’’صالحہ آپا نتاشا واقعی بہت پیار ی ہے اور بڑی خاص ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے احسن بھائی کا دل عام جگہ بھلا اٹک سکتا ہے؟‘‘ میراں نے محبت سے کہا۔ نتاشا حیرت زدہ تھی، اسے ان ذومعنی باتوں کی سمجھ نہ آرہی تھی۔
پھر آفاق احمد بھی تو فون کر کے احسن کو آنے کے لئے کہہ رہے تھے۔
’’بس فوراً آئو کھانا ہمارے ساتھ کھائو بیٹا۔‘‘
ان کے لہجے میں محبت تھی، پیار تھا، مان تھا، خوشی تھی۔
’’ماں یہ سب کیا ہے؟‘‘ نتاشا نے گھبرا کر سعیدہ سے پوچھا۔
’’ماں سے کیا پوچھتی ہو، میں بتاتی ہوں۔ ہم نے تمہیں احسن کیلئے ان سے مانگ لیا ہے۔‘‘ صالحہ خاتون نے متانت سے کہا۔ ’’اب تم ان کے ہاں ہماری امانت ہو۔‘‘
’’واٹ۔‘‘ وہ اِک دم ہی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ہاں بیٹا، صالحہ بھا…‘‘ بھابی کہتے کہتے سعیدہ ایک دم ہی رُک گئی اور پھر جلدی سے بولی۔
’’تمہیں صالحہ اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں۔‘‘
’’یہ ممکن نہیں ہے ماں؟‘‘
اس نے تو دھماکہ ہی کر دیا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
آفاق احمد کو لگا تھا، جیسے انہیں بھرے بازار میں برہنہ کر دیا گیا ہو۔
’’ابی! یاد ہے جب احسن نے ہرنوں کا جوڑا بھیجا تھا، تو آپ کس قدر طیش میں آئے تھے اور… اور خود ہی نجانے کیا کیا کہانیاں گھڑ لی تھیں، جبکہ آپ کے خیال کا پر تو بھی میرے قلب و ذہن میں نہ تھا اور اب آپ مجھے اسی احسن کو سونپ رہے ہیں، اس وقت تو وہ معمولی اے سی تھا، آج وہ آپ کا ہم پلہ ہے واہ، مگر میرا فیصلہ آج بھی وہی ہے کہ میں بلند و بالا حویلی میں قید نہیں ہوں گی۔‘‘ نتاشا بے دھڑک بول رہی تھی اور زرّیں کو اس میں اپنی جھلک نظر آ رہی تھی۔
گئے دنوں کی زرّیں بھی تو ایسی تھی۔
بے حد بولڈ۔
ہر بات بے دھڑک کہہ دینے والی۔
مصلحت کی چادر کی بکل تو اس نے کبھی نہ اوڑھی تھی۔
سب خاموش تھے۔ سعیدہ اور آفاق احمد شرمندہ تھے۔ تب صالحہ اٹھیں، انہوں نے نتاشا کو اپنے ساتھ لگایا اور بولیں۔
’’بیٹا ! احسن میں کیا برائی ہے؟‘‘
’’آنٹی! احسن بہت اچھا ہے، مگر وہ جس فیوڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، میں اس کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ متانت سے بولی۔
’’تمہیں پتہ ہے اس کی ماں بہت غریب عورت ہے اور پھر احسن کی پرورش میں نے کی ہے، وہ تمہیں حویلی میں قید نہیں کرے گا، جہاں اس کی پوسٹنگ ہو گی، تمہیں ساتھ رکھے گا اور کوئی بات ہو تو کہو۔‘‘
صالحہ خاتون نے محبت سے کہا، وہ جان گئی تھیں کہ وہ محبتوں کی ترسی ہوئی ہے۔ بولڈ ہے اور ظاہر ہے حویلیوں میں ایسی لڑکوں کو کب پسند کیا جاتا ہے۔
’’میں قید نہیں ہونا چاہتی آنٹی۔‘‘
نتاشا کی خوبصورت آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔
’’میرا وعدہ ہے تمہاری مرضی کے بغیر کچھ نہ ہو گا۔‘‘ صالحہ نے اس کے گال کو چوما اور انگلی کی پور سے اس کے گال پر آئے آنسو صاف کیے۔
’’ٹھیک ہے پھر مجھے اعتراض نہیں ہے ابی۔‘‘ وہ باپ سے مخاطب ہوئی، رضا علی نے بھی نتاشا کا سر تھپتھپایا اور بولے۔
’’جہاں تمہارا دل چاہے رہنا۔ اپنے گھر کو اپنی مرضی سے سنورنا سجانا ، تمہیں کوئی روک ٹوک نہ ہو گی۔
’’میرا ’’زو‘‘ بھی ہو گا۔ وہ بچوں کی سی معصومیت سے بولی۔
’’آف کورس۔‘‘
رضا علی نے اسے لپٹا لیا۔
اور پھر احسن بھی آ گیا۔ کھانے کے بعد احسن اور نتاشا کی منگنی کر دی گئی تھی۔ آفاق احمد نے احسن کو اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر پہنا دی تھی، جبکہ صالحہ اور زرّیں تو پوری تیاری سے آئی تھیں۔ انہیں واقعی احسن کی پسند بہت پسند آئی تھی۔
صالحہ کو ذرا بھی یہ حسد محسوس نہ ہوا تھا، کہ نتاشا، ان کے شوہر رضا علی گیلانی کی پہلی محبت سعیدہ کی بیٹی ہے۔
انہیں پتہ تھا کہ رضا علی کی آخری محبت وہ ہیں، کہ گزرے دو ماہ میں رضا علی نے انہیں اتنی محبتیں دی تھیں، کہ لگتا تھا سارے دُکھو کا ازالہ کر دیا ہو۔ وہ خود کو نئی نویلی دلہن سمجھتی تھیں۔
زرّیں اور صالحہ کی خواہش پر وہ لوگ نواب پور آ گئے تھے اور یہیں تارا کا دسواں اور چہلم وغیرہ کیا گیا تھا۔ رضا علی گیلانی نے سب کو ہی انوائٹ کیا تھا اور کسی نے بھی ان سے کوئی سوال نہ کیا تھا۔ وہ جو ڈرتے تھے سکندر ماما سے وہ بھی کچھ نہ بولے کہ زرّیں نے انہیں منع کر دیا تھا اور جب ’’گھر والوں‘‘ کو اعتراض نہ تھا، تو وہ کیا کہتے؟ احسن کی منگنی کے بعد…
دوسرے روز وہ سب رتن پور گئے انس کا رشتہ لے کر، ساتھ انس بھی زبردستی گیا تھا۔
’’واہ میرا رشتہ لے کر جا رہے ہیں، میں نہ جائوں۔‘‘ وہ ضد سے بولا اور سراج اسے مسلسل چھیڑ رہا تھا۔
’’ابھی اگلے ہاں تو کریں؟‘‘ سراج بولا۔
جب احسن بھائی والا اتنا مشکل رشتہ ہو گیا، تو میرا یوں ہو گا۔‘‘ انس نے چٹکی بجائی۔
’’تم بھی وہاں دیکھ لینا، سنا ہے ساریہ کی چھوٹی بہن ماریہ بہت خوبصورت ہے۔‘‘
’’شرم کرو، میں تو اپنی ماں کی پسند سے شادی کروں گا۔‘‘
’’ماں کی پسند؟‘‘
انس نے پوچھا۔
’’جی بلکہ مائوں کی پسند سے جہاں بڑی ماں اور چھوٹی ماں کہیں گی۔‘‘ سراج نے کہا۔
’’مرضی ہے۔‘‘
انس نے کندھے اُچکائے۔
اور پھر واقعی انس کا رشتہ فوراً طے ہو گیا تھا۔
شاکر کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ سردار قادر خان بھی بیٹے کی خوشی میں خوش تھے۔
طے یہ پایا تھا کہ ساریہ اور انس کی تعلیم مکمل ہوتے ہی شادی کر دی جائے گی۔
جبکہ انس کہتا تھا، صرف اس کی تعلیم مکمل ہو، کیونکہ ساریہ کے تو ابھی تین سال پڑے تھے، جبکہ انس کا آخری سال تھا۔
مگر بڑوں کے آگے اس کی نہ چلی۔ ساریہ کو زرّیں نے انگوٹھی پہنا دی تھی، کہ وہ صالحہ کی خواہش تھی اور اس رات جب صالحہ ، رضا علی اور زرّیں کمرے میں موجود تھے، خوشیاں ان کے چہروں پر رقصاں تھیں، تب زرّیں بولی۔
’’میرے بچوں کی بھی نسبت طے کریں رضا۔‘‘
’’رضا میں چاہتی ہوں عمیر کے لئے میرو بہترین ساتھی ہو گی۔‘‘
’’ہاں مگر وہ تین سال بڑی ہے۔‘‘ رضا علی نے بتایا۔
’’اپنوں میں یہ فرق کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘ زرّیں نے بے پروائی سے کہا۔ ’’یوں بھی میرونازک سی ہے۔‘‘
’’تم جمال سے تو پوچھ لو۔‘‘ رضا علی نے یاد دلایا۔
’’انہوں نے بھلا کیا کہنا ہے؟ میری مرضی آخر عمیر ہمارا ہی بیٹا ہے۔‘‘
زرّیں نے کہا۔
’’جو تمہاری مرضی۔‘‘
رضا علی بولے۔
’’اورہ ملک صاحب راجو کے لئے عرفان کی الفت کیسی رہے گی؟‘‘
صالحہ خاتون نے پوچھا۔
’’سچ صالحہ آپا بہت پیاری ہے الفت، تو میرے راجو کا توڑ ہے۔‘‘ زرّیں خوشی سے چیخ پڑی۔
’’پہلے عرفان سے تو پوچھ لو۔‘‘ رضا علی نے کہا۔
’’آپ اس کی فکر نہ کریں۔‘‘ صالحہ نے مسکرا کر کہا، تو رضا علی انہیں دیکھ کر رہ گئے۔
کتنے اعتماد سے وہ کہہ رہی تھیں۔
’’عرفان میرے فیصلے سے انحراف نہیں کرے گا اور یوں بھی جب راجو، انس کے ساتھ لاہور آیا تھا، تو تب میرا جی چاہا تھا، کاش ہم ایک ہو جائیں، تو الفت کے لئے راجو سے بہتر کوئی نہیں۔‘‘
’’اور آپ کی دعائیں مستجاب ہوئیں؟‘‘
زرّیں بولی۔
’’خدا کا شکر ہے۔‘‘
’’صالحہ آپا… آپ نے مجھے معاف کر دیا نا؟‘‘
زرّیں نے کہا۔
’’کتنی بار کہوں۔‘‘ صالحہ نے اسے لپٹا لیا۔ ’’اگر تم نہ ہوتیں، تو شاید میں دوبارہ یہاں نہ آ سکتی۔‘‘ صالحہ بولیں۔ انہیں لگ رہا تھا، جیسے قدرت نے زرّیں کو ان کے گھر کا نگہبان مقرر کیا تھا۔
وہ پھر نواب پور کی حویلی میں اس کے وارثوں سمیت بس چکی تھیں اور اس پر وہ خدا کا جس قدر بھی شکر ادا کرتیں کم تھا۔
رضا علی کی طرف انہوں نے دیکھا، تو رضا علی کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا، کہ صالحہ خاتون نے نظریں چرا لیں۔ ان کے چہرے پر گال پھیل گیا اور رضا علی گیلانی نہایت حیرت سے صالحہ خاتون کے چہرے کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے ان پر نثار ہو رہے تھے، انہیں لگ رہا تھا ہولے ہولے ان کی تشنگی ختم ہوتی جا رہی ہو، بے قراریوں کو قرار مل گیا ہو، انہوں نے بیڈ کے کرائون سے سرٹیکا کر آنکھیں موند لیں۔
’’اب موت بھی آسان ہو گی۔‘‘
انہوں نے سوچا اور نہایت آسودہ مسکراہٹ ان کے لبوں پر کھیلنے لگی۔
ملن رُت نے اُن کے دل اور حویلی کے آنگن میں پھول کھلا دیئے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا، جیسے اِن پھولوں کی مہک سے سارا جہان مہک رہا ہو۔
(تمت بالخیر)
|