| Back | Home | |
||
|
’’ہو سکتا ہے، وہ کوئی بے ضرر شخص ہو اور اور آپ کو وہم ہوا ہو۔‘‘ ساری بات سننے کے بعد اجنبی شخص نے کہا تو اسے بھی گمان گزرا کہ شاید یہ اس کا وہم ہی ہو گا۔ ڈاک بنگلے سے جیپ میں بیٹھ کر وہ ڈسپنسری میں آئے تھے۔ ڈسپنسر گل لالہ نے اس کے پائوں پر گرم پٹی باندھ دی تھی۔
’’موچ ہی ہے، سر!‘‘ اُس نے پین کِلر ٹیبلٹ دیتے ہوئے تسلی دی تھی۔ ’’پریشانی کی بات نہیں ہے۔ ہڈی وغیرہ محفوظ ہے۔‘‘ اور پھر ڈسپنسری سے گھر تک اُن کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ’’میں آپ کو اندر تک چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اس نے اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر کہا۔ ’’نہیں، میں چلی جائوں گی۔ اور آپ کا شکریہ بہت۔ میری وجہ سے آپ کو زحمت ہوئی۔‘‘ ’’نہیں، مجھے کوئی زحمت نہیں ہوئی۔ اور پلیز اپنا خیال رکھئے گا، دو تین دن ریسٹ کریں اور آج اوپر مت جایئے گا سیڑھیاں چڑھ کر۔‘‘ وہ سر ہلاتی ہوئی دروازہ کھول کر اندر کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اس نے بے اختیار آواز دی۔ ’’تمکین!‘‘ اُس نے مڑ کر بے حد حیرت سے دیکھا۔ ’’آپ کو میرا نام کیسے پتہ چلا؟‘‘ ایک بے اختیار مسکراہٹ نے اُس کے لبوں کو چھوا۔ ’’آئندہ اکیلے باہر مت نکلئے گا۔ ہو سکتا ہے، آپ کا وہم نہ ہو اور کوئی آپ کو نقصان پہنچا دے۔‘‘ وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں تھا۔ کچھ دیر وہیں دیوار کے سہارے کھڑی سوچتی رہی کہ اس ڈاک بنگلے والے اجنبی کو بھلا اس کا نام کیسے معلوم ہوا۔ ’شاید کبھی آپا کو بلاتے ہوئے سنا ہو یا پھر دلبر نے بتایا ہو۔ وہ کل بھی تو اپنے ماموں سے ملنے ڈاک بنگلے گیا تھا۔‘ اُس نے خود ہی اندازہ لگایا اور ہولے ہولے قدم اٹھاتی اندر لائونج تک آئی۔ سامنے ہی صوفے پر شہربانو بیٹھی تھیں اور ان کی نظریں اسی پر لگی تھیں۔ کھوجتی، اندر تک اُترتی نظریں۔ ’’یہ صبح صبح کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘ ’’یونہی اندر دل گھبرا رہا تھا۔ باہر نکلی تو ٹھوکر لگنے سے پائوں میں موچ آ گئی۔‘‘ اس نے سہارے کے لئے دروازے پر ہاتھ رکھا۔
’’ہوں۔۔۔۔‘‘ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا اور دائیں طرف کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ ذرا کھڑکی بند کر دینا۔ تمہیں دیکھنے کے لئے کھولی تھی، لیکن کمرا ٹھنڈا یخ ہو گیا ہے۔ حالانکہ آج تو سورج بھی نکل آیا ہے۔ بھئی تمہارا ہی جگرا ہے، اس ٹھنڈ میں سیر کرنے نکل کھڑی ہوئی ہو۔ ویسے یہ آئی کس کے ساتھ ہو؟‘‘ انداز جتاتا ہوا سا تھا۔
ہولے ہولے دیوار کے سہارے بہ مشکل چلتی ہوئی وہ کھڑکی تک آئی اور اس نے کھڑکی کے پٹ بند کرتے ہوئے پردے آگے کئے۔ ’’معلوم نہیں آپا! موچ کی وجہ سے چلا نہیں جا رہا تھا تو یہ جیپ پر چھوڑ گیا۔‘‘ ’’ارے، اتنی انجان مت بنو۔ دلبر بتا رہا تھا کہ یہ سامنے ڈاک بنگلے میں رہ رہا ہے۔ کئی دنوں سے ادھر آیا ہوا ہے۔ دانیال مرزا نام ہے اس کا اور وہ یہاں کوئی تحقیق کر رہا ہے۔‘‘ ’’آپا! میں نے نام نہیں پوچھا اور نہ ہی یہ پوچھا کہ وہ کیوں آیا ہے۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا اور اس طرح ہولے ہولے چلتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اُس کا بیڈ روم اوپر تھا اور اس کے کمرے کے سامنے موجود گیلری ڈاک بنگلے کی طرف تھی اور ڈاک بنگلے کے کمروں کے آگے بنے چھوٹے چھوٹے ٹیرس یا گیلریاں اس طرف تھیں، مین گیٹ دوسری طرف تھا۔ اس کا ارادہ تو تھا کہ وہ یہیں، لائونج میں صوفے پر لیٹ جائے گی لیکن آپا کی گفتگو سے بیزار ہو کر وہ اوپر اپنے بیڈ روم میں آ گئی اور نڈھال سی ہو کر بیڈ پر گر گئی۔ لائونج سے شہربانو کی آواز آ رہی تھی۔ وہ اونچی آواز میں دلبر کو پکار رہی تھیں۔ ’’ارے کمبخت! کیا اب تک تیری چائے نہیں گلی؟ کیا سیلون چلا گیا ہے، چائے کی پتی اُگانے؟۔۔۔۔ ارے صبح منہ اندھیرے سے اُٹھی بیٹھی ہوں اور منہ بھی سوکھ گیا ہے۔‘‘ تمکین جانتی تھی کہ یہ سب کچھ اسے ہی سنایا جا رہا ہے۔ لیکن اس وقت درد اتنا شدید تھا کہ اُس میں کچن میں کھڑے ہونے کی ہمت نہ تھی۔ اُس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اُٹھایا اور پرس سے گولی نکال کر کھائی۔ اگرچہ گل لالہ نے تاکید کی تھی کہ وہ خالی پیٹ ٹیبلٹ نہ لے بلکہ ناشتے کے بعد لے۔ لیکن ناشتہ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اب شہربانو دلبر اور اس کی ماں کو اتنا مصروف کر لیں گی کہ گھنٹہ بھر سے پہلے فارغ نہیں کریں گی۔ اور ممکن ہے پھر بھی کسی نہ کسی کام میں اُلجھائے رکھے اور درد بہت شدید تھا پتہ نہیں، بی بی کب فارغ ہو کر اوپر آئے گی اور اس کے لئے چائے بنائے گی۔ اُس نے سر تکیے پر رکھتے ہوئے آنکھیں موند لیں اور بیتے دن، ذہن کی اسکرین پر کسی فلم کے منظر کی طرح گزرنے لگے۔ vvv
’’تمکین۔۔۔۔!‘‘ افروز نے تکیے سے سر اٹھا کر تمکین کی طرف دیکھا، جو اس کی طرف پیٹھ کئے، وارڈ روب میں منہ دیئے، جانے کیا کر رہی تھی۔’’تمو!‘‘ وہ بیڈ پر کہنیاں ٹکاتے ہوئے اُٹھا۔ ’’یہاں کیا کر رہی ہو؟ اِدھر آئو نا، یہاں میرے پاس آ کر بیٹھو۔‘‘ تمکین نے ہاتھوں کی پشت سے جلدی جلدی اپنے بھیگے رخساروں کو پونچھا لیکن آنسو تھے کہ بہتے چلے آ رہے تھے۔
’’تمکین! پلیز، اتنی دُور دُور تو مت رہو۔۔۔۔ جو تھوڑے سے دن ہیں زندگی کے، وہ تو۔۔۔۔‘‘
تمکین نے تڑپ کر اُسے دیکھا۔ ’’مت کریں ۔۔۔۔ مت کریں ایسی باتیں۔‘‘ ’’تم رو رہی ہو تمکین؟۔۔۔۔ مت روئو، پلیز۔‘‘ وہ ہتھیلیاں بیڈ کی پٹی پر ٹکاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ تمکین نے رخ موڑ لیا تھا اور آنسو پہلے سے بھی زیادہ روانی سے بہنے لگے تھے۔ ’’تمو!‘‘ آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا اور اب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آہستگی سے کہہ رہا تھا۔ ’’تمو!۔۔۔۔ تمکین! میری جان! پلیز ایسا مت کرو۔ تمہارے آنسو میری فصیلِ دل ڈھا دیتے ہیں۔ تم نہیں جانتیں۔ تم کبھی بھی نہیں جان سکتیں کہ ان چند ماہ میں تم میرے خون میں دوڑنے لگی ہو۔ میری رگوں میں سما گئی ہو۔ میں کیسے ۔۔۔۔ کیسے تمہیں چھوڑ کر جائوں گا، اتنی جلدی؟۔۔۔۔ ابھی تو میں نے تم سے وہ سب کہا بھی نہیں جو مجھے تم سے کہنا تھا۔ کاش!۔۔۔۔ اے کاش! تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے سے پہلے مجھے معلوم ہو جاتا کہ میں چند ماہ کا مہمان ہوں تو میں کبھی تمہیں۔۔۔۔ اپنی زندگی میں شامل نہ کرتا۔ تمو! میں نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے نا۔۔۔۔!‘‘ ’’فار گاڈ سیک، افروز!۔۔۔۔ مت کریں ایسی باتیں ۔۔۔۔ کیوں کرتے ہیں اس طرح کی باتیں؟ ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا آپ کو۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘ تمکین نے تیزی سے مڑتے ہوئے کہا تھا۔ اُس کی لانبی گھنی پلکوں پر آنسو اب بھی اٹکے ہوئے تھے۔ رخسار بھیگے ہوئے تھے۔ خوب صورت کٹائو والے لب ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ ’’حقیقت کو قبول کیوں نہیں کر لیتی ہو تم؟‘‘ لمحہ بھر اُس کی طرف دیکھنے کے بعد افروز نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔ ’’ہر مرض کا علاج ہوتا ہے، افروز! کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی کے ہاتھ میں شفا ہو گی، آپ کے لئے بھی۔ ہم باہر چلے جائیں گے۔ وہاں کے ڈاکٹرز۔۔۔۔‘‘ ’’کچھ نہیں۔ کچھ فائدہ نہیں ہے تمکین!‘‘ افروز کے چہرے پر مایوسی تھی۔ ’’بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ وہ واپس مڑا۔ ’’کوئی نہیں۔ کوئی دیر نہیں ہوئی افروز!‘‘ تمکین نے بے قراری سے کہتے ہوئے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔ ’’آپ پلیز۔۔۔۔ آپ کیوں بات نہیں مان لیتے میری؟‘‘ ’’کوئی فائدہ نہیں، تمو!‘‘ اُس کے لہجے میں تھکن تھی۔ اُداسی تھی۔ ’’کیوں۔۔۔۔ کیوں فائدہ نہیں؟ کیا آپ کو دعائوں پر بھی یقین نہیں رہا؟ کیا آپ اللہ سے بھی نا اُمید ہو گئے ہیں؟‘‘ اُس نے اُس کا بازو جھنجوڑ ڈالا۔ ’’تمکین! میں تمہیں کیسے سمجھائوں میری جان! اب دعائوں کا بھی وقت نہیں رہا۔‘‘ اُس کے لہجے میں نرمی تھی اور وہ بہت دکھ اور افسوس سے تمکین کو دیکھ رہا تھا۔ ’’نہیں۔۔۔۔ نہیں جانے دوں گی میں آپ کو ۔۔۔۔ نہیں جا سکتے آپ مجھے یوں اس طرح چھوڑ کر۔ اگر یوں ہی ساتھ چھوڑ دینا تھا تو کیوں عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کئے تھے؟ کیوں کہا تھا کہ |
||