| Back | Home | |
||
|
وہ اٹل ارادے کے ساتھ بولا تو آسیہ بیگم اندر ہی اندر دہل کر بھی ’’آمین‘‘ کہنے سے خود کو روک نہ سکیں۔
٭٭٭ آج اسکول میں جاب کا پہلا دن تھا۔ تھری کلاس کے بچے اس قدر شوخ و شرارتی تھے کہ وہ انہیں قابو کرکرکے ہلکان ہوگئی۔ وہ بھی شاید نئی کلاس ٹیچر کی شریفانہ طبیعت بھانپ گئے تھے۔ اس قدر شور مچایا کہ الامان‘ الحافیظ۔ دو مرتبہ پرنسپل کا پیون وارننگ لے کر آیا تو رانیہ نے زبردست جھاڑ پلاتے ہوئے پوری کلاس کو سزا میں کھڑا کردیا۔ تب کہیں جا کے سکون نصیب ہوا۔ ایک پرائیویٹ اسکول میں یہ نوکری اسے چچا جان کے توسط سے ملی تھی‘ سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی رانیہ عارف نے اپنی استانیوں کو کلاس میں بیٹھ کر محض سویٹر بنتے ہی دیکھا تھا۔ عموماً وہ آکر مانیٹر کو لڑکیوں سے سبق سننے پہ لگاکر ارد گرد کی کلاس ٹیچرز کے ساتھ گپیں لڑانے میں مصروف ہوجاتیں۔ مگر پرائیویٹ اسکول میں تو اس کے تمام خواب و خیالات بھک سے ار گئے۔ مار نہیں پیار‘ یہ نعرہ لگانے والے اگر ان شرارتی بچوں کو دیکھ یا بھگت لیتے تو خوب سے خوب تر موٹا ڈنڈا لے کر ان کی ٹھکائی کرتے۔ فی الحال تو اس پہلے دن کا رانیہ پر کچھ خاص اچھا اثر نہیں پڑا تھا۔ وہ سخت بدمزہ ہوئی۔ چھٹی ہونے کا بچوں کو اتنا انتظار نہ تھا جتنا کہ رانیہ کو تھا۔ اور اب سر کا درد۔ اوپر سے واپسی پر لوکل وین کا سفر۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو نڈھال تھی۔ مگر ثوبیہ اسے دیکھ کے ایسے چہکی جیسے وہ کسی بہترین پکنک کے مزے لوٹ کر گھر پہنچی ہو۔ ’’اوہو……آگئی سواری جنابہ کی۔‘‘ اس کی آواز سنکر ہی صائمہ لپکی تھی۔ ’’چھٹی ہوگئی تھی یا تمہاری چھٹی کردی گئی؟‘‘ صائمہ کو طنز کرنے میں ملکہ حاصل تھا۔ یہ رانیہ کا قطعی ذاتی اور پوشیدہ خیال تھا جسے دیگر باتوں کی طرح ظاہر کرنے سے نقص امن کا خطرہ تھا۔ وہ تھکی تھکی سی برآمدے میں بچھے تخت پر ٹک گئی۔ ’’چچی جان کہاں ہیں؟‘‘ اس نے یونہی بات بدلنے کو سوال کیا۔ تو صائمہ ہی تیکھے لہجے میں بولی۔
’’تم کون سا محاذ سے لوٹ رہی ہو کہ سارا گھر تمہارے استقبال کو یہیں کھڑا ہوتا۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹی ہیں‘‘
’’چلو اب وہ دیر نہ کرو۔ سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ ثوبیہ نے بے زاری سے کہا تو اس کے دل خوش فہم میں امید جاگی۔ شاید آج کھانے پر اس کا انتظار کیا جارہا تھا۔ ’’ہاں بھئی۔ جو بھی ہے رانیہ ہی ہے اس گھر میں۔ میری پکائی روٹی بھی کسی کو پسند نہیں آتی۔ ورنہ ابھی تک سب بھوکے نہ بیٹھے ہوتے۔‘‘ صائمہ ناک چڑھاکر کہتی اندر کی طرف بڑھی تو رانیہ پر منوں اوس پڑ گئی۔ ’’ابھی روٹیاں نہیں پکیں؟‘‘ اس نے بڑی آس سے ثوبیہ کو دیکھا کہ شاید وہ کوئی حوصلہ افزا جواب دے۔ ’’کون پکاتا؟‘‘ اس نے بڑے انداز سے پوچھا۔ ’’نوکری کرلی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ گھر کے کاموں کی چھٹی ہوگئی۔ روٹیاں تو پہلے بھی تم ہی پکاتی تھیں۔ میں نے تو اتنی محنت سے سلاد اور رائتہ بنایا ہے‘‘۔ رانیہ کا جی چاہا کہ وہ بھی جیوں بنالیے کہ ان کے بغیر تمہارا نوالہ حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ مگر وہی ازلی بزدلی۔ اس کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ رات چچی جان کے ڈر سے اس نے ہانڈی چڑھادی تاکہ آج مسئلہ نہ بنے اور صبح صبح اٹھ کے جہاں تک ہوسکا صفائی کا کام نمٹایا اور سب کے لیے ناشتہ بناکے پھر اسکول کے لیے نکلی۔ اور اب یہ باقی ڈیوٹی۔ وہ خاموشی سے بیگ اٹھائے کمرے میں آئی تو ثوبیہ ماں کے کان بھرنے کے لیے بھاگی۔ اس کا ارادہ یہی تھا کہ جوتی‘ چادر اتار کے‘ منہ ہاتھ دھوکے ذرا فریش ہوکے پھر روٹیاں ڈالے۔ مگر ثوبیہ نے جانے ماں کے کان میں کیا پھونکا تھا۔ چچی جان کی تیز آواز پر اس کے دوچار چھپاکے مار کے چہرے پر لگا صابن کا جھاگ آدھا ادھورا دھویا اور باتھ رو م سے باہر نکلی۔ ’’نہ‘ تم نے ٹائم نہیں دیکھا کیا ہورہا ہے؟‘‘
چچی کی تیوریاں تو شاید پیدائشی ہی چڑھی ہوئی تھیں تیکھے لہجے اور کراری آواز میں بولیں تو رانیہ شرمسار ہونے لگی۔
’’میں بس منہ ہاتھ دھوکے آہی رہی تھی۔‘‘ ’’تو وہاں کون سا فیشن پریڈ میں حصہ لینے جانا ہے۔ دو چار روتیاں ہی تو ڈالنی تھیں۔ وہ بھی تمہیں سیاپا لگ رہا ہے۔‘‘ چچی کون سا اس کی وضاحتیں سننے کی عادی تھیں۔ انہیں صرف اپنی سنانی اور اپنی کرنا آتی تھی۔ رانیہ گلے میں دوپٹہ ڈالتی‘ چپل گھسیٹتی تیزی سے کچن کی طرف بڑھی‘ پیچھے چچی کی بڑ بڑاہٹ با آواز بلند اسی لیے جاری تھی کہ رانیہ تک بخوبی پہنچ جائے۔ ’’غضب خدا کا۔ اڑھائی‘ پونے تین بج گئے‘ آلینے دو میاں کو۔ابھی خبر لیتی ہوں۔ کہہ رہے تھے ڈیڑھ پونے دو تک چھٹی ہوجائے گی۔تو یہ کہاں پڑھاکے آرہی ہے اڑھائی بجے‘‘۔ رانیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ چچی جان کی بدگمانیوں اور بزبانیوں کی کوئی حد نہ تھی۔ روٹیاں بن گئیں کھانا لگ گیا‘ مگر وہی موضوع گھسیٹا جاتا رہا۔ واصف بھی آوارہ گردی کرکرکے شاید تھک گیا تھا‘ عین کھانے کے ٹائم آ پہنچا۔ ’’جہاں اتنا انتظار کرایا ہے تھوڑا اور سہی‘ جاکے اس کے لیے بھی دو روٹیاں ڈال دو۔‘‘ انہوں نے اس کے کھانے سے فارغ ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ جتانے والے انداز میں بولیں تو وہ وہیں نوالہ چھوڑ کر اٹھ گئی۔ تیز آنچ پہ جلدی جلدی روٹی دیکھتے ہوئے اس کا دل چاہ رہا تھا اپنی قسمت پہ کھل کے روئے۔ ماں باپ کا مرجانا اتنی بڑی بدنصیبی ہوتا ہے یہ اسے اس درپہ آکے پتہ چلا تھا۔ آنسو روکنے کی کوشش میں اس کا گلا دکھنے لگا۔ آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔ ’’کیا حال ہے سرکار……؟‘‘ واصف کی آواز بہت قریب سے اچانک آئی تو وہ اچھل ہی پڑی۔ کاٹن کے قدرے نئے گلابی سوٹ میں دوپٹہ لاپروائی سے گلے میں ڈالے وہ اپنے متناسب سراپے اور تمتاتی رنگ کے ساتھ واصف کے دل میں |
||