Urdu Novels

Back | Home |  
نیم گرم پانی اسے ہلکا ہلکا سکون دینے لگا۔ کتنی ہی دیر وہ اس حلئے میں شاور کے نیچے کھڑی رہی۔ جبکہ اماں روبی کے واش روم میں گھستے ہی جلدی جلدی روم کی صفائی کرنے لگی۔ جب تک روبی واش روم سے فارغ ہوکر باہر آئی، اماں کافی حد تک روم کی صفائی کرچکی تھی۔ روبی روم میں ٹہلتے ہوئے بالوں میں برش کرنے لگی تو اماں نے باہر جاکر کھانا میز پر چن دیا۔ روبی بالوں میں برش کرنے کے بعد بیگ کندھے پر ڈالے فل تیاری کے ساتھ باہر آئی۔ برائے نام کھانا کھایا اور پھر بغیر بات کیے گھر سے باہر نکل گئی کہ آج کل بلال کی وجہ سے اس کو بھوک کم ہی لگتی تھی۔
روبی کے میز سے اٹھتے ہی اماں برتن سمیٹنے لگی۔ اچھی طرح جانتی تھی اب رات سے پہلے روبی کی واپسی نہیں ہوگی کہ آج ٹی وی کے لیے اس کی آخری ریکارڈنگ تھی۔ اور روبی نے اماں کو بتایا تھا۔ بے شک رات کا ایک بج جائے وہ آج اپنا کام مکمل کروانے کے بعد ہی آئے گی۔ حالانکہ رات نو بجے کے بعد اس نے کبھی شوٹنگ نہیں کی تھی۔
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ٹی وی ریکارڈنگ کی بجائے صرف اور صرف اپنے اس سفر کے بارے میں سوچ رہی تھی‘ جو اس کی زندگی کا اہم سفر تھا اور شاید آخری بھی۔ مگر سچی بات تو یہ تھی کہ ابھی خود روبی کو بھی اچھی طرح معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر کب شروع ہوگا۔ تاہم یہ طے تھا کہ وہ سفر اسی ہفتہ کے اندر اندر شروع ہوگا کہ ابھی ٹکٹ اوکے نہیں ہوئی تھی۔ بس روبی کا ایک فون سیکرٹری کو کرنے کی دیر تھی۔ یہ کام بھی ہوجاتا اور اس کے بعد کیا ہوگا، روبی ہونٹ دبا کر سوچنے لگی۔
شاید میں بھی سب کچھ بھول جائوں گی۔ یہ ملک، یہاں بسنے والے لوگ، اپنے گھر والوں کو تو وہ بہت پہلے کا ہی بھول چکی تھی۔ کیا بلال کو بھی بھول جائو گی یا بھول سکو گی؟ دل نے سرگوشی کی، تو روبی نے مارے کرب کے آنکھیں بند کرلیں۔
کیا جرم تھا اس کا؟ یہی نا کہ وہ بلال سے محبت کر بیٹھی تھی۔ اور بلال اس قدر بے رحم اور سنگدل ہوگا یہ وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ یہ بے رخی ہی تو تھی جو روبی کو اس مقام پر لے آئی تھی۔ وہ جو ایک شریف اور معزز خاندان کی بیٹی تھی، بہت نیک اور شریف ماں باپ کی اولاد، اور وہ خود بھی تو ایک سیدھی سادھی معصوم لڑکی تھی۔ مگر اب وہ کیا تھی۔ بظاہر ایک مشہور و معروف اداکارہ اور اندر سے کیا تھی، غلاظت کا ڈھیر۔ مزید کچھ سوچنے سے پہلے ہی وہ ٹی وی سٹیشن پہنچ گئی۔
ٹی وی کے لیے یہ روبی کی آخری ریکارڈنگ تھی اور وہ بے حد لیٹ ہوچکی تھی۔ یہی وجہ ہے گاڑی روکتے ہی وہ سیدھی سٹوڈیو چلی آئی۔ جہاں ڈرامے کا پروڈیوسر اپنے سٹاف کے ساتھ بے چینی سے روبی کا منتظر تھا۔ روبی کو دیکھتے ہی لیٹ ہونے کا شکوہ کیے بغیر مسکرا کر بولا۔
’’ آیئے آیئے میں آپ ہی کا ویٹ کررہا تھا۔‘‘ بہت مشکل سے اس نے روبی کو اپنے ڈرامے میں کام کرنے کو ایگری کیا تھا کہ روبی کی فلمی مصروفیت بہت زیادہ تھی۔ ڈرامے میں روبی کا رول کافی پاورفل تھا۔ اس لیے اپنا کردار سننے کے بعد وہ مان گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری میں تھوڑی لیٹ ہوگئی۔‘‘ روبی نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ حالانکہ بلال کی وجہ سے آج کل اس کا رسمی طور پر بھی مسکرانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔ کبھی وہ اس کی محبت میں پاگل ہوئی تھی۔ شاید اس لیے آج اس مقام پر تھی۔ ہاں یہ بلال کی محبت ہی تو تھی جو جب نفرت میں بدلی تھی تو روبی کو رسوائی کے اس مقام پر لے آئی تھی۔ اور بلال‘ جس نے روبی سے کھل کر اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا۔ اب روبی کی محبت میں پاگل ہورہا تھا۔ عجب اتفاق تھا۔ روبی کی محبت نفرت میں بدل گئی تھی، تو بلال کی نفرت شدید ترین محبت میں بدل گئی تھی۔ اتنی شدید محبت کہ اس کو نہ اپنے خاندان کی عزت کا خیال رہا تھا‘ نہ اپنی عزت کا۔ روبی کو حاصل کرنے کیلئے وہ سب کچھ کرنے، چھوڑنے کو تیار تھا۔ روبی کے انکار کے باوجود وہ روبی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا، بلکہ وہ سارا وقت روبی کے تعاقب میں رہتا تھا۔ روبی جہاں بھی جاتی وہ بھی وہاں پہنچ جاتا۔
اور روبی؟ وہ خوب اچھی طرح جانتی اور سمجھتی تھی کہ وہ اب بلال اور اس کے خاندان کے لائق نہیں رہی۔ یہ عزت، یہ دولت اور شہرت یونہی ہاتھ نہیں آئی تھی۔ شوبز بظاہر روشنیوں کی دنیا ہے مگر اندر سے گندگی کا ڈھیر۔ اگر روبی پہلے یہ جانتی تو کبھی گھر سے بھاگنے کی غلطی نہ کرتی۔ مگر اب تو ایک دلدل تھی‘ جس میں وہ پھنس چکی تھی۔ بلال اس کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے سب کچھ چھوڑ چکا تھا۔ مگر اب وہ سب ناممکن تھا، جو بلال چاہتا تھا۔
روبی نے سر جھٹک کر ان سوچوں سے پیچھا چھڑایا اور پروڈیوسر سے مزید چند باتیں کرنے کے بعد میک اپ روم کی جانب چلی آئی۔ روبی کو معلوم تھا، اگر وہ مزید کچھ دیر یہاں رکی تو دوسرے لوگ بھی آجائیں گے اور آدھا دن باتوں میں ہی ضائع ہوجائے گا۔ جبکہ اس کے پاس ضائع کرنے کو ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔ بہت کم ٹائم تھا اس کے پاس۔ جبکہ کرنے کو کام زیادہ تھے اور وہ جلد از جلد ہر کام مکمل کروانا چاہتی تھی۔
میک اپ سے فارغ ہوکر وہ سٹوڈیو میں آئی تو پروگرام کے مطابق ریکارڈنگ شروع ہوگئی۔ اور پھر باقی کا سارا دن تو کیا آدھی  رات بھی ریکارڈنگ کی نظر ہوگئی۔ پروڈیوسر نے اگرچہ کہا بھی تھا کہ باقی کا کام کل مکمل کرلیں گے کیونکہ اس کو بھی معلوم تھا کہ روبی رات 8بجے کے بعد شوٹنگ میں حصہ نہیں لیتی۔ مگر آج تو روبی خود ہی کہہ رہی تھی کہ بے شک آدھی رات بھی لگ جائے وہ آج اپنا سارا کام مکمل کروانے کے بعد ہی جائے گی۔ یوں کام جاری رہا اور جب ریکارڈنگ مکمل ہوئی تو روبی تھکن سے چور تھی۔ تاہم خوش تھی کہ یہ آخری کام بھی مکمل ہوگیا ہے۔





وہ تھکے تھکے بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے سٹوڈیو سے باہر آئی تو چائے تیار تھی۔ اگرچہ ڈرامے کے پروڈیوسر نے کھانے کی آفر کی تھی‘ مگر روبی نے شکریہ کے ساتھ انکار کردیا تھا۔ مگر چائے کی طلب شدید تھی اور سچی بات تو یہ تھی کہ گرماگرم چائے کے دو مگ پی کر اس کے دل و دماغ کو گہرا سکون ملا تھا۔
چائے سے فارغ ہوتے ہی بیگ کندھے پر ڈال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ پروڈیوسر سے الوداعی کلمات کہے اور پھر اپنی گاڑی کی جانب چلی آئی۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر ابھی وہ سیٹ پر بیٹھ ہی رہی تھی کہ نظر سامنے سے آتے ہوئے ذیشان پر پڑی۔ وہ قریباً بھاگنے والے انداز میں لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے سیدھا روبی کی جانب آرہا تھا۔ روبی گاڑی سٹارٹ کرنے کی بجائے گود میں دونوں ہاتھ رکھے چپ چاپ اس کو دیکھنے لگی۔ پھر جیسے ہی ذیشان قریب آیا۔ اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی روبی نے پوچھا۔
’’خیریت؟ تم اور اس وقت یہاں؟ کیا پھر کسی ٹی وی ڈرامے میں کام کررہے ہو۔‘‘ ذیشان نے اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’ڈیئر! کیا یہ سچ ہے کہ تم مستقل سکونت کے لیے بہت جلد امریکہ جارہی ہو۔ پلیز جلدی بتائو۔‘‘
’’ تم بات کرتے ہوئے ہربار میرا نام کیوں بھول جاتے ہو۔‘‘ روبی نے اس کو گھورتے ہوئے تلخی بھرے لہجے میں کہا۔
’’فضول باتیں مت کرو۔ روبی ڈیئر! میں جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو۔ پلیز!‘‘ ذیشان نے بے تابی سے پوچھا۔
روبی نے ایک نگاہ اس کو دیکھا۔ جانتی تھی وہ جب اس کے جانے کا سنے گا تو پریشان ہوگا کہ اس سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ روبی کا اعتبار‘ محبت تو کیا ہر چیز سے اٹھ گیا تھا۔
’’ہاں میں جارہی ہوں۔‘‘ روبی نے آہستگی سے اقرار کیا۔
’’مگر کیوں۔‘‘ ذیشان نے بے چینی سے پوچھا۔
روبی کا جی چاہا کہہ دے کہ وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھتی۔ مگر اس کی محبت کا خیال کرکے چپ رہی اور ذیشان نے کہا۔
 ’’یہ تمہیں اچانک بیٹھے بیٹھائے ملک چھوڑنے کی کیا سوجھی۔ یہاں تمہیں کسی چیز کی کمی ہے جو باہر جارہی ہو۔ عزت، دولت، شہرت ہر چیز تو ہے تمہارے پاس۔ پھر تم کیوں جارہی ہو، مگر…‘‘
’’سنو ذیشان! یہ عزت احترام والے الفاظ کتنی بار تمہیں منع کیا کم از کم میرے لیے استعمال نہ کیا کرو۔ تم اچھی طرح جانتے ہو ایک اداکارہ کتنی عزت دار ہوتی ہے۔‘‘ اس نے ذیشان کی بات کاٹ کر نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’پلیز روبی ڈیئر! تم آخر میری بات اور میرے جذبات کو سمجھتی کیوں نہیں ہو۔ جب تم نے نئی فلمیں سائن کرنی چھوڑ دیں اور باقی فلموں کا کام جلد ازجلد مکمل کروانے لگی تو میں سمجھا شاید اب تم شادی کے لیے رضامند ہوچکی ہو۔ مگر اب جب کسی اور کے منہ سے تمہارے جانے کا سنا ہے تو بہت دکھ ہوا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ میں جو تمہارا سب سے بہترین دوست ہوں تم نے مجھ سے یہ بات چھپائی۔ کتنے افسوس کی بات ہے بلکہ صدمے کی۔‘‘
روبی اس کی بات سن کر پھر چپ رہی کہ جانتی تھی وہ سچ کہہ رہا ہے۔
روبی کو خاموش دیکھ کر ذیشان نے پھر کہا۔ ’’بہرحال چاہے کچھ بھی ہو، میں تمہیں امریکہ ہرگز نہیں جانے دوں گا۔تم جانتی ہو نہ میں تم سے کتنی شدید محبت کرتا ہوں۔ تمہارے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہوں۔ نہیں ڈیئر! تم مجھے تنہا چھوڑ کر امریکہ نہیںجاسکتیں۔ کیونکہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں مجھ سے لازمی شادی کرنا ہوگی۔‘‘ اس کو واقعی روبی سے سچی محبت تھی۔
’’شادی اور وہ بھی ایک بدنام اداکارہ کے ساتھ۔‘‘ روبی نے کہا اور آنکھیں بھیگ گئیں۔ حالانکہ اب اس کو رونے سے شدید نفرت تھی کہ ایک عمر روتے ہوئے ہی گزری تھی۔
’’تم خود کو کچھ بھی کہو میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔‘‘ ذیشان نے محبت سے اس کا خوبصورت مخروطی انگلیوں والا ہاتھ تھام لیا۔ چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر جذبات سے بوجھل لہجے میں بولا۔
’’چلو یار! کسی ہوٹل میں چل کر بیٹھتے ہیں تاکہ آرام سے باتیں کرسکیں۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔‘‘ اور چاہنے کے باوجود روبی انکار نہ کرسکی۔ خاموشی سے فسٹ ڈور اوپن کردیا اور ذیشان جلدی سے اس کے قریب فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ حالانکہ وہ اپنی گاڑی میں آیا تھا مگر اس کو روبی کے سوا کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔ وہ بہرحال روبی کو روکنا چاہتا تھا۔
’’کیا بات ہے آج تمہارے باڈی گارڈ دکھائی نہیں دے رہے؟‘‘ ذیشان نے سیٹ سے ٹیک لگا کر تھوڑا سا ترچھا ہوکر محبت سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میں نے سب کی چھٹی کردی۔ اب جب سب ختم ہورہا ہے تو ان کی ضرورت بھی ختم ہوگئی تھی۔‘‘ روبی نے ونڈ اسکرین کے باہر دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بتایا۔ ’’گویا بہت جلد جانے کا پروگرام ہے۔ ذیشان نے عجیب سی حیرت زدہ نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔





’’کچھ خبر نہیں۔‘‘ وہ لاپروائی سے شانے اچکا کر بولی اور گاڑی ایک اچھے مگر نئے بننے والے ہوٹل کے باہر روک دی۔ پھر گاڑی بند کرکے وہ دونوں خاموشی سے اندر چلے آئے اور اپنے لیے ایک الگ سے کونے کی میز کا انتخاب کرکے وہ دونوں بیٹھ گئے۔ چند لمحے خاموشی رہی پھر ذیشان نے پوچھا۔
’’چائے پیو گی یا کافی؟ ویسے کھانے کا ٹائم ہے، کہو تو کھانا منگوا دوں۔‘‘
’’کھانا نہیں صرف کافی‘ چائے پی کر آئی ہوں۔‘‘ روبی نے کہا پھر آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔
’’سگریٹ۔‘‘ ذیشان نے سگریٹ کیس کھول کر اس کے سامنے کیا تو روبی چونک کرسگریٹ دیکھنے لگی۔
’’کیا سگریٹ بھی چھوڑ دیئے۔‘‘ ذیشان نے اس کو ہچکچاتے دیکھ کر پوچھا۔ تو نہ چاہتے ہوئے بھی لہجے میں ہلکا سا طنز شامل ہوگیا۔
’’نہیں، خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔‘‘ روبی نے ایک سگریٹ پکڑ کر ہونٹوں میں دبائی تو ذیشان نے جلدی سے ایک سگریٹ اپنے ہونٹوں میں دبائی۔ پھر اپنے لائٹر سے روبی کی سگریٹ سلگانے کے بعد اپنی سلگاتے ہوئے بولا۔
’’کل کی طوفانی بارش کے بعد موسم کافی خوبصورت ہوگیا ہے۔ مگر بے حد سرد بھی۔ اگر تمہارے جانے کی خبر نہ ملتی تو میں اس وقت بستر سے نکلنے والا نہیں تھا۔ آج میری کوئی شوٹنگ بھی نہیں تھی۔ مگر تمہارے جانے کی خبر نے مجھے بستر چھوڑنے پر مجبورکردیا۔
’’کیا ضرورت تھی اس وقت بستر چھوڑنے کی؟ صبح ہونے کا انتظار کرسکتے تھے۔‘‘ روبی نے ایک لمبا کش لے کر دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو ذیشان نے شکوہ کرتے ہوئے کہا۔
’’تمہارے جانے کی خبر سن کر میں بستر میں رہ سکتا تھا؟‘‘ اتنے میں ویٹر کافی لے کر آگیا۔ روبی نے جلدی جلدی دو تین کش اور لیے اور سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دی۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ بھاپ اڑتی گرماگرم کافی کے کسیلے گھونٹ حلق سے نیچے اتار رہی تھی جبکہ ذیشان اپنا مگ سامنے رکھے ایک بار پھر اس کو سمجھانے میں مصروف تھا۔
’’دیکھو ڈیئر! جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمہارا ملک چھوڑ کر امریکہ جانا محض حماقت ہوگی۔ تمہارے ساتھ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے کہو میں ہرطرح سے تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں اور اگر تم بدلتے ہوئے فلمی ماحول سے خوفزدہ ہو تو مجھ سے شادی کرلو۔ اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ فلمی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں تو تمہارے یقین اور اس سکون کے لیے میں وہ سب کرنے کو تیار ہوں جو تم چاہتی ہو، تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔ مہر تم جتنا چاہو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں اور کیا چاہیے تمہیں۔ تم آخر کھل کر کچھ کیوں نہیں کہتی ہو۔ پلیز! میری محبت اور میرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اگر تمہارے ساتھ کسی اور نے غلط کیا ہے تو اس کا بدلہ مجھ سے کیوں لیتی ہو۔ یا میری محبت پر یقین نہیں۔‘‘
’’محبت پتا نہیں کس کو کہتے ہیں یا کیا ہوتی ہے؟‘‘ روبی نے دکھ سے کہا۔
’’میں بتا سکتا ہوں۔ دکھا سکتا ہوں۔ تم یقین کرکے تو دیکھو۔ ایک موقع مجھے دے کر تو دیکھو۔‘‘ ذیشان نے جذباتی لہجے میں کہا۔
’’سنو ذیشان! تم خواہ مخواہ جذباتی ہورہے ہو۔ تمہارے کہنے سے میں رک نہیں سکتی۔ اپنی ضروریات بندہ خود ہی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ کوئی دوسرا نہیں۔ یہ تو صرف میں ہی جانتی ہوں کہ میرا ملک چھوڑ کر جانا کتنا ضروری ہے۔ اس لیے میں جارہی ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے سامنے کسی قسم کی وضاحت نہیں کرسکتی۔ یوں بھی یہ سفر میری زندگی کا آخری سفر ہے اور میں اس سفر کو تمہارے کہنے سے ملتوی نہیں کرسکتی۔‘‘ روبی نے پہلی بار ذرا خشک لہجہ اختیار کیا۔
’’آخری سفر؟ کیا مطلب؟‘‘ ذیشان نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں آخری سفر کیونکہ اس کے بعد میں کبھی لوٹ کر واپس یہاں نہیں آئوں گی۔ نہ زندہ، نہ ہی مردہ۔ وہیں دفن ہونے کا ارادہ ہے جہاں جارہی ہوں۔ تمہارا خلوص، تمہاری محبت اپنی جگہ مگر میں نے کہا نہ میں رک نہیں سکتی… ‘‘
اور دل میں سوچا ’میں تو اس کے لیے بھی نہیں رک سکتی جس کی محبت پر اب شک کی گنجائش ہی نہیں اور جس کو پانا کبھی میری زندگی کی اولین خواہش تھی۔ تمہاری محبت پر تو یقین ہی نہیں مجھے۔‘
’’تمہار ی ان باتوں کے باوجود آخری بار تمہیں سمجھانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اچھا نہیں روکتا میں تمہیں امریکہ جانے سے۔ صرف ایک بار کھل کر یہ بتا دو تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ وہ کیا حالات ہیں جن کی وجہ سے تم نے اچانک ملک چھوڑنے کا ہی فیصلہ کرلیا۔ میری محبت پر یقین نہیں، نہ سہی۔ دوستی پر تو شک کی گنجائش نہیں۔ پلیز! بتائو نا اصل بات کیا ہے؟‘‘ ذیشان میز پر کہنیاں ٹکائے آگے کو جھک آیا اور روبی کچھ دیر اپنے سامنے جھکے ذیشان کے چہرے کو دیکھتی رہی۔ پھر طویل سانس لے کر بولی      ؎

’’وہ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات میں‘‘
of 97 
Go