| Back | Home | |
||
|
میں پھنس گیاتھا مزید ایک لفظ بھی کہنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ مزدک بس ایک لمحہ ہی اس کے آنسوؤں اور ہچکیوں کو برداشت کر سکا۔ وہ انتہائی ناگواری سے گہری سانس لیتا اس کے برابر زمین پر بیٹھ کر اس کے کندھوں کو سختی سے تھام لیا۔
’’باقی کے آنسو بچ کر رکھ لو…میں مر جاؤں تو…‘‘ ’’کبھی تو اچھی بات بھی کیا کیجیے۔‘‘ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ تڑپ کر بولی۔ رونے کی وجہ سے سیاہ آنکھوں میں سرخ ڈورے تیر رہے تھے اور سانولے چہرے پر غم کے گہرے آثار تھے لیکن پھر بھی وہ یہ بات برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس کے بہتے آنسوؤں پر زندگی میں پہلی بار مزدک کو غصہ نہیں آیا تھا۔ وہ مسکرایا اور بے بس انداز میں آلتی پالتی مار کر پوری طرح پرسکون ہو کر بیٹھ گیا۔ شاید اب ہر راستہ بند ہوگیاتھا اور اس لمحے کے بعد اسے اس پگلی سی لڑکی سے دل کی ہر بات کہنا تھی کہ اس کی ان ہی اداؤں نے اس کے خود پسند دل کو دھڑکنا سکھایا تھا۔ ’’سچ کہتی ہو، مجھ سے محبت کرنا تمہاری بہت بڑی غلطی ہے اور یہ غلطی تمہیں تمام عمر بھگتنا ہوگی کیونکہ…کیونکہ تم سے لڑتے لڑتے…تمہیں تنگ کرتے جانے کب مجھے سچ مچ تم سے عشق ہو گیا ہے۔‘‘ ’’کیا…فار…گاڈسیک مزدک!…کیا بے ہودگی ہے یہ۔‘‘مزدک کرمانی سے اظہار محبت سن کر بجائے خوش ہونے کے وہ تپ گئی۔ اسے لگا اب مزدک کوئی نئی چال چل رہا تھا اسے گھر سے نکالنے کی۔‘‘ ’’واہ…یہ کیا بات ہوئی…تم کرو تو محبت…میں کروں تو بے ہودگی۔یہ تو غلط ہے اور ابھی تم نے تو کہا میں خودپسند ہوں اور بھلا مجھ جیسے خودپسند بندے کو اب کہاں اتنی بہادر لڑکی ملے گی جو نفرت کرے تو ڈنکے کی چوٹ پر…محبت کرے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بنا کسی ڈر کے اقرار کرے۔ یقین کرو بانو!…مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘ انتہائی بے بسی سے محبت کا اقرار کرتا وہ کہیں سے بھی پہلے والا لڑتا جھگڑتا مزدک نہیں لگ رہا تھا۔ شہربانو نے ایک لمحے کو اس کا چہرہ دیکھا تو دل لرز سا گیا۔ گہری سرمئی آنکھوں سے چھلکتی نرم نرم محبت کی پھوار اس کی روح کو بھگونے لگی لیکن وہ ایک دم جھنجل سی گئی۔اسے اپنے آپ سے وحشت ہونے لگی۔ ’’مربھی گئی ناں…تو بھی اس گھر سے نہیں جاؤں گی…مت سوچیں نئے نئے طریقے مجھے یہاں سے نکالنے کے۔‘‘ وہ بپھر کر اٹھنا چاہتی تھی لیکن اس نے اسے بازو سے تھام کر روک لیا۔ ’’کیسے یقین دلاؤں تم کو اپنا…سب کچھ چھوڑ آیا ہوں…تمہارے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں…کچھ اچھا ہی نہیں لگتا کہ میں…‘‘ ’’بس کیجیے…آپ کو جو کرنا ہے کریں…میں نہ کبھی آپ کے راستے میں آئی ہوں، نہ آؤں گی۔ آپ کے لیے یہ سب ایک اور مذاق ہوگا لیکن مجھ پر جو گزرے گی اس کا درد آپ کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ میرے لیے یہ گھر…‘‘ ’’شٹ…اپ…بانو!…گھر…گھر اور…گھر…یہ اینٹ پتھر سے بنا گھر نظر آتا ہے تم کو اور یہ جیتا جاگتا چھ فٹ کا انسان جو بکواس کر رہا ہے وہ اتنی دیر سے تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی۔ آئی لو یو یار!…سچ بالکل گنوار ہو تم۔‘‘وہ ا سکی ایک رٹ سے جھنجلا گیا تھا اور اس کے تپے ہوئے لہجے پر شہربانو ذرا سا ڈر بھی گئی لیکن اس کے ’’گنوار‘‘ کہنے پر وہ بھی بھڑک گئی۔ ’’جیسی بھی ہوں آپ سے تو بہتر ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں خالہ کو آواز دوں چلے جائیے میرے کمرے سے۔‘‘ وہ ناگواری سے چلائی لیکن مزدک کے ہونٹوں پر پھیلتی معنی خیز مسکان اس کے تن بدن میں ایک عجیب سا احساس جگاگئی۔ کچھ عرصہ پہلے بھی یہی فقرے اس نے کہے تھے اور اس لمحے کے بعد وہ کبھی خود سے نظر نہ ملا پائی تھی۔ ماتھے پر دہکتا لمس ایک بار پھر اسے بیقرار کر گیا۔ اس میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ نگاہ پھیر کر اس سنگ دل کو دیکھ لے جو اس وقت یقیناً اس کی حالت پر ہنس رہا تھا۔ دل میں اٹھتے شور سے گھبرا کر شہربانو نے اس کے سامنے سے ہٹنا چاہا لیکن وہ اس کا ارادہ بھانپ گیا۔ ’’مجھے ایک آخری موقع دو بانو!…میں جانتا ہوں تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی ہو۔ مجھ سے محبت کرکے بھی تم کو مجھ سے کوئی امید نہیں ہے لیکن…آخری بار میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ بس وہ سن لو۔‘‘ بنا اس کی طرف دیکھے وہ اس قدر سنجیدگی سے بولا کہ شہربانو اپنی جگہ سے ہل نہ پائی۔ ’’میں مانتا ہوں…میں غلط تھا۔ میری وجہ سے تم ہمیشہ دکھی رہی۔میں جب واپس آیا تو میرے دل میں تمہارے لیے نفرت تھی لیکن پہلے ہی دن جب تم نے کہا…مس نہیں مسز…مسز مزدک کرمانی…شاید اسی دن میری ساری نفرت ختم ہوگئی تھی۔ تم نے جتنی اپنائیت سے مجھ سے خود کو جوڑے رکھا یہ میرے لیے بہت خوبصورت تھا۔ لیکن میں اس احساس کو سمجھ ہی نہیں پایا۔ میں سنیعہ سے کمٹ منٹ کر چکا تھا اور میرے لیے وہ بہت اہم تھی۔ اسی لیے میں چاہتا تھا تم گھر چھوڑ کر چلی جاؤ۔ میں تم سے چڑتا تھا لیکن جب تم سب سے ہنستی بولتی تھیں اور مجھے اگنور کرتی تھیں تو مجھے بہت برا لگتا تھا۔ عجیب کیفیت تھی ان دونوں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا اور اس رات جب ہم دونوں مہندی کے لیے جا رہے تھے تو میں نے تمہارا بالکل نیا روپ دیکھا۔تم بظاہر جتنی بہادر نظر آتی ہو دل سے اتنی ہی ڈری سہمی
ہو۔ پتا نہیں مجھے کیا ہو رہا تھا۔ مجھے تمہاری لاپرواہی ستانے لگی تھی۔ میں چاہتا تھا تم ہر وقت صرف میرے بارے میں سوچو۔ میں نے تم کو گھر سے چلے جانے کا کہہ دیا۔ میں تم کو جلانا چاہتا تھا۔ اپنی الجھن میں، میں عجیب حرکتیں کر رہا تھا۔میرے لیے تم سب سے اہم ہوگئی تھیں۔ دل تو ہر لمحہ یہ کہتا لیکن دماغ اس حقیقت کو مانتا نہیں تھا۔ جس سے ہمیشہ نفرت کی ہو۔ وہ اتنا اہم کیسے ہوسکتا تھا لیکن ایسا ہوگیاتھا اور اس رات میں سچ مچ تمہیں ڈھونڈتا ہوا تمہارے کمرے تک آگیا تھا۔ تم کافی دیر سے نظر نہیں آئی تھیں اور میرا دل شاید وہ پل اس لیے ہماری زندگی میں آئے تاکہ ہم کو ایک دوسرے کا احساس ہو سکے۔ ہم جس مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اس کی اہمیت یاد آجائے ہمیں اور وہی ہوا۔ میں تب ہی سب کہہ دیتا لیکن…ارے…اب کیوں رو رہی ہو تم۔‘‘ جذبوں سے گندھے لہجے میں اپنی ہر غلطی کا اعتراف، ہر جذبے کا اقرار کر رہا تھا۔ اس کا خیال تھا اب تو وہ اس کے احساسات کو سمجھے گی لیکن اس پر نظر پڑتے ہی وہ چونک گیا۔
’’کیا ہو گیا بانو!…پلیز بتاؤ نا…‘‘ اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے مزدک نے نرمی سے پوچھا تو وہ اور بھی دھواں دھار رونے لگی۔ اس کے یوں روئے چلے جان پر مزدک پریشان ہو گیا۔ ’’ہوا کیا ہے یار!…ایسا کیا کہا ہے میں نے…‘‘ ’’سب کچھ کہا ہے لیکن بس ایک سوری نہیں کہا۔‘‘ آنسو صاف کرتے ہوئے وہ روٹھے پن سے بولی تو مزدک ایک پل کے لیے ٹھٹک سا گیا اس کے لہجے کی ہمیشہ والی بے گانگی غائب تھی اور اس کی جگہ وہ اپنے مخصوص اپنائیت بھرے لہجے میں شکوہ کر رہی تھی جو آج سے پہلے سب کے لیے تھا۔ وہ آہستگی سے کھسک کر شہربانو کے قریب ہو گیا اور محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ ’’سوری تو غیروں سے کہا جاتا ہے اپنوں سے تو صرف محبت کی جاتی ہے۔‘‘ خمار آلود لہجے میں وہ کہتا اس پر جھکا تو شہربانو کا رنگ اڑ گیا۔دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ بری طرح گھبراگئی تھی اس قربت سے۔ ’’اے…مسز مزدک کرمانی! میری طرف دیکھو ناں۔ بس ایک بار اور اتنی ہی بہادری سے کہہ دو تمہیں مجھ سے محبت ہے۔‘‘ اس کی جھکی آنکھیں، لرزتی پلکیں اور سلونے چہرے پر چھائے حیا کے رنگ مزدک کو شرارت پر مائل کر رہے تھے اور شہربانو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہے تو کیا۔ پہلے اس کی بے اعتنائیاں ستاتی تھیں اور آج گھمبیر لہجے میں محبت اس کے دل کو دیوانہ کر رہا تھا۔ ’’یوں آسانی سے سے تو آپ کی جان نہیں چھوٹنے والی کچھ تو کہنا پڑے گا۔‘‘وہ اس کے جھکے سر سے شرارت سے اپنا سر ٹکراتے ہوئے بولا تو وہ اس کے یوں ستانے پر چڑ سی گئی۔ ’’کیوں اور کہنے والی کم ہیں کیا۔ جائیے اپنی سنیعہ کے پاس۔ مجھ سے زیادہ فری مت ہوں آپ۔‘‘ اسے آہستہ سے پرے دھکیلتے ہوئے وہ جھنجلا کر بولی تو وہ کھکھلا کر ہنس دیا۔ اس کی خوشگوار ہنسی شہربانو کی روح تک اترگئی۔ اس نے آنکھیں بند کرکے اس لمحے کی خوبصورتی پر خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کی زندگی میں وہ خوشی آئی تھی جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور وہ کہہ رہا تھا۔ ’’ظاہر ہے…جب تک آخری کانٹا نہیں نکلے گا تم کہاں مجھے لفٹ دو گی۔یہاں سے گیا تو عجیب حالت تھی…ہرلمحہ…ہرپل تمہارے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ اچھا خاصا میچیور بندہ اور ایسی دیوانگی۔ تیسرے ہی دن جاکر سنعیہ سے معافی مانگ لی کہ مجھ پر تو ایک جادوگرنی نے وار کر دیا ہے۔جسے میری ہرچیز سے محبت ہے…میرا گھر…میرے گھروالے…میرے سبھی اور اب مجھے اس کے پاس جانا ہے تاکہ وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرے…مجھے چاہے۔خوش قسمتی سے سنیعہ یہ سمجھ گئی کہ میں اب کسی کام کا نہیں رہا…تو اس نے مجھے ہر وعدے سے آزاد کر دیا۔‘‘ ’’اور…اگر وہ آزاد نہ کرتی تو۔‘‘وہ ایک دم بولی۔ ’’تو…‘‘ اس سوال کے پر مزدک ایک پل کو رکا۔ ’’ہاں…تو کیا کرتے آپ…‘‘اس کے چہرے کا اڑتا رنگ مزدک کو رشک میں مبتلا کر گیا۔ ایسی ہی تو صحبت چاہی تھی اس نے۔ ’’تو…تو میں تمہیں وہاں بلوالیتا اور سنیعہ سے کہتا اب تم دونوں بہنیں بن کر ایک ہی گھر میں رہو۔‘‘ ’’کیا…مار نہ ڈالتی میں آپ کو۔‘‘ اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی شہربانو نے اسے پیچھے دھکا دیا تو اس کا قہقہہ پورے کمرے میں گونج اٹھا۔ ’’ارے…میں تو تمہیں صرف گنوار سمجھتا تھا۔تم تو اچھی خاصی پہلوان بھی ہو۔اب میں بتاؤں گا اماں کو…آپ کی لاڈلی بہو مجھ پر اپنی پہلوانی آزماتی ہے۔‘‘ ’’ہاں…آپ خالہ سے مل آئیں…ورنہ…‘‘ ’’ورنہ کچھ نہیں ہونے والا…ڈانٹ پھٹکار سن کر آرہا ہوں سب سے اور ایک وہ تمہاری باڈی گارڈ روحمہ…پتا نہیں کہاں سے میرا نمبر لے کر مجھے وہ سنائیں کہ حد نہیں۔میں نے تو اسی پل کانوں کو ہاتھ لگائے اور واپس بھاگا۔ جب اس نے بتایا کہ میری پیاری سی بیوی نے خود کو ہلکان کر رکھا ہے تو پہلی فلائٹ سے واپس آیا ہوں۔‘‘ ’’اتنا احسان مت جتائیں… مشکل تھا تو نہ آتے…یہاں کسے پرواہ ہے۔‘‘شہربانو لاپرواہی سے کہتے ہوئے کھڑی ہوگئی تو مزدک کے چہرے کا رنگ ایک دم فق ہو گیا۔ وہ اتنی دیر سے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا اور وہ تھی کہ مسلسل بے یقینی جتا رہی تھی۔ ختم شد |
||