Urdu Novels

Back | Home |  
’’کیونکہ یہی مقدر میں لکھا تھا۔‘‘ روبی سسکی تو بلال نے کہا۔
’’روبی میں نے جو تم پر ہاتھ اٹھایا اس کے لیے مجھے معاف کردو۔ مجھے اپنے ہاتھ اٹھانے پر بے حد افسوس ہے۔ بس میں نے محسوس کیا کہ آج تم نرمی سے نہیں مانو گی تو یہ سخت رویہ اختیار کرنا پڑا۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں معافی کی۔ میں ان تھپڑوں کی حقدار تھی۔ اگر آپ وہ تھپڑ مجھے نہ مارتے تو میں نے اپنی مرضی کرلینی تھی۔‘‘ روبی نے کہا تو بلال مسکرا دیئے اور روبی نے پھر کہا ’’مگرتب درد بہت ہوا تھا۔’’ بلال نے کہا۔
’’آئی ایم سوری! آئو میں اس درد کا کفارہ ادا کروں۔ ‘‘ اور دونوں ہاتھوں میں نور کا چہرہ تھام کر اس پر جھکے تو یہ رات وصل کی رات بن گئی تھی۔
صبح وہ اٹھے تو نور ابھی تک بے خبر سو رہی تھی۔ وہ اٹھ کر سیدھے واش روم میں گئے۔ پھر ضروریات سے فارغ ہوکر ملازم سے ناشتہ لانے کا کہا۔ گھر والوں نے کل سے انہیں کھانا وغیرہ دینا بند کردیا تھا۔ بلال اب ان کی نفرت پر حیران ہوتے اور سوچتے اگر ان کو مجھ سے سچی محبت ہوتی تو میری خاطر نور کو بھی برداشت کرلیتے مگر وہ سب تو قدم قدم پر میری توہین کرتے آئے تھے۔ وہ ملازم کو ناشتے کے لیے بھیج کر واپس روم میں آئے تو نور بیڈ پر موجود نہیں تھی۔ گویا وہ بھی جاگ گئی تھی۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر آئندہ اپنے پروگرام کے بارے میں سوچنے لگے۔ دفعتاً انہوںنے قدموں کی آہٹ پر سر اٹھایا تو نور ٹاول سے بال خشک کرتی ڈرائنگ روم سے باہر آرہی تھی۔ بلال پر نظر پڑی تو ان کو اپنی جانب دیکھتے پاکر شرما کر چہرہ جھکا لیا تھا۔ بلال نے مسکراتی نظروں سے اس کو دیکھا اور کہا۔
’’جناب! آج شرمانے کا نہیں کام کرنے کا دن ہے۔‘‘ نور چونک کر ان کو دیکھنے لگی۔ بلال نے اس کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ پھر نور کے قریب بیٹھنے پر ہاتھ پکڑ کر اپنا پروگرام بتانے لگے۔ نور یہ سب سن کر سوچتی رہ گئی۔ وہ کتنی محبت کرتے ہیں اس سے۔ وہ اندر ہی اندر اس کو خوشی دینے کی کوششوں میں تھے۔
چار بجے کے قریب بلال نیچے آئے تو موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے سب لوگ باہر لان میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔ بلال کو دیکھتے ہی بیگم اخلاق نے آواز دی مگر وہ سنی ان سنی کرکے باہر چلے گئے۔ بیگم اخلاق مارے غصے کے کھول کر رہ گئیں۔ تاہم چند منٹوں بعد ہی بلال کی واپسی ہوئی تو بیگم اخلاق دھاڑیں۔
’’ تم نے سنا نہیں میں نے آواز دی تھی۔‘‘
’’جی فرمایئے امی جان!‘‘ بلال نے ادب سے پوچھا۔
’’تمہیں اس دن کہا تھا ہمارا گھر چھوڑ دو مگر تم ابھی تک یہیں ہو۔ کیا چاہتے ہو تم؟‘‘ ان کی بات سن کر بلال نے بھائی اور بھابی کو دیکھا وہ اگرچہ خاموش تھے۔ مگر ان کی یہ خاموشی ماں کی بات کی تائید کررہی تھی۔
بلال کوئی جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گئے تو بیگم اخلاق نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’بلال میری بات کی تمہاری نظروں میں کوئی اہمیت نہیں۔ مجھے سختی پر مجبور نہ کرو۔ چپ چاپ یہ گھر چھوڑ دو۔‘‘
بلال ایک بار پھر سنی ان سنی کرکے اوپر آئے۔ مگر واپسی میں ان کو دیر نہ لگی تھی۔ تاہم اب وہ اکیلے نہیں تھے۔ ان کے ساتھ ناصرف نور تھی بلکہ اماں بھی۔ بلال نے اٹیچی اٹھا رکھا تھا۔ نور نے بیگ اور اماں خالی ہاتھ تھیں۔ اچانک ہی سب لوگوں کی آنکھوں میں حیرت بھر گئی۔ وہ کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی ان لوگوں کو۔ ماں کے قریب پہنچ کر بلال رکے۔ تب سیاہ بادلوں کے بڑے بڑے ٹکڑے چلے آنے پر فضا میں اچانک تاریکی چھا گئی تھی۔ بلال نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔ پھر نور کو جو خوف سے کانپ رہی تھی کیونکہ اس موسم نے ہمیشہ نور کو دکھ دیئے تھے۔ اچانک تاریکی چھا جانے پر وہ خوفزدہ ہوکر سوچنے لگی کہیں بلال اس وقت بدل نہ جائیں۔ اگر ان کی امی نے روک لیا تو وہ رک نہ جائیں۔
بلال نے بغور ماں کو دیکھا تو نجانے کیوں دل بھر آیا۔ انہوں نے آنکھوں میں آنے والے آنسو ضبط کیے اور مدہم آواز میں کہا۔
 ’’امی جان! میں نہیں جانتا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر آپ لوگ مجھ سے اس طرح کا سلوک بھی کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں نے تو نفرت کی انتہا کردی۔ مجھے تو خود سے بھی شرم آنے لگی تھی۔ آپ نے گھر چھوڑنے کا کہا تھا۔ میں ہمیشہ کے لیے اس ملک کو چھوڑ کر جارہا ہوں کیونکہ میں یہاں کب سکون سے تھا۔ مگر تین ماہ تو مارے مجبوری کے کسی نہ کسی طرح کاٹنے تھے کہ فوراً واپس جاکر مجھے دوستوں سے مذاق نہیں بنوانا تھا کہ تین سال بعد چھٹی گیا اور تین ماہ بعد ہی واپس آگیا۔ مگر اب چھٹی ختم ہونے کے قریب آپہنچی تھی۔
اب تو آپ نہ بھی کہتیں تو ہمیں یہاں سے چلے جانا تھا۔‘‘ پھر وہ رکے گویا ضبط کی کوشش کررہے ہوں۔ پھر بولے۔ ’’یقین کیجئے امی جان! دکھ تو اس بات کا ہے کہ آپ کی خوشیوں کے لیے یہاں آیا مگر سوائے دکھوں کے کچھ نہ ملا۔ اگر میں وہاں رہتا تو کم از کم دکھوں کا یہ زہر میرے اندر نہ اترتا۔ آپ کو یقینا خوشی ہوگی کہ میں ہمیشہ کے لیے سعودیہ جارہا ہوں۔ آپ مجھے معاف کردیجئے گا کہ آپ کی بات نہ مان کر نفرت کا شکار ہوا۔ مگر اس کے باوجود امی جان! میں اپنے گھر میں آپ کا منتظر رہوں گا۔ آپ کا انتظار کروں گا۔
ہاں امی جان خدا کے مقدس گھر کے سامنے میں بھی ایک چھوٹا سا گھر بنائوں گا جہاں میں اور نور اپنے بچوں کے ساتھ اس یقین کے ساتھ آپ کا انتظار کریں گے کہ ایک نہ ایک دن آپ ہمیں دیکھنے ضرور آئیں گی۔‘‘ پھر وہ بنا رکے، بنا دیکھے باہر نکلتے چلے گئے۔ بھائی اور بھابی سے انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا۔





بیگم اخلاق اس کی باتوں کی گہرائی پر غور کر ہی رہی تھی کہ باہر گاڑی چلنے کی آواز آئی اور وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی باہر بھاگیں۔ مگر وہاں اب بلال نہیں تھا۔ دور ہوتی ان کی ٹیکسی کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اچانک بارش زوروں سے شروع ہوگئی مگر وہ ہر احساس سے عاری گل اور کمال سے بے پروا بڑبڑاتی رہیں۔
’’بلال! میں شاید تمہارے گھر نا آسکوں۔ میرے عظیم اور لاڈلے بیٹے بیشک میں آج اپنی تربیت پر فخر محسوس کرتی ہوں کہ میں نے تم ایسے فرشتے کو جنم دیا۔ میری دعا ہے نیکی کا جو دیا میں نے تیرے دل میں روشن کیا ہے وہ کبھی نہ بجھے۔ آج کے بعد کوئی پریشانی تمہارے قریب سے بھی نا گزرے۔ میں تم سے ملنے کبھی نہ آسکوں گی۔ مگر اپنی ہر دعا میں ہمیشہ تمہیں شامل رکھوں گی۔‘‘ پھر قدموں کی آہٹ ہوئی۔ انہوںنے مڑ کر دیکھا گل‘ کمال ان کے تینوں بچے ان کے بہت قریب آکھڑے ہوئے۔ مگر آج ان کو دیکھنے کا بھی حوصلہ ان میں نہیں تھا۔ وہ بنا کوئی بات کیے اپنے روم میں چلی گئیں۔

…٭٭٭…

جہاز سعودیہ کی طرف محو پرواز تھا اور نور اپنی گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس نے بلال کو وہ کونسا دکھ ہے جو نہیں دیا تھا۔ وہ باہر ہی باہر اس کی خوشیوں کے لیے کوشش کرتے رہے۔ جس کے نتیجے میں آج وہ آزاد تھی۔ اس نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے بلال کو دیکھا تو وہ مسکرا کر بولے۔
’’ایک بات بہت بار تم سے کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہ سکا کیونکہ تمہارا موڈ اکثر خراب رہتا تھا۔ مگر آج کہہ رہا ہوں اسے غور سے سننا۔‘‘
’’جی فرمایئے!‘‘ نور نے شوخی سے مسکرا کر پوچھا۔
’’دیکھو ڈیئر!‘‘ بلال نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’موسم آج پھر خراب ہے مگر اس کے باوجود ہم اپنی دائمی خوشیوں کے لیے اپنی منزل کی جانب جا رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ کسی بات میں شرک نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ وہم کہ یہ موسم ہمیشہ تمہارے لیے دکھ لے کر آتا ہے۔ اب ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ اسی موسم نے اب تمہیں خوشیاں بھی دی ہیں اور مجھے یقین ہے اب ہم صدا ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہیں گے۔‘‘
’’آئی ایم سوری! بلال آئندہ میں ایسا کوئی خیال اپنے دل میں نہ آنے دوں گی۔‘‘ اور بلال کے کاندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موندھ لیں۔ ایک عجیب سا سکون اس کے رگ و پے میں سرایت کررہا تھا مگر پھر اس نے سوچا میں خوش ہوں کیونکہ بہت پہلے اپنے گھر کو چھوڑ دیا تھا۔ مگر محض میری وجہ سے بلال کو اپنے گھر والوں سے دور ہونا پڑا۔ یہ سوچتے ہی اس کے آنسو بہہ نکلے۔ بلال نے چونک کر اسے دیکھا اور پوچھا۔ ’’نور تم رو رہی ہو مگر کیوں؟‘‘
روبی نے روتے روتے کہا۔
’’محض میری وجہ سے آپ کو اپنے گھر والوں کو چھوڑنا پڑا۔ کیا میں اتنی ہی بری ہوں کہ وہ لوگ مجھ سے محبت نہ کرسکے۔ مجھے قبول نہ کرسکے۔ جب میں سب کچھ بھول گئی ہوں تو پھر یہ لوگ کیوں نہیں بھول جاتے میری غلطی کو۔‘‘
اس کی باتیں سن کر بلال نے محبت سے اس کو دیکھا پھر کہا۔ ’’بری تم نہیں نور برا تو وہ فعل تھا جو تم سے سرزد ہوا۔ گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کو ہمارے معاشرے میں پھر کبھی عزت نہیں ملتی۔ محض ایک لڑکی کے گھر سے بھاگنے کی وجہ سے اس کے خاندان اور گھر والے معاشرے میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ان کو لوگوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ سو طرح کی رسوائی ہوتی ہے والدین کی۔ خاندان کی۔
گھر سے بھاگنے کا جرم کرنے والی لڑکیاں بعد میں توبہ کرکے کتنی بھی نیک اور پارسا بن جائیں۔ مگر صرف اس ایک فعل کی وجہ سے خاندان کو چھوڑ کر معاشرے میں موجود دوسرے لوگ بھی نہ تو ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نہ اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی شریف انسان ان سے ملنا پسند کرتا ہے۔ مطلب اب یہی دیکھو تمہاری وجہ سے میرے گھر والوں نے مجھے بھی ٹھکرا دیا۔ یعنی تمہارا جرم اتنا برا ہے کہ تم کو قبول کرنے کی بجائے مجھے ہی ٹھکرا دیا۔
لڑکیاں بہت نازک ہوتی ہیں۔ خاندان کی عزت ان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان کی ایک غلط حرکت سارے خاندان کو رسوا کر ڈالتی ہے۔ گھر سے بھاگنا چھوٹی بات نہیں نور! حالات کیسے بھی خراب کیوں نہ ہوں لڑکیوں کو گھر سے نہیں بھاگنا چاہیے۔ کیونکہ اس کے بعد ان کی اپنی زندگی بھی تو تباہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی باقی زندگی پھر بھاگتے بھاگتے ہی بسر ہوتی ہے۔ کوئی پکا ٹھکانا ان کو کبھی نہیں ملتا۔ نا تو پھر خاندان ہی اس لڑکی کو واپس قبول کرتا ہے اور نہ ہی معاشرے کے شریف لوگ۔‘‘ بلال اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے اور نور جو بڑی توجہ سے ان کی باتیں سن رہی تھی چونک کر بغور ان کو دیکھا۔ پھر پوری سنجیدگی سے پوچھا۔
’’بلال اگر یہ بات ہے تو پھر آپ نے کیوں قبول کیا مجھے؟‘‘
بلال اس کی بات سن کر مسکرائے پھر کہا۔
’’ایک تو اس لیے کہ تم گھر سے میری وجہ سے بھاگیں۔ اس حال کو میری وجہ سے پہنچیں۔‘‘ وہ رکے پھر ایک طویل سانس کھینچ کر بولے۔ ’’دوسرے دل کے ہاتھوں بھی مجبور تھا۔ لگتا تھا تمہارے بن میں





ادھورا ہوں۔ محبت کی تھی میں نے تم سے اور ہمیشہ تمہیں ہی محبت کروں گا۔ تم میری محبت ہو نا نور اور مجھے تم ہر حال میں قبول ہو۔‘‘ نور یہ سن کر رو پڑی پھر کہا۔
’’آپ پہلے کیوں نہیں آئے۔ اگر آپ بہت پہلے آجاتے تو یہ ذلتیں اور نئے نئے دکھ میرا مقدر جو بنے ہیں ان سے بچ جاتی کہ گھر سے بھاگ کر سکون کا ایک لمحہ میں نے بھی بسر نہیں کیا۔ ہمیشہ بے سکون رہی۔‘‘
’’بیتی باتوں پر کڑھنا اب فضول ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے بلال نے اپنی انگلیوں سے اس کی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو صاف کیے۔ پھر روبی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلاتے ہوئے محبت سے لبریز لہجے میں کہا۔
’’نور! آج کے بعد میں ان پیاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہ دیکھوں۔ جو جو دکھ تم نے اٹھائے ہیں ان کا مداوا میں اپنی ڈھیروں محبتیں تم پر نثار کر کے کروں گا۔ مگر رونا بالکل بھی نہیں۔ اب مسکرا دو۔‘‘ اور نور اس کی بات پر بے ساختہ مسکرائی تو بلال نے کہا۔
’’شاباش ! اب اچھی اچھی باتیں کرو اور سوچو بھی۔‘‘ مگر نور نے باتیں کرنے کی بجائے ایک بار پھر بلال کے کاندھے پر اپنا سر رکھ کر سکون سے آنکھیں موندھ لی تھیں۔

(ختم شد)
of 97 
Go