’’سچ ہی تو کہا ہے نیک پاکباز روحوں کو بے بس کرکے شرافت کے دھوکے سے بہکانے والے کی شیطینت کی یہی سزا ہونی چاہئے۔ برتری کے نشے میں اندھا ہو کرمیں حاسد بن گیا اس اندھے پن کی سزا اندھا پن ہی ہونی چاہئے۔‘‘
’’تیمور… آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں؟‘‘
’’ٹھیک ہے نہیں کرتا لیکن پہلے تم مجھے معاف کرو اور رونا بند کرو۔‘‘ وہ بوجھل دل کے ساتھ نرمی سے مسکرایا۔
’’میں نے کہاناں مجھے معافی کی ضرورت نہیں۔‘‘ شاذیلا نے آہستگی سے ہاتھ چھڑائے۔ وہ گلابوں کی خوب صورت مہکتی سیج پر سحر انگیز مہکتی دلکش دلہن کے روپ میں مہندی‘ زیورات‘پھولوں سے سجی سجائی اس وقت تیمور کے ضبط‘ ایمان اور دل کی دنیا کو زیروزبر کئے دے رہی تھی۔ وہ منہ دکھائی کا تحفہ نازک بریسلیٹ حنائی کلائی پر سجاتے ہوئے بے توجہی سے مسکرایا۔
’’پھر کس کی ضرورت ہے؟‘‘
’’اعتبار کی۔‘‘ کیسی آس تھی حجاب آلود آنکھوں میں۔ تیمور کے دل کو پھر سے کسی ندامت کے شکنجے نے دبوچا اوراس کی جادو بھری خوابناک مخمور آنکھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے پھر سے کسی پچھتاوے کی نمی چمک اٹھی۔ مضبوط گلابی لبوں پر دھیرے سے اک اداس مسکراہٹ بکھر گئی۔ دولہا کے لباس میں مسحور کن روپ لئے شاذیلا نے اس کی سوگواریت کو دل سے محسوس کیا۔
’’تم جاننا چاہوگی مجھے تم سے محبت کب ہوئی؟‘‘
’’جب سے میں نے ہوش سنبھالا… یا شاید اس سے بھی پہلے اس وقت جب بنانے والے نے تمہیں تخلیق کرتے وقت مجھ سے کہا کہ تم صرف اس کے لئے ہو اور یہ صرف تمہارے لئے اور دنیا میں تمہیں دیکھتے ہی میرا دل… ‘‘ وہ بولتے بولتے جیسے کہیں بہت دور گم ہونے لگا۔
’’تیمور…آپ…آپ کی آنکھوں میں آنسو…؟ شاذیلا کی پکار پر وہ پھر سے اپنے مقام پہ آگیا۔
’’یہ آنسو گواہ ہیں کہ تم نے مجھے معاف نہیں کیا۔‘‘
’’آپ کا رتبہ مجھ سے معافی مانگنے کانہیں مجھے معاف کرنے کا ہے تیمور۔‘‘ وہ لجاجت سے بولی تو تیمور کو کچھ یاد آیا۔
’’ہاں…اور میں…تمہیں عمر بھر معاف نہیں کروں گا کہ تم نے میری محبت کو میری چاہت کو مجھ سے ہی چھپائے رکھا جو تمہارے پاس میری امانت تھی۔‘‘ تیمور مصنوعی خفگی سے بولا لبوں کے گوشوں میں مدھر مسکراہٹ دبی تھی۔ شاذیلا اس کی چمکتی نم آنکھوں ‘چمکیلے گھنے بالوں کی دلکش بنت سنگ دمکتے دل پسند چہرے کے تیکھے نقوش میں مچلتی مسکراہٹ سجیلے مہکتے سراپے سے نظریں چراتی پلکیں جھکاگئی۔
’’بتاتو دیا…سب کے سامنے۔‘‘ نازک ہونٹوں پر شرمگیں مسکان رقصاں تھی۔ لرزیدہ پلکیں‘ حیا آلود گلاب سے گال‘ اناری ہونٹ‘ تیمور یک ٹک مسحور ساتکے گیا۔ وہ لجا کر سمٹتی ‘ ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی۔ چوڑیوں کی کھن کھناہٹ میں تیمور نے اس کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے سرشار محبت کی سب نشانیاں اس کے عروسی روپ کو سونپنے سے ذرا پہلے بے اختیار سوچا تھا۔
وہ عمر بھر اپنے لئے ممنوعہ ناجائز پرائی عورتوں کے دل سے کھیلتا رہا اور اب باقی عمر کوئی اور اس کے دل کے ساتھ کھیلتا رہے گا اور وہ کوئی اور…اور کوئی نہیں اس کی شریک حیات تھی‘ اس کی اپنی جائز عورت‘ اس کی محبت۔ اس کی اپنی شاذیلا مگر جو کھیل وہ کھیلتا رہاتھا وہ حسد‘ بدی‘ برتری گمراہی کے اندھے جذبوں کے میدان میں کھیلتا رہاگناہ کا کھیل‘ مگر اب جو کھیل اس کے سنگ تاعمر محبت کھیلا کرے گی وہ حق وسچ کی پاکیزگی سے منور تھا ایمان کی روشنیوں سے روشن کھیل۔
ختم شد