Urdu Novels

Back | Home |  

ان کی ماں جی سب کچھ دیکھتیں‘ وہ بیٹے کی مصروفیات جانتی تھی‘ مگر منہ سے بھاپ نہ نکالتیں۔ ’’خون کااثر تو ہوتا ہے نا؟‘‘ حلیمہ بی بی نے ساری زندگی ملک علی خاں گیلانی کی ’’ ایسی مصروفیات‘‘ سے چشم پوشی کرتے ہوئے گزار دی تھی‘ کبھی وہ ان سے اپنے حقوق کے بٹوارے پر نہ لڑی تھیں‘ تو بھلا بیٹے سے کیا کہہ سکتی تھیں‘ جس کا ہر انداز اور ہر ادا باپ والی ہی تھی‘ البتہ انہوں نے بارہا خاموش نظروں سے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
جب وہ اپنے شغل سے فارغ ہو کر رات کے اس لمحے آتے، جب رات پچھلے پہر آخری دموں پر ہوتی‘ ماں جی کو گول ستونوں والے وسیع برآمدے میں ٹہلتے دیکھ کر رضا علی تھوڑی دیر کو شرمندہ ضرور ہوتے‘ مگروہ شرمندگی بس چند ساعتوں کی ہوتی۔ پھرگزری رات کا کیف ان پر مستی کی چادر ڈال دیتا۔
ماں جی چاہتی تھیں وہ شریف مردوں کی طرح مغرب سے پہلے گھر آ جائیں‘ مگر رضا علی نے کبھی بھی ان کی اس خواہش کااحترام نہ کیا تھا۔ ان کی راتیں تو ڈیرے پر گزرتی تھیں اور ڈیرے پر جو کچھ ہوتا تھا ماں جی جانتی تھیں۔
ثمینہ گیلانی‘ رضا علی کی بہت چہیتی اور لاڈلی بہن تھی۔ ماں جی کے علاوہ تمام رشتہ داروں کی مخالفت کے باوجود انہوں نے ثمینہ کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا تھا۔ وہ ہمیشہ ثمینہ کے لئے ڈھال بنتے تھے‘ اس کی خواہشات کی تکمیل کا سبب بنتے تھے۔
مگر اب مشکل نظر آ رہا تھا کہ وہ اس کی ڈھال بنیں‘ کیونکہ اس نے خود ہی تمام تیر اپنے ترکش سے نکال کر رضا علی کے دل میں اتار دیئے تھے۔ اتنا حوصلہ کب کسی میں ہوا تھا کہ وہ رضا علی کو دُکھی کرتا، مگر ثمینہ نے ایسا کیا تھا۔
ثمینہ امتحان سے فارغ ہو کر نواب پور آئی تھی اور دوسرے ہی دن حفیظ بیگم بھی نواب پور آ گئیں۔ پھوپھی کی آمد نے رضا علی کی روح کے تاروں کو چھیڑ دیا۔ سعیدہ کا تصور ان کے وجود کو گرما گیا۔
’’ سنا تم نے رضا‘ اگلے ماہ نادر آ رہا ہے۔‘‘ رات کوکھانے کی میز پر انہوں نے اطلاع دی۔
’’ واقعی۔‘‘ رضا علی نے اپنی خوشی بڑی مشکل سے چھپائی۔
’’ ہاں اب مجھے تاریخ دے دو۔ نادر کے آتے ہی میں چاہتی ہوں کہ شادی ہو جائے۔ میں اپنی بہو لے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ مسکرائیں۔
’’ پھوپھی جی! ابھی تو ثمینہ آئی ہے۔ کچھ دن اسے رہنے دیں میرے پاس بھی‘ ویسے تو آپ کی امانت ہے۔‘‘ رضا علی بہن کی محبت میں بھرپور لہجے میں بولے۔
’’ اب بس رضا میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘ حفیظ بیگم نے مضبوط لہجے میں کہا۔ پھر حلیمہ بی بی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’ تم جلد از جلد اپنے گھر کی رونق لے آئو بھرجائی اور میں اپنے آنگن کا چاند لے جاتی ہوں۔‘‘
انہوں نے محبت پاش نظروں سے رضا علی کو دیکھا تو وہ سر جھکا کررہ گئے اور ثمینہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔
حفیظ بیگم یہی سمجھیں کہ وہ شرما گئی ہے‘ مگر اس کی آنکھوں میں تو ریت چبھ رہی تھی۔ دل اندرہی اندر بیٹھا جا رہا تھا اور حفیظ بیگم کے فیصلوں پر روح گھائل ہو گئی تھی۔
ثمینہ کے دل پربرف جیسا بوجھ آن پڑا تھا۔ ’’ اگر لالا نے تاریخ دے دی تو…؟ کیا میرے خواب بکھر جائیں گے؟ آشائیں مٹ جائیں گی؟‘‘
’’ تمنائوں کے پھول مرجھا جائیں گے؟ نادر خان کی بن کر تو میں ساری زندگی کی کسک اور جلن کو اپنے دل کامہمان بنا لوں گی۔ کیا میں اپنے دل کی دھرتی کے آسمان عرفان صدیقی کو بھول سکوں گی؟‘‘
’’ نہیں نہیں۔‘‘ ثمینہ تڑپ کر رہ گئی۔ عرفان صدیقی سے جدائی کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ عرفان تو اس کے روئیں روئیں پر قابض تھا۔ ہر سانس میں کوکتا تھا۔ دھڑکنیں اسی کا نام الاپتیں‘ اس کا تو پور پور عرفان صدیقی کی محبت کے آبشار میں بھیگ چکا تھا۔ وہاں تو نادر خان کی کوئی جگہ بھی نہیں نکل سکتی تھی۔
’’ میں… میں نادر خان کی نہیں بنوں گی۔‘‘ ثمینہ نے ہاتھ مسلتے ہوئے خود سے کہا‘ ’’میں مر جائوں گی عرفی‘ اگر تمہاری نہ بن سکی۔ میرے نام کے ساتھ صرف تمہارا نام ہی لگے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ تم نے مجھے چھوا ہے تو پائوگے بھی تم‘ دل تمہارا ہے تو جسم بھی تمہارے اختیار میں دینا چاہتی ہوں۔ یہ میری سب سے بڑی خواہش ہے‘ عرفان صدیقی‘ کہ میں تمہاری کہلائوں… ہاں عرفی صرف تمہاری‘ تمہارے نام سے پہچانی جائوں‘ تم بن مر جائوں گی عرفی‘ میں لالا سے کہہ دوں گی‘ خواہ وہ مجھے شوٹ ہی کر دیں۔ نادرکی بن کر تو مجھے روز مرنا ہو گا۔ لالا ایک ہی بار مجھے مار دیں گے نا؟ مجھے پروا نہیں…‘‘  ثمینہ نے یہ سب سوچتے ہوئے دریچے سے سر ٹکا دیا۔
ادھر رضاعلی گیلانی نے حفیظ بیگم سے کہا ’’ پھوپھی جی گھرہی کی تو بات ہے‘ نادر آ جائے تو تاریخ رکھ لیں گے۔ بس تیاریاں آپ بھی شروع کریں اور ہم بھی‘ کیوں ماں جی؟‘‘
’’ ہاں حفیظ‘ صحیح کہہ رہا ہے رضا‘ نادر کو آنے میں دیر سویر ہو جائے اور وہ اگر مقررہ تاریخ کو نہ پہنچ سکے‘ بس وہ آ جائے تو تاریخ بھی طے کرکے آ جانا‘ ہمیں تو بس اطلاع دے دینا۔‘‘ حلیمہ بی بی نے رسانیت سے کہا تو یہ بات حفیظ بیگم کی سمجھ میں بھی آ گئی‘ تبھی تو انہوں نے کہہ دیا تھا۔






’’ ہاں یہ صحیح ہے۔‘‘

…٭٭٭…


ملک رضا علی اپنی خواب گاہ میں رنگین پایوں کے بڑے سے پلنگ پر گائو تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ سامنے ہی ان کے رجسٹر کھلا پڑا تھا اور قریب ہی ان کا منشی نور دین ہاتھ باندھے کھڑا انہیں فصل کی رپورٹ دے رہا تھا کہ کتنا منافع ہوا اور اس نے ٹیکس سے بچنے کے لیے رجسٹر میں کیا لکھا ہے۔ ’’ اصلی‘‘ اور ’’ نقلی‘‘ دونوں رجسٹر ان کے پاس تھے۔ اصلی وہ رجسٹر تھا جس میں بالکل صحیح حساب کتاب ہوتا اور نقلی رجسٹر صرف حکومت کے کارندوں کو دکھانے کے لیے ہوتا تھا۔
کھٹکے کی آواز پر ملک رضا علی گیلانی نے سر اٹھایا۔ دروازے کے بیچ و بیچ ثمینہ کھڑی تھی۔
’’ تم جائو نور دین صبح ڈیرے پر مل لینا‘‘ انہوں نے رعونت سے کہا‘ نور دین نے رجسٹر اٹھایا‘ جھک کر سلام کیا اور نظریں جھکائے جھکائے خواب گاہ سے نکل گیا۔ رضا علی بھی پلنگ سے اٹھے اور ہولے ہولے چلتے ہوئے ثمینہ کے قریب پہنچے۔ اپنے لہجے میں محبتوں کا امرت گھولتے ہوئے انہوں نے کہا۔
’’ خیر تو ہے ثمی؟‘‘ رضا علی نے بہن کا ہاتھ تھام لیا‘ جو یخ ہو رہا تھا۔ وہ چونک سے گئے۔ ثمینہ کے ہاتھ کی ٹھنڈک ان کے وجود میں اتر گئی۔
’’ کیا بات ہے؟ تمہارے ہاتھ اس قدر ٹھنڈے کیوں ہو رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔ ثمینہ نے بھائی کی طرف دیکھا۔ ثمینہ کی آنکھوں میں آنسوئوں کی چمک تھی۔
’’ ثمی میری جان مجھے بتائو کیا بات ہے‘ ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا؟‘‘ رضا علی نے ثمینہ کو بازوئوں کے حصار میں لیا‘ تو ثمینہ نے بھائی کی چوڑی چھاتی پر سر ٹکا کر آنسوئوں کی نہر ہی تو بہا دی۔ اس کا دل بے تحاشا رونے کو چاہ رہا تھا۔
’’ ثمی کیا ہوا‘ بتا نا؟‘‘ رضا علی کا دل انجانے خدشوں سے دھڑکنے لگا۔ وہ اسے ساتھ لگائے لگائے پلنگ تک آئے اور اس کے آنسو اپنی انگلی کی پور سے صاف کرتے ہوئے بولے۔
’’ جلدی بتا ثمی‘ ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا؟‘‘
’’ لالا!‘‘ثمینہ نے ہونٹوں کے بھنور سے یہ لفظ نکالا۔
’’ بولو لالا کی جان۔‘‘
’’آپ میری بات مانیں گے؟‘‘
’’ کبھی تمہاری بات ٹالی ہے۔‘‘
’’ لالا آپ وعدہ کریں کہ آپ میری خواہش کا احترام کریں گے۔‘‘ ثمینہ سسکتے ہوئے بولی۔
’’ وعدہ! جو تم کہوگی میں وہی کروں گا۔‘‘ وہ بغیر سوچے سمجھے بولے۔ یوں بھی ثمینہ کے آنسو دیکھ کر ان کادماغ بھک سے اڑ ہی جاتا تھا۔
’’ لالا میں نادر سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘ ثمینہ نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر اپنے وجود کی ساری ہمتیں مجتمع کرکے کہا۔ اس نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا تھا‘ مگر وہ بھائی کا چہرہ نہ دیکھ سکی‘ جہاں ایک ہی وقت میں کئی رنگ آ کر گزرے تھے۔
رضا علی کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ایک لمحے کی تاخیرکئے بغیر ثمینہ کا گلا گھونٹ دیں‘ جس طرح اس نے اپنی غیرت اور شرافت کا گلا گھونٹ کر نادر خان سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا‘ مگر دوسرے لمحے وہ سفاک لمحہ آ گیا جس نے رضا علی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’ کیا تم بہن کی بات نہ مانو گے رضا؟ وہ بہن جو بہت پیاری ہے… زندگی کے ہر موڑ پر تم نے اس کی ہر خواہش پوری کی اور یہ جو اس کی آئندہ زندگی کی خوشیوں کا اس پر انحصار ہے‘ کیا تم بہن کو خوشیاں نہ دوگے؟ اس کو بے مراد کروگے جبکہ تم اس سے وعدہ کرچکے ہو۔‘‘ ملک رضا علی گیلانی کے دل میں طوفان اُٹھ رہے تھے اور وہ سوچوں کے جزیروں میں جا نکلے تھے۔ انہوں نے گہری سانس لی اور ثمینہ کو دونوں بازوئوں سے تھام کر اس کے چہرے کو تکتے ہوئے انکار کی وجہ تلاش کرنے لگے۔
ثمینہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور اسے محسوس ہو رہا تھا کہ رضا علی کی نظریں برچھیوں کی طرح اس کے چہرے کے پار ہوئی جا رہی تھی۔
’’ ثمینہ۔‘‘ رضا علی کے لب کانپے‘ آج پہلی بار انہوں نے بہن کو ثمن یا ثمی کے بجائے اس کا نام لے کر پکارا تھا اور یہ ان کے غصے کی دلیل تھی۔ ثمینہ کچھ نہ بولی۔ رضا علی نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹا لیے اور رخ موڑ کر کھڑے ہوگئے۔ ان کے اندر جو توڑ پھوڑ مچی ہوئی تھی‘ اس نے انہیں بے حال کر دیا تھا۔ وہ دل کے درد کو سنبھالتے ہوئے پلنگ پر بیٹھ گئے‘ کمرے میں سکوت کی چادر تنی ہوئی تھی‘ دونوں موجود تھے لیکن کمرے میں موت کا سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد رضا علی کی آواز نے اس سکوت کی چادر میں شگاف ڈالا۔ وہ بارعب لہجے میں کہہ رہے تھے۔






’’ ثمینہ! لڑکیاں انکار اس وقت کرتی ہیں‘ جب انہیں کوئی اور پسند ہو۔‘‘ وہ لفظ کوئی اور پر زور دے کر بولے۔ ’’ کیا خیال ہے‘ میں صحیح سمجھا ہوں نا؟‘‘
ثمینہ کاجھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔ مجرم ہونے کا یہی ثبوت کافی تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں پھر بہتی ندی بن گئیں۔
’’ مت رو ثمینہ!‘‘ رضا علی کی بھاری آواز گونجی۔ ’’ تمہیں علم ہے کہ تمہارے آنسو میری سب سے بڑی کمزوری ہیں‘ یہ مجھے خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتے ہیں‘ جس طرح تم نے ہمت کر کے نادر جیسے ذہین و فطین اورمحبت کئے جانے کے قابل شخص سے شادی کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح‘ اسی ہمت اور اسی دلیری سے مجھے اس شخص کا نام بھی بتا دو‘ جس کی محبت اور جذبے نادر سے بڑھ کے ہیں۔‘‘ ان کا لہجہ جذبات سے عاری اور کھوکھلا تھا۔ ثمینہ سر جھکائے رہی کچھ بھی تو نہ بولی اور رضا علی چاہتے تھے کہ وہ کچھ کہے‘ کچھ بولے۔ تبھی تو وہ کڑک کر بولے۔
’’ کہو کچھ ثمینہ مجھے خاموشی کی مار مت مارو‘ کون ہے وہ…؟‘‘
ثمینہ نے جھکا ہوا سر اٹھایا۔ رضا علی کے جذبات سے عاری چہرے کی طرف دیکھا اور سوچنے لگی۔
’’ کیاخبر مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر مل جائے… لالا مان جائیں…‘‘ اس نے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں رضا علی کو عرفان صدیقی کے بارے میں سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا۔
’’ کیا وہ ہمارا ہم پلہ ہے؟‘‘ رضا علی نے ثمینہ کو خاموش دیکھ کر خود ہی سوال کر ڈالا۔
’’ اگر ہم پلہ ہوتا تو اب تک آ نہ گیا ہوتا۔‘‘ ثمینہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔
’’ ہوں!‘‘ انہوں نے ہنکارہ بھرا اور بولے۔ ’’ ملاقات کہاں ہوئی؟‘‘
’’ میری ایک دوست ہے امبر‘ اس کے بھائی کا دوست ہے وہ۔‘‘
’’ یعنی ان کے ہاں…‘‘ رضا علی کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
’’ جی۔‘‘ ثمینہ نے دوبارہ سر جھکا لیا۔
’’تم نے میری محبت کا صلہ بہت غلط انداز میں دیا ہے ثمینہ‘ خیر! وہ کرتا کیا ہے؟‘‘
’’ پچھلے سال ایم اے کیا تھا۔ بینک میں آفیسر ہے۔‘‘ ثمینہ نے بتایا۔
’’ تم نے اچھا برُا سوچ تو لیا ہے نا؟ کہیں وہ تمہیںسیڑھی تو نہیں بنا رہا؟‘‘
’’ آپ اس سے مل لیں لالا‘ آپ کو پتا چل جائے گا کہ۔‘‘
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی رضا علی ہاتھ اٹھا کر بولے۔ ’’ کیا تم اس کی غربت کو بھی اس کی طرح اپنا لو گی؟‘‘
’’ ہم دونوں میں بہت انڈراسٹینڈنگ ہے۔‘‘
’’ ہونہہ! انڈراسٹینڈنگ۔‘‘ رضاعلی کے لبوں پر زہرخند پھیل گیا۔
’’ اس نے تو مجھے منع کیا تھا۔‘‘
’’ کیا منع کیا تھا؟ کیا تم آگے بڑھی تھیں؟‘‘ رضا علی نے سخت لہجے میں پوچھا۔
’’ نہیں جی‘ بڑھا تووہی تھا…‘‘ ثمینہ کانپ کر رہ گئی۔ ’’ پھر شاید اس نے امبر سے ذکرکیا تو امبر نے اس سے کہا ہو گا‘ تبھی تو اس نے مجھ سے کہا تھا کہ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نہیںلگ سکتا۔‘‘
’’ اس کا مطلب ہے کہ وہ حقیقت پسند ہے۔‘‘
’’جی لالا مگر…‘‘ ثمینہ دوپٹے کاپلو لپیٹنے لگی۔
’’ مگر کیا؟‘‘ رضا علی ابرو چڑھا کر پوچھ رہے تھے۔
’’ آپ کو تو پتا ہے کہ میں جو چیز پسند کرتی ہوں‘ اسے حاصل کر کے دم لیتی ہوں اور عرفان صدیقی بھی میری پسند ہے۔‘‘
’’ مگر ہر پسندیدہ شے پانے کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’ لیکن لالا آپ نے ہمیشہ میری پسندیدہ شے مجھے دی ہے۔‘‘
’’ یہی تو سوچ رہا ہوں کہ کہاں غلطی ہوئی ہے۔‘‘

of 139 
Go