’’کیا…توپھر؟‘‘ وہ پھیلی آنکھوں سے حواس باختہ تھی۔
’’تو پھر مجھ سے ہوا ہے۔ میں نے کہا تھا نا کہ میرا تم سے وعدہ ہے محبت تم سے کی ہے تو شادی بھی تم سے کروں گا دیکھ لو کتنا سچا ہوں میں اپنی محبت میں بقول شاعر
میں اپنے عشق میں سچا ہوں اور کہتا ہوں
میرے لہو میں بہت زہر ہے رقابت کا
ہزار اس نے چاہا میں بکھر جاؤں
پر میں نے صبر کیا، صبر بھی قیامت کا
تم سے محبت کی ہے۔ تمہارے احمقانہ انکار پر بہت غصہ آیا‘ جی تو چاہا منٹوں میں دماغ سیدھا کردوں۔ اس طرح تمہارے سارے کل پرزے ٹھیک ہو جائیں گے مگر پھر سوچا، ہو تو تم پتھر کی مورت ہی۔ اتنے عرصے سے سر پھوڑ رہا ہوں کیا فائدہ ہوا ہے۔ تھرو آؤٹ پراپر چینل استعمال کرو۔ اب افسوس ہو رہا ہے کہ یہ پراپر طریقہ کاش پہلے استعمال کیا ہوتا تو کب کی ہماری دسترس میں ہوتی۔‘‘
وہ ہزارہا جذبوں میں گھرا اسے بتا رہا تھا اور ماورا کی وہ حالت تھی گویا کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔ مرتے مرتے دوبارہ زندگی ملی تھی۔ خدا کیسے پل میں مہربان ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو بہہ نکلے
’’اب کیوں رو رہی ہو؟‘‘ روتے میں ہنس دی۔
’’ہیں اب کیاہوا ہے…؟‘‘ اس نے گھورا۔
’’یہ بھی کوئی انسانوں والا طریقہ تھا میری جان نکال کے رکھ دی اور صبا باجی بھی کیسی ڈکٹیٹر بن بیٹھی تھیں۔ ذرا بھی میرے رونے کا احساس نہ کیا۔ اتنا نہ ہوا کہ مجھے بتا ہی دیں۔‘‘ہنسی روک کر کچھ خفگی سے اسے دیکھا تو وہ ہنس دیا۔
’’تمہیں اگر وہ بتادیتیں تو یہ سارا معاملہ کیسے سلجھتا۔ تم نے تو اچھا خاص چوپٹ کر دیا تھا وہ تو بھلا ہو میرے بڑوں کا کہ ان کی عقل تمہاری طرح گھاس چرنے نہیں گئی تھی۔ بہتر فیصلہ کیا۔ میری یہی رائے تھی کہ تمہیں لاعلم رکھا جائے۔ تمہارا کیا تھا تم پھر کوئی کھڑاک دیتیں بمشکل ہی تو قابو میں آئی ہو۔ ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے تھی یوں مجھ سے اپنے جذبات چھپانے پر۔ جب میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا ایک ایک جذبہ تمہارے سامنے تھا تو تم نے یہ بے ایمانی کیوں کی؟‘‘وہ ایک دم یوں باز پرس پر اتر آیا تھا جیسے درمیانی تعلقات ہمیشہ ہی سے اسی طرح قائم دائم تھے۔ ماورا نے گھورا۔
’’میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی ۔ مجھے خود علم نہیں تھا وہ تو ان ہی دو تین دنوں میں علم ہوا کہ…‘‘وہ کہتے کہتے ایک دم رک گئی۔ سلامہ شاہ کو دیکھا وہ پوری طرح متوجہ تھا۔
’’کہ محترمہ ہمارے عشق میں مبتلا ہوچکی ہیں۔‘‘ وہ ہنسا۔وہ زچ ہوئی اس کی خوش فہمی پر۔
’’میں کوئی مبتلا وبتلا نہیں ہوئی بس بات ساری یہ ہے کہ پوری ایمانداری سے سوچا تو آپ کی محبت اور آپ کی شخصیت اتنی بری بھی نہ تھی۔ اسی لیے…‘‘ وہ شرارتی انداز میں مزید کچھ کہتی جب سلامہ شاہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا۔‘‘
ختم شد