| Back | Home | |
||
|
’’یہ بات نہیں ہے میاں! تمہارے دادا جان تو نہایت ہی سلجھی ہوئی طبیعت کے شریف النفس انسان ہیں۔‘‘ دادی بڑے وثوق سے بولیں۔ ’’چلیں جی ہم ایمان لائے آپ کی باتوں کی صداقت پر۔ اب تو بتا دیں کہ کون آ رہا ہے؟‘‘ احسن نے گویا ہار مان لی۔ ’’ارے تم لوگ گھر پر ٹِکو تو کچھ پتہ ہو نا۔ کون آ رہا ہے؟ کون جا رہا ہے؟ کچھ سروکار نہیں تم لوگوں کو اس سے۔‘‘ صابرہ اندر سے نکلتے ہوئے بولیں۔ ’’لیجئے۔ یہ بھی خوب رہی۔ جب گھر پر ہوں تو گھر سے باہر بھگانے کے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں اور جب باہر ہوں تو کہتے ہیں گھر پر نہیں ٹکتے۔ اب کریں تو کیا کریں؟‘‘ فاروق نے کندھے اچکاتے ہوئے ایک سرخ سرخ سیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دادی نے جھٹ سیبوں کی طشتری پر جالی کا کپڑا ڈال کر ندا سے کہا۔ ’’یہ طشتری لے جائو ندا ورنہ یہ لڑکے ابھی سب کا صفایا کر دیں گے۔‘‘ ’’دادی! میری پیاری دادی! بھوک سے جان نکلی جا رہی ہے۔‘‘ فاروق نے ان کی گردن میں اپنی بانہیں ڈال کر دہائی دی۔ ’’تو کھانا تیار ہے کھا لو۔ وقت پر گھر سے باہر ہوتے ہو۔ موئے میچ کھیل کھیل کر دھوپ میں اپنا رنگ جلاتے ہو اور ہمارے لہو۔ چلو منہ دھو جا کے تینوں۔ نجانے آج کل کے لڑکوں پر یہ میچ کھیلنے کا بھوت کیوں سوار ہوتا ہے۔‘‘ دادی نے مصنوعی غصے سے اسے جھڑکا تو وہ کھسیا کر واش بیسن کی طرف منہ دھونے چلا گیا۔ ’’روحی آ رہی ہے۔ میاں اسفند یار بھی آ رہے ہیں رات کو۔ تم لوگ ذرا ادب کے دائرے میں رہنا۔‘‘ ’’کیا…؟‘‘ فاروق، احسن اور دانش کے منہ سے اکٹھا نکلا۔ ’’آپا مع پلٹن کے تشریف لا رہی ہیں۔‘‘ ’’اور فاروق! تم ذرا منہ بند کر کے ہی بیٹھنا۔‘‘ ماں نے اسے کچن ہی سے تنبیہ کی۔ ’’یہ بطور خاص مجھے ہی کیوں منہ بند رکھنے کا حکم ملا ہے؟‘‘ وہ کچن میں رکھی چھوٹی ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ ’’اس لئے کہ آپ کی زبان جب چلتی ہے تو یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے کون ہے؟ اس سے رشتہ کیا ہے؟ بس چل پڑتی ہے لہٰذا بطور خاص تنبیہ بھی آپ کو ہی کی گئی ہے۔‘‘ نشاء نے پانی کا جگ اور گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم تو اپنی چونچ بند ہی رکھو۔‘‘ فاروق نے دانت کچکچائے تو جواباً نشاء نے اس کا منہ چڑایا۔ ’’صحیح کہہ رہی ہے بچی۔ پچھلی مرتبہ بھی جب اسفند یار آئے تھے تو نجانے تم نے کیا کہہ دیا ان سے۔ بچہ روٹھ کے چلا گیا تھا۔ کھانا بھی نہ کھایا تھا۔‘‘ امی کو بڑا افسوس تھا کہ ان کے داماد بغیر کھانا کھائے چلے گئے تھے۔ ’’ہاں پھر ہزار جتن کر کے تو منایا تھا اسے۔‘‘ دادی نے بھی ٹکڑا لگایا۔ ’’ارے میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ آپ کی مرتبہ آنٹی (روحی کی ساس) نے کیا کوئلہ چبا لیا تھا۔ بس اتنی سی بات پر وہ روٹھ گئے۔‘‘ فاروق بے حد معصومیت سے بولا۔ ’’ہاہ… یہ لو۔ ارے یہ اتنی سی بات ہے۔ تو نے تو اسے کالا ہی کہہ دیا منہ پھاڑ کر۔ بچہ بیچارا ناراض نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔‘‘ دادی ناک کی نوک پر شہادت کی انگلی رکھے ہکا بکا اس کی صورت دیکھتی رہ گئیں۔ ’’قسم لے لیں دادی جو میں نے انہیں کالا کہا ہو۔ یہ احسن گواہ ہے۔ یہ میرے گھٹنے سے گھٹنا ملا کر بیٹھا تھا۔‘‘ فاروق نے جھٹ احسن کی گواہی کی یقین دہانی کروائی۔ ’’ارے مطلب تو تیرا وہی تھا نا۔‘‘ دادی قدرے خفگی سے بولیں۔ ’’فاروقی نے کوئلہ کہا تھا جسے شاید وہ کالا سمجھ گئے تھے۔‘‘ احسن نے فاروق کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حق دوستی ادا کر دیا۔ ’’چپ رہ تو۔ تم دونوں سے تو شیطان بھی پناہ مانگے۔‘‘ دادی نے فوراً جھڑکی پلائی۔ ’’ہمارے یہاں دامادوں کو بیٹوں سے زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی عزت خاطر میں کمی نہیں رکھی جاتی کہ ہماری بیٹیاں ان کے گھروں میں ہوتی ہیں۔ تم لوگ بہنوئیوں کی عزت قدر کرو گے تو اس میں تمہاری بہنوں کی بہتری ہو گی بیٹے۔ اسی لئے سمجھاتی ہوں۔ احتیاط کیا کرو۔‘‘ وہ رسانیت و متانت سے سمجھانے لگیں۔ ’’احسن اور دانش کو بھی تو نے اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ سمجھا کر بیٹے۔ دامادوں کو سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھتے ہیں۔ اس سے ہماری شان نہیں گھٹے گی بلکہ ہماری بیٹیاں ہی معتبر ٹھہریں گی۔ ایسی کوئی حرکت یا بات کرنے سے پرہیز کرنی چاہئے جو کل کلاں کو تمہاری بہن کے لئے طعنہ بن جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ تیری مذاق کی عادت۔ یہ عادت تیری چھوٹتی نہیں مگر بیٹا باہر کا بندہ تیری مذاق کی حدود کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے برا مان جانا ایک فطری عمل ہے۔ ہمارے ساتھ تو تیرے چوبیس برس گزرے ہیں۔ رات دن کا ساتھ ہے لیکن اسفند اور شہریار (عافیہ کے شوہر) دونوں سے تمہارا کبھی کبھار کا، چند گھنٹوں کا واسطہ پڑتا ہے پھر ان کے مذاج میں سنجیدگی ہے نہ وہ مذاق کرتے ہیں نہ ہی برداشت کر پاتے ہیں کسی کا مذاق۔ سمجھ رہے ہو نا میری باتیں۔‘‘ دادی نے ذرا نرمی سے اسے اونچ نیچ سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’سمجھتا ہوں دادی! سب سمجھتا ہوں۔ مگر کیا کروں اس بے لگام زبان کا۔ یہ کنٹرول سے باہر ہے۔ ذرا کسی کا بگڑا ہوا منہ دیکھ لے تو کھجلی شروع ہو جاتی ہے اسے۔‘‘ فاروق نے ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔ کھانا تو وہ کب کا کھا چکا تھا۔ اب دادی کی نصیحتوں کے چورن سے ہضم کر رہا تھا۔ ’’تو کاٹ کے پھینک دے ایسی ناہنجار زبان کو ورنہ یہ کام بھی میں ہی کئے دیتی ہوں۔‘‘ وہ غضبناک ہو گئیں۔ (اتنا سمجھانے کے باوجود وہ ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا۔) ’’اچھا اچھا۔ پکا وعدہ۔ آج ان سے کچھ بھی نہیں کہوں گا۔‘‘ اس نے جلدی سے وعدہ کیا۔ ’’یہ وعدہ سچا ہے یا دادی کی دھمکی کا وقتی اثر؟‘‘ احسن نے بڑی رازداری سے پوچھا۔ ’’سیلف ڈیفنس ہے میرے بھائی! باقی اگر یہ زبان پھسلنے لگے تو تُو کس مرض کی دوا ہے ٹوک دینا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولا۔ ’’کیا کھسر پھسر کر رہے ہو دونوں؟‘‘ دادی کو ان کی کھسر پھسر مشکوک لگی۔ ’’کچھ نہیں دادی! میں اس احسن کو سمجھا رہا تھا کہ ہمارے بہنوئی محترم سے کوئی مذاق نہیں کیا جائے۔ ان کے شایان شان استقبال کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔‘‘ فاروق نے جلدی سے کہا تو دادی صرف ان دونوں گو گھور کے رہ گئیں… رات کی دعوت خوب شاندار رہی تھی۔ روحی مع اپنے شوہر اسفند یار اور چاروں شرارتی بیٹیوں کے آ چکی تھیں۔ فاطمہ کا پورشن مہمانوں سے بھرا ہوا تھا بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مہمانوں کی تعداد کم تھی اور میزبانوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔ فاروق اور احسن بڑی تہذیب کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ خاص طور سے فاروق بے حد مہذب انداز میں اور قدرے سنجیدہ بنا اسفند یار سے باتیں کر رہا تھا لیکن اس میں کمال زیادہ تر دادی کی نظروں کا تھا۔ جن میں تنبیہہ بھی تھی اور دھمکی بھی۔ کھانا اچھے ماحول میں کھایا گیا۔ اسفند یار بہت اچھے موڈ کے ساتھ رخصت ہوا تھا۔ مہمانوں کے جاتے ہی فاروق نے ایک آزادنہ اور اطمینان بخش سانس لی۔ ’’شکر ہے اللہ کا۔ مزید دس منٹ اسفند بھائی بیٹھتے تو میری تو سانس ہی رک جاتی۔ ان کی موجودگی میں رک رک کر آ رہی تھی۔‘‘ ’’ہو گیا تو شروع؟‘‘ دادی نے اس کا کان مروڑا۔ ’’ارے دادی! اتر جائے گا۔ کیوں مجھ غریب پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔ کن کٹے سے کون شادی کرے گی؟ ساری عمر کے لئے کنوارہ ہی رہ جائوں گا۔‘‘ اس نے دہائی دی۔ تو دادی کی ہنسٹی چھوٹ گئی۔ ’’دیکھا فاطمہ! کیسا شوق ہے اسے گھوڑی چڑھنے کا۔‘‘ انہوں نے بہو سے کہا تو وہ مسکرانے لگیں۔ ’’آج کل گھوڑی کا دور نہیں ہے دادی! یوں بھی کار، بس کے زمانے میں گھوڑی پر چڑھنا ذرا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی کار کا ہارن بجا تو گھوڑی کی اچھل کود میاں نوشہ کو چاروں شانے چت کرا سکتی ہے۔‘‘ عثمان بھیا نے مسکرا کے جواب دیا۔ ’’ہمارے فاروق صاحب سے کوئی بعید نہیں کہ بارات کے لئے پلین ہی ہائر کروا لیں۔‘‘ ’’نہیں بھیا! یہ بہت فاسٹ فارورڈ ہیں جمبو جیٹ کو بک کروائیں گے۔‘‘ دانش نے لقمہ دیا۔ ’’ارے رے۔ بھئی مجھ غریب کے پیچھے کیوں پڑ گئے نہا دھو کے سب کے سب؟ میں نے تو ایک یونہی سی بات کہہ دی تھی۔‘‘ فاروق نے گھبرا کے کہا۔ ’’دادی! کچھ بھی یونہی نہیں ہوتا۔ فاروق نے ’’گھوڑی چڑھنے‘‘ کا اشارہ دے دیا ہے۔‘‘ نشاء بھلا کیوں پیچھے رہتی۔ ’’آثار مشکوک ہیں تائی امی!‘‘ احسن نے فاطمہ سے کہا۔ ’’ہیں۔ فاروقی فاروق! معاملہ کیا ہے؟‘‘ فاطمہ سنجیدہ ہو گئیں۔ ’’ارے امی! کیا ہو گیا ہے؟ یہ سب مذاق کر رہے ہیں۔ آپ سچ سمجھ رہی ہیں۔‘‘ وہ سچ مچ سٹ پٹا گیا۔ آخر کو وہ سب بھی اسی کے کچھ نہ کچھ لگتے تھے اگر وہ شوخ تھا تو یہ سب بھی کم نہ تھے۔ ’’ویسے ملٹری آفیسر سے شادی کرنے کے بعد روحی آپا بھی انہی جیسی ہو گئی ہیں۔ ہیں نا؟‘‘ ندا کو بھائی کی درگت بنتے دیکھ کر رحم آ گیا تو بات کو بدلنے کی غرض سے بولی۔ ’’یہی تو میں کہتا ہوں۔ مگر کوئی مانتا ہی نہیں۔‘‘ فاروق نے تشکر بھری پیار کی نظر بہن پر ڈالی۔ ’’دس سالوں کی رفاقت بھی کوئی معنی رکھتی ہے۔ عورت تو کچی مٹی ہوتی ہے جس سانچے میں ڈھالو ڈھل جاتی ہے۔‘‘ فاطمہ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن سب عورتیں ایسی نہیں ہوتیں امی! کچھ عورتیں ڈھیٹ مٹی سے گندھی ہوتی ہیں۔‘‘ فاروق نے کن اکھیوں سے زویا کی طرف دیکھا جو آج نجانے کس موڈ میں تھی جو ابھی تک ان کی محفل میں بیٹھی تھی۔ ’’یہ بھی ایک قسم ہوتی ہے بیٹا۔ لیکن عملی زندگی میں آنے کے بعد عورت کو خود کو حالات کے سانچے میں ڈھالنا ہی پڑتا ہے۔ یہی عقلمندی ہوتی ہے۔ جس عورت میں ہٹ دھرمی، ضد، انا اور خودپسندی ہو وہ عورت ٹوٹ جاتی ہے۔‘‘ وہ بولیں۔ ’’جتنی لچک عورت میں ہو گی زندگی اس کے لئے اتنی ہی سہل ہو جائے گی۔ جتنی ضد و انا پرستی عورت میں ہو گی حیات اس کے لئے اتنی ہی مشکل ہو جائے گی۔‘‘ ’’لیکن تائی امی! صرف عورت ہی کیوں اپنے اندر لچک پیدا کرے؟ مرد کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عورت کے جذبات و احساسات اور پسند و ناپسند کا حترام کرے۔ اپنے اندر لچک اور گنجائش پیدا کرے۔ قربانی کا بکرا صرف عورت ہی کو کیوں بننے پر مجبور کیا جاتا ہے؟‘‘ زویا چپ نہ رہ سکی اور تنک کر پوچھنے لگی۔ ’’ایسی بات نہیں ہے کہ مرد کو بالکل ہی جابر حاکم کا درجہ دیا گیا ہے۔ کچھ ذمہ داریاں اور فرائض مرد پر بھی عائد ہوتے ہیں بیٹی! لیکن عورت کو خدا نے بہت سی ایسی خاصیتوں سے نوازا ہے جو مرد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہیں۔ عورت کی مٹی میں خدا نے نرمی، برداشت اور صبر کے ساتھ ساتھ محبت بھی گوندھ دی ہے۔ اپنی انہی خوبیوں کی بناء پر عورت ایک مکان کو گھر بنا دیتی ہے۔‘‘ فاطمہ نے جواب دیا۔ ’’لیکن تائی امی! اگر مرد چاہے تو اپنے مزاج میں بھی یہی سب خوبیاں پیدا کر سکتا ہے۔‘‘ وہ بحث کے موڈ میں آ گئی۔ ’’بالکل اور کرنی بھی چاہئیں لیکن بیٹی! مرد میں لچک کم اور خودپسندی زیادہ ہوتی ہے۔ قدرت نے دونوں کا میل ہی ایسا رکھا ہے۔ ایک کی خامی دوسرے کی خوبی سے ڈھک جاتی ہے۔ اگر دونوں ہی برابر ہوں تو پھر نہ سمجھوتے ہوں دنیا میں نہ اختلافات، نہ ہی روٹھنا منانا ہو نہ ہی محبت کی گہرائیوں کا کوئی اندازہ لگا سکے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مصلحتیں ہیں۔‘‘ انہوں نے بہت گہری بات کی تھی جس کی تہہ تک زویا جیسی سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں پہنچ سکتی تھی۔ ’’لیکن مرد تو اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے جس طرح چاہے عورت کو اپنی مرضی میں شامل کر لے جس سانچے میں چاہے عورت کو اسی شکل میں ڈھلنا پڑے۔ یہ مجبوری کے سودے نہیں تو کیا ہیں؟ آخر عورت کی بھی تو اپنی زندگی ہے۔ اپنی مرضی ہے۔ پھر وہ کیوں مرد کے سامنے دبے؟ کیوں اس سے ڈرے، گھبرائے، خوشامد کرے، محبت کے ڈھونگ کرے؟‘‘ وہ چڑ کے جذباتی لہجے میں بولی۔ ’’بیٹا! میں نے کہا نا کہ گرہستی بنانے کے لئے عورت کو خدا نے کچھ مخصوص خوبیاں عطا فرمائی ہیں جو مرد کے پاس شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔ کوئی عورت جب اپنے گھر کو سجاتی ہے تو اس کے لئے اسے کوئی مجبور نہیں کرتا۔ جب اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت کرتی ہے تو یہ سب کوئی اس سے زبردستی نہیں کرواتا۔ یہ سب تو وہ اپنی محبت سے کرتی ہے۔ اسی میں عورت کی بقا ہے۔ اس کا تحفظ پنہاں ہے۔ یہ سب وہ اپنی اس خالص اور انمول محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کرتی ہے جو وہ اپنے گھر، اپنے شوہر، اپنے بچوں سے کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے شوہر کے آگے جھکتی ہے یا خوشامد کرتی بھی ہے تو اس میں سبکی کی بات نہیں بلکہ یہ تو بہت قابلِ رشک بات ہوتی ہے اور خدا کے نزدیک ایسی عورت کا درجہ بہت ہی بلند ہوتا ہے۔ جو عورتیں ایسا نہیں کرتیں اور اپنی ’’میں‘‘ ہی کے حصار میں قید رہتی ہیں وہ دنیا میں بھی ناکام رہتی ہیں اور آخرت میں بھی نامراد۔ ان کے دامن میں صرف کانٹے ہی بچتے ہیں۔‘‘ فاطمہ کی تجربہ کار اور پراثر گفتگو سب ہی بہت غور سے سن رہے تھے۔ فاروق نے محبت پاش نظروں سے ماں کو دیکھا جن کی صرف صورت ہی نہیں سوچ بھی اعلیٰ تھی۔ (جس خاتون کی سوچ اتنی بلند اور مثبت ہو اس کی بیٹیاں کیس کسی سے نہیں نبھائیں گی۔) اس نے سوچا۔ اسے یاد تھا کہ روحی شادی سے قبل کسے قدر غصیلی، من موجی اور ضدی طبیعت کی تھی۔ لیکن اسفند اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھا۔ روحی نے شادی کے بعد اپنے آپ کو شوہر کی پسند کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔ ساری ضد، اکڑ، غصہ، خودپسندی میکے ہی میں چھوڑ کے چلی گئی تھی لیکن اس کا صلہ بھی خدا نے اسے خوب دیا تھا۔ اسفند یار کا آج یہ عالم تھا کہ شادی کے دس، گیارہ سالوں بعد بھی بیوی کے نام کی مالا جپتے تھے۔ ان کی قربانیاں، خدمتیں اور محبت رائیگاں نہیں گئی تھی۔ اس وقت بھی فاطمہ، زویا کو روحی کی مثال دے رہی تھیں۔ ’’ہو سکتا ہے کہ وہ اسفند بھائی سے ڈرتی ہوں۔ اسی لئے ان کے ساتھ نباہ پر مجبور ہوں۔‘‘ وہ بدلحاظی سے بولی۔ ’’وہ ڈرتی نہیں ہے۔‘‘ اس بار دادی نے جواب دیا۔ ’’وہ محبت کرتی ہے۔ اسی لئے نباہ رہی ہے۔ پھر اس کا صلہ بھی اسے ملا ہے۔ اسفند آج ایک دن روحی کے بغیر نہیں رہ سکتے اور پھر مجبوری اور محبت کا فرق تو رویوں سے ظاہر ہو جاتا ہے۔‘‘ ’’آپ اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتی ہیں دادی!‘‘ اس نے طنزیہ انداز میں مسکرا کے پوچھا۔ ’’یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے میں نے۔ تجربہ کار نگاہیں تو دل کا بھید جان لیتی ہیں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولیں۔ ’’میرے خیال میں مخالفوں کو اب تو عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔‘‘ فاروق بیچ میں بول پڑا۔ ’’ویسے ’روشن اور کامیاب‘ مستقبل کے لئے کچھ لوگ ابھی سے اپنے بڑوں سے قیمتی مشورے لے رہے ہیں۔‘‘ فاروق نے زویا پر چوٹ کی۔ ’’آپ خاموش رہیے۔ میں آپ سے بات نہیں کر رہی۔‘‘ زویا کو فاروق کی بات بری لگی۔ وہ ویسے بھی اس کی طنز و مزاح کی عادت سے نالاں رہتی تھی۔ ’’تو اچھی بات ہے۔ بزرگوں کی گفتگو سے مستفید ہونا چاہئے۔‘‘ عثمان نے زویا کی طرفداری کی۔ ’’تو میرا مطلب بھی تو یہی تھا بھیا!‘‘ فاروق منہ بنا کر بولا۔ ’’بھئی میں سونے جا رہی ہوں۔ تم سب بھی بستروں کا رخ کرو۔ صبح پھر کاہلوں کی طرح پڑے رہتے ہو۔ فجر بھی گول کر جاتے ہو۔‘‘ دادی نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’ندا نے انہیں سہارا دے کر اٹھایا۔ نشاء اور نشاط بھی اپنے پورشن کی جانب بڑھ گئی تھیں۔ عثمان بھیا اور دانش بھی باتیں کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔ فاطمہ اور صابرہ ابھی تک بیٹھی |
||