Urdu Novels

Back | Home |  
گاڑی میں کوئی اور بھی تھا شاید‘ کیا مجھے لوٹ جانا چاہئے۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے اس کی آواز سنائی دی‘ وہ چلا رہی تھی۔ ’’تم گھٹیا عورت! تم مجھے کبھی خوش نہ ہونے دینا۔ تم خودغرض‘ لالچی اور۔۔۔‘‘ میں اب اس سے اتنے فاصلے پر تھا‘ کہ اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی۔ میں حیران کھڑا تھا۔ ٹی وی پر برٹش لہجے میں انگریزی بولتی وہ لڑکی‘ نرمی سے ٹھہر ٹھہر کر بات کرتی‘ جس لڑکی کا امیج میرے ذہن میں بنا ہوا تھا‘ میں اس کے چلانے سے بری طرح مجروح ہوا تھا۔ ’’ملکی! میں کہہ رہی ہوں آرام سے گاڑی میں بیٹھو اور تماشا مت بناؤ۔‘‘ اندر بیٹھی خاتون نے کہا تھا۔ وہ مجھے نظر نہیں آ رہی تھی‘ لیکن میں اسے سن رہا تھا۔ ’’میں۔۔۔ میں تماشا بناتی ہوں یا تم۔‘‘ اب وہ پہلے سے زیادہ زور سے چیخی تھی۔ ’’تم بناتی ہو میرا تماشا‘ ہر جگہ‘ ہر مقام پر۔‘‘ ’’بے وقوف مت بنو ملکی! ماں ہوں میں تمہاری اور مجھے تمہاری بہتری چاہئے۔‘‘ ’’اب پتا نہیں تمہیں میری بہتری چاہئے یا۔۔۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی تھی۔ ’’ملکی!‘‘ عورت نے کھڑکی میں سے ہاتھ باہر نکال کر اس کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر جھٹکا دیا ‘ تو میں بے اختیار ایک قدم آگے بڑھا۔ اس نے اپنے بال اس خاتون کی مٹھی سے آزاد





کیے اور پلٹ کر مجھے دیکھا۔ ’’کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں۔‘‘ ’’چل اوئے‘ راہ لگ اپنی۔‘‘ گاڑی والی خاتون کا لہجہ ایسا تھا کہ میں کھسیا گیا۔ ’’وہ سامنے میرا کلینک ہے‘ میں پارکنگ کی طرف جا رہا تھا کہ آپ کو روتے دیکھا تو۔۔۔ میں ڈاکٹر ہوں‘ ڈاکٹر حبیب احسن سائیکاٹرسٹ۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔ وہ اب میری طرف مڑ چکی تھی۔ اس کے رخسار بھیگے ہوئے تھے‘ اور آنکھوں سے وحشت برس رہی تھی۔ مجھے لگا جیسے وہ بہت اَپ سیٹ ہو‘ تب ہی تو وہ اتنا چیخ چیخ کر بول رہی تھی‘ حالانکہ مجھے اب بھی اس کے لہجے کی نرمی اور شائستگی یاد ہے۔ اس کا تلفظ بھی بہت اچھا تھا۔ ’’اٹس او کے۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا‘ اور تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ میں نے اندر بیٹھی خاتون کو دیکھا۔ تیز گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ‘ گہرا میک اپ کیے وہ شکل سے کوئی نائیکہ لگ رہی تھی۔ تو کیا ملائکہ محب اللہ کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ ایک لمحہ کو مجھے خیال آیا‘ مگر دوسرے ہی لمحے مجھے یاد آ گیا کہ کسی میگزین میں‘ میں نے پڑھا تھا کہ وہ کسی اچھی فیملی سے ہے‘ اور اس کے والد کسی جاگیردار فیملی کے ہیں۔ ان دنوں جب اس نے شوبز کو خیرباد کہا تھا‘ تب اس کے متعلق میگزینز میں‘ اخباروں میں‘ فلمی پرچوں میں بہت کچھ چھپتا رہا تھا۔ ایسا ہی ایک پرچہ میرے ہاتھ بھی لگ گیا تھا‘ جس





میں اس کے شوبز چھوڑنے کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی گی تھیں کہ اسے کسی سے عشق ہو گیا تھا‘ اور وہ شوبز چھوڑ گئی۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ اس کی شادی اپنے جاگیردار باپ کے خاندان میں ہو گئی ہے‘ جس کی وجہ سے اس نے اداکاری چھوڑ دی ہے۔ وہ گاڑی پارکنگ سے نکال کر لے گئی تھی‘ اور میں ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔ ’’تھینک گاڈ‘‘ میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا ‘ ورنہ۔۔۔ شکر ہے کہ یہ پاکستان تھا۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں‘ ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں بلکہ سائیکاٹرسٹ۔ وہاں واشنگٹن سٹی میں ناصرف میری بہت اچھی جاب تھی‘ بلکہ میں نے سب کچھ ایک بنا بنایا سیٹ اَپ چھوڑ کر یہاں آنے کو ترجیح دی‘ کیوں۔۔۔ ٹھہریے‘ پہلے میں آپ کو اپنے تعلق بتاتا ہوں۔ میرا نام حبیب احسن ہے‘ ڈاکٹر حبیب احسن۔ ہم دو بھائی ہیں۔ میرے بابا آرمی میں تھے‘ اور ڈپوٹیشن پر کچھ عرصہ سعودی عرب میں کام کرنے کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی‘ اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد میرے بھائی نے انہیں امریکہ بلوا لیا۔ گو وہ وہاں جانا نہیں چاہتے تھے‘ ان کا ارادہ اپنی زمینوں کو آباد کرنے کا تھا‘ لیکن اسد بھائی کے سامنے مجبور ہو گئے۔ اسد بھائی کو امریکہ میں سیٹل ہوئے سات آٹھ سال ہو گئے تھے۔ اس دوران وہ صرف ایک بار پاکستان آئے تھے۔ ان کی بیوی امریکن تھی‘ جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ بابا نے چاہا تھا کہ وہ پاکستان سیٹل ہو جائیں‘ اور اسلام آباد میں گھر لے لیں‘ لیکن اسد اور ان کی وائف کو یہاں رہنا پسند نہ تھا‘ اور امی اب ان کے بغیر نہیں رہ سکتی تھیں۔ سو بابا اور امی امریکہ چلے گئے۔ میں نے ایف ایس سی کے بعد نیا نیا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لیا تھا کہ اسد بھائی نے میرے پیپر بھی بھیج دیئے اور میں امریکہ چلا گیا۔
of 54 
Go