’’ تو فکر نہ کر۔‘‘ حسن امام نے تقریبا بے زاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’ میں اپنا انتظام خود کر لوں گا۔‘‘
’’ اچھا۔‘‘ میجر مصطفی نے حیرت سے کہا۔
’’ تو پھر بہتر ہو گا‘ اگر تو یہ انتظام ذرا جلدی کر لے‘ ورنہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اپنے کام سے لاپروائی برتنے اور صبح سویرے سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ دفتر آنے کے جرم میں… اللہ نہ کرے‘ ایک طویل پریشانی سامنے آ سکتی ہے۔‘‘
’’ کبھی کوئی خیر کا کلمہ بھی منہ سے نکال لیا کرو۔‘‘ حسن امام نے غصے سے کہا‘ لیکن میجر مصطفی نے برجستہ جواب دیا۔
’’ یہاں کے کسی بنگالی گھرانے میں تمہاری طرف سے سلسلۂ جنبانی شروع کرنے کی بات کلمہ خیر ہی تو تھی‘ لیکن تم نے اس کی کیا قدر کی؟‘‘
’’ چل چھوڑ کوئی اور بات کر۔‘‘ حسن امام نے کہا۔
’’ کوئی اور بات یہ ہے‘ برادرعزیز!‘‘ میجر مصطفی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’ کہ پرسوں شام کو میلا کے مینامتی کنٹونمنٹ میں کرنل سلطان کیانی کی بیٹی کی شادی خانہ آبادی کے لیے ایک شاندار تقریب منعقد کی جا رہی ہے اور اس میں شریک حکمرانوں کی رکھوالی کے لیے ہمیں بھی مدعو کیا گیا ہے‘ لہٰذا تو فٹافٹ تیار ہو جا‘ شاید وہاں تیرا بھی کوئی چانس نکل آئے۔‘‘ میجر مصطفی نے خاص انداز میں مسکرا کر اپنی بات مکمل کی‘ تو حسن امام نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ تجھے نہیں معلوم کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’ اب اس سوچ کا بھلا کیا فائدہ؟‘‘میجر مصطفی نے سرد آہ بھری۔
’’ آنے والے آئے اور اپنا مشن مکمل کیے بغیر تقریبا ناراضی کے عالم میں چھ بیس کی پرواز سے لوٹ گئے۔ اب اگر تو یہاں بیٹھ کر بین بجاتا رہے گا‘ تو تیری مرضی‘ بغیر کسی ٹرانسمیشن لائن کے‘ اب تیری آواز تو مغربی پاکستان پہنچنے سے رہی۔‘‘
’’ تو پھر… میں کیا کروں؟‘‘ حسن امام نے گویا کہ اک لاچارگی کے احساس سے کہا۔
’’ اس کے لیے تجھے تین اہم شخصیات کے پائوں پکڑنے پڑیں گے۔‘‘میجر مصطفی نے کہا۔
’’ نمبر ون اپنے کمانڈر صاحب‘ جن کی ذات شریف سے چھٹی کے لیے درخواست کرنی پڑے گی‘ نمبر ٹو‘ آپ کی والدہ محترمہ اور نمبر تھری رفیق صدیقی صاحب‘ جو تجھے تیری منزل تک پہنچانے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘
حسن امام نے اٹھ کر کمرے سے باہر جانا چاہا تو میجر مصطفی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’ اس راہ خار زار پر اگر تو یاروں کا ہاتھ تھام کر چلے گا‘ جس پر تجھ سے قبل رانجھا‘ فرہاد اور مسٹر قیس وغیرہ چل چکے ہیں‘ اگرچہ حاصل تو ان بدنصیبوں کو کچھ نہ ہو سکا۔ ماسوائے اس کے… کہ بے چارے انتہائی شدید آبلہ پائی کے باعث اناللہ ہو گئے‘ مگر تو اتنا یقین رکھ کہ انشاء اللہ تجھے اس جہاد میں بھی سو فیصد کامیابی حاصل ہو گی۔‘‘ میجر مصطفی نے حسب عادت لمبی تمہید باندھی۔
’’ شکریہ۔‘‘ اس قدر طویل وضاحت کے جواب میں حسن امام نے تلملا کر کہا۔
’’ اگر آپ کی بکواس ختم ہو گئی ہو تو براہ کرم مجھے جانے دیجئے۔ میں سونا چاہتا ہوں۔‘‘
میجر مصطفی نے ہنس کر کہا۔ ’’ جا بچے چلا جا‘ میں تجھے روکوں گا نہیں‘ لیکن یاد رہے‘ اللہ پاک تیرے سپنوں کی دنیا کو شادوآباد رکھے۔ (آمین) لیکن کل کومیلا روانگی کے لیے وقت پر تیار ہو جانا‘ ایسا نہ ہو کہ تو سوتا ہی رہ جائے اور آرزوئوں کے تمام پرندے اسی طرح اڑ جائیں‘ جس طرح پی آئی اے کی چھ بیس والی پرواز اپنی منزل کی جانب روانہ ہو چکی تھی اور تو آنکھیں ملتا ہوا مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ ’’اب کیا ہو گا؟‘‘
زندگی کے اس انتہائی اہم موڑ پر… اس طرح کی لایعنی بکواس اب اس قسم کے حالات کی متقاضی تھی‘ جس میں فریق مخالف کو دھکے دے کر باہر نکالنا حق بنتا ہے۔ حسن امام نے بھی بالکل ایسا ہی کرنا چاہا۔
اس سے پہلے کہ اپنے اس حق کو واضح طور پر تسلیم کرتے ہوئے وہ مدمقابل پر حملہ آور ہو جاتا۔ میجر مصطفی نے صورت حال کو واضح طور پر بھانپتے ہوئے اچانک کہا۔
’’ بھئی… وہ تمہارا ایک خط آیا ہوا ہے‘ مجھے پرسوں ہی ڈاک سے موصول ہو گیا تھا۔ تم سٹیشن میں موجود نہ تھے‘ میں نے سنبھال کر رکھ لیا تھا۔‘‘
اب یہ ایک ایسا نامعقول بیان تھا‘ جس پر بلاشبہ پٹائی کرنے جیسا عمل اور وہ بھی برسرعام‘ اس مرد آہن کا حق بنتا تھا‘ مگر حسن ممام نے تو محض چند ناپسندیدہ لفظوں میں خراج تحسین پیش کرنے کے بعد خط اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا‘ یہ عارفہ کی تحریر تھی۔
’’ بھیا! اماں کہہ رہی ہیں کہ پہیلیاں مت بجھوائو‘ سیدھی طرح بات کرو‘ اگر ممکن ہو سکے تو فوراً چھٹی لے کر چلے آئو‘ تاکہ کوئی بات بن سکے۔‘‘
لیکن… بات کچھ اس طرح بنی کہ ڈھاکہ سے کومیلا کے منیامتی کنٹونمنٹ تک پہنچتے ہی ایک خوشگوار حیرت لمحوں کا نصیب بن گئی۔ کرنل سلطان کیانی کی دختر نیک اختر کی شادی کا روح پرور ہنگامہ برپا تھا‘ منیامتی کنٹونمنٹ کے تقریباً وسط میں واقع ایک کھلے میدان میں اس تقریب سعید کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حسن امام اور میجر مصطفی کمال اپنے بنگالی کورس میٹ میجر سکین تاج کے ہمراہ ایک طرف کھڑے مقامی سیاست دان نادر محی الدین کے اس بیان پر تبصرہ کر رہے تھے‘ جس میں بیان کردہ فرسودات کے مطابق علیحدگی کی ایک بھیانک تصویر سامنے نظر آ رہی تھی‘ جبکہ میجر سکین تاج کہہ رہے تھے۔
’’ کوئی… کچھ نہیں کر سکے گا‘ ہم لوگ متحد رہیں گے‘ ایسی باتیں فقط چند نادانوں کا خیال ہے اور ہماری قوم کا اس سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔‘‘
میجر حسن امام نے یہ بات سن کر اطمینان کا گہرا سانس لیا اور اس کی نظریں میجر سکین تاج کے چہرے پر جا رکیں۔
سانولی رنگت اور سیاہ آنکھوں میں وفا کی تشبیہہ واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ پانچ فٹ دو انچ قد کے مالک سکین تاج کے سینے میں متحدہ پاکستان کا حامی وہ دل دھڑک رہا تھا‘ جو دوستوں اور مہربانوں کی محبت سے سرشار تھا اور ہر فرقے‘ ذات اور برادری سے بالاتر ہوتے ہوئے صرف… اور صرف اپنے وطن کے لیے انتہائی اعلیٰ سوچ رکھتا تھا۔
اپنی زندگی میں دوراندیشی کا عنصر رکھنے والے زیرک میجر مصطفی نے سکین تاج کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
’’ ہم تمہاری سوچ اور وفا کی قدر کرتے ہیں‘ سکین تاج! ہم… اور تم یقینا ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک ہی رہیں گے۔ نادر محی الدین جیسے لوگ تو نفسیاتی مریض ہیں۔ ہمیں ان کی سوچ کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
’’ بے شک۔‘‘ سکین تاج نے انتہائی اعتماد کے ساتھ جواب دیا اور یقین، مہرووفا کی اس بااعتماد فضا میں حسن امام کی نظریں اس جانب اٹھ گئیں‘ جس طرف سے مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ اک حیرت اور استعجاب کے عالم میں وہ نظریں جھکانا بھول گیا۔
وہ… بالکل وہی تو تھی‘ منزہ میر علی‘ دلہن کی شوخ و شنگ سہیلیوں کے ہمراہ چلتی ہوئی۔ اپنے ڈھلکتے ہوئے آنچل کو بار بار سنبھالتی ہوئی‘ ایک باوقار چال کے ساتھ وہ پنڈال کی اس سمت چلی گئی‘ جہاں قدرے اونچائی پر بنائے گئے سٹیج پر گلوکارہ فردوسی بیگم نغمہ سرا تھی۔
پل بھر میں یہ حسین منظر نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور جب منزہ میر علی پل دو پل کے لیے نگاہوں کا نصیب بننے کے بعد اوجھل ہو گئی اور ایک حسین ترین منظر سمٹ چکا تو حسن امام نے میجر مصطفی کو کہنی کی ہلکی سی جنبش کے ساتھ کوئی بھی انہونی گزر جانے کی اطلاع دی اور قدرے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دنوں چھ بیس کی پرواز سے لوٹ جانے والے مسافر تو یہیں مقیم ہیں اور یہ کہ اس نے ہمیشہ کی طرح زندگی کے اس انتہائی نازک اور اہم موڑ پر بھی حسن امام کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی تھی۔
میجر مصطفی نے تمام حقیقت بغور سننے کے بعد مصنوعی غصے سے کہا۔
’’ تمام واردات مکمل ہونے کے بعد تو اب مجھے پھاپھا کٹنیوں کے انداز میں کہنی مار کر خبردار کر رہا ہے۔ ذرا پہلے بتا دیا ہوتا‘ تو میں ہی ہمت کرتے ہوئے آگے بڑھ کر پوچھ لیتا کہ محترمہ آپ اب تک واپس کیوں نہیں گئیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ تیرا وہم ہو گا۔ تجھے تو ویسے بھی اب جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے۔‘‘
’’ میں اپنے ساتھ موجود احباب پر اپنی کسی بھی قسم کی کمزوری کوظاہر نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ حسن امام نے کہا۔
’’ اوئے صدقے جاواں۔‘‘ میجر مصطفی نے اپنی روایتی شوخی کے ساتھ کہا۔
’’ یار! اب تو سیدھی طرح مجھ سے فریاد کیوں نہیں کرتا کہ میں اس سلسلے میں تیری مدد کروں۔‘‘
’’ فریاد کرنا میرا شیوہ نہیں۔‘‘ حسن امام نے جواباً کہا۔
’’ تو پھر التجا کر لے۔‘‘ میجر مصطفی نے برجستہ جواب دیا۔
’’ یہ التجا تو میں رب کریم کی ذات کے بعد اپنی والدہ محترمہ سے ہی کروں گا۔‘‘ حسن امام نے بے نیازی سے کہا‘ تو میجر مصطفی کے تن بدن میں تو جیسے آگ ہی لگ گئی اور وہ تقریباً غصے کے عالم میں بولا۔
’’ تو بے شک ساری دنیا سے فریادیں کرتا رہے‘ لیکن اتنا ضرور یاد رکھنا کہ اب تو جس صحرا کا مسافر ہو چلا ہے‘ اس صحرا میں یاروں کی مدد کے بغیر منزل کا حصول ایک ناممکن امر ہے۔‘‘
’’ یار! بھی کسی کام کے ہوں‘ تب بات ہے ناں۔‘‘ حسن امام نے بدستور لاپروائی سے کہا۔
’’ اچھا‘ تو اب تم مجھے چیلنج کر رہے ہو؟‘‘ میجر مصطفی کا غصہ اب ناراضی میں بدل چکا تھا۔
’’ یہی سمجھ لو۔‘‘ حسن امام نے کہا۔
’’ تو… یہ بات ہے۔‘‘
’’ ہاں… بالکل یہی بات ہے۔‘‘
’’ تو… پھر دیکھ تو کہ میں کیا کرتا ہوں۔‘‘ میجر مصطفی نے چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا۔
’’ کیا کرے گا تو؟‘‘ حسن امام نے سوال کیا۔
’’ دیکھ لینا بچو!‘‘ میجر مصطفی نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
’’ میں نے بھی پہلی فرصت میں مغربی پاکستان جا کر تیرا رشتہ طے نہ کروایا تو میرا نام نہیں‘ میں کل ہی چھٹی کے لیے درخواست دے رہا ہوں۔‘‘
’’ بڑی مہربانی‘ بہت بہت شکریہ۔‘‘ حسن امام مسکرایا۔
’’ اگر میرے ساتھ ساتھ تو اپنی بھی بات پکی کروا لے تو بڑا احسان ہو گا۔‘‘
’’ تو میری فکر نہ کر۔‘‘ میجر مصطفی نے کہا۔
’’ جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے‘ تو برادرم! میری تائی اماں مرحومہ اپنی زرقا کو سلیقے سے تڑکا لگا کر میرے لیے اس جہان فانی میں چھوڑ گئی ہیں۔ میرے والد صاحب محترم کو تو فقط قاضی صاحب کو بلانے کی زحمت گوارا کرنی پڑے گی۔‘‘
’’ بہت خوب۔‘‘ حسن امام نے مسکرا کر کہا۔
’’ لیکن تو نے اس سے قبل یہ اطلاع مجھے نہیں دی۔‘‘
’’ تجھے اپنے حالات سنانے سے فرصت ملے‘ تو میں اپنا حال دل سنائوں ناں۔ پہلے تو تجھے اس بھرے پرے سنسار میں کوئی خاتون پسند ہی نہیں آ رہی تھی۔ اب جو محترمہ پسند آئی ہیں‘ وہ مل ہی نہیں رہیں۔ یہ کیا کم مسئلہ ہے‘ جو میں تجھے اپنے مسائل سے آگاہ کر کے تیری مصیبت میں اضافہ کرنے کا سوچوں‘ نہیں یار! ہرگز نہیں۔ میں اتنا خودغرض نہیں ہو سکتا۔‘‘
بارات کی آمد کا شور اٹھا اور نظریں بے اختیار اس سمت اٹھ گئیں۔ جہاں سے ست رنگی دھنک کی مانند دلہن کی سہیلیوں کا ایک غول پنڈال کی داہنی جانب واقع روش پر جمع ہوگیا۔ ہاتھوں میں پھولوں کا ہار لیے ہوئے اس رنگین جتھے میں چھپی ہوئی منزہ میر علی ایک مرتبہ پھر نگاہوں میں سما گئی۔ نگاہوں میں حیا کی روشنی چہرے پروقار اور سنجیدگی‘ پورے سراپا پر چھایا ہوا خوداعتمادی کا گہرا اور گھنا سایہ‘ اٹھتی اور گرتی ہوئی پلکوں کے درمیان نظروں کا سفر اور اک چارمنگ سی پرسنالٹی کے ساتھ قدرے محتاط انداز۔ یہ تمام عناصر مل کر میجر حسن امام کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا گئے۔
دل نے تو چاہا کہ آگے بڑھ کر حیات کے اس دلکش احساس کو لفظوں کا روپ دے کر سب کچھ کہہ دیا جائے‘ لیکن دماغ نے اجازت نہ دی اور قدم وہیں رک گئے‘ کہ قدرت اب ان لمحوں میں مہربان تھی۔ میجر حسن امام اس سمت دیکھتا رہ گیا‘ جس طرف سے منزہ میر علی‘ جھرنا بھابھی (مسز میجر سکین تاج) کے ہمراہ ان کی طرف آ رہی تھی۔
ان سے محض چند قدم کے فاصلے پر رک کر جھرنا نے میجر سکین تاج کو بنگالی زبان میں پکارا۔ وہ متوجہ ہوئے تو اس نے اپنے ہمراہ موجود منزہ میر علی کا تعارف کچھ اس طرح کروایا۔
’’ یہ کرنل سلطان کیانی کی بھانجی ہیں اور اس تقریب میں شرکت کے لیے بطور خاص مغربی پاکستان سے آئی ہیں۔‘‘
حسن امام اور مصطفی کے قریب موجود کیپٹن شاہ پال نے میجر مصطفی کے حکم پر اس بنگالی فقرے کا اردو ترجمہ کر کے ان کے گوش گزار کیا۔ کیپٹن شاہ پال بنگالی زبان جانتا تھا اور ان دنوں ہیڈکوارٹر میں ترجمان کے طور پر فرائض سرانجام دے رہا تھا۔
|