| Back | Home | |
||
|
مجھے یہ کہانی مکمل ہی لگتی ہے۔ بس اس میں ایک بات نہیں ہے۔ ایک بات جو نوازش نہیں جانتا تھا‘ یا جانتا بھی ہے تو اس نے لکھا نہیں۔
اس نے لکھا کہ ملائکہ کو سچی محبت کبھی نہیں ملی۔ کسی نے اسے دل کی گہرائیوں سے نہیں چاہا۔ وہ محبت کی طلب میں اندھا دھند بھاگی‘ اور پھر اس کھوج میں ہوش وحواس کھو بیٹھی۔اس کا من خالی کا خالی رہا۔ دل آباد نہ ہو سکا۔
یہ ہی اس کہانی کے اختتامی جملے ہیں‘ لیکن مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے‘ کیونکہ میں۔۔۔ ہاں میں نے اس سے محبت کی‘ نوازش سچ کہتا تھا کہ میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں۔ ان بہت سارے بیتے سالوں میں مریم جیسی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی‘ میں نے جسے سوچا ہے‘ وہ ملائکہ محب اللہ خان ہے۔ میری وہ راتیں اس کی گواہ ہیں‘ جو میں نے اسے سوچتے گزاریں۔
میں نے جوُ کو اتنا نہیں سوچا‘ جتنا ملائکہ کو‘ جوُ تو ایک نرم ہوا کا جھونکا تھی‘ جو میرے دل کو معطر کر کے چلی گئی‘ لیکن ملائکہ تو ایسا شجر تھی‘ جس کی جڑیں میرے اندر دور تک چلی گئی تھیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں‘ ویسی ہی محبت جیسی محبت کی اسے چاہ تھی۔
اور صرف میں ہی نہیں‘ عرفان بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ جب ہی تو ہر چھ مہینے بعد وہ اس سے ملنے چلا آتا ہے‘ اتنی دور سے‘ وہ بھی گھنٹوں میری طرح اس کے پاس بیٹھتا۔ اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا ہے‘ وہ سنتی ہے‘ لیکن سمجھتی نہیں۔ وہ بات ختم کر کے پرُامید نظروں سے اسے دیکھتا ہے‘ تو وہ فوراً ہی کسی کی شکایت جڑ دیتی ہے۔
نمبر 3‘ مجھے گھور کر دیکھتی ہے۔
اس وقت عرفان کے چہرے پر پھیلتے مایوسی کے رنگ‘ اس کی آنکھوں میں نمی‘ اس کے اندر کی کیفیتوں کا اظہار کرتی ہے۔
ہاں عرفان ملک نے ابھی اس سے محبت کی ہے۔ اتنی ہی شدید محبت‘ جتنی شدید محبت کی وہ ہمیشہ طالب رہی۔
بلکہ عرفان کی محبت میری محبت سے ارفع ہے۔ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں‘ تب سے جب وہ معصوم سی بچی تھی‘ جب اس کی ماں نے کہا تھا۔ ’’اسے تو میں اپنے عفی کی دلہن بناؤں گی۔‘‘ تب سے۔۔۔
وہ ملائکہ محب اللہ جو محبتوں کی حریص تھی‘ جسے سچی محبتوں کی طلب تھی‘ اور اس طلب میں اس نے خود کو فگار کر لیا تھا۔
وہ آبلہ پا ان محبتوں کو پانے کے لئے بھاگتی رہتی تھی‘ وہ جو کہتی تھی۔
’’میں نے اپنے باپ کے خاندان میں جانے کے لئے بہت سفر کیا ہے‘ لیکن میری مسافتیں رائیگاں ٹھہریں۔‘‘
ان دنوں جب وہ میرے کلینک میں آیا کرتی تھی‘ تو اکثر کہتی تھی۔ اس میں تھوڑی جھوٹ کی آمیزش تھی‘ لیکن یہ سچ ہی تو تھا‘ کہ اس نے بہت سفر کیا‘ لیکن باپ کے خاندان میں جانے کے لئے نہیں‘ محبت کی طلب میں‘ وہ جب ہوش میں تھی‘ تو اسے محبت کی بہت حُب تھی‘ بہت لالچ تھا ‘ اس کی ماں کہتی تھی۔
’’تو مرد کی رفاقت کی بھوکی ہے‘ تب ہی تو اتنے عروج میں شوبز چھوڑ کر ممتاز سومرو کے پیچھے چل پڑی۔‘‘ اور وہ کہتی تھی۔
’’نہیں ‘ میں مرد کی رفاقت کی نہیں‘ اس کی محبت کی بھوکی ہوں۔‘‘
وہ ملائکہ محب اللہ خان۔۔۔ اب ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی ہے‘ لیکن وہ محبت اس کے سامنے ہے‘ اس کی دسترس میں‘ وہ جب چاہے مٹھی بھر کر اس محبت کو اپنے دل میں رکھ لے‘ اور شانت ہو جائے۔
اور ایک مرد کی نہیں‘ دو دو مردوں کی محبت۔۔۔ ایسی محبت جس میں کوئی کھوٹ نہیں‘ کوئی لالچ نہیں۔ میں نے اس سے محبت کی‘ لیکن اس کے سنگ زندگی گزارنے کے خواب نہیں دیکھے‘ تصور میں کبھی اسے اپنے گھر میں چلتے پھرتے نہیں دیکھا‘ لیکن عرفان نے ان سارے خوابوں کو ہمراہ لے کر اس کے خواب دیکھے‘ میں نے ایک بار اسے کہتے سنا تھا۔
’’ملکی! ایک بار ہوش کی دنیا میں لوٹ آؤ‘ تو میں تمہیں وہ سارے خواب لوٹاؤں گا‘ جو میں نے تمہارے حوالے سے دیکھے‘ ملکی ! مجھے تمہارا بیٹا اتنا عزیز ہو گیا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ جیسے وہ میرا اور تمہارا بیٹا ہو۔‘‘
ہاں محبت اس کے سامنے پڑی ہے‘ اس کی دسترس میں‘ لیکن اب اسے محبت کی طلب نہیں ہے۔ ہم دونوں اپنے اپنے مدار کے گرد چکر لگاتے ہوئے بھی اس کی کوشش کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اسی لئے بھاگے بھاگے اس کے پاس آتے ہیں۔
وہ روتی رہتی ہے‘ شکایتیں کرتی رہتی ہے۔
نمبر دو کی‘ نمبر چار کی‘ نمبر تین کی۔
’’نمبر دو نے میرے بال کھینچے تھے۔‘‘
اور ’’نمبر تین کی پلٹ میں زیادہ چاول تھے۔‘‘
اور محبت اس کے سامنے پڑی سسکتی رہتی ہے‘ لیکن وہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ ملائکہ محب اللہ جسے محبت کی بہت طلب تھی‘ لیکن جسے محبت کبھی نہیں ملی تھی۔
ختم شد
|
||