Urdu Novels

Back | Home |  

نے میرا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’چلیے سر میں آپ کو اسپتال لے چلتا ہو۔‘‘
میں کسی روبوٹ کی طرح علی کے ہمراہ چلنے لگا، تارہ بھی ہمارے ساتھ آ گئی۔ گہری سیاہ رات کا اندھیرا میری زندگی میں پھیل گیا۔ تیز روشنی تلے میں علی کا ہاتھ تھامے ہوئے اس کمرے تک چلا آیا، جہاں اس وقت میری زندگی بے ہوش پڑی تھی۔
وہ میرے سامنے تھی، اس کے اوپر اور میرے درمیان شیشے کی دیوار حائل تھی۔ ایک گہری خاموشی کی چادر اوڑھے وہ میری زندگی سے دور جا رہی تھی۔ مجھے تمام زیادیتوں سمیت اس جہان میں چھوڑ کر، کوئی شکوہ کیے بغیر، وہ خاموشی سے اس دنیا کو الوداع کہہ رہی تھی۔ میں بری طرح چونکا۔ اس لیے کہ میرے قریب کھڑے ہمارے فیملی ڈاکٹر پیرزادہ کہہ رہے تھے۔
’’کوئی امید نہیں منصور! کوئی آس بھی نہیں… مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں کوئی تسلی نہیں دے سکتا۔ حیرت ہے بھئی، تم صبح سے کہاں تھے، جب کہ ایک قیامت گزر گئی۔‘‘
اور میں اس ساری قیامت سے بے خبر کمرے میں بند صرف اپنے دل کا ماتم کرتا رہا، کس قدر بے خبر اور بدنصیب تھا میں، صرف اپنی حسرتوں پر بین کرتا رہا۔ یہ نہ سوچا، کہ وہ جو زخمی دل ہی نہیں، زخمی وجود لیے ہوئے بے آسرا اور بے سہارا ، لاوارث پڑی ہے! یقیناً میں اپنے رب کا ہی نہیں، ان اپنوں کا بھی گنہگار تھا، جنہوں نے نورالعین کو ایک امانت کی صورت مجھے سونپا تھا۔ میری پناہ گاہ میں دیا تھا تا کہ وہ اپنے دکھوں کو بھول کر ایک نئی زندگی شروع کر سکے۔ مگر یہاں بھی میری طرف سے دئیے گئے دکھ اس کا نصیب بن گئے۔ اب ان سارے دکھوں کی صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے جب وہ اس دنیا سے دور بہت دور ایسی جگہ جا  رہی تھی۔ جہاں انسانیت کی اعلیٰ قدروں کی تذلیل نہیں کی جاتی، تو اس وقت میرے سامنے صرف ایک نہیں، تین زندگیوں کا سوال تھا میں…یعنی کہ منصور حسن جاوید…نورالعین اور میری زندگی، میری روح، میری خوشی، میری اپنی اولاد۔ جسے ابھی قدرت نے بے پناہ خوشی کے روپ میں میرے اس گھر میں اتارنا تھا، کہ نادانستگی میں کیے گئے میرے بے پناہ ظلم کی زد میں وہ معصوم روح بھی آ گئی تھی۔
’’اف… کس قدر ظالم تھا میں۔‘‘
اپنے ظلم کا احساس ہوتے ہی میرے اندر چھپا شک کا زہریلا ناگ دم دبا کر بھاگ گیا، میری وحشت اور جنون ایک ڈر اور خوف میں بدل گئے۔ اورپھراپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے میرے اپنے احساسات ایک دھاڑ کی صورت میں میرے اس وجود سے نکلے اور میں ہر چیز اور ہر احساس سے بے نیاز بلک بلک کر رونے لگا۔
مجھے تارہ اور علی بمشکل باہر لان تک لائے، جہاں اس وقت آپا، دولہا بھائی، قادر جان اور سائرہ بھابی بھی موجود تھے۔ دولہا بھائی نے آتے ہی اپنے حصے کا غصہ بھی مجھ پر اتارا۔
’’اب کیا ضرورت ہے، اس طرح ڈرامہ کرنے کی۔‘‘ وہ بولے۔ ’’ہسپتال ہے تمہارا گھر نہیں، جہاں تم جو چاہو ، جس کے ساتھ چاہو، جو سلوک بھی چاہو کرتے رہو۔ اب تم ہوش میں آئو اور ساری دنیا کو تماشا مت دکھائو، سمجھے تم!‘‘
مگر میں خاموش نہ رہ سکا، چیخ چیخ کرمیں نے ان سب سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگی اور کسی بھی طرح عینی کی واپسی کے لئے اس کی زندگی کے لیے التجائیں کرنے لگا۔
وہ شب آدھی بیت گئی، اب ڈاکٹر پیرزادہ ہمیں سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر گھر چلے جانے کو کہہ رہے تھے، میرے اپنے ، بڑی مشکل سے مجھے گھر واپس لائے۔ تارہ نے مجھے کمرے تک پہنچایا اور کہنے لگی۔
’’ماموں آپ ذرا لیٹ جائیں، میں اور علی یہیں بیٹھیں گے۔‘‘
’’پلیز تارہ، مجھے تنہا چھوڑ دو۔‘‘ میں نے التجا کی۔
تارہ نے کچھ کہنا چاہا، لیکن علی نے اشارہ کیا، کہ مجھے تنہا چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔ وہ دونوں باہر چلے گئے۔ میں نے کمرے کی ساری بتیاں جلا دیں، اس تنہائی سے اب مجھے وحشت ہو رہی تھی۔ شاید میں نورالعین کی ذات کا عادی ہو چکا تھا۔
میرا دل یک دم بے حد گھبرایا۔ قالین پر لہو بکھرا ہوا تھا۔ اس کی ٹوٹی پھوٹی چوڑیوں کے ٹکڑے ادھر ادھرے بکھرے ہوئے تھے۔ ڈریسنگ روم کا دورازہ ابھی تک کھلا ہوا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا دروازے تک گیا۔ بالکل سامنے عینی کا اٹیچی کیس ابھی تک کھلا پڑا تھا۔ فرش پر محسن مصطفیٰ کی ٹوٹی ہوئی تصویر کی کرچیاں بکھری پڑی تھیں اور فریم اوندھا پڑا تھا، میں نے ایک کنارے سے پکڑ کر فریم کو سیدھا کیا اور تیز روشنی میں محسن مصطفیٰ کی مسکراتی ہوئی آنکھیں میرے چہرے پر گڑ گئیں۔
میرا سارا وجود پسینے میں نہا گیا۔ میرے ہاتھ تھر تھر کانپنے لگے اور میرے لبوں سے کپکپاتی ہوئی آواز نکلی۔






’’تم جیت گئے میرے دوست! تم جیت گئے۔‘‘
محسن مصطفیٰ کی تصویر مسکراتی رہی، مسکراتے لب اور مسکراتی آنکھیں اپنی اس انوکھی جیت پر سرشار نظر آئیں، کہ آخرکار مجھ سے اپنی وفائوں کا دعویٰ کرنے کے باوجود۔ میری زندگی کے لیے دعاگو ہونے کے بعد بھی نورالعین میرے لیے نہ تھی۔
میں نے تصویر اوندھی کر کے عینی کے اٹیچی میں رکھنا چاہی، تو سامنے پڑی سیاہ ڈائری نے کئی راز اگل دئیے۔
میرے سامنے ایک پرانی تاریخ پڑی تھی، کہیں بہت پہلے نورالعین نے لکھا تھا۔
چوبیس ستمبر
’’آج میری سالگرہ ہے، اماں نے آج مجھے ایک بہت خوبصورت لاکٹ تحفے میں دیا ہے، جس پر ’’ایم ‘‘ لکھا ہے۔ یہ حرف ’’ایم‘‘ مجھے بے حد عزیز ہے، بہت پیارا ہے، یہ میری ماں کا نام ہے۔ یہ نام میری زندی ہے، جی ہاں۔ یہی نام ’’مسز ممتاز جہاں۔‘‘
میں نے بے تابی سے صفحہ پلٹا جہاں لکھا تھا۔
’’شاید حرف ’’ایم‘‘ میری زندگی کا امتیازی نشان بن جائے گا۔ اس لیے کہ آج… محسن مصطفیٰ کی ماں نے مجھے مانگ لیا ہے۔‘‘
اس سے اگلی تحریر میرے لیے تھی۔
’’منصور حسن جاوید کی بے خودی دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوتا ہے، کہ شاید حرف ’’ایم‘‘بری طرح سے میری زندگی پر اثر انداز ہو گا۔‘‘
میں نے باقی سارے صفحات بے تابی سے دیکھے، ہر جگہ صرف محسن مصطفیٰ کا ذکر تھا۔ البتہ سات فروری کی تاریخ ڈال کر لکھا گیا تھا۔
’’تم تو بہت جلدی چلے گئے، محسن مصطفیٰ اور یہ بھی کہ جنہیں ہم سے اپنائیت کے بڑے دعوے تھے، اب تمہاری یادیں اور میری تنہائی، یہی میرا نصیب ہے۔ اور یہی میرا مقدر! یہ تو ٹھیک ہے، منصور حسن جاوید کہ میں نے تمہیں کبھی نہیں چاہا۔ کبھی تمہاری تمنا نہیں کی۔ لیکن نہ جانے کیوں اب زندگی کے اس دردناک سفر کے موڑ پر میرا جی چاہتا ہے، کہ میں تمہیں پکاروں اور تم سے کہوں۔ آئو منصور حسن جاوید، آئو اس دکھ پر ہم اورتم دونوں مل کر روئیں۔‘‘
میں نے ڈائری بند کردی اور اسے ہاتھ میں تھامے ہوئے نیچے لائونج میں چلا آیا۔ سب لوگ جاگ رہے تھے۔کوئی بھی سویا نہ تھا۔ قادر جان مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا… اور میرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈائری دیکھ کر کہنے لگا۔
’’اب تو مطمئن ہو گئے تم؟ مل گیا تمہیں اپنے سوالوں کا جواب۔ سرخرو ہو گئے تم؟؟ اب خوش ہو جائو… اس لیے کہ وہ اب شاید کبھی تمہاری زندگی میں واپس نہیں آئے گی۔‘‘
’’نہیں، نہیں۔‘‘ میں چلایا۔ ’’ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کبھی نہیں ہو سکتا، قادر جان، وہ زندہ رہے گی، میرے لیے، اپنے لیے اور ہم سب کے لیے۔ ہاں، میں اقرار کرتا ہوں قادر جان کہ میں مجرم ہوں، اپنے رب کا، عینی کا اور آپ سب کا۔ یہ سچ ہے کہ میں نے عہد شکنی کی۔ مگر وہ غفور الرحیم ہے، وہ میری خطا بخش دے گا، ضرور بخش دے گا، تم بھی مجھے معاف کر دو، میرے دوست! مجھے معاف کر دو۔‘‘
دونوں ہاتھ جوڑ کر میں نے قادر جان اور سائرہ بھابی سے معافی مانگی اور روتے روتے ان کے قدموں میں گر پڑا۔ رات کا یہ آخری پہر بھی گزر گیا۔ اور سپیدہ سحر نمودار ہونے ہی کو تھا، کہ اچانک ڈاکٹر پیرزادہ کا فون آگیا، وہ مجھے اسپتال آنے کے لیے کہہ رہے تھے، اس لیے کہ عینی کی حالت بہت نازک تھی۔
تو گویا میری زندگی کا سورج اب غروج ہونے کو تھا۔
میرے گھر کے اندر ایک کہرام مچ گیا، ایک قیامت برپا ہو گئی۔ بڑی مشکل سے میںنے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ کمرے کا فاصلہ طے کیا۔ علی نے مجھے تھام رکھا تھا، قادر جان تیز قدموں سے سارا فاصلہ طے کرتا ہوا ڈاکٹر پیرزادہ کے کمرے میں چلا گیا۔
’’آپ یہاں رکیے۔‘‘ اسٹاف نرس کیپٹن علی سے کہ رہی تھی۔ ’’صرف انہیں اندر آنے دیجئے۔‘‘
اس وقت میں اس طرح چل رہا تھا، گویا کہ میرے قدم پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھ رہے ہوں اور میری زندگی اور موت کے درمیان صرف چند قدموں کا فاصلہ باقی رہ گیا ہو۔
میں عینی کے پلنگ کی پائنتی کی طرف رک گیا۔ شیشے کی دیوار کے اس پار جانے تک… صدیوں کا فاصلہ حائل ہو چکا تھا۔ میری نام نہاد انا اور خود داری کا بت چور چور ہو گیا۔ میں اپنے فخر






کے عرش سے عاجزی کے فرش پر گر کر چکنا چور ہو گیا، میں اس وقت ایک عاجز اور مسکین انسان کی طرح خاموش اور بے بس کھڑا تھا اور میرے سامنے… میری زندگی کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا۔ واقعی میں زندگی میں اسے کوئی تاج محل نہ دے سکا تھا، جس میں وہ اپنی آرزوئوں سمیت ہمیشہ کی نیند سو جاتی، میں نے اسے دکھ دئیے تھے۔ صرف دکھ! اپنی زیادتی کا احساس کر کے میری آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں۔
میرے بالکل سامنے… بے ہوش عینی کے سرہانے… محسن مصطفیٰ کھڑا تھا۔ سفید لباس میں ملبوس، چہرے پر ایک نورانی تبسم لیے وہ اس وقت میرے سامنے وہاں موجود تھا، جہاں میں اپنے وقت کے اس پل اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں سیدھے میرے وجود میں اتر گئیں… میں اس کی نگاہوں کا سامنا نہ کر سکتا تھا، پر ہمت کر کے دیکھتا رہا۔ وہ عینی کے اوپر جھکا اور اس نے اپنا دایاں ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھا۔ پہلا سیکنڈ گزرا۔ دوسرا اور پھر تیسرا۔ مجھے ایسا لگا، گویا میری سانس رک چکی ہو، میرا سارا وجود ساکت ہو چکا ہو۔ اور میرا بے حس وجود آہستہ آہستہ زمین کے اندر دھنس رہا ہو، میرے قدم لڑکھڑائے۔ اور اس سے پہلے کہ میں گرجاتا، ڈاکٹر پیرزادہ نے آ کر مجھے تھام لیا۔
محسن مصطفیٰ نے دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اٹھائے، کچھ پڑھ کربے ہوش عینی کے وجود پر پھونکا اور پھر… وہ وہاں نہ تھا… کہیں بھی نہ تھا…!
’’آپ بیٹھ جائیں۔‘‘ ڈاکٹر پیرزادہ مجھ سے کہہ رہے تھے، مگر میں مبہوت کھڑا اپنی زندگی کا ایک عظیم الشان معجزہ دیکھ رہا تھا، کہ عینی پلکیں جھپکا رہی تھی، اس کے ہونٹ ہل رہے تھے اور وہ ہوش میں آ رہی تھی۔
بڑی حیرت کے ساتھ ڈاکٹر پیرزادہ نے بھی یہ منظر دیکھا اور جلدی سے اندر داخل ہو گئے، میرے قدموں میں تیزی آ گئی۔ ان کے ساتھ ہی میں بھی عینی کے بیڈ کے سرہانے آن رکا، اس کے ہونٹ ہل رہے تھے اور اس کے منہ سے بے معنی سے الفاظ کچھ اس طرح سنائی دے رہے تھے۔
’’مو…!مو…مو!‘‘
یاس کی ایک بھاری سل اس لمحے بھی میرے دل پر آن گری۔ وہ یقینا محسن مصطفیٰ کو پکار رہی تھی! شاید ہی نہیں، بلکہ حقیقت تو یہ تھی، کہ وہ اس دنیا کے لیے ہی نہیں، بلکہ دوسری دنیا کے لیے بھی، ایک دوسرے کے لیے بنے تھے۔ میں تو حرماں نصیب یوں ہی بیچ میں آ گیا تھا۔
میرا دل اپنی بدنصیبی پر ماتم کرنے ہی والا تھا، کہ اس کی آواز آئی۔
’’مو… منصور…منصور!‘‘
میں دیوانہ وار اس پر جھک گیا۔
’’عینی ۔‘‘ میں نے زور سے پکارا۔ ’’نورالعین… عینی۔‘‘
اور… عینی نے آنکھیں کھول دیں۔
یہ بڑا زبردست معجزہ تھا، شیشے کی دیوار کے دوسری سمت کھڑے عزیز و اقارب کی آنکھیں خوشی اور تشکر کے آنسوئوں سے بھر گئیں، بہت سارے پل بڑی آہستگی سے سرک گئے۔
بڑی رنگین صبح .ہسپتال کے باہر طلوع ہوئی۔
اس وقت… میری عینی۔ میری زندگی ہی محفوظ نہیں تھی، بلکہ وہ جان بھی سلامت تھی۔ جسے ابھی ہماری زندگی میں آنا تھا۔ بے حد حیرت سے ڈاکٹر پیرزادہ کہہ رہے تھے۔
’’اگرچہ یہ معجزوں کا دور تو نہیں۔ میڈیکل سائنس نے اتنی زبردست ترقی تو کرلی ، مگر حیران ہی نہیں، پریشان بھی ہوں۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے؟ کہ اس حد تک دماغی ضرب کے بعد کوئی انسان بے ہوشی کی اس قدر کٹھن منزل سے صحیح سلامت پلٹ آئے۔ یہ تو ایک معجزہ ہے! آپ بہت خوش قسمت ہیں! منصور حسن جاوید، یقینا بہت خوش نصیب ہیں۔‘‘
میں نے اپنا سر رب کے حضور جھکا دیا۔ اب بھلا میں ڈاکٹر پیرزادہ کو کیا بتاتا، کہ جسے میں زندگی بھر اپنا رقیب جانا، ہر میدان میں شکست دینا چاہی، وہ میرا رقیب، میرا دشمن، میری زندگی کی جنگ کے اس انتہائی اہم مقام پر میرے لیے امن کا فرشتہ بن کر آیا تھا اور قرآن پاک کی اس تفسیر کی عملی مثال پیش کرتے ہوئے کہ ’’انہیں مردہ مت کہو‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے میری زندگی کے اس آخری معرکے میں مجھے… یعنی منصورحسن جاوید کو شکست فاش دینے کے بعد خدا جانے کس جہان کی طرف پرواز کر گیا تھا۔

…٭٭٭…

of 48 
Go