Urdu Novels

Back | Home |  
زیادہ کٹر تھے۔ وہ تو اپنے گھر میں ریڈیو بجانے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے کجا کہ ان کا بیٹا اس میدان میں قدم رکھے۔
’’اُف وجی! تم نے کن کٹھن راہوں پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں بے تحاشا جلنے لگی تھیں۔
دن کافی چڑھ آیا تھا، مگر اس کا چارپائی چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔
’’زیب پُتر! اُٹھ جائو۔ سورج سر پر چڑھ آیا ہے۔‘‘ اماں نے اس کی چادر ہٹا کر اسے پکارا۔
’’اماں! ابھی سونے دیں۔‘‘ اس کی آواز میں بری طرح تھکن اُتر آئی۔
’’پُتر! خیر تو ہے؟ تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اماں نے بے اختیار تشویش سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
’’اوہو اماں! مجھے کچھ نہیں ہوا۔ بس سُستی سی ہے۔‘‘ وہ ان سے نظریں ملائے بغیر بولی۔ جانتی تھی کہ اس کی آنکھوں کی سرخی اس کے اندر کا راز افشا کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔
’’پھر یہ بے وقت کیوں پڑی ہوئی ہے؟‘‘ ماں تھیں، اُس کی تسلی کے باوجود تفکرات میں مبتلا تھیں۔
’’لیجئے، میں اُٹھ جاتی ہوں۔‘‘ وہ چادر پھینک کر اُٹھ بیٹھی۔
’’چل شاباش! جلدی سے ہاتھ منہ دھو لے، تیرے لئے چائے اور مکھن لگا کر گرم گرم پراٹھا لائی ہوں۔‘‘
گرم گرم چائے کی بھاپ نے اس کے تھکے تھکے اعصاب کو سکون پہنچایا۔
’’زیب! کچھ سنا تُو نے؟‘‘ ماں نے چائے کی بھاپ میں اس کا معصوم سا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا؟‘‘ وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’وہاج خان نے پھر شہر جانے کی ٹھان لی ہے۔‘‘
’’ارے۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کس نے بتایا؟‘‘ وہ ان کے چہرے پر کچھ اور تلاشنے لگی۔
’’صبح واحد آیا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ بھائی غلام محمد نے مجھے بلوایا ہے اور وہ یہ بھی بتا رہا تھا کہ ابا صبح صبح ہی وہاج پر بہت خفا ہو رہے تھے۔ میرا تو دل ڈر رہا ہے۔ اللہ جانے اب اس بچے نے کون سی ضد پکڑ لی ہے۔ بھائی غلام محمد کسی معمولی بات پر خفا ہونے سے رہے۔‘‘
’’اماں! اگر وہ اپنی زندگی بنانا چاہتا ہے تو آپ ماموں کو سمجھائیں کہ اسے اس کی مرضی پر چلنے دیں۔‘‘ وہ دبے دبے انداز میں بولی۔
’’تو تجھے معلوم ہے کہ وہ شہر جانا چاہتا ہے؟‘‘ اماں نے چونک کر اُسے دیکھا۔
’’ہاں ہاں۔ اس نے مجھے بتایا تھا۔ وہ اس بے کار کی زندگی سے تنگ آ گیا ہے۔ باہر نکلنا چاہتا ہے، یہاں سے۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر وہ کرنا کیا چاہتا ہے؟ آخر نوکری کی تلاش میں تو وہ پہلے بھی کئی بار شہر کے چکر لگا آیا ہے۔ اس سے قبل تو بھائی غلام محمد کبھی اس کی راہ میں دیوار نہیں بنے۔‘‘
’’اماں! دراصل وہ گلوکار بننا چاہتا ہے۔‘‘
’’ہائے، نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میراثی بنے گا؟‘‘ اماں نے بے اختیار دل پر ہاتھ رکھا۔
’’اماں! میراثی نہیں۔ گلوکار۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔
’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ناممکن ہے۔ ہمارے خاندان میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بے شک ہم غریب لوگ ہیں مگر ہیں تو عزت دار۔ غضب خدا کا، مولویوں کے خاندان کا لڑکا میراثی بنے گا؟۔۔۔۔۔ تُو نے اُسے سمجھایا ہوتا، یہ فضول خیال دل سے نکال دے۔‘‘





’’اماں! وہ کسی کی جیب کاٹنا نہیں چاہتا۔ نہ ہی چور بننا چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنی آواز بیچ کر اپنی مفلسی دُور کرنا چاہتا ہے، اپنے خوابوں کی تکمیل کرنا چاہتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟‘‘ وہ اپنا غم بھول کر اس کا دفاع کرنے لگی۔
’’حرج کیوں نہیں ہے۔ ارے ہماری اور ہمارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی۔ اور نیک نامی پر جو داغ لگے گا، وہ تمام عمر نہیں مِٹے گا۔ وہ تو بے وقوف ہے ہی، لگتا ہے تیری بھی مت ماری گئی ہے۔ میں بھائی غلام محمد کے پاس جا رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے باہر تار پر لٹکی چادر اوڑھتے ہوئے کہا۔
’’اماں پلیز! وہ نہیں رُکے گا۔‘‘ وہ روہانسی ہو گئی۔ ’’آپ ماموں کو سمجھایئے گا۔‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اماں! اگر مگر کو رہنے دیں۔‘‘ اس کے لہجے میں کوئی تو ایسی بات تھی کہ اماں محض سر ہلا کر آگے بڑھ گئیں۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اماں کے بجائے دروازے میں وہاج کو دیکھ کر وہ چونک گئی۔ اس کے ہاتھ میں سفری بیگ بتا رہا تھا کہ اس کا فیصلہ اٹل ہے۔
’’تو تم جا رہے ہو۔‘‘ وہ چولہے کی راکھ میں یونہی اُنگلیاں پھیرنے لگی۔ اس کی جانب دیکھے بغیر۔
’’زیب! تم بھی خفا ہو مجھ سے؟‘‘ وہ اس کے پاس پڑی پیڑھی پر بیٹھتے ہوئے تھکے تھکے انداز میں بولا۔
’’تمہیں کسی خفگی کا احساس ہی کب ہے؟‘‘ وہ شاکی انداز میں بولی۔
’’دیکھو زیب! تم تو کم از کم میرا دل مت توڑو۔ تم اچھی طرح سے جانتی ہو کہ تم میری زندگی ہو، میری خوشی ہو، میری رگ رگ میں تمہارا پیار لہو بن کر سمایا ہوا ہے۔‘‘ اس کا گمبھیر لہجہ اس کی سماعتوں میں رس گھولنے لگا تھا۔
’’وجی!۔۔۔۔۔۔۔۔ وجی! میں تمہاری انہی باتوں کے لئے ترس جائوں گی۔ میری آنکھیں تمہاری دید کے لئے تڑپیں گی تو بتائو میں کیا کروں گی؟‘‘ ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں جل تھل کا سماں تھا۔
’’جان! اپنے وجی پر اعتبار کرو۔ اگر تم نے بھی ہمت ہار دی تو باقی لوگوں کو کون سمجھائے گا؟ بابا کی خفگی مول لے کر آیا ہوں اور اب اسی وقت لوٹوں گا، جب میری ذات ان کے لئے عزت کا باعث بنے گی۔ زیب! آج کل کی دنیا میں پیسہ ہی عزت کی ضمانت ہے۔ دیکھنا چند دن لوگ باتیں بنائیں گے اور ایک روز وہ بھی آئے گا جب میرا نام اور میرے نام کی شہرت کو لوگ پذیرائی بخشیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے وجی! مجھے تمہاری چاہت پر اور اپنی وفا پر اعتبار ہے۔ جائو، مگر جلد لوٹ آنا۔ ایسا نہ ہو کہ میری آنکھیں تمہارے انتظار میں لگی رہیں اور تم جدائی میرا مقدر کر دو۔‘‘ وہ ضبط کی کٹھن مسافتوں سے گزرتے ہوئے بولی۔
’’زیب! تم میری کامیابی کے لئے دعا مانگو گی نا؟‘‘
’’ہاں وجی! میں تمہارے لئے دعا ضرور مانگوں گی۔ میری صبح اور میری شام کی ابتدا اور انتہا تمہارے نام سے ہی ہو گی۔ میں اور میرے لب سوتے میں بھی تمہارے لئے دعائیں مانگیں گے۔ لیکن اگر تم نے میرے سچے اور محبت سے لبریز جذبوں کے ساتھ بے وفائی کی تو وجی! میرا محبت سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔ زندگی کے رنگوں سے اعتبار مِٹ جائے گا۔ اس سے پہلے کہ میری محبت بے اعتباری ہونے لگے، اس سے قبل کہ زندگی کے رنگ اُڑنے لگیں، تم لوٹ آنا۔ وجی! تم لوٹ آنا۔‘‘ وہ شبنمی آنکھوں کے ساتھ جی بھر کے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’ہاں زیب! لوٹ آئوں گا۔ تمہارے لئے بہت سے رنگ لے کر۔ تم میرا یقین رکھنا۔‘‘ اس نے محبت کی شدت سے مغلوب ہو کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے، جو بالکل سرد ہو رہے تھے۔ اس نے عقیدت سے، محبت سے اس کے دونوں ہاتھ آنکھوں سے لگائے اور پھر بے اختیار ان پر سلگتے لبوں کی مہر ثبت کر دی۔





vvv
اس کے جانے سے دونوں گھروں میں زندگی کا احساس مرجھا سا گیا تھا۔ ماموں کی ناراضگی بدستور جاری تھی۔ اماں بھی خوش نہیں تھیں۔ وہ اتنا ضدی تو کبھی بھی نہیں رہا تھا۔ مگر اس بار جانے وہ اتنا کٹھور کیوں بن گیا تھا۔
وہ کہہ کر گیا تھا کہ خط لکھوں گا مگر بہت دن گزر گئے، وہ انتظار میں ہی رہی۔
ماموں کی طرف ایک مختصر سا خط آیا تھا، جس میں اس نے ابھی اس سمندر میں ہاتھ پائوں مارنے کا ذکر کیا تھا۔
وہ آس کے دیپ جلائے روز قاصد کو دیکھتی تھی کہ شاید کوئی خط اس کے نام کا بھی آ جائے، مگر وہ ہر بار اپنی سائیکل کی گھنٹی ٹن ٹن بجاتا ہوا بے نیازی سے اس کے گھر کے قریب سے گزر جاتا۔ اس کا معصوم دل خوف کی بکل اوڑھنے لگا تھا۔ کئی طرح کے وہم اسے پاگل کرنے لگے تھے۔ یا الٰہی! کہیں وہ مجھے بھول تو نہیں کیا؟ دل میں ان دنوں عجیب سے وہم سر اُٹھانے لگے تھے۔ وہ تو جادو نگری میں گیا تھا، جہاں جانے والے کبھی کبھار پتھر کے بھی بن جاتے ہیں۔
اس سے قبل کہ آس کا دیا بجھتا، ایک روز اچانک ہی ڈاکیے کی سائیکل ٹن ٹن کرتی اس کے دروازے پر آن رکی۔ اس کے جسم کا سارا لہو اس کے چہرے پر سمٹ آیا۔ اماں اندر کمرے میں نماز پڑھ رہی تھیں۔ وہ خود ہی تیزی سے دروازے کے پٹ کھول کر ڈاکیے کو دیکھنے لگی۔
’’بی بی جی! شہر سے آپ کے نام رجسٹری آئی ہے۔‘‘ ڈاکیے نے نہایت بھاری سا لفافہ اس کے ہاتھوں میں تھمایا۔
اِک لمحہ کو اس کے دل کی دھڑکنیں تھم سی گئیں اور رجسٹری کی رسید پر دستخط کرنا بھی محال ہو گیا۔ اُس کے مُردہ تن میں جیسے کسی نے جان ڈال دی تھی۔ یہ تو شکر تھا کہ اماں کو ظہر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر آرام کرنے کی عادت تھی اور ان کے گھر میں دو کمرے تھے۔ وہ اماں کو چارپائی سنبھالتے دیکھ کر تیزی سے دوسرے کمرے میں گھس گئی۔
عجیب سی مہک اُٹھ رہی تھی لفافے سے۔ ہاں، اس میں اس کے محبوب کے لمس کی خوشبو تھی۔ اس کے ہاتھوں کی مہک تھی۔ وہ کتنی دیر نم آنکھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی تحریر کو کسی مقدس کتاب کی طرح سینے سے لگائے رہی اور جب دل کی دھڑکنیں اعتدال پر آئیں تو اس نے جلدی سے لفافہ چاک کیا۔
’’زیب میری زندگی!
مجھے یقین ہے کہ تم نے اس تمام عرصے میں بڑی شدتوں کے ساتھ میرے خط کا انتظار کیا ہو گا اور مایوسی کی صورت میں تمہارا چڑیا سا دل دن میں کئی بار سہما ہو گا۔ تمہاری غزالی آنکھیں تنہائی میں کتنی بار بھیگی ہوں گی، مگر اس کے باوجود تم نے آس کے چراغ کو روشن رکھا ہو گا۔ جان! میں نے جس سفر کو آسان جانا تھا، وہ میری سوچوں سے بڑھ کر کٹھن تھا۔ یہاں بھی سفارش اور پیسہ ہی کام دلانے کی ضمانت ہے۔ کئی بار اس محاذ پر میری ہمت ٹوٹی، کئی بار مایوسی نے میرے خوابوں کو نگلنا چاہا۔ مگر جاناں! میں عزم لے کر شہر آیا تھا۔ یوں ناکام و مایوس لوٹنا میری انا کو گوارا نہیں تھا۔
شاید تمہاری دعائوں کی بدولت خدا کو میری حالتِ زار پر رحم آ گیا اور جاناں! کل میرا ٹی وی پر پہلا پروگرام ہے۔ اُف زیب! تم تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ میں آج کتنا خوش ہوں۔ جی چاہ رہا ہے کہ میرے پنکھ لگ جائیں اور میں اُڑ کر تمہارے پاس پہنچ جائوں اور اپنی اس خوشی کو تمہاری قربت میں اور زیادہ بڑھا لوں۔ میرا برسوں کا خواب پورا ہو رہا ہے۔ تم دیکھنا کہ اب ترقی میرے قدموں تلے ہو گی اور بابا کی خفگی بھی مٹ جائے گی۔ اس کامیابی پر میرا دل پائوں میں گھنگھرو باندھ کر دھمال ڈالنے کو چاہ رہا ہے۔ سنو، میرا پروگرام ٹی وی پر 24 تاریخ کو نشر ہو گا۔ تم ضرور دیکھنا کہ مجھے تمہارے تبصرے کا انتظار رہے گا، شدت کے ساتھ۔
ہاں، پرسوں چودھویں کی شب تھی اور میں ساری رات ایک پل بھی نہیں سو سکا۔ مجھے تمام رات وہ چناروں کے اونچے اونچے درختوں کے درمیان سے بہتا اپنے گائوں کا وہ چشمہ یاد آتا رہا، جو ہماری چوری چھپے کی ملاقاتوں کا رازداں تھا۔
اور خدا کی قسم! تم بہت یاد آتی ہو۔ تمہاری دُوری نے (جدائی اس لئے نہیں لکھ رہا کہ تم جدا نہیں ہو مجھ سے) میری آواز میں بلا کا سوز بھر دیا ہے۔ میری آنکھوں میں اس سوز
of 18 
Go