو وہ جلدی سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
’’میں پھر آئوں گی، آنٹی! بہت دیر ہو گئی ہے اس وقت۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی، کچھ دیر تو ٹھہرو۔ مدیحہ آئے گی تو بہت ناراض ہو گی کہ میں نے تمہیں روکا بھی نہیں۔‘‘
مدیحہ کی امی حیران پریشان سی اُس کے پیچھے دروازے تک چلی آئیں۔ مگر بیلا ایک منٹ بھی رُکنے کے لئے تیار نہیں تھی۔
اُنہیں خدا حافظ کہتے ہوئے وہ گیٹ سے باہر نکل آئی، مگر مدیحہ سامنے ہی موجود تھی۔
ایک ہاتھ میں بڑا سا، خوشبوئیں اُڑاتا شاپر تھامے اور دوسرے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی بوتل لئے وہ پوری ایک چھوٹی موٹی پارٹی کی تیاری کے ساتھ تھی۔
’’آخر کو پکڑ ہی لیا نا، میں نے۔ ورنہ تم تو اس وقت بھی غائب ہو جاتیں۔ کتنا دوڑایا ہے تم نے ہم سب کو اپنے پیچھے۔ ہلکان کر کے رکھ دیا۔‘‘ خوشی سے بے قابو ہوتے ہوئے وہ جس والہانہ انداز میں بیلا سے لپٹی تھی، بیلا نے خود کو بمشکل ہی گرنے سے بچایا تھا۔
اب فوری طور پر کوئی بھی راہِ فرار نہیں تھی۔ بیلا کو واپس اندر آنا پڑا۔





’’اور شادی کی مبارک باد اس وقت قبول کروں گی، جب میرے میاں بھی ساتھ ہوں گے۔ اور تم میرے لئے کوئی شاندار سا گفٹ لے کر آئو گی۔‘‘ وہ بہت خوش اور بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ سر سے پیر تک بدلی ہوئی۔
بیلا کو اُسے دیکھ کر بڑا اطمینان سا ہو رہا تھا۔ کوئی تو تھا، جو اس سارے قصے میں اپنے حصے کی تلخیوں سے چھٹکارا پا گیا تھا۔
مدیحہ کی امی ساری چیزیں کچن میں لے گئی تھیں۔
’’اور تمہارے یاور صاحب ٹھیک ٹھاک ہیں؟‘‘ بہت ہمت کر کے اُس نے بڑے سرسری سے انداز میں پوچھنا چاہا تو مدیحہ ہنستی چلی گئی۔
’’اپنی تصحیح کر لو، یاور صاحب ’’میرے‘‘ نہیں ہیں۔ آیا کچھ سمجھ میں؟‘‘
بیلا کی سمجھ میں واقعی کچھ نہیں آیا تھا۔
’’میری شادی احمد سے ہوئی ہے۔ وہی، امی کا بھانجا۔ بے چارہ بہت آگے پیچھے پھرتا تھا، میں نے سوچا، چلو کچھ نیکی کما ہی لوں۔ احمد بھی خوش اور ہماری امی اس سے زیادہ خوش۔‘‘
’’اور تم؟‘‘ بیلا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی خوش تھی یا محض دکھاوے کی خوشی خود پر طاری کئے ہوئے تھی۔
’’میں بھی خوش ہوں، بیلا! یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔‘‘ مدیحہ اچانک سنجیدہ ہو گئی۔ ’’اصل میں یہ بات بہت دیر میں میری سمجھ میں آئی کہ زبردستی گھر بسائے جا سکتے ہیں، مگر دل نہیں۔ پھر کیوں نہ میں اس کے گھر کو بساتی، جہاں کوئی بہت دل سے میرا منتظر بھی تھا۔‘‘
کھلے ہوئے دروازے سے دھوپ کی ایک لمبی سی لکیر کمرے کے وسط تک آ رہی تھی، اور اس سنہری دھوپ کا ہالہ مدیحہ کے وجود کو منور کر رہا تھا۔ معلوم نہیں کیوں، بیلا کو اُس پر نظر جمائے رکھنا مشکل محسوس ہونے لگا۔
’’اگر خالہ کی بیماری کا سن کر میں اور ابا ملتان نہیں جاتے، تو شاید میں یوں ہی، احمقوں کی طرح یاور کے نام کی تسبیح پڑھے جاتی۔ وہ تو بس اتفاق سے ہی مجھے یاور کی سائیڈ ٹیبل میں تمہاری اور درِّ





نجف کی ایک تصویر نظر آ گئی۔ کسی بہت خوب صورت سے گھر میں لی ہوئی تھی۔ شاید کسی پروگرام کی تھی۔‘‘
بیلا نے ایک بہت بھاری بوجھ کندھوں پر آتا محسوس کیا۔ قدیم طرز کا بنا ہوا وہ بہت خوب صورت گھر، جہاں پہلی بار عباس کا اور اُس کا سامنا ہوا تھا۔ شاید وہاں کے کسی فوٹو شوٹ میں وہ بھی زد میں آ گئی تھی۔
’’بیلا!‘‘ مدیحہ نے بہت محبت سے اُس کا ہاتھ تھاما۔
’’میں سچ کہتی ہوں، مجھے خود پر شرم آتی ہے۔ کیسے میں اپنا ہر چھوٹے سے چھوٹا بلکہ بعض وقت تو خود ساختہ ہی غم، تمہارے حوالے کر کے خود ہلکی پھلکی ہو جاتی تھی اور تم نے مجھے کبھی بھی اپنا نہ سمجھا، یا میں اس قابل نہیں تھی کہ۔۔۔۔‘‘
بیلا کے حوصلے کی حد بس یہیں تک تھی۔ مدیحہ کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔
’’اچھا، اب بس بھی کرو۔ اتنے جوڑ توڑ کر کے ہم نے تمہیں یہاں رُلانے کے لئے تھوڑی بلایا ہے؟‘‘ زور و شور سے روتی ہوئی بیلا کو چپ کرانے کے لئے تھوڑا سا رِسک تو لینا ہی تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ فوراً ہی رونا بھول کر وہ مشکوک نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی۔
’’مطلب!‘‘ مدیحہ نے بہ مشکل اپنی مسکراہٹ دبائی۔ ’’دیکھو، ہم لوگ تو بے قصور ہیں۔سارا پلان یاور کا بنایا ہوا ہے۔ تم خوامخواہ میں نانی اور اپنے اس ڈرائیور پر غصہ اُتارنے نہ بیٹھ جانا۔‘‘
سامنے، کھلے ہوئے گیٹ سے باہر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ارشاد بہت مسکرا مسکرا کر اسی مؤدب انداز میں کسی سے بات کر رہا تھا۔ اور اس بار بیلا کو پہچاننے میں کوئی شبہ نہیں ہوا تھا۔
ختم شد
ىہ ناول کتابى شکل مىں شائع ہوگىا ہے
القرىش پبلى کىشنز‘ سرکلر روڈ چوک اردو بازار لاہور-
-3765246/42--37668958
of 31 
Go