| Back | Home | |
||
|
’’میری بچی اتنی بڑی ہو گئی۔ ارے تینی ادھر تو آ، بہن سے مل‘ کیا کھڑا گپیں لگا رہا ہے۔‘‘
تنویر نے مسکراتے ہوئے اسے سلام کیا۔ وہ بھی مسکرا دی۔ تنویر اور کاشف تقریباً ہم عمر ہی تھے۔ ’’دیکھا تم نے جعفر علی شاہ، اپنی مینو بالکل اماں پر گئی ہے۔‘‘ پھوپھو کے چہرے پر مامتا اور شفقت تھی۔ ’’وہی ناک، وہی پیشانی، ویسی ہی آنکھیں۔‘‘ ’’ہاں۔‘‘ ابا نے بھی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’اس کی شکل و صورت ہی نہیں عادتیں بھی ساری اماں پر گئی ہیں۔ وہی سادگی اور قناعت اور ویسی ہی نرم خو اور ہمدرد فطرت‘ جو پہنایا پہن لیا‘ جو کھلایا کھا لیا۔ نہ کوئی نخرہ‘ نہ کوئی ضد اور نہ فرمائشیں۔ میری یہ بیٹی تو عطیہ ہے خدا کا۔‘‘ ’’اے طیبہ بیگم تم نے عرصہ سے میری سمو کو نہیں دیکھا۔‘‘ اماں کو شاید ابا کی تعریف اچھی نہیں لگی تھی۔ اس لیے فوراً ہی بات کاٹ دی۔ ’’ہاں… ہاں… کہاں ہے‘ سمو ابھی تک آئی نہیں۔‘‘ پھوپھو نے اسے اِدھر اُدھر متلاشی نظروں سے دیکھا۔ ’’اوہ… وہ تو آج صبح سے ہی کسی سہیلی کے ہاں گئی ہے، آتی ہی ہو گی۔‘‘ اماں کس قدر صفائی سے جھوٹ بولتی ہیں۔ ابھی تو جب وہ پیپر د ے کر آئی تھی‘ تو گھر پر موجود تھیں۔ امینہ نے مڑ کر کاشف کو دیکھا‘ تو کاشف نے اشارے سے بتایا کہ واقعی آپا گھر پر نہیں ہیں۔ گویا اماں پچاس فی صد سچ بول رہی تھیں‘ اور آپا یقینا پھوپھو کی آمد کے بعد ہی کھسک لی ہوں گی۔ جانے آپا ابا کے رشتے داروں سے اتنی الرجک کیوں ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ بھی ابا کی طرح سادہ اور کھرے سچے لوگ
ہیں۔ اماں کے رشتے داروں کی طرح ماڈرن‘ لیکن خود غرض اور شوباز نہیں ہیں۔
امینہ نے سوچا اور اماں کی طرف دیکھا‘ جو تھوڑا سا پھوپھو کے قریب کسک آئی تھیں۔ ’’سمو تو ساری کی ساری اپنے ننھیال پر گئی ہے۔‘‘ ’’ہاں آپا۔ اپنی سمو کی عادتیں بھی وہی شاہانہ ہیں۔‘‘ ابا نے مسکراتے ہوئے کہا‘ تو پتا نہیں اماں ان کی بات کو طنزیہ سمجھیں یا کیا،کہ تیر برساتی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ ’’لو بھلا اپنی سمو میں کیا برائی ہے۔ اس عمر میں اوڑھنے پہننے کا شوق تو سبھی لڑکیوں کو ہوتا ہے۔ اوراب تمہاری لاڈلی کو اوڑھنے پہننے کا سلیقہ نہ ہو تو۔‘‘ ’’زینت آرا… زنیت آرا۔‘‘ انہوں نے کسی متوقع جنگ کے خیال سے فوراً بات کاٹی۔ ’’بخدا، ہمارا مطلب یہ نہیں تھا‘ جو آپ سمجھ رہی ہیں۔اور یہ آپ نے پھر تفرقہ کیا کہ ہماری تمہاری۔ اللہ کی بندی دونوں ہماری بچیاں ہیں۔ دونوں ہماری دو آنکھیں ہیں۔ آپ بات کو سمجھتی نہیں ہیں اور…‘‘ ’’یا اللہ… یا اللہ۔‘‘ اس نے آنکھیں بند کر کے دعا کی۔ ’’یا اللہ اس معرض وجود میں آنے والی عالمی بلکہ خانگی جنگ کو روک۔‘‘ اور شاید یہ وقت، وقت قبولیت تھا‘ کہ اس کی دعا قبول ہو گئی اور اماں ابا کی بات کا جواب دیے بغیر پاندان اپنی طرف کھسکا کر پان بنانے لگیں۔ دراصل قصور کچھ زینت آرا کا بھی نہیں تھا۔ یہ جو ان کے مزاج میں کچھ تعلی اور اپنی بات منوانے والی بات تھی‘ تو اس کی وجہ ان کا خاندانی پس منظر تھا۔ وہ نواب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد خاندانی نواب تھے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی منتقل ہوئے۔ یہاں بھی وہی آن بان تھی۔ اگرچہ وہ نوابی تو نہ رہی تھی‘ لیکن پیسے، دولت کی ریل پیل تھی۔ صدر ہائوس تک رسائی تھی۔
سید جعفر علی شاہ اسٹیشن ماسٹر تھے۔ لیکن اصلی اور سچے سید تھے۔ نواب صاحب سے اچانک ملاقات ہوئی تھی۔ نواب صاحب ان کے اخلاق سے متاثر ہوئے‘ اور جب پتا چلا کہ وہ بھی سید ہیں تو گھر بلایا۔زینت آرا بیگم اگرچہ خوش شکل تھیں‘ لیکن اصلی سید نہ ملنے کی بنا پر ان کی عمر نکلی جا رہی تھی۔ سو نواب صاحب نے سید جعفر علی شاہ صاحب کی والدہ سے درخواست کی کہ وہ زینت آرا کو اپنی بہو کے طور پر قبول کر لیں۔ شجرہ نسب دیکھا اور دکھایا گیا‘ اور یوں زینت آرا ایک شاندار گھر سے ایک نسبتاً چھوٹے گھر میں آ گئیں۔ خوشحالی تو یہاں بھی تھی‘ لیکن وہ بات نہ تھی۔ ابا مسکین آدمی تھے‘ اور ان کی والد ہ بھی سادہ دل خاتون تھیں۔
امینہ نے دل ہی دل میں اللہ میا ں کا شکریہ ادا کر کے پھوپھو کی طرف دیکھا‘ اور پھر نگاہیں دروازے پر ہی لمحہ بھر کے لیے ٹک گئیں۔ ’’تیمور بھائی ہیں شاید۔‘‘ اس نے سوچا۔ لیکن کس قدر خوبصورت بالکل آپالو کا کوئی دوسرا روپ لگ رہے تھے۔ گیلے بالوں کو ہاتھوں سے پیچھے کرتے ہوئے وہ اندر آئے۔ شاید منہ دھو کر آئے تھے۔ ’’بیٹے! یہ مینو ہے۔‘‘ ’’اچھا!‘‘ وہ مسکرائے۔ کیسی ہو بے بی اور یہ اس قدر حیرت سے کیوں دیکھ رہی ہو، یقین کر و ہم تمہارے کزن تیمور شاہ ہیں۔‘‘ اس نے شرمندہ ہو کر پلکیں جھپکائیں۔ ’’سلام تیمور بھائی۔‘‘ ’’دراصل تیمور بھائی کہ مینو اس لیے حیرت سے آنکھیں پھاڑ رہی تھی کہ یہ آپ غلطی سے اماں کے خاندان پر کیسے چلے گئے۔‘‘ کاشف نے کہا۔ اماں کو اپنے خاندان کے حسن پر ناز تھا۔ |
||