Urdu Novels

Back | Home |  
اظہار کے بعد سے زری بڑی نارمل سی تھی، سو اُس کی طرف سے خدشات روز بروز کم سے کم ہوتے جا رہے تھے۔
’’میرا خیال ہے کہ اس مہینے کے آخر تک ہی ان لوگوں کو باقاعدہ طور پر بلانا ممکن ہو سکے گا۔‘‘ اگلی طرف کھلنے والی کھڑکی میں وہ دونوں یوں ہی کھڑی دیکھ رہی تھیں۔
’’پتہ نہیں!‘‘ سر کو ہلکے سے جھٹکتے ہوئے زری کھڑکی سے ہٹ گئی۔
’’گردن کٹنے کی تکلیف تو خیر اپنی جگہ، مگر میرے خیال میں تلوار گرنے تک کا وقفہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔‘‘ وہ سامنے بیڈ پر جا بیٹھی تھی اور بظاہر ہلکے سے مسکرائی بھی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ تھوڑا سا ہڑبڑا کر سمیعہ اُس کی طرف مڑی، مگر باہر سے ابا، زری کو آواز دے رہے تھے۔
’’جی، آئی ابا!‘‘ کہہ کر وہ تیزی سے اُٹھ کر باہر چلی گئی۔
سمیعہ ’’تلوار اور گردن‘‘ والی تھیوری پر غور کرتی رہ گئی۔ سامنے گیٹ سے ملحقہ بڑا گیٹ کھلا پڑا تھا، ابھی ابھی ٹیپو اور بوبی ایک بار پھر باہر گئے تھے سجیلہ کی چھوٹی سی پارٹی بھی بڑے انتظامات مانگتی تھی، سو آج مین گیٹ کا بند ہونا، ناممکن سی بات تھی۔
کبھی کبھی سمیعہ کو اُن لوگوں پر بڑا ہی رشک آنے لگتا تھا۔ زندگی کو اگر اسی طرح بے حسی اور خود غرضی کے ساتھ گزارا جائے تو وہ کتنی آسان اور جینے کے قابل ہو جائے۔
چوپٹ کھلے گیٹ سے اسے ہمیشہ ہی سخت کوفت ہوتی تھی، سو اسے کم از کم بھیڑ دینے کے خیال سے وہ کھڑکی سے ہٹ ہی رہی تھی کہ ایک بڑا ہی مانوس سا شور، بہت دن بعد فضا میں گونجنے لگا۔ عاطف کی بائیک بڑی تیزی کے ساتھ اندر آئی تھی اور بجائے اختر چچا کے پورشن کی طرف جانے کے، سیدھی دادی کے کمرے کے پاس آ کر رکی تھی۔ سجیلہ کی پارٹی پر ان لوگوں کا وقت سے پہلے آنا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ حیرت سمیعہ کو اس گاڑی کی غیر موجودگی پر تھی، جو سعیدہ خالہ کے گھرانے کا آج کل، اسٹیٹس سمبل بنی ہوئی تھی۔
’’ہو نہ ہو، نوکری سے فارغ کر دیئے گئے ہیں، حضرت!‘‘ سو فیصد درست اندازہ لگاتے ہوئے اُسے بڑی کمینی سی خوشی حاصل ہوئی۔
پہلے کی طرح ان کے استقبال کو دوڑ کر جانے کی ذرا بھی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے وہ اچھی خاصی دیر لگا کر کمرے سے نکلی، لائونج خالی پڑا تھا۔ عاطف شاید اوپر چلا گیا تھا اور زری، زری معلوم





نہیں، کہاں تھی۔ سمیعہ، لائونج سے گزرتی ہوئی کچن میں آئی مگر وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ فریج میں سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اسے عاطف کی آواز سنائی دی۔
’’ایک بار میرا یقین تو کرو، زری! سب کچھ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے۔‘‘ اس جیسا سخت ناقابلِ اعتبار شخص، معلوم نہیں کس بات کا یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یک بارگی تو سمیعہ کو شدید قسم کا غصہ آنے لگا۔
’’اب۔۔۔۔۔۔۔ اب جبکہ جیسے بھی سہی، زری کی زندگی کو کنارا ملنے کی اُمید بندھنے لگی تھی تو ایک بار پھر۔۔۔۔‘‘
کچن کی کھلی ہوئی کھڑکی سے اُسے زری دکھائی دی، جو سر جھکائے کھڑی تھی۔
’’مان لو، یہ سب کچھ تمہاری خاطر تھا۔ بے شک تمہیں اس سے تکلیف پہنچی، مگر کیا یہ اچھا نہیں ہوا کہ انہوں نے خود اچھے برے کا فرق پہچانا۔‘‘ عاطف کے لہجے میں بڑی عاجزی تھی اور اس طرح زری کی خوشامد کرتا ہوا وہ اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ سمیعہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا سارا غصہ زائل ہوتا محسوس ہونے لگا۔ بمشکل اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے وہ پیچھے ہٹی۔
’’میں چاہتا تو بہت پہلے اپنی بات زبردستی بھی منوا سکتا تھا، مگر میری خواہش تھی کہ تمہیں پوری خوشی اور پوری عزت کے ساتھ میرے گھر والے۔۔۔۔‘‘ عاطف کی آواز اُسے کچن سے نکلنے تک سنائی دی اور اس آواز میں اتنی سچائی تو یقینا تھی کہ سعیدہ خالہ کو ایک پُرتکلف سی چائے کے لئے یقینا روکا جا سکتا تھا۔
وہ مسکراتی ہوئی، دادی کے کمرے کی طرف مڑ گئی، جہاں سعیدہ خالہ، دادی کو یہ یقین دلانے میں مصروف تھیں کہ عاطف کی جاب بدستور قائم ہے اور ماشاء اللہ، ترقی کے کتنے امکانات روشن تر ہیں۔
’’وہ تو آج گاڑی گئی ہوئی ہے، سروس کے لئے اور پھر خود اُس کا دل بھی بائیک پر آنے کو چاہ رہا تھا، اتنی تیز رفتار سے لایا، میرا تو دل۔۔۔۔۔۔!‘‘
ایک روشن، چمکیلی مسکراہٹ، سمیعہ کے لبوں پر پھیلنے لگی۔
ختم شد





of 26 
Go