’’بہت اچھا ہوا، جو تم یہاں آ گئے۔ آرام سے اپنا کورس مکمل کرو۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہو، بلاتکلف ہم سے، اماں سے یا کسی سے بھی کہہ سکتے ہو۔‘‘ ماموں دونوں ہی شفیق اور خوش مزاج تھے۔
یہاں ٹھہرنے کے بارے میں ایاز کی ہچکچاہٹ اور بھی کم ہونے لگی۔ کہیں بھی اکیلے رہنے کی نسبت یہاں کی ناخوش گواریت کہیں بھلی تھی۔
’’یہ آئمہ چلی گئی کیا؟‘‘ بڑے ماموں، اماں سے پوچھنے لگے تو ایاز کو اس معمہ کو حل کرنے کا پہلا سراغ مل ہی گیا۔
تو یہ آئمہ تھی۔۔۔۔۔۔ اس خوش حال اور خوش مزاج خاندان سے منسلک ایک دردناک کہانی کا آخری کردار۔
جس کا تفصیلاً ذکر اُس کی باتوں کے دوران حد درجہ شوقین اماں نے بھی کبھی نہیں کیا تھا۔ بس یوں ہی اور باتوں کے درمیان سرسری سا ذکر آیا تھا، کبھی ان دونوں کے بیچ۔
ایاز نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اس کھلے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا، جہاں سے وہ ابھی گئی تھی۔
’’میں نے آپ سے کہا بھی تھا کہ اس لڑکی پر سختی کریں۔ جب دل چاہا، منہ اٹھا کر چل پڑی۔ کسی سے پوچھنے کی ضرورت تک نہیں اسے۔‘‘
چھوٹے ماموں کا انداز زیادہ تند تھا۔
ایاز کو وہ، چھوٹی ممانی جیسے ہی لگے۔ جلدی غصہ میں آ جانے والے اور جلد ہی برا مان جانے والے۔
’’نو بجے اس کا آفس لگ جاتا ہے تو گھنٹہ بھر پہلے نکلنا پڑتا ہے۔‘‘ بڑی اماں، جو تھوڑی دیر پہلے اس پر ناراض ہو رہی تھیں، اب اُسی کی صفائی پیش کرنے لگیں۔
صاف لگ رہا تھا کہ یہ جھگڑا یہاں کافی پرانا ہے۔
’’رہنے دیں بس آپ۔ ہزار بار کہا ہے کہ پبلک ٹراسپورٹ نہ استعمال کیا کرے۔ سہیل کا آفس بھی اسی راستے پر ہے۔ وہ چھوڑ سکتا ہے، ہمارے ساتھ جا سکتی ہے۔ مگر بات سننا، ماننا سرشت میں ہو، تب نا۔‘‘
’’صبح ہی صبح موڈ خراب ہونا اچھا شگون نہیں ہوتا۔‘‘ ایاز نے اماں سے یہی سنا تھا۔
پتہ نہیں، چھوٹے ماموں نے بھی ایسا کچھ سن رکھا تھا یا نہیں۔
’’دیر ہو رہی ہے۔ اب کیا یہی قصہ لئے بیٹھے رہو گے؟‘‘ بڑے ماموں کے لہجے میں اُکتاہٹ سی تھی۔
وہ اپنے چھوٹے بھائی کا بالکل اُلٹ تھے۔ ایاز کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’تم کچھ خیال نہیں کرنا۔ یہ باتیں تو گھر میں چلتی ہی رہتی ہیں۔‘‘
جواباً اُسے بھی مسکرانا پڑا۔ کچھ بھی تھا، یہاں اپنائیت کا احساس گہرا تھا۔
اور گھر میں اگر بڑے کسی بات پر تنبیہ کرتے ہیں تو چھوٹوں کی درستی کے لئے ہی کرتے ہیں۔ اور یہ لڑکی آئمہ۔۔۔۔۔۔۔ جو ابھی ذرا دیر پہلے ہی اس پر بے بات برس چکی تھی، اس کو تو یقینا ضرورت بھی تھی۔
ایاز کو بالکل بھی برا نہیں لگا تھا۔
وہ جس کورس کے سلسلے میں یہاں آیا تھا، وہاں جوائن کرنے میں ابھی ایک دن بیچ میں اور تھا۔ سو اِس وقفے میں وہ اس شہر سے تھوڑی سی مانوسیت پیدا کرنا چاہ رہا تھا۔
اس وقت فراز اُس کی خاطر چھٹی کئے بیٹھا تھا، باقی لوگ بھی کم کوآپریٹو نہیں تھے۔
فراز، ٹیپو، سہیل بھائی، تینوں ہی بڑی تندہی سے اسے لئے گھومتے پھرے۔
اگلے دو دن اُسے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب گزر گئے۔ گھر والے اُس کی خاطر تواضع کے لئے بے چین تھے۔ مگر وہ انہیں دستیاب ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اُسے بہت دل لگا کر پکائی گئی بریانی، قورمے، کباب اور اسی طرح کی ڈھیروں چیزیں کھلا سکیں۔
وہ لوگ جہاں تہاں پھرتے اور جہاں کہیں کھانے کا وقت ہو جاتا، ذرا بھی دیر کئے بغیر یہ فرض بھی انجام دے ڈالتے۔
شہر میں قدم قدم پر فوڈ پوائنٹس کی بھرمار تھی، جہاں کے چٹخارے خود بخود روک لیتے تھے۔
مگر اب اس ذائقہ دار سلسلے کی روک تھام بھی ضروری ٹھہری تھی۔
’’آج رات کے کھانے پر سب کو وقت پر موجود رہنا ہے۔ شوما، چائنیز بنا رہی ہے۔‘‘
آفس سے آنے کے بعد جب جملہ گروپ، روز کی آوارہ گردی کے لئے فریش ہو کر نکلا ہی چاہتا تھا، آنٹی سلیا نے دھمکی آمیز لہجے میں اطلاع دی۔
’’سارا دن ہو گیا ہے، اس غریب کو لگے ہوئے۔ اب اگر تم لوگ اسی طرح غائب رہے تو میری تو بچی کا دل ہی ٹوٹ جائے گا۔‘‘
فراز، ٹیپو اور ایاز، تینوں ہی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نگاہوں ہی نگاہوں میں جو فیصلہ ہوا، وہ آنٹی سلیا کی مرضی کے عین مطابق تھا۔
آنسہ، شمائلہ، سلطانہ کے ارینج کردہ ڈنر میں وہ سب ہی ٹھیک سوا نو بجے ڈائننگ روم میں آ بیٹھے تھے۔
’’یہاں بیٹھنا ضروری تھا، کیا؟ وہیں کچن میں بھی تو آرام سے بیٹھ کر کھایا جا سکتا تھا۔‘‘ ٹیپو نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے کہا تو سب ہی فوراً متفق ہونے لگے۔
اصل میں کچن کی ان فارمل سی سیٹنگ کے وہ سب بے حد عادی تھے۔ خود ایاز کو بھی گھر میں سب سے اچھی جگہ وہی لگا کرتی تھی۔ لیکن آج اس سلسلے میں خصوصی ہدایات تھیں۔
’’سب لوگ یہیں بیٹھیں گے، آنٹی کی سختی سے ہدایت ہے، ورنہ شوما کے تیار کردہ کھانوں کی سخت توہین ہو گی۔‘‘
شنو آپا کا لہجہ بے حد رُوکھا ہو رہا تھا۔ دل ہی دل میں اُنہیں اس بات کا قلق تھا کہ ان کے محنت سے تیار کردہ بریانی، قورمے کو نظرانداز کرنے کے بعد آج وہ لوگ شمائلہ کے چائنیز کو کس درجہ اہمیت دے رہے ہیں۔ پتہ نہیں، کیسے۔ مگر ایاز نے ان کی وجۂـ ناراضی بغیر اُن کے بتائے ہی جان لی۔
’’وعدہ رہا۔ اگلے پورے ہفتے وہیں سب کھائوں گا، جو آپ نے فریزر میں جمع کر کے رکھا ہوا ہے اور چائنیز کا تو مجھے بالکل بھی شوق نہیں ہے، یقین مانئے۔‘‘
اپنے طور پر اس نے ان کی دل جوئی کرنا چاہی۔ شنو آپا جیسی خیال رکھنے والی ہستی کو اس طرح ناراض کرنا واقعی اچھا نہیں تھا۔
’’بات پسند، ناپسند کی نہیں ہے۔ اصل میں بدتمیز لوگوں سے سب ہی ڈرتے ہیں۔ میں بے چاری کسی کو کہہ بھی کیا سکتی ہوں، جو کوئی میری پروا کرے۔‘‘
وہ واقعی ناراض تھیں۔
ٹیپو، فراز اور ایاز تینوں کو ہی اُن کو منانا پڑا۔
’’اور آپ نے اپنا مقابلہ کیا بھی تو کس سے۔ آنسہ، شمائلہ، سلطانہ سے، جو سال میں ایک بار ہی تکلفاً یا مصلحتاً کچھ پکا لیتی ہیں۔ بے حد افسوس ہوا۔‘‘
ٹیپو کے کہنے پر وہ بے ساختہ ہی ہنس پڑیں۔
’’ویسے آج کا کھانا کس زمرے میں آتا ہے؟ تکلف کے، یا مصلحت کے؟‘‘
’’مجھ سے پوچھ رہی ہیں، یہ اتنی بڑی مصلحت سامنے بیٹھی ہے۔‘‘ ٹیپو نے ہاتھ سے ایاز کی طرف اشارہ کیا۔
شنو آپا پھر سے ہنسنے لگیں۔
ایاز کو تھوڑا عجیب سا لگا۔ اس طرح کی چھیڑ چھاڑ یا مذاق اُس کی زندگی کا حصہ نہیں بنے تھے۔ وہاں ددھیالی گائوں میں، جہاں بہت گنا چنا سا وقت گزارا کرتا تھا، کزنز میں اس طرح کی بے تکلفی پنپ نہیں سکی تھی۔ مگر یہاں جو یہ گروپ پہلی ملاقات سے ہی تشکیل پا چکا تھا، اس میں بڑی بے ساختگی تھی۔
’’خوامخواہ ہی۔‘‘ ایک جھینپی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ان لوگوں کی طرف دیکھا۔ ’’ویسے کچھ عجیب سا کنفیوژن نہیں ہے، تمہارے ہاں ناموں میں؟ ٹیپو اور فراز ہمیشہ شمائلہ سلطانہ کہتے ہیں اور سلیا آنٹی، شوما۔ سیدھا سیدھا نام کیوں نہیں لیا جاتا؟ اور خود آنٹی سلیا کا نام بھی۔۔۔۔‘‘
’’اب خود دیکھ لیں، مصلحت کوشی کا کامیاب نتیجہ۔‘‘
فراز نے اُس کی بات کاٹ کر شنو آپا کی طرف دیکھا۔
’’کھانا ابھی میز پر آیا نہیں اور دلچسپی کا اظہار سامنے آ گیا ہے۔ ابھی ناموں کا معمہ حل ہو جائے گا اور کل کو شخصیت کو سمجھنے کی کوشش شروع ہو جائے گی۔‘‘
اس بار شنو آپا بہت زور سے ہنسیں۔ تھوڑے فاصلے پر بیٹھی نانی اور ممانیوں کے گروپ نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر اپنی باتوں میں مصروف ہو گئیں۔
’’سلیا آنٹی کو نہ اپنا نام پسند ہے اور نہ شمائلہ کا۔ سلطانہ، شمائلہ دونوں ہی کو شارٹ فارم کر دیا ہے۔‘‘ شنو آپا بتانے لگیں۔
ایاز کو تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی۔
شمائلہ سے اس کی رسمی سی بات چیت ہوتی تھی، پر گھر میں چلتی پھرتی وہ ہر وقت ہی نظر آتی تھی۔ بظاہر بالکل سیدھی سادی، مشرقی روایتی لڑکی۔
اور سلیا آنٹی بھی کوئی ایسی خاص مختلف نہیں تھیں۔
دونوں ممانیوں کی نسبت وہ خاصی ایکٹو خاتون تھیں۔ سر پر اسکارف باندھے، وہ اکثر ہی باہر جاتی دکھائی دیتی تھیں۔ معلوم نہیں، ایسے کون سے کام تھے ان کے سر، جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔
ایاز کا دل چاہا کہ وہ ان کے بارے میں مزید کچھ پوچھے، مگر خاموش ہی رہا۔ جانتا تھا کہ اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالنے پر ان سب نے مذاق اُڑا اُڑا کر اُسے زِچ کر دینا ہے۔
کھانا بے شک مزے دار تھا۔
چکن منچورین، سویٹ اینڈ سار پرانز، فرائڈ رائس، چکن چلی وغیرہ وغیرہ۔
ذائقہ کا سارا کمال تازگی میں تھا۔
’’ہمارے کھانے ہر لحاظ سے زیادہ بہتر ہیں۔ انہیں جتنی بار بھی گرم کر کے کھائو، ذائقہ ہمیشہ ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے۔‘‘ شنو آپا یہاں بھی حب الوطنی کو کھینچ لائیں۔
شمائلہ اور سلیا آنٹی کو ظاہر ہے، ان کی بات کھلنا ہی تھی۔ سارا دن سبزیاں چھیلتے، کاٹتے گزر گیا تھا۔
’’اصل میں نا، شنو! تمہیں عادت ہے، مرچ مسالوں والے کھانوں کی۔ اوپر سے گھی کی بھرمار۔ ایسے کھانوں کو تو اچھا رہنا ہی ہوتا ہے۔ بھلے دس دن بعد نکال کر کھائو۔ دو دو اُنگل گھی اوپر جما
رہتا ہے۔ اور وہ بھی نقصان دہ۔‘‘
شنو آپا نے یوں ہی ایک بات کہی تھی۔ بحث کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، سو خاموش ہی رہیں۔
شمائلہ سب کے سامنے بڑھ بڑھ کر ڈشز رکھ رہی تھی۔ کئی بار ایاز کے سامنے بھی خصوصی طور پر بھی کچھ نہ کچھ رکھا تو کھانے سے زیادہ توجہ طلب اس کے ہاتھ لگے۔
بے حد سفید کلائیاں، جن میں بڑے اہتمام سے بہت ساری چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ ایک مستقل جھنکار تھی، جو اس کی موجودگی کا احساس دلائے ہی جاتی تھی۔
’’میری شوما بہترین کھانا پکاتی ہے۔ آج کل کے زمانے میں اتنی سلیقہ مند لڑکیاں دکھائی کہاں دیتی ہیں۔ اور گھر میں ٹِک کر رہنا تو محال ہے ان کے لئے۔‘‘
آنٹی سلیا مستقل کچھ اسی قسم کی باتیں کر رہی تھیں۔ ایاز نے صاف نوٹ کیا کہ بڑی اماں، کھانا کھاتے کھاتے رُک سی گئی تھیں اور شرمندہ سی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ جو کچھ آنٹی سلیا نے یاد دلانا چاہا تھا، اس میں وہ سو فیصد کامیاب رہی تھیں۔ چھوٹے ماموں ہلکے سے کھنکارے۔
’’یہ آئمہ ابھی تک آئی نہیں ہے نا۔‘‘ فردِ جرم عائد کرنے کے سے انداز میں پوچھتے ہوئے انہوں نے بطورِ خاص کسی کو بھی مخاطب نہیں کیا تھا۔ مگر یہاں ایسی متنازعہ باتوں کا جواب دینے کی ذمہ داری بخوشی چند لوگوں نے اُٹھا رکھی تھی۔ سو فوراً ہی ایک کھچڑی سی پکنی شروع ہو گئی۔
’’اس کے آنے جانے کا وقت کب مقرر ہوا ہے۔ جب جی چاہے نکل جاتی ہے اور جب چاہا گھر واپس آ گئی۔‘‘
’’اس کے لئے تو دن رات کی بھی قید نہیں۔ معلوم نہیں، ایسی کیا مصروفیت ہے۔‘‘
چھوٹی ممانی اور سلیا آنٹی کے خیالات اتنے ملتے جلتے تھے کہ الفاظ میں بھی معمولی سا ہی ردّوبدل ہوتا تھا۔
چھوٹے ماموں نے یک دم ہی غصے میں آ کر زور زور سے بولنا شروع کر دیا۔
’’تنگ آ چکے ہیں اس لڑکی سے۔ نہ معلوم، کن گناہوں کی سزا ہے، جو ہم اسے بھگت رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھگتیں گے۔‘‘
|