| Back | Home | |
||
|
کتنے چہرے اس سے گرمجوشی سے مل رہے تھے۔ محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ لگاوٹ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس کے سامنے ہی غالباً ڈیڈی تھے۔ کتنی باتیں تھیں‘ ان کے لبوں پر‘ کتنا کچھ کہہ رہے تھے وہ۔ پھر اس کا سر بہت ہولے سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کتنی شفقت سے انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ کتنی معذرتیں تھیں… کتنے پچھتاوے تھے… کتنی حسرتیں تھیں… وہ کیا کیا شمار کرتی۔
اسے تو سدا ناممکن لگا تھا‘ سب کچھ۔ نفرت تھی اسے ان سب لوگوں سے‘ پھر ان کی آمد سے‘ مگر ان کی موجودگی سے اتنی طمانیت ہی کیوں دوڑ گئی تھی سارے وجود میں۔ خود سے سوال کرتے ہوئے اس نے فیضی کی طرف دیکھا تھا‘ جو ڈیڈی کے ساتھ لگا بے حد مسرور سا تھا۔ اور بے بے… کچھ دن قبل کی بیماری کا شائبہ تک نہ تھا ان کے چہرے پر۔ کیا وقت واقعی سب سے بڑا مرہم ہے؟ کیا واقعی وقت چارہ گر ہے؟ اور سب باتوں کا مداوا کر سکتا ہے۔ کیا بے بے نے ان سب کو معاف کر دیا ہے۔ اپنی بیٹی کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں پر انہیں بخش دیا ہے۔ سب کچھ فراموش کر دیا ہے۔ سب کے چہرے باری باری تکتے ہوئے وہ جیسے حیرت کدے میں بند تھی۔ جب حدید نے بہت شرارت سے جھک کر اسے چھیڑا تھا۔ ’’کیسی عجیب لڑکی ہو تم… کم از کم کچھ شرم کر لو… اب یہی سب تمہاری سسرال میں بھی شامل ہونے جا رہے ہیں‘ اور وہ حضرت جنہیں مستقبل میں تمہارا سرتاج ہونے کا شرف حاصل ہو گا‘ وہ بھی عین سامنے موجود ہیں۔‘‘ مگر وہ شرمائی نہیں تھی‘ نہ ہی مسکرائی تھی‘ چپ چاپ اس شخص کی سمت تکنے لگی تھی۔ کیسا والہانہ پن تھا اس کی نگاہوں میں۔
دل ایک پل میں دھڑکنے کے رموز سے آشنائی پا گیا تھا۔
جی پھر سے زندہ ہو گیا تھا۔ سارے بدن میں جیسے زندگی کی رمق دوڑنے لگی ۔ اس نے بے بے کی جانب دیکھا تھا۔ ان کے چہرے پر بہت اطمینان تھا اور آنکھوں میں بہت سکون۔ اس کے دیکھنے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی تو نظروں ہی نظروں میں خوشی کے کتنے پیام دے ڈالے تھے اس نے۔ کب کی رکی ہوئی ایک گہری سانس خارج کی تھی‘ اور پھر فوراً ہی پلٹ کر باہر نکل آئی تھی۔ کچن میں چائے بناتے ہوئے بھی اس کا سارا کا سارا دھیان اسی طرف تھا۔ اچانک اس کی پشت پر آہٹ ہوئی تھی۔ وہ یہی سمجھی تھی کہ حدید ہو گا… تبھی بولی تھی۔ ’’‘حدید یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب تو…‘‘ کہتے کہتے وہ یکدم پلٹی تھی‘ جب اپنے مدِّمقابل آہن التمش کو دیکھ کر چپ ہو گئی۔ آہن التمش اسے بغور تکتا چلا گیا تھا۔ وہ نگاہ جھکا گئی تھی۔ آہن نے قدم بڑھا کر فاصلوں کو اور بھی محدود کر دیا تھا۔ وہ سر جھکائے کھڑی فرش کو تکتی رہی تھی۔ آہن التمش نے بہت آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر اس کے نازک سے ہاتھ کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا‘ پھر اس کے چہرے کی سمت تکتا ہوا بہت آہستگی سے گویا ہوا تھا۔ ’’چاہت ہو گر درمیاں تو فاصلوں کی حقیقت بے معنی ہو جاتی ہے۔ محبت ساتھ ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ دیکھو چاہا تھا تمہیں‘ سو آج پا بھی لیا‘ محبتوں کی سچائی اٹوٹ ارادوں پر ہے‘ جتنی مضبوط جڑ محبت کی ہو گی‘ اتنی ہی ہمت آپ کے اندر ہو گی‘ اور اتنے ہی استقلال سے آپ لڑ بھی سکیں گے۔ تمہاری محبت نے مجھے ہارنے نہیں دیا۔ میں رکا تو دل تمہارے حق میں تاویلیں دینے لگا… تم سے دور رہنے کی ٹھانی تو دل نے بغاوت کر دی‘ اور ساری جان مشکل میں گھر گئی۔ کہو اب تو اعتبار ہے نا۔‘‘ زیرِلب مسکراتے ہوئے آہن التمش نے اس دھان پان سی لڑکی کی جانب دیکھا تھا۔ اور وہ جو اتنی دیر سے چپ تھی‘ یکدم ہی سر اٹھا کر اسے تکنے لگی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کی جانب متوجہ تھا۔ ’’بے وفا تھا نا میں… دھوکے باز… فریبی…‘‘ سارے الزامات دہرائے… نتالیہ کمال کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔ ’’ہاں تھے۔‘‘ بڑے وثوق سے وہ یکدم بولی تھی۔
وہ چونکتے ہوئے دیکھنے لگا تھا‘ تبھی وہ مسکرا دی تھی۔
’’مگر اب نہیں ہو۔‘‘ بہت دھیمے لہجے میں کتنا ڈھیر سارا اعتماد تھا‘ تبھی آہن التمش نے بغور تکتے ہوئے شکوہ کیا تھا۔ ’’جب محبت تھی تو بدگمان کیونکر ہوئیں۔ تمہیں لگتا تھا کہ میں ایسا ہو سکتا ہوں؟‘‘ نتالیہ کمال نے سامنے کھڑے لمبے چوڑے شخص کو دیکھا تھا‘ پھر مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔ ’’اگر میں تم سے سچ مچ بدگمان ہوتی تو آج تم میرے سامنے یوں کھڑے گفتگو نہ کر رہے ہوتے… سب وقتی غصہ تھا‘ میں بھی انسان ہوں‘ بندہ بشر ہوں۔ ہوپ لیس ہو سکتی ہوں… بدگمان ہو سکتی ہوں… مگر ایسی کیفیات مستقل نہیں رہتیں۔ بندہ حقیقت کو قبول ضرور کرتا ہے‘ ایک نہ ایک دن۔‘‘ ’’اور حقیقت کیا تھی؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے فوراً بولا تھا۔ وہ ہونٹ بھینچ کر اسے تکنے لگی تھی۔ پھر یکدم مسکرا دی تھی۔ ’’ہم ایک کشتی کے سوار تھے… سو منزل تو ایک ہی تھی‘ ملنا ہی تھا‘ سو مل گئے۔‘‘ اس نے عجیب بے نیازی سے شانے اچکائے تھے۔ تبھی آہن التمش کے جاندار قہقہے نے ماحول کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ (ختم شد) |
||