Urdu Novels

Back | Home |  

گیٹ سے باہر نکال دی۔
’’تم انسان ہو یا جانور۔ زویا! تم پاگل ہو گئی ہو۔ تمہارا پاگل پن حد سے بڑھ گیا ہے۔‘‘ ندا غصے سے کہہ رہی تھی۔
’’نکل جائو یہاں سے زویا۔ اب آئندہ اس گھر یا اس کے مکینوں سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔ دوبارہ کبھی اپنی شکل مت دکھانا ہمیں۔ آج سے ہم تمہارے لئے مر گئے ہیں اور تم پر فاتحہ تو ہم تب ہی پڑھ چکے تھے جب تم فخر کے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔‘‘ شجاع اللہ جمالی کی آواز نے اس کے حواس منجمد کر دیئے۔
’’نذیر! اس عورت کی شکل اچھی طرح یاد کر لو۔ آج کے بعد یہ اس گھر کے آس پاس بھی نظر آئے تو ہمیں بتانا۔ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اسے شوٹ کر دیں گے۔ تاکہ یہ ناسور ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔‘‘  شجاع اللہ جمالی نے نذیر کو حکم دیا۔
نذیر نے دکھی اور ملامت بھری نظروں سے اپنی سابقہ مالکن کو دیکھا۔ جو اس وقت کسی مجرم کی طرح وہاں سب کے سامنے سرجھکائے کھڑی تھی۔
’’تف ہے تم پر زویا۔ تم نے معصوم بچے کا لہو نکال دیا۔اور کس کس کو زخمی کرو گی؟‘‘ نشاط نفرت سے بولی۔
’’غزل بے چاری نے کیا قصور کر دیا تھا جو اسے مارا؟ تم پاگل ہو گئی ہو۔ تم واقعی پاگل ہو چکی ہو ۔ چلی جائو یہاں سے۔‘‘ نشاء نے بھی اسے ملامت کیا۔
’’نذیر! یہ عورت ایسے نہیں جائے گی۔ اسے دھکے دے کر نکال باہر کرو یہاں سے۔‘‘ ندا نے بنا کسی لحاظ و مروت کے کہہ دیا۔
ربیکا اب بھی خاموش ہی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں کی نفرت، چبھن اور حقارت زویا کے جسم و روح میں نیزے کی طرح گھسی جا رہی تھی۔
’’خدا کے لئے بی بی! آپ چلی جائیں۔‘‘ نذیر نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
زویا نے ایک خالی خالی نظر ان سب پر ڈالی۔ ان سب کے چہروں پر صرف غصہ تھا۔ نفرت تھی۔ ان کی آنکھوں میں حقارت تھی۔ ملامت تھی۔ سب کی نظریں جیسے کہہ رہی تھیں۔
تف ہے تم پر۔ لعنت ہے تم پر۔ پھٹکار ہے تم پر۔ زویا کے قدم لڑکھڑا سے گئے۔ اس نے خاموشی سے ایک آخری نظر سب پر ڈالی اور شجاع منزل سے باہر نکل آئی۔ اس کی کار کھڑی تھی۔ مگر وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ یہاں اپنی مرسڈیز میں آئی تھی۔ اس کے جوتے بھی کہیں گر گئے تھے۔ جب دانش اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ اس وقت وہ ننگے پیر کھلی تپتی ہوئی سڑک پر چلتی جا رہی تھی۔ نہ اسے جوتوں کا ہوش تھا نہ دوپٹے کا پتہ۔ اس کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کی منزل کون سی ہے؟ کسی کٹی پتنگ کی طرح وہ یہاں وہاں ڈولتی پھر رہی تھی۔ شدت کی اس گرمی میں وہ ہوش سے بے گانہ ہو گئی تھی۔ خالی سڑک سے وہ بھری ہوئی مین روڈ پر آ گئی تھی۔ اس کے اندر آوازوں کا ایک ہجوم تھا۔ جس کے شور نے اسے اس حد تک بہرہ کر دیا تھا کہ اسے کھلی سڑک پر گاڑیوں کے ہارن اور گاڑیوں کے چلنے کا شور سنائی ہی نہ دے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے سب کی نفرت بھری آنکھیں بار بار آ رہی تھیں۔ اسے سڑک پر چلتی گاڑیاں نظر ہی نہیں آ رہی تھیں۔
’’میں نے زندگی میں کیا پایا؟ صرف ذلتیں۔ صرف رسوائیاں۔ صرف دکھ۔وہ دکھ جو میں نے اپنی خوشیاں بیچ کر خود خریدے تھے۔ تنہائیاں۔ بدنامیاں۔ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ فاروق! تم ٹھیک کہتے تھے۔ میری ’’میں‘‘ نے ہی مجھے تباہ کیا ہے۔ میری خودپسندی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سب کچھ میرے پاس تھا مگر میں نے قدر نہ کی۔ میں ہر کسی کو اپنے قدموں پر جھکا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔ مگر میں خود ایسا گر گئی کہ اب چاہوں بھی تو اٹھ نہیں سکتی۔
میری تو ریڑھ کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی ہے۔ ہائے مما! کاش۔ کاش۔ آپ مجھے اس وقت تھپڑ مار کر سمجھا لیتیں جب پہلی بار میں نے آپ سے اپنی فرمائش پوری کروانے کے لئے ضد کی تھی اور آپ نے پوری بھی کر دی تھی۔ ہائے۔ پپا! مجھے معاف کر دیں۔ فاروق! انس! انس! میرے بچے کا خون نکل رہا ہے۔ وہ رو رہا ہے۔ وہ تڑپ رہا ہے۔ انس۔ انس۔‘‘ وہ پاگلوں کی طرح روڈ پر بھاگتی پھر رہی تھی۔ ایک ایک کر کے سب کو پکار رہی تھی۔
شاید وہ مرے حال پہ بے ساختہ رو دیں
اس بار بہاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
’’انس۔ انس جا رہا ہے۔ فاروق اسے لے کر جا رہا ہے۔ ارے۔ رکو فاروق! میں بھی آ رہی ہوں۔‘‘ فاروق اور انس کا الوژن تھا وہ جس کے پیچھے بھاگی تھی۔ دائیں طرف سے ایک تیز رفتار ٹرک آ رہا تھا۔ زویا نے بھاگ کر سڑک پار کرنی چاہی مگر درمیان میں ہی ٹرک آ گیا تھا اور پھر فضا میں ٹرک کے ٹائروں کی چرچراہٹ کے ساتھ زویا کی دلخراش چیخوں نے راہگیروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ ٹرک ڈرائیور تو ٹرک سمیت بھاگ نکلا تھا مگر زویا کا خون میں لت پت وجود سڑک پر بے جان و بے روح پڑا رہ گیا تھا۔

(ختم شد)






of 32 
Go