Urdu Novels

Back | Home |  

جل تھل ہوتی آنکھیں لئے وہاں سے بھاگ آئی اور بالکونی میں کھڑی ہوکر شدت سے رونے لگی، وہ نہیں جانتی تھی۔ اسد خاموشی سے اس کو روتا ہوا دیکھ رہا ہے، جب اس کی ہچکیاں بندھ گئیں تب وہ آگے بڑھا اور اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی جانب کرلیا۔
’’بس اتنی سی برداشت تھی۔ ذرا سوچو تو تم بچین سے اب تک میرے ساتھ کیا کرتی آئی ہو، میرے خلوص کو غلط رنگ دیتی آئی ہو۔ کیسے کیسے گھائو لگائے ہیں تم نے، مگر میں نے کوئی شکوہ شکایت نہ کی تم سے۔ اس لئے کہ اس لئے شذرا! کہ خدا کی قسم اس دل میں بڑا احترام ہے تمہارا۔ بڑی قدر ہے اس دل میں تمہاری۔ تمہارا یہ دہشت گرد قسم کا انداز ہی تو مجھے پسند ہے۔ تمہاری عزت، تمہارا وقار بے حد عزیز ہے مجھے۔ میں جانتا تھا تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔ تمہارا رویہ کیوں بدل گیا ہے، تم اپنے رویے کی معذرت کرنا چاہتی تھیں مگر خدا جانتا ہے میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔ میں نہیں چاہتا کہ تم خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جھکو، تم اسی طرح دھانسو انداز ہی میں اچھی لگتی ہو۔
مجھے تمہارا یہی انداز پسند ہے اور اسی لئے تو میں تمہیں تنگ کررہا تھا کہ تم اپنے پرانے انداز پر لوٹ آئو۔ اور سنو مجھ سے زیادہ نہ تمہیں کوئی جانتا ہے نہ پہچانتا ہے۔ اسی لئے تو میں تمہارے کردار کے شفاف آئینے میں اپنی تصویر لگانا چاہتا تھا مگر تم نے ہمیشہ اسد کے الفاظ کو اہمیت دی لیکن کبھی بھی اس کی آنکھوں میں اپنی تصویر نہیں دیکھی نہ ہی اس دل میں اتر کر کبھی جھانکا کہ جہاں تم ہی تھیں۔ بس ہر وقت نفرت کی عینک لگائے مجھے دیکھتی رہتیں۔ میرا بھی تو حوصلہ ہے ناں، تمہاری اتنی نفرت برداشت کرتا رہا ہوں اور تم سے میری ذرا سی بے اعتنائی برداشت نہیں ہوسکی۔‘‘
وہ اس کے دونوں سرد ہاتھ ہاتھوں میں لیے بول رہا تھا اور شذرا کو اس کے ایک ایک لفظ پر یقین آرہا تھا اور وہ خود کو بہت معتبر تصور کررہی تھی۔ اس کا دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہورہا تھا۔
’’بہت برے ہوتم!‘‘ وہ خفا خفا سی بولی۔
’’اونہوں، تم نہیں آپ۔ کیونکہ سرکاری ذرائع کے مطابق میرا گریڈ بڑھنے والا ہے۔‘‘ وہ شوخ ہونے لگا۔ شذرا کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ جان کر انجان بن گئی۔
’’مطلب یہ کہ یہ انگوٹھی امی اور باجی بڑے چائو سے لائی تھیں اپنی بہو کو پہنانے کے لئے، میں نے اپنی جیب میں رکھ لی اور کسی ایسے ہی خوبصورت لمحے کا منتظر تھا جو آج خدا نے دے دیا۔‘‘
اور ساتھ ہی اسد نے انگوٹھی اس کی نازک انگلی میں پہنا دی تو اس کے چہرے پر بے شمار رنگ بکھر گئے۔
’’اسد تم۔ میرا مطلب آپ بہت!‘‘ وہ کچھ کہنے والی ہی تھی کہ اس کی شوخ نگاہوں کی وجہ سے چپ ہوگئی۔
’’اب جیسا بھی ہوں، قبول تو کرنا پڑے گاہی۔ اچھا چلو آئو سب کے آنے سے پہلے کھسک جائیں ورنہ سارے بدتمیز تنگ کریں گے۔‘‘
اسد جونہی شذرا کا ہاتھ پکڑ کر باہر آیا تو خاندان کے سارے کزنز موجود تھے۔
’’تو یہ ہے صورت حال۔ ہمیں ڈراما دکھاتے رہے اور خود۔‘‘
منیب اور جمال اسد سے لپٹ گئے۔
’’یہ ڈرامے کا ہیپی اینڈ ہے ناں۔‘‘ اسد نے شذرا کی طرف دیکھا جو شرمائے جارہی تھی اور پھر مبارک سلامت میں شور ہنگامہ شروع ہوا تو اسد، شذرا کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ لایا۔ دونوں خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔

{ ختم شد }






of 172 
Go