وہ یہاں، اس مفلوک الحالی میں اپنی زندگی بسر کرتی رہیں۔ اور اس باعزت، خوشحال خاندان کی دل و جان سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو اپنا کر، انہیں اپنے مرحوم شوہر کے سامنے سرخرو ہونے دیا۔
’’کون آیا ہے، بتول باجی۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
سامنے کوٹھڑی نما کمرے کے دروازے میں سے نکلتے ہوئے، آئمہ پوچھ رہی تھی۔ اور پھر جیسے وہیں کھڑی رہ گئی۔
ایک گہرے اطمینان کی سانس، ایاز کے لبوں سے آزاد ہوئی۔
’’شکر ہے، اللہ کا، تم یہیں ہو۔‘‘
’’تو پھر آپ کے خیال میں کہاں ہونا چاہئے تھا؟‘‘
وہ اُسے دیکھ کر چاہے جتنی بھی حیران ہوئی تھی، مگر اُس کی بات پر وہ حسبِ عادت چِڑ چکی تھی۔ ’’کسی ریل کی پٹڑی، یا پھر دریا میں جا کر چھلانگ لگا دیتی۔ یہ فکر ہو گی نا، آپ لوگوں کو تو۔‘‘
وہ بے ساختہ ہی ہنستا چلا گیا۔ جتنے شدید دبائو سے وہ ابھی ابھی آزاد ہوا تھا، اس کے بعد اُسے آئمہ کی کوئی بات، اب کبھی بری لگنے والی نہیں تھی، یہ طے تھا۔
ایک منظر، جو اُس کی نگاہوں میں بڑی دیر بعد روشن ہوا تھا، اس میں رنگ بھرنے کے لئے اب اُسے زیادہ وقت درکار نہیں تھا۔
ختم شد