Urdu Novels

Back | Home |  
وہ پھیکے لہجے میں پوچھنے لگی تھی کہ اس کی بات کاٹتے ہوئے ریان نے کہا۔
’’ہاں کیا تھا نا‘ میں کہاں تیار بیٹھا تھا شادی کو۔‘‘
روشین نے پلکیں اٹھائیں۔
ریان نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھا۔
’’اس دل نے ‘ اس دل نے مجبور کیا تھا۔ یقین مانو روشنی۔ میں تو مارے خوشی اور بے یقینی کے اگلا نکاح نامہ بھی سائن کیے دے رہا تھا وہ تو نکاں خواں نے احساس دلایا۔‘‘
وہ بڑے مزے سے بولا تو روشین کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’میں نے کبھی تم سے اچھا سلوک نہیں کیا۔‘‘
’’تو اب کرنا۔ ساری زندگی پڑی ہے۔‘‘
کُوداکوئی تیرے گھر میں یوں دھم سے نہ ہوگا
وہ کام کیا ہم نے جو رستم سے نہ ہوگا
وہ اس کی چاند ایسی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکراتے ہوئے شریر ہوا تھا۔
اور پھر بڑی چاہت سے اسے بانہوں میں بھرلیا۔
روشین رودی کہ دل کا بوجھ بھی تو ہلکا کرنا تھا۔
’’میں تمہارے قابل تو نہ تھی‘ مگر قسمت۔‘‘
وہ کچھ نہیں بہت کچھ غلط کہنا چاہ رہی تھی۔ مگر ریان اسے سامنے کرتے ہوئے اس کے احمریں لبوں پر انگشتِ شہادت رکھتے ہوئے اسے رو ک گیا۔
’’یہ میرے دل سے پوچھو۔ تم کیا ہو میرے لیے۔ تمہاری پاکبازی تمہاری باحیائی انعام ہیں میرے لیے روشین۔ اس دل نے تمہیں بہت اونچا مقام دیا ہے۔ بس ایک ریکویسٹ ہے تم سے…‘‘





وہ کہتے ہوئے تھما اور اس کی مٹتے ہوئے کاجل سے بھری آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ پھر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’میر ابہت خیال رکھنا۔‘‘
قلقل کرتی ہنسی سے کمرا گونجا تو ریان کو دل پر ابھی بہت جبر کرنا پڑا۔
’’ہم پر تا عمر سجدۂ شکر وا جب ہوا روشین۔‘‘
اس نے کہا تو روشین سمجھ گئی۔
’’میں بھی نوافل پڑھ کر اس بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنا چاہتی ہوں جس نے مجھے عزت و آبرو سے رکھا اور میرے دل کی چاہت پوری کی۔‘‘
’’اتنے ننھے منے سے اظہار کا شکریہ۔‘‘
ریان نے وضو کی نیت سے واش روم کی طرف بڑھتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ٹھٹک گیا۔
’’یہ تمہارا موبائل ایک تو بے پروا بہت ہو۔ کسی دن ایسے ہی مجھے بھی کہیں نہ ڈال دو۔‘‘
موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔ آگے ایک لفظ نہیں کہا…
وہ تمام عمر روشین کو اس آگہی کا احساس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ جو اتفاقاً ہی اس کے کانوں میں پہنچ گئی تھی۔
وہ تو بس خوش تھا کہ ایک پاکیزہ سوچ سے مزین باکردار لڑکی اس کے مقدر میں لکھی گئی۔
روشین نے موبائل تھا ما اور ریان نے ا س کا ہاتھ ۔
’’وضو…‘‘
روشین نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے یاد کرایا۔ تو وہ ہنستا ہوا واش روم میں گھس گیا۔
روشین طمانیت بھری گہری سانس بھرتی خدا کے اس معجزے پر اس کی شکرگزار ہونے لگی۔





وہ نوافل ادا کرنے کے بعد اس کے پاس آبیٹھا۔ روشین نے تسبیح ختم کرکے جھجکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
’’افراتفری میں بنایا گیا دولہا ہوں۔ منہ دکھائی میں ریان عزیز چلے گا؟‘
وہ معصومیت بھری شرارت سے پوچھ رہا تھا۔
’’تمام عمر…‘‘
روشین نے جذب کے عالم میں کہا تو وہ اچھلا۔
’’پھر وہی نام…‘‘
روشین اس کی شرارت سمجھ کر ہنسنے لگی۔ پھر شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’اب تو صرف ریان…‘‘
’’اور میرے لیے صرف روشین۔ خد ا کا انعام۔‘‘
وہ بے حد چاہت سے بولا تو روشین طمانیت سے اس کی بانہوں میں سمٹ گئی۔
زندگی کی تندوتیز دھوپ میں وہ اس کے لیے رب العزّت نے گھنا سایہ بناکے بھیجا تھا اور اب اس سائے تلے اسے اپنی ہنستی کھیلتی زندگی گزارنا تھی۔
انعام بہت شاندار اور تھکن سمیٹنے والا ہوتاہے۔ روشین کو اس حقیقت کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اپنی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے والوں کو وہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
’’میرے خدا تیر اشکر ہے۔‘‘
اس کا رواں رواں شکر گزار تھا۔
ختم شد
of 176 
Go