Urdu Novels

Back | Home |  
چاہا، مگر دادی کے لئے سارا مسئلہ ہی اختلافِ رائے کا تھا۔
’’وہ میرے بیٹے کا گھر ہے، زبیدہ! اور میں جس وقت اور جب چاہوں، وہاں دخل دے سکتی ہوں۔ اس میں کسی کو بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے خود پتہ ہے، کیا صحیح ہے، کیا غلط ہے۔‘‘ جب بھی غصہ آتا، وہ اس سے بھی زیادہ بے مروّتی سے ڈانٹ لیتی تھیں۔
امی بے چاری کے دل کو بڑی ہی ٹھیس پہنچی تھی۔ اس بار منع کرنے کے بجائے سمیعہ کو آواز دے کر امی کے سامنے لا کھڑا کیا۔
’’کہہ دیں، جو بھی اس سے کہلوانا ہے۔‘‘ کچھ روٹھے ہوئے سے لہجے میں انہوں نے دادی سے کہا اور خود باہر چلی گئیں۔
’’فردوس چچی سے پوچھنا کہ اگر اختر میرے لئے بادام لے آیا ہے تو وہ دے دیں۔ اور دیکھنا، اندر جانا، کون مہمان آئے ہیں، یہ ضرور دیکھ لینا۔ یہ نہ ہو کہ اس کے بچے تمہیں دروازے سے ہی ٹال دیں۔‘‘ دادی اپنی ایکسائٹمنٹ میں سمیعہ کے چہرے پر تذبذب کے آثار نوٹ نہیں کر رہی تھیں، اس وقت ذرا چونکیں، جب اپنی بات کے اختتام پر سمیعہ کو ٹس سے مس ہوتے نہیں دیکھا۔
’’فردوس چچی نے منع کیا تھا کہ ہمارے مہمانوں کے سامنے مت آنا، صبح ناشتے کے بعد جب میں گئی تھی، تبھی کہہ دیا تھا، انہوں نے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ دادی کو پہلے سخت حیرت اور پھر اس سے بھی زیادہ خفگی گھیرنے لگی۔
’’ایسے کون سے بادشاہ سلامت آ رہے تھے، جو یوں صاف منع کر دیا، بچی کو۔ ویسے تو اپنے ذرا ذرا سے کاموں کے لئے ہر وقت سمیعہ، سمیعہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ سمیعہ چپ چاپ کھڑی سنے گئی۔
تھی تو سخت نا انصافی والی بات۔ اور تھوڑا سا برا اسے بھی لگا تھا، جب چچی نے اُسے جتا کر کہا تھا۔ مگر وہ فطرتاً بہت دیر کسی بات کو دل سے لگا کے رکھنے والی نہیں تھی۔
’’میں کہہ رہی ہوں تم سے کہ ابھی جائو اور کہو کہ دادی نے بھیجا ہے۔ بھلا بتائو، شرم تو آئی نہیں اس طرح صاف منع کرتے ہوئے۔‘‘
دادی، جوڑوں کے درد کی وجہ سے مجبور تھیں، ورنہ شاید وہ اس وقت خود ہی خبر لینے کے لئے اوپر چل پڑتیں۔ سمیعہ یوں ہی گومگو کی سی کیفیت میں کھڑی تھی۔ دادی کا حکم بجا لانا اس وقت ازحد مشکل تھا۔





’’اصل میں دادی! سجیلہ کے رشتے کے لئے لوگ آ رہے ہیں، چچی نہیں چاہ رہیں کہ اس وقت کوئی ڈسٹرب کرے۔‘‘ حالانکہ چچی نے تو اصل بات بتانے سے بھی منع ہی کیا تھا، مگر اُسے بتانی ہی پڑی۔
’’اچھا!‘‘ دادی کی سمجھ میں جیسے دفعتہ ہی ساری بات آ گئی۔
ایک پُرسوچ سی نگاہ انہوں نے سمیعہ کے سادہ اور پُرکشش چہرے پر ڈالی اور پھر آہستہ سے بولیں۔
’’ٹھیک ہے، پھر رہنے ہی دو۔ مگر یہ کون سا وقت ہے، کسی کے گھر آنے کا، اور وہ بھی لڑکی دیکھنے، شام کو آنا چاہئے تھا۔‘‘
ان کے تبصرے پر کسی مزید تبصرے کی ضرورت نہیں تھی۔ سمیعہ چپ چاپ باہر نکل آئی۔ سامنے کاریڈور میں امی کھڑی تھیں۔ سجیلہ کے رشتے کے لئے آنے والوں کی اطلاع ان کے کان میں بھی پڑ چکی تھی اور دادی کا اسے اوپر جانے سے منع کر دینا، نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں کبھی کبھی دادی بھی خود غرض لگنے لگتی تھیں، تھوڑی سی۔ ’’کیسے منع کر دیا، فوراً سمیعہ کو!‘‘ دل ہی دل میں کڑھتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی آئیں۔
’’سب کو سجیلہ کی شادی کی فکر ہے۔ زری اور سمیعہ کسی کو بھی نظر نہیں آتیں۔‘‘ اُن کا دل برا ہونے لگا۔ سجیلہ کے رشتے کے لئے آئے دن کوئی نہ کوئی آیا رہتا۔ اچھی خاصی صورت شکل، پھر اوپر سے اختر چچا کا ڈھیر سارا پیسہ، پھر بھی معلوم نہیں کیوں، یہ ہمالیہ سر ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ مہمان رخصت ہونے لگے تو دادی نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے ان کا نظارہ کر ہی لیا۔ ذرا آگے جھک کر دیکھنے پر لان سے ملحقہ گیٹ نظر آ جاتا تھا۔ دو معقول سی خواتین اور ایک لڑکی۔ شاید لڑکے کی ماں، بھابی یا بہن! دادی نے اندازہ لگایا۔
فردوس چچی بنفسِ نفیس اُنہیں چھوڑنے کے لئے نیچے آئی تھیں۔ دادی کو لگا، جب وہ نیچے آ ہی گئی ہیں تو شاید کھڑے کھڑے انہیں بھی پوچھنے کے لئے آ جائیں گی۔ وہ اسی خیال کے تحت اپنی مسہری پر جا بیٹھیں۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں سیڑھیوں پر سنائی دیتی چاپ نے یہ غلط فہمی بھی رخصت کر دی۔
انسان کو پتہ بھی نہیں چل پاتا اور زمانہ قیامت کی چال چل جاتا ہے۔ دادی پر بھی عمر کے اس آخری پہر میں آ کر انکشاف ہوا تھا کہ اُن کی اہمیت گھٹتے گھٹتے اب صفر رہ گئی ہے، یا پھر شاید اس سے بھی کم۔ انہوں نے چپکے سے اپنی گیلی ہوتی آنکھوں کو خشک کیا۔





سیڑھیوں پر پھر ہنگامہ مچا تھا۔
’’ٹیپو! بوبی! اِدھر آئو، بات سن کر جائو۔‘‘ عادت سے مجبور ہو کر وہ سب کچھ بھول کر پھر سے آواز دینے لگیں۔
اس بار انہیں مایوسی بھی نہیں ہوئی۔ فردوس چچی کے دونوں صاحبزدگان نے سیڑھیوں کی طرف کھلنے والے دروازے میں سے دیکھا۔
’’یہاں اندر آئو!‘‘
’’جی دادی!‘‘
’’کہاں جا رہے ہو، تم دونوں؟‘‘ حالانکہ کچھ کچھ اندازہ بھی تھا، مگر پھر بھی وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکیں۔
’’بریانی اور حلیم لینے۔‘‘ جواب حسبِ توقع تھا۔ دادی ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئیں۔ یہ روز کا معمول تھا۔ سڑک کے دوسری طرف ایک بریانی سینٹر واقع تھا۔ چوبیس گھنٹے بریانی، قورمہ، حلیم، شام کو ایک اسپیشلٹی اور بڑھ جاتی، چکن برگر بھی۔ ٹیپو اور بوبی سارا دن خوشی خوشی یہاں سے وہاں دوڑتے پھرتے۔
’’ہر وقت بازار کے کھانے مت کھایا کرو، اتنے تیز مصالحے اور معلوم نہیں کون سا گھی تیل استعمال کرتے ہیں، صحت خراب ہوتی ہے بیٹا!‘‘
دونوں بھائیوں نے بہت بور سی شکل بنا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ دادی کے پاس نصیحتیں بھی ایک ہی جیسی تھیں۔
’’آج مہمان آئے ہوئے تھے، اس لئے کھانا نہیں پک سکا۔‘‘ اپنے طور پر انہوں نے بہت معقول سا جواز دے کر جان چھڑائی تھی، مگر یہاں سب ہی کو پتہ تھا کہ فردوس چچی کو شروع سے ہی کھانا پکانا دوبھر لگتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اب بچوں کو بھی باہر کے کھانے کی لت لگ چکی تھی۔
’’ہم جائیں، دادی؟‘‘ دونوں کتنی ہی بار بے صبری سے پوچھ چکے تھے۔ دادی نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر دونوں فوراً ہی واپس ہو لئے۔
آج پھر دونوں اسکول سے چھٹی کئے بیٹھے تھے۔ رات گئے تک کمپیوٹر اور ٹی وی کی مصروفیات، صبح سویرے اُٹھنے میں حارج ہوتی تھیں۔ ہفتے میں ایک دو دن یوں ہی نکل جاتے تھے۔ ویسے
of 26 
Go