Urdu Novels

Back | Home |  
’’ارے بابا میں!‘‘ آصف زچ ہو کر ان کے قریب بیٹھ گیا۔
’’ارے بھئی اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ وہ تو گزشتہ چالیس برس سے ہیں اس دنیا میںاور خدا کرے کہ مزید ایک سو چالیس سال تک رہیں‘ اس لئے کہ مجھے بے حد پسند ہیں۔‘‘ سجیلہ نے کمال اطمینان سے فائل نکالی اور کل کا لیکچر دیکھنے لگی۔
’’لڑکیو ! پلیز بی سیریس ! وہ ایک میٹنگ میں شرکت کیلئے اسلام آباد جا رہے ہیں۔‘‘
’’تو آصف چندا ! میرے بھیا اب وہ مجھے اتنے بھی عزیز نہیں‘ پسند نہیں کہ ان کے پائوں پڑ کر التجا کروں کہ سر خدا کیلئے نہ جائیں‘ رک جائیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آپ ان کے پائوں پکڑ کر ان کور وکیں یا نہ روکیں‘ وہ آپ کے سر پر سوار ہو کر اپنا پیپر ایک دو روز میں لے لیں گے۔‘‘
دونوں اونچی آواز میں اتنے زور سے چلائیں کہ ڈیپارٹمنٹ کے ایم ایس سی کے افلاطون پڑھا کو علیم الدین جن کو یہ سب چوری چھپے منشی فاضل کے نام سے پکارا کرتے تھے بے چارے تھے بھی ذرا دھان پان سے خواتین سے ویسے بھی ان کو ایک قسم کا … بیر تھا اور دوسرے ان کو تیز لڑکوں نے لڑکیوں سے پرہیز ہی بتایا تھا۔ سجیلہ اور حنا وغیرہ سے تو ویسے بھی ان کو خدا واسطے کا بیر تھا۔ اب جو ان دونوں کی طوفانی چیخ ان کی نازک سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ جو بڑی تیزی سے سیڑھیاں اتر رہے تھے ایک دم جو گھبرائے تو اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور سیڑھیوں سے لڑکھڑاتے ہوئے عین سجیلہ کے قریب آکر رک گئے۔ ہاتھ میں پکڑی فائل دور جا گری تو وہ جلدی میں اٹھے تاکہ فائل اٹھا لیں مگر برا ہو اس صفائی کرنے والے کا‘ آج تو گویا اسے خبر ہو گئی تھی کہ آج علیم الدین صاحب گریں گے۔ گرد کا ایک ایک ذرہ صاف کر دیا تھا۔
فرش ایسا پھسلنے والا ہو رہا تھا کہ وہ دوبارہ اٹھے‘ تاکہ فائل اٹھا لیں مگر دونوں مرتبہ دھڑام سے فرش پر ڈھیر ہو گئے اور اب تو غالباً چوٹ بھی لگی تھی۔ بے چاری لڑکیاں اس قدر مجبور کہ کھل کر نہ ہنس پا رہی تھیں اور ہنسی بھی ایسی منہ زور کہ آئے چلے جا رہی تھی۔ کچھ رکی‘ کچھ گھٹی سی ہنسی ہنستی لڑکیاں علیم الدین کو زہر لگ رہی تھیں۔
’’ایک تو ہمارے معاشرے کا اخلاق اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ ایک انسان پے در پے گرتا چلا جاتا ہے اور دوسرے ہنسے چلے جاتے ہیں۔‘‘
آصف نے اس بار علیم الدین کو پکڑ کر کھڑا کیا تو وہ سجیلہ اور حنا پر برس پڑے‘ جن سے ہنسی ضبط کرنا محال ہو رہا تھا۔
’’چھوڑیے فاضل صاحب ! آج کل کی لڑکیاں تو بس ہیں ہی ایسی۔ نہ بڑوں کا ادب نہ چھوٹوں کا لحاظ۔‘‘ آصف نے فائل ان کی طرف بڑھائی۔
’’میں فاضل نہیں ہوں‘ والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔‘‘
علیم الدین نے فائل لے کر جھاڑتے ہوئے خفگی سے آصف کو دیکھا اور پھر عینک کی اوٹ سے لڑکیوں کو دیکھا۔ ان کی ہنسی کے سیلاب کا اب زور ٹوٹ چکا تھا۔
’’ارے کہاں جا رہے ہیں علیم الدین صاحب؟ یہ پن تو جیب میں رکھ لیجئے۔‘‘
انہیں آگے بڑھتے دیکھ کر سجیلہ ان کے پیچھے اپنا بال پوائنٹ لے کر لپکی۔
’’جی وہ کس لئے؟‘‘ وہ خاصے بیزار لہجے میں بولے۔
’’آپ بھی نرے احمق ہیں علیم الدین‘ دیکھ نہیں رہے‘کتنی تیز ہوا چل رہی ہے‘ رکھ لیجئے جیب میں۔ وہ محاورہ تو آپ نے سنا ہو گا کہ اُڑتے ہوئے علیم الدین کو پین کا سہارا۔‘‘
’’آپ…آپ انتہائی…‘‘
’’حسین ہیں… یہ جملہ تو ہر روز مجھے کئی بار سننا پڑتا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی تسلیم توکیا کہ…‘‘
’’آپ لوگ انتہائی بدتمیز جونیئرز ہیں۔‘‘ وہ سر سے پائوں تک سلگ اٹھے تھے۔
’’تھینک یو سینئرز آں… آں… آگے دیکھئے۔‘‘
اور جب تک علیم الدین صاحب آگے دیکھتے… چیئرمین آف دی ڈیپارٹمنٹ سے ٹکرا چکے تھے اور پھر رحیم صاحب نے ان کی خاطر و خدمت شاندار الفاظ میں کی تو وہ لوگ دم دبا کر وہاں سے بھاگ آئے۔
’’ہیں … ہیں یہ آفتاب تو میرے ساتھ ہے پھر تمہارے پیچھے کون لگا ہوا ہے‘ جو یوں سرپٹ بھاگ رہے ہو؟‘‘
سامنے سے آفتاب اور ساجد مل گئے تو سجیلہ نے علیم الدین کے گرنے کا واقعہ کچھ ایسے انداز میں سنایا کہ دونوں کو اس سین کے مس کر دینے کا ملال ہونے لگا۔
’’یار آصف ! گرا تو وہ تھا ہی۔ اوپر سے ایک دو اور جڑ دینی تھیں نہ جانے خود کو سمجھتا کیا ہے‘ مچھر کہیں کا۔ اس کی ساری کلاس تنگ ہے اس سے۔ وہ خالد بتا رہا تھا کہ جیسے ہی سر کلاس میں داخل ہوتے ہیں‘ اس کے سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔سر لیکچر کم دیتے ہیں اور اس کے سوالات کے جوابات زیادہ دیتے ہیں۔‘‘





’’خدا کا شکر ہے کہ یہ ہمارا کلاس فیلو نہیں۔‘‘
حنا نے شکر ادا کیا۔
’’ہائے کاش ہمارا کلاس فیلو ہوتا تو کتنا مزہ آتا۔ ہرر وز ساری کلاس کو انجوائے کرواتی میں علیم الدین صاحب کے ذریعے۔‘‘
سجیلہ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ اسے ایسے کردار بہت پسند تھے جو نہ صرف اپنے لئے مسئلہ ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی دلچسپ مسائل پیدا کرتے ہیں۔
’’جی مجھے علم ہے‘ آپ اس بے چارے کا کیا حشر کرتیں۔ سنا نہیں تھا کیا کہہ رہا تھا‘ میں فاضل نہیں ہوں‘ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔‘‘
آصف نے علیم الدین کے انداز میں کہا توو ہ سب ہنس پڑے‘ مگر سب سے نمایاں کھنکتی ہنسی سجیلہ کی تھی۔
’’یہ حسن اور ماریہ تو ابھی تک آئے نہیں‘ تب تک چل کر چائے پیتے ہیں‘ رمضان بابا ہم لوگ کیمسٹری کے کیفے ٹیریا جا رہے ہیں‘ ماریہ اور حسن آئیں تو ان کو وہیں بھیج دیا جائے۔‘‘
سجیلہ نے رمضان بابا کو پیغام دیا اور کیفے کی طرف چل پڑے۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ سے کیفے تک سجیلہ ہر کسی پر دلچسپ ریمارکس دیتی رہی‘ بات کر کے کسی کو چھیڑ کے وہ خود ہی اتنے زور سے ہنستی کہ اس کی دلکش ہنسی کے جلترنگ آس پاس کے لوگوں کو اس کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیتے اور کچھ قدرت نے اسے دیکھنے اور سننے والی چیز بنایا تھا اور جب خدا نے دولت حسن سے بھی مالا مال کیا ہو اور سونے کا چمچہ منہ میں دے کر ایک کامیاب ترین صنعت کار کے گھر میں پیدا کیا ہو تو وہ خواہ مخواہ ہی لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتا ہے۔
اس کے پپا اور ممی دونوں کا تعلق وادی کشمیر کی وادی سے تھا‘ جس کو قدرت نے حسن بڑی فیاضی سے عطا کیا تھا۔ اس کی ممی صوفیہ احمد بے حد حسین تھیں اور یہی حسن خدا کی طرف سے تینوں بیٹیوں کو ورثے میں ملا تھا‘ مگر سجیلہ نے خود کو کافی بنا سنوار کر رکھا ہوا تھا جبکہ دوسری دونوں انتہائی سادہ لڑکیاں تھیں۔ سیاہ جین پر سیاہ اور سرخ پرنٹ کا ڈھیلا سا کرتا دراز بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی جس سے شوخ لٹیں چوٹی کے بالوں سے آزاد ہو کر چہرے پر جھول رہی تھیں۔ ہلکے سے میک اپ میں بات بے بات ہنستی‘ قہقہے بکھرتی لاپروا سی سجیلہ‘ دوسری لڑکیوں کیلئے رشک یا حسد کا باعث بن جاتی اور لڑکوں کیلئے ایک خواہش‘ ایک حسرت کہ کاش یہ لڑکی ہماری ہو جائے یا ہمارے ساتھ دوستی ہی کر لے‘ ہمارے ساتھ ایک قدم ہی چل پڑے‘ مگر اس کے قریب رہنے والے جانتے تھے کہ وہ اندر سے کیا ہے۔
البتہ لڑکوں سے وہ کچھ اس قسم کا رویہ اختیار کرتی کہ وہ کسی قسم کی غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار نہ ہونے پائیں۔
’’بچو ! تم لوگوں نے منشی فاضل کو خفا کر دیا ہے اور وہ ہیں سر سجاد کے چمچے۔‘‘
’’سوواٹ!‘‘ آفتاب نے چائے کا مگ نیچے رکھتے ہوئے کہا۔
’’احمق آدمی ! اگر علیم الدین ناراض نہ ہوتے تو ان کے ذریعے سر سجاد کو منایا جا سکتا تھا کہ وہ پیپر اسلام آباد سے واپسی پر لے لیں۔‘‘
’’ارے بھئی پیپر کو کیا تم لوگوں نے مسئلہ بنا لیا ہے‘دے دیں گے؟‘‘
سجیلہ کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی اور نہ کسی کو سنجیدہ ہونے دیتی۔
’’لڑکی ایک تو تم میری سمجھ سے بالاتر ہو۔ کلاس میں سارا وقت شرارتیں کرتی رہتی ہو۔ دھیان سے کبھی تم نہیں پڑھتیں‘ پھر بھی مزے سے پاس ہو جاتی ہو۔‘‘
ساجد درست کہہ رہا تھا‘ وہ کبھی بھی پڑھائی کیلئے سنجیدہ نہیں رہی تھی بلکہ اسے تو پڑھنے کا کوئی ایسا خاص شوق بھی نہیں تھا۔ وہ تو بس آزاد فضا میں سانس لینا چاہتی تھی‘ اسی لیے وہ یونیورسٹی کی ان گھڑیوںکو خوب انجوائے کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس آزاد فضا میں بے شمار اضافی سانس لینا چاہتی تھی تاکہ گھر کی گھٹی فضا میں کام آسکیں۔ وہ تو پاس ہونا بھی نہیں چاہتی تھی‘ مگر یہ قدرت کی بخشی ہوئی ذہانت تھی کہ لیکچر پر ہی وہ پیپر دے دیا کرتی اور پاس ہو جاتی جبکہ دوسرے خوب سرکھپاتے پڑھائی میں تب جا کر پاس ہوتے۔
’’ارے بھئی ! اس میں بسورنے کی کیا ضرورت ہے۔ بھلا ہم لوگ اس روز غائب ہو جائیں گے اور سر سجاد کا تو تمہیں پتا ہی ہے کہ ایک بھی سٹوڈنٹ غائب ہو تو پیپر نہیں لیتے۔ چلو حسن اور ماریہ بھی آ گئے‘ مشورہ کر لیتے ہیں۔‘‘
اور پھر حسن اور ماریہ کے ساتھ مل کر پیپر کے بارے میں پروگرام بنتے رہے‘ اسی دوران کلاسز بھی ہوتی رہیں۔
’’اللہ جلدی کریں سر ! پوائنٹ نکل جائے گا۔‘‘
سر لیکچر دے رہے تھے اور حنا‘ ماریہ کو جلدی پڑی تھی پوائنٹ کی‘ حالانکہ ایک کا پوائنٹ چلنے میں بیس منٹ باقی تھے۔
’’یہ تم لوگوں کو گھر جانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے ماریہ۔‘‘
سجیلہ نے عجیب سی نظروں سے ماریہ کو دیکھا جو اس کی بات کے جواب میں حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی‘ یوں جیسے اس نے انتہائی انہونی بات کہہ دی ہو۔





’’ارے بھئی ‘ گھر ہی تو ایسی جگہ ہوتی ہے‘ جہاں ہر انسان کو جلدی جانے کی خواہش ہوتی ہے‘ تمہیں گھر جانے کی جلدی نہیں ہوتی کیا؟‘‘
لیکچر ہو رہا تھا‘ مگر وہ تینوں سب سے آخر میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ ماریہ کی بات پر وہ چپ سی ہو گئی۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ گھر واپسی کے خیال سے اس کے دل کی بستی ویران ہونے لگتی ہے‘ دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔
’’ہاں کیوں نہیں‘ تم نے خود ہی تو کہا تھا گھر جانے کی جلدی کسے نہیں ہوتی۔‘‘
اس نے اپنے دل میں اترتی ویرانی لفظوں کی آڑ میں چھپاتے ہوئے کہا۔
وقت کا کام تو آگے بڑھنا ہوتا ہے‘ کوئی اس کے ساتھ چلے یا نہ چلے یہ بڑھتا چلا جاتا ہے‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ایک کے پوائنٹ سے گھر واپسی کیلئے بیٹھ گئی تھی۔ پوائنٹ وہی تھا ٹوٹا پھوٹا‘ لرزتا‘ بے رنگ‘ اجڑا ہوا مگر صبح تو یہی پوائنٹ بہت اچھا لگ رہا تھا‘ شاید اس لئے کہ یہ اسے قید سے قفس سے آزاد فضا میں لاتا ہے‘ کتنے انمول ہوتے تھے‘ یہ چند گھنٹے جن میں وہ زندگی کو بھرپور انداز میں انجوائے کرتی تھی۔
’’سجو ! کیا بات ہے‘ چپ چپ ہو۔‘‘
حنا محسوس کر رہی تھی‘ وہ خاصی چپ سی ہے۔
’’ہوں… نہیں تو بس سر میں درد ہے۔‘‘
کتنے مہربان ہو جاتے ہیں ایسے چھوٹے موٹے درد جو دل کی ٹیسوں کو چھپانے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
حنا اس کی اچھی اور مخلص دوست ضرور تھی مگر ابھی دوستی اس حد تک آگے نہیں بڑھی تھی کہ وہ دل کے داغ اسے دکھاتی۔
’’کیا روز واپسی پر تمہارے سر میں درد ہوتا ہے؟‘‘
حنا کی کھوجتی ہوئی نگاہیں اس کے چہرے پر پڑیں تو وہ چونک پڑی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ تم روز واپسی پر اسی طرح ہو جاتی ہو۔ یونیورسٹی سے خاصی مختلف لگتی ہو یوں جیسے… اچھا خیر میرا خیال ہے میرا سٹاپ آنے والا ہے‘ گیٹ تک پہنچ جائوں رش بھی بہت ہے۔‘‘
حنا نے خود ہی محسوس کیا کہ وہ کچھ پرسنل ہونے لگی ہے‘ فوراً کھڑی ہو گئی۔
یونیورسٹی سے اس کے گھر تک کا فاصلہ پوائنٹ گھنٹے یا پون گھنٹے میں طے کرتا تھا‘ مگر اسے روز ہی ایسا محسوس ہوتا پوائنٹ اڑتا ہوا آیا ہے‘ تب ہی تو اتنی جلدی گھر آ گیا۔
اس کے سٹاپ پر کافی لوگ اترے تھے اور ان سب سے اس کی ہائے ہیلو تھی۔ ان میں کچھ تو صرف پوائنٹ فیلو تھے اور کچھ کلاس فیلو یا ڈیپارٹمنٹ فیلو‘ وہ سب کو خدا حافظ کہتی اپنے گیٹ پر پہنچ گئی۔
’’سلام بی بی!‘‘ چوکیدار نے گیٹ کھولتے ہی سلام جھاڑا۔
’’ہوں‘ اس کا مطلب ہے پپا‘ راحیل‘ عدیل اور نبیل آچکے ہیں۔‘‘
اس نے چوکیدار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پپا‘ عدیل‘ راحیل اور نبیل کی الگ الگ کھڑی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
اس وقت تقریباً دو بجے کا وقت تھا اور حسب معمول گھر میں ہو کا عالم تھا۔ کھانا ان کے ہاں ایک بجے کھا لیا جاتا تھا اور اس وقت بھی سب کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں آرام کرر ہے تھے۔ سکوت اس قدر تھا کہ سوئی بھی گرتی تو گھر گونج اٹھتا اور اسے ان ہی سناٹوں سے خوف آتا تھا۔
’’ارے بے بی ! تم آ گئیں آج کچھ دیر نہیں ہو گئی۔‘‘
حسب سابق اس نے فاطمہ باجی کو منتظر پایا۔ وہ روز ہی اس کیلئے اپنا آرام برباد کیا کرتیں۔
’’ہونہہ ! گھر ہے کہ قبرستان‘ ایمان سے بجو اتنی خاموشی‘ سناٹا تو وہاں بھی نہیں ہوتا۔‘‘
اس نے زور سے بیگ فرش پر پٹخا‘ جس سے خاموش فضا میں خاصا شور ہوا۔
’’آہستہ بے بی جان ! پتا جی اور مما جان سو رہے ہیں اور بھائی لوگ بھی آرام کر رہے ہیں۔‘‘
of 172 
Go