| Back | Home | |
||
|
’’ہے۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ سنو!‘‘
وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔ دانیال اونچے نیچے پتھروں کو پھلانگتا ہوا اس کی طرف آ رہا تھا۔ ’’آپ۔۔۔۔؟‘‘ تمکین کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ ’’ہاں، میں۔‘‘ وہ اُس کے بالکل سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ان دو سالوں میں وہ ذرا بھی نہیں بدلا تھا۔’’دانیال مرزا۔۔۔۔ مرزا سعادت بیگ کا اکلوتا شہزادہ۔۔۔۔‘‘ اُس نے تھوڑا سا سر کو خم کیا۔ ’’ٹھیک دو سال بعد آپ کے سامنے۔‘‘ تمکین، تیمور کا ہاتھ تھامے ساکت کھڑی تھی۔ ’’ہے۔۔۔۔‘‘ اس نے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا۔ ’’کیا سکتہ ہو گیا ہے؟’‘‘ ’’ہاں۔۔۔۔ نہیں تو۔‘‘ وہ چونکی۔ ’’آپ کیسے ہیں؟۔۔۔۔ کب آئے؟‘‘ ’’میں اللہ کے فضل و کرم سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ اور کب آیا، تو پاکستان آئے دو مہینے ہو گئے ہیں۔ البتہ پھلکوٹ۔۔۔۔‘‘ اس نے بغیر سانس لئے تیز تیز بولتے ہوئے تیمور کے رخسار کو تھپکا۔ ’’ہیرو! تم کیوں خاموش کھڑے ہو؟‘‘ ’’میں آپ کو سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔‘‘ ’’یہ تیمور ہے۔‘‘ تمکین نے بتایا۔ ’’مجھے معلوم ہے۔ میںنے تم سے کہا تھا نا کہ اگرچہ میں تم سے رابطہ نہیں رکھوں گا، لیکن تم سے بے خبر نہیں رہوں گا۔‘‘ ’’عقیل بھائی۔۔۔۔‘‘ تمکین کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔ ’’ہاں تو پھر کیا خیال ہے تمہارا؟‘‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ ’’کیا اب تم ذہنی طور پر تیار ہو مجھے قبول کرنے کے لئے؟‘‘ اور تمکین، جس نے متعددبار سوچا تھا کہ اگر دانیال آیا تو اُس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لے گی، تیمور کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔ ’کیا تیمور کے ہوتے ہوئے بھی۔۔۔۔؟‘ اُس نے سوچا۔ تبھی تیمور اُس کا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔
’’تیمور! سنبھل کر بیٹا۔‘‘
’’ڈونٹ وری مام!‘‘ وہ دور کھڑا ہنس رہا تھا۔ ’’تم تیمور کے لئے پریشان مت ہو۔ وہ مجھے بھی اتنا ہی عزیز ہو گا، جتنا تمہیں ہے اور تیمور کو بھی ضرورت ہے میری۔‘‘ ’’لیکن وہ۔۔۔۔‘‘ تمکین ہچکچائی۔ آج وہ اپنی بات پوری نہیں کر رہی تھی۔ ’’وہ میرا مسئلہ ہے۔ دیکھنا، وہ میرا سب سے بڑا حمایتی ہو گا اور تمہیں تو پھر وہ لفٹ ہی نہیں کرائے گا میرے ہوتے ہوئے۔‘‘ ’’جی نہیں، بیٹے مائوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔‘‘ بے اختیار ہی وہ بولی تھی۔ ’’تو اس کا مطلب ہے کہ میرا انتظار رائیگاں نہیں گیا۔‘‘ دانیال کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔ ’’لیکن وہ ساری پراپرٹی، پیسہ، جو افروز کا ہے، وہ میں ابھی سے تیمور کے نام کر دوں گی۔‘‘ اور اس نے بے اختیار قہقہہ لگایا تھا۔ ’’اگر یہ بات تم نہ کہتیں تو میں کہہ دیتا۔ تھینکس تمکین! ویسے مجھے بوا کے سامنے دامن پھیلانا چاہئے یا انکل شکیل سے درخواست کرنی چاہئے؟‘‘ تمکین نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔ وہ تیمور کو دیکھنے لگی تھی، جو نیچے ایک پتھر پر بیٹھا ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دانیال نے اس کی طرف دیکھ کر وکٹری کا نشان بنایا تو وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا اور چلّایا۔ ’’پاپا! کانگریجولیشن۔۔۔۔!‘‘ تمکین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’یہ۔۔۔۔ یہ تیمور کیا کہہ رہا تھا؟‘‘ ’’یار! کچھ نہیں۔ مبارک باد دے رہا ہے۔‘‘ دانیال نے معصومیت سے کہا۔ ’’بڑی گہری دوستی ہے ہماری۔‘‘ ’’لیکن یہ دوستی کب اور کیسے ہوئی؟‘‘ تمکین اُلجھی سی اُسے دیکھ رہی تھی۔ ’’اسی ایک ماہ میں، جب سے پھلکوٹ میں ہوں۔‘‘
’’آپ ایک ماہ سے یہاں ہیں اور مجھ سے ملنے آج آئے ہیں۔‘‘
’’تو تم سے تو پورے دو سال بعد ملنے کا وعدہ تھا نا۔۔۔۔؟’‘‘ دانیال اسی معصومیت سے کہہ رہا تھا۔ ’’اور آج ٹھیک دو سال بعد۔‘‘ اور تمکین کو ہنسی آ گئی۔ ’’آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ کیا بتایا آپ نے تیمور کو؟‘‘ ’’یہی کہ تمہاری مام مجھ سے ناراض ہو گئی ہیں اور تم دعا کرو کہ وہ راضی ہو جائیں اور یہ کہ میں بھی اس سے اتنا ہی پیار کرتا ہوں جتنا اگر اس کے افروز بابا ہوتے تو کرتے۔‘‘ تمکین کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔ وہ تیمور کے قریب پہنچ گئے تھے، جو آنکھوں میں چمک لئے سرخ چہرے کے ساتھ دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’شاید کتابِ زندگی میں یہی لکھا گیا تھا۔ ایسا ہی ہونا تھا۔ اس طرح۔‘ تمکین نے سوچا اور تیمور کا ہاتھ پکڑ کر بہت اطمینان اور سکون سے گھر کی طرف چلنے لگی۔ اور دانیال حسبِ معمول اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے تیز تیز بول رہا تھا۔ (ختم شد) |
||