| Back | Home | |
||
|
اس کو بھی خیال آئے ہمیں مٹانے کا!
چلو کچھ دیر انتظار کریں! وہ آنکھیں میچے ایک بے خودی کے عالم میں وائلن کے سرُ بکھیرے جا رہی تھی۔ کمرے میں بکھری دُھن نے پورے ماحول کو اپنے سنگ باندھ لیا تھا۔ بہت زیادہ اضطراب‘ جیسے اس پورے ماحول میں رقص کر رہا تھا۔ ایک عجب یاسیت تھی‘ سوگواری تھی‘ جو ماحول پر طاری تھی۔ ساز میں سوز تھا‘ کرب تھا۔ نتالیہ کمال کا اندر جیسے محو گفتگو تھا۔ اس کا دل جیسے بول رہا تھا۔ کیسی سرگوشیاں تھیں کہ پورے ماحول کو سوگوار کر رہی تھیں۔ کیسی باتیں تھیں کہ اضطراب بن کر ساری فضا کو اپنے سنگ باندھتی چلی جا رہی تھیں۔ پورا کمرہ جیسے اس اندر سے نکلنے والی دُھن کی لپیٹ میں تھا‘ اور وہ خود میں محو کومل لڑکی مسلسل وائلن کے تاروں سے کھیلتے ہوئے اپنے اندر کا بوجھ ہلکا کرتی جا رہی تھی۔ پچھلے دنوں جب وہ میوزک ریسرچ کے سلسلے میں ’’کراچی سکول آف میوزک‘‘ گئی تھی‘ تو اس کے علم میں نہ تھا کہ وہاں جا کر اسے اپنے ’’اندر‘‘ کو باہر لانے کا اس طرح بھی موقع ملے گا۔ وہ سب کچھ جو اس کے اندر تھا‘ اور وہ سب کچھ جو فرسٹریشن کا سبب تھا‘ جو ڈیپریشن پیدا کرتا تھا‘ اور وہ اندر ہی اندر کھلتی جا رہی تھی۔ ’’میوزک ایموشنز کا بہترین اظہار ہے‘ جو آپ کے اندر سے‘ اسے باہر منتقل کر کے آپ کو ریلیف پہنچاتا ہے‘ ریلیکس کرتا ہے‘ اگر آپ کو خود سے باتیں کرنا ہیں‘ تو میوزک کا سہارا لیجئے‘ اگر آپ کو خاموشی مار رہی ہے‘ تو میوزک کے ذریعے گفتگو کرنا سیکھئے… ساز سے اس خاموشی کو زبان دیجئے… اگر بہت سے سوال آپ کو مسلسل درپیش ہوں‘ اور مسلسل آپ قتل ہو رہے ہوں‘ تو ان سوالوں کے جواب اس ساز کے ذریعے تلاش کیجئے۔ بہت سے قتل کرنے والے سوالات اس بولتی چپ سے آپ کو دم توڑتے محسوس ہوں گے۔ بجائے خود کو ان سوالات میں دفن کرنے کے‘ ان کے جوابات تلاش کرنا آسان راہ ہے‘ اور یہ قطعاً مشکل نہیں۔ میوزک ایک مکمل زبان ہے‘ ایک مکمل اظہار ہے‘ بہت سے قتل کرنے والے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی ایک آسان راہ ہے۔‘‘
ڈیوڈ برگنزا کی آواز پر اس کے قدم خودبخود تھم گئے تھے‘ اور وہ عجیب سی بے خودی کے انداز میں چلتی ہوئی ان کے قریب جا رکی تھی‘ اور تب وہ ایک فیصلے پر پہنچتی ہوئی بہت آہستگی سے ان سٹوڈنٹس کی فہرست میں شامل ہو گئی تھی۔ شاید اسے بھی ان بہت سے خاموشی سے قتل کر دینے والے سوالات کا سامنا تھا‘ جن کے جوابات اس کے پاس تاحال نہیں تھے‘ اور وہ خاموشی کے ساتھ اپنے وجود کو ان سوالات تلے خود کو دفن ہوتے چپ چاپ دیکھ رہی تھی۔ تبھی وہ وائلن کے تاروں سے کھیلنے لگی تھی۔
میں راگ چھیڑوں تو وہ مجھ سے بات کرتا ہے وہ بس رہا ہے‘ مرے وائلن کے تاروں میں پہلے پہل جب اس نے وائلن کے تاروں کو چھوا تھا‘ تو وہ حیران ہوئی تھی۔ اس نے جب سرُ چھیڑے تھے‘ تو جیسے اس کا سارا اندر بولنے لگا تھا۔ پہلے پہل اسے ان باتوں کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ زبان نافہم تھی‘ انداز دقیق تھا‘ اور وہ الجھتی ہوئی تاروں سے کھیلتی چلی گئی تھی‘ اور تب آہستہ آہستہ اسے ان خاموشیوں کی زبان سمجھ آنے لگی تھی۔ تب کیسے کیسے انکشافات ہوئے تھے‘ اس پر اور وہ اس بولتی چپ کو سنتی ہوئی ساکت سی رہ گئی تھی۔ وہ تو ابھی تک انہی منظروں میں قید تھی… اسی ماحول کا حصہ تھی۔ اسی جادو کے زیر اثر تھی۔ اسی خیال کے سنگ ہاتھ تھامے بے خود سی چل رہی تھی۔ بولنے کا قصد کیا تھا… بھلانا بھی چاہا تھا۔ ہزارہا کوششیں بھی کی تھیں‘ مگر کیسے بے سود رہا تھا سب کچھ… میں راگ چھیڑوں تو وہ مجھ سے بات کرتا ہے وہ بس رہا ہے‘ مرے وائلن کے تاروں میں دل کیسے چونکا تھا‘ لمحہ بھر میں… تو کیا… وہ اب بھی اس کے اندر تھا‘ اس کے سنگ سنگ تھا۔ اس کے ساتھ نہ ہو کر بھی… ہاتھ چھڑا لینے کے بعد بھی۔ کیا اب بھی… سارے خیال اسی کے سنگ بندھے ہوئے تھے۔ اسی کے باعث اندر اتنا ہجوم سا تھا۔
اور تب اس نے وائلن اٹھا کر ایک طرف اچھال دیا تھا‘ اور کتنے مزید طریقوں سے خود اپنے آپ کی نفی کرنے لگی تھی۔
کتنی… کتنی کوششیں ’’رائیگاں‘‘ گئی تھیں۔ کتنے ’’عمل‘‘ بے عمل ٹھہرے تھے‘ اور تب اس پر کھلا تھا کہ سب بے سود ہے‘ اور ساری کوششیں رائیگاں ہیں۔ کمرے میں ایک کونے میں پڑا وائلن گرد سے اٹ گیا تھا‘ اور وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی تھی۔ اندر چیختے چلاتے سوال اسے دن بدن قتل کرتے جا رہے تھے‘ کیونکہ اس کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہ تھا‘ اور وہ بہت چپکے سے اپنے وجود کو ان سوالات تلے دفن ہوتا دیکھ رہی تھی۔ کتنے دن اسی کیفیت میں گزر گئے تھے‘ اور تب جب وہ اس سارے عمل سے تھک گئی تھی‘ تب اس نے ایک روز چپکے سے وائلن کو اٹھا لیا تھا‘ اور اسے ملائم نرم ہاتھوں سے اس پر جمی گرد کو ہولے ہولے پونچھنے لگی تھی‘ اس کے پرتپش ملائم ہاتھوں کا لمس پاتے ہی جیسے وائلن کے سارے سوئے سرُ جاگ اُٹھے تھے۔ سارے راگ جیسے زندہ ہو گئے تھے۔ میں راگ چھیڑوں تو وہ مجھ سے بات کرتا ہے وہ بس رہا ہے‘ مرے وائلن کے تاروں میں مگر اب وہ بھاگنا نہیں چاہتی تھی‘ جان گئی تھی کہ یہ سب بے سود ہو گا۔ اس کے اندر کی بولتی چپ اسے چپکے چپکے مارتی چلی جائے گی‘ اور وہ اس ’’خاموشی‘‘ کے ہاتھوں دن بدن موت تلے دفن ہوتی چلی جائے گی۔ تبھی وہ رک گئی تھی‘ اور اپنے اندر کی تمام تر خوداعتمادی کو جمع کرتے ہوئے اپنی منقسم ذات کو پھر سے یکجا کرنے لگی تھی۔ مجھے تم سے محبت نہیں ہے آہن التمش۔ ہاں نہیں ہے مجھے تم سے محبت! تمہیں میں اندر سے باہر نکال دینا چاہتی ہوں۔ اپنے وجود کو خالی کر دینا چاہتی ہوں… ہر احساس سے! |
||