| Back | Home | |
||
|
اسے چھیڑ کے بہت لطف اٹھاتا تھا۔ فاطمہ نے کشن اٹھا کے اسے دے مارا۔ اس نے سائیڈ پہ ہو کے خود کو بچا لیا۔ ’’کب ملوا رہے ہو اپنی مس ورلڈ سے‘ ڈھیروں ڈھیر شکایتیں کرنی ہیں تمہاری۔‘‘ وہ بولی۔ ’’کہو تو ابھی بلا لیتا ہوں۔ ہر وقت تو گاڑی میں سوار رہتی ہے۔ اس کے باپ کے پاس پانچ چھ گاڑیاں ہیں۔ اسے گھومنے پھرنے‘ شاپنگ کرنے کا بہت شوق ہے۔‘‘ عادل نے کہا۔ ’’اوہ تو اڑتی تتلی پھنسائی ہے‘ افورڈ کر سکو گے اسے؟‘‘ فاطمہ نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’آج کل کے زمانے میں ہر کوئی خود کو خود ہی افورڈ کرتا ہے بی بی! اتنی اچھی جاب کر رہی ہے۔ والدین کی بھی اکلوتی ہے۔ میں نے تو فائدے کا سودا کیا ہے۔ گھاٹا تو اسے ہے۔‘‘ عادل نے اعتراف کیا۔ ’’چاچو!‘‘ زارا دوڑتی ہوئی آئی اور عادل کے گلے لگ گئی۔ ’’ارے میری باربی کیسی ہے؟‘‘ اس نے اس کے موٹے سے گال پہ پیار کیا۔ ’’چاچو آپ نے پرامس کیا تھا کہ آپ مجھے نئی ڈول لے کر دیں گے‘ لے دیں ناں۔‘‘ زارا نے ہمیشہ کی طرح فرمائش کی۔ ’’ارے یہ کون سی مشکل بات ہے‘ ابھی لے چلتا ہوں۔‘‘ عادل اٹھ گیا‘ اور زارا کو اس نے کندھے پہ اٹھا لیا۔ فاطمہ جو دوبارہ کچن میں آ کے ڈنر کی تیاری کرنے لگ گئی تھی‘ اس نے عادل کو منع کیا۔ ’’عادل! مت لے کر دو اسے باربی ڈول‘ بھر دیا ہے تم نے اس کا کمرہ کھلونوں سے۔‘‘ ’’تم چپ رہو‘ تمہارے لئے نہیں لینے جا رہا۔‘‘ وہ سلاد کی گاجر اٹھا کے منہ میں ڈالنے لگا۔ اذین کے رونے کی آواز آئی۔ عادل نے مڑ کے اس کی طرف دیکھا۔ ’’ارے جہاز کے کپتان کو تو ہم بھول ہی گئے‘ آ جا میرے چاند۔‘‘ عادل نے لپک کے اذین کو اٹھا کے کندھے پہ بٹھا دیا۔ ’’اسے مت لے جائو‘ پیک بھی نہیں کیا اسے۔‘‘ فاطمہ چیختی رہی‘ مگر عادل کہاں رکنے والا تھا۔ ’’مجھے یہ تحفہ بنا پیک کیے ہی قبول ہے‘ زیادہ سے زیادہ گاڑی کی سیٹ ہی دھو دے گا ناں؟ بچے تو فرشتے ہوتے ہیں‘ اور فرشتہ میری سیٹ دھوئے اس سے بڑھ کر کیا خوش نصیبی ہو گی میری۔‘‘ وہ جاتے جاتے کہہ گیا اور فاطمہ اپنی مسکراہٹ روک نہ پائی۔ ’’کھانا ہمارے ساتھ کھانا اور جلدی آنا۔‘‘ اس نے تاکید کی۔ ’’بگاڑ دو گے تم میرے بچوں کو اپنی طرح۔‘‘ وہ خود کلامی کے سے انداز میں بولی‘ اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قید کر کے عادل نے ان کی زندگی کو اور خوبصورت بنا ڈالا تھا۔ …٭٭٭… ’’تو تم نے اپنے فرینڈ اور ان کی وائف کو میرے بارے میں سب بتا دیا ہے۔‘‘ لنچ کے دوران کیفے ٹیریا میں بیٹھی شانزے اس سے مخاطب تھی۔ ’’ہاں‘ لیکن وہ لوگ صرف فرینڈز نہیں ہیں‘ میں عدنان اور فاطمہ پچھلے دس سالوں سے بہت کلوز ہیں‘ ہم نے یونیورسٹی لائف اکٹھے انجوائے کی ہے‘ دکھ سکھ ساتھ دیکھے ہیں۔ ان کے اور میرے بیچ میں بہت فرینک نیس ہے۔‘‘ عادل نے کہا۔ ’’یونیورسٹی لائف میں تو ہر دوسرا بندہ ایک دوسرے کے کلوز ہوتا ہے‘ لیکن تمہارا اور میرا رشتہ بہت پرسنل ہے‘ میں نہیں چاہتی تم اسے ہر کسی کے ساتھ شیئر کرتے پھرو۔‘‘ شانزے کے چہرے پر ازلی اعتماد اور غصہ تھا۔ وہ ہمیشہ جو کہتی تھی‘ اس پہ کبھی پشیمان نہیں ہوتی تھی۔ اس کی ذات کا اعتماد اسے کبھی پشیمان یا زیر ہونے نہیں دیتا‘ وہ خود کو ہمیشہ ٹھیک سمجھتی تھی۔ ’’وہ ہر کسی نہیں ہیں شانزے‘ وہ عدنان اور فاطمہ ہیں‘ وہ میری ذات اور میری زندگی کا بہت اہم حصہ ہیں۔ وہ مجھ سے الگ نہیں ہیں۔‘‘ عادل اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’’اور میں کیا ہوں عادل؟ میری کیا جگہ ہے تمہاری زندگی میں؟ مجھے کہاں پہ رکھو گے؟ تم تو ہر وقت اپنے دوستوں میں رہو گے‘ میں کیا کروں گی۔‘‘ وہ اداسی سے بولی۔ ’’تم میری زندگی ہو شانزے‘ مائی لائف! تم جگہ کی بات کرتی ہو‘ میری تو پوری زندگی تمہاری ہے‘ تمہارے نام ہے سارا کچھ‘ فاطمہ یا عدنان یا کوئی بھی تمہاری جگہ نہیں لے سکتا۔‘‘ عادل نے اسے یقین دلایا۔ ’’لیکن پھر بھی عادل‘ میں تمہیں کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی‘ میں بہت پوزیسو ہوں‘ بہت حساس ہوں۔‘‘ اس نے اعتراف کیا۔ ’’ارے میری جان! تم ان دونوں سے ملو تو سہی‘ وہ ایسے بالکل نہیں‘ وہ تو یوں لگتا ہے کسی اور دنیا کے باسی ہیں۔ ان کے گھر کوئی ٹینشن‘ لڑائی‘ جھگڑا نہیں ہوتا۔ بس پیار ہوتا ہے‘ مسکراہٹ‘ خوشی اور قہقہے ہوتے ہیں۔ وہ دونوں میاں بیوی تو لگتے ہی نہیں‘ محلے دار لگتے ہیں۔ فاطمہ کچھ میں کام کر رہی ہوتی ہے‘ عدنان سیٹیاں مار مار کے اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ عدنان دفتر کا کام کر رہا ہوتا ہے‘ فاطمہ اسے گانے گا گا کے بلاتی ہے۔ ہر کام دونوں باری باری کرتے ہیں۔ اگر بچوں نے واش روم جانا ہو تو ایک بار فاطمہ لے جائے گی اگلی بار عدنان‘ ایک وقت کا کھانا عدنان باہر سے لائے گا‘ تو رات کا کھانا فاطمہ بنائے گی۔ دفتر جاتے ہوئے فاطمہ گاڑی چلائے گی‘ آتے ہوئے عدنان‘ ان کی زندگی بہت آئیڈیل ہے شانزے۔‘‘ عادل نے اسے تفصیل بتائی۔ ’’اچھا اچھا اب اور تعریفین مت کرو میں جلنے لگوں گی۔‘‘ وہ بسوری۔ ’’کب ملو گی ان سے بہت زور دیا ہے فاطمہ نے۔‘‘ ’’کبھی مل لوں گی۔‘‘ اس نے ٹالنے کی کوشش کی۔ ’’پرسوں ان کی آٹھویں ویڈنگ اینورسری ہے‘ ہم دونوں چلیں گے ان کو سرپرائز وِش کریں گے۔‘‘ ’’دیکھو ں گی اگر فارغ ہوئی تو چلوں گی۔‘‘ شانزے نے پھر ٹال مٹول کی۔ عادل خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔ شانزے کو منانا بہت مشکل کام تھا۔ …٭٭٭…
’’راحیل ہم بے بی کے لئے کون سے کمرے کی نرسری بنائیں؟ اس والے کی یا پھر اپنے بیڈ روم کے پاس والے کی۔‘‘ روشین ہاتھ میں ڈائری اور قلم پکڑے کمپیوٹر پہ کام کرتے راحیل کے پاس آئی۔ ’’جو تمہاری مرضی بنا لو‘ بس یہ کوشش کرنا کہ ہمارے کمرے کے آس پاس ہو۔‘‘ راحیل نے کمپیوٹر سکرین کی طرف دیکھتے دیکھتے جواب دیا۔ ’’پھر اپنے کمرے کے ہی ایک کونے میں کیوں نہ بنا لوں؟ یوں بھی میں اسے اپنے سے دور تھوڑی رکھ پائوں گی۔‘‘ روشین کے چہرے پہ اک روشنی سی پھوٹی۔ ’’تمہیں جو کرنا ہے کرو میری جان! مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ راحیل کے ہر ہر لفظ میں اس کے لئے پیار تھا‘ تنہائی کے ان آٹھ برسوں میں اگر راحیل کی بے پناہ محبت نہ ہوتی‘ تو شاید اس کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا۔ ’’اچھا آپ کا تو جیسے وہ کچھ لگتا ہی نہیں ہے ناں‘ آپ اسی طرح بس دفتر کے کام کرتے رہنا‘ دفتر ہی آپ کی زندگی ہے ‘ اور دفتر ہی رشتے دار۔‘‘ وہ خفا ہوئی۔ ’’اوہو! حکم کریں میری جان! کیا کرنا ہے‘ میری تو جان بھی حاضر ہے آپ دونوں کے لئے۔‘‘ وہ کمپیوٹر سے دھیان ہٹا کے بیوی کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’میری مدد کریں راحیل! مجھے اپنے بچے کے ویلکم کے لئے بہت… بہت… بہت کچھ کرنا ہے۔‘‘ وہ کھڑے کھڑے اپنے پائوں پہ گھوم گئی تھی۔ راحیل نے اٹھ کے اسے تھام لیا۔ ’’آرام سے… آرام سے میری زندگی! آرام سے… آپ حکم کرو‘ راحیل کی جان بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔‘‘ ’’بولئے کیا کرنا ہے؟‘‘ وہ اس کے ہمراہ کمرے کے اندر آ گیا تھا۔ ان دونوں کا کمرہ ابھی تک اسی طرح تھا‘ جس طرح ان کی شادی کے وقت تھا۔ نیا نویلا اور روشن روشن! روشین نے شادی کے بعد کے کئی خوبصورت لمحے سامنے کی دیوار پہ چھوٹی چھوٹی فریم شدہ تصویروں کی صورت لگا دیئے تھے۔ اس نے اپنی چھوٹی سی جنت کو خوب سجا کے رکھا تھا۔ ’’یہ میں کچھ پیارے پیارے بچوں کی تصویریں لے آئی ہوں راحیل! پلیز انہیں سامنے والی الماری پہ‘ واش روم کے اور کمرے کے دروازے پہ لگا دیں۔‘‘ روشین نے پوسٹر سائز تصاویر اس کے حوالے کیں۔ ’’اس سے کیا ہو گا؟‘‘ وہ تصاویر دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔ ’’اس سے یہ ہو گا کہ ہمہ وقت میری آنکھوں کے سامنے خوبصورت اور پیارے پیارے بچوں کی تصویریں ہوں گی‘ اور میرا بچہ بھی ان کی طرح خوبصورت ہو گا۔‘‘ وہ ہر لمحہ کچھ اچھے اچھے تخیلات کے گھیرے میں رہنے لگی تھی۔ ’’لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ کو اپنی تصاویر ہر جگہ لگائے رکھنی چاہئیں تاکہ ہمارا آنے والا بچہ آپ کی طرح ہو‘ بالکل آپ جیسی آنکھیں‘ آپ جیسے ہونٹ‘ اور ایک پیارا سا دل۔‘‘ راحیل نے اس کی ننھی سی ناک کو انگلی سے چھوا۔ ’’مجھے تو بالکل آپ کے جیسا بیٹا چاہئے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’مطلب موٹا اور گول مٹول۔‘‘ وہ خود ہی اپنا مذاق اڑا رہا تھا‘ روشین نے مکا بنا کے اس کے کندھے پہ مارا۔ ’’دکھائو مجھے تصاویر‘ میں لگا دیتا ہوں۔‘‘ وہ تصاویر اٹھا کے روشین کی بتائی جگہوں پہ چسپاں کرنے لگا‘ کچھ ہی دیر میں الماری کے اوپر‘ دیوار پر‘ دروازوں پر پیارے پیارے سفید غیر ملکی بچوں کی تصاویر مسکرانے لگیں۔ روشین اپنے تخیل کی انگلیوں سے اپنے بچے کے خال و خد دیکھ رہی تھی۔ اپنی گود میں نرم و ملائم وجود کو سمیٹ کے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ سفید گول نازک سا چہرہ سیاہ آنکھوں کے اوپر بھنوئوں کی پتلی سی لکیر‘ دو ننھی ننھی گلابی مٹھیاں‘ ہوا میں لہراتی ہوئی اور چھوٹا سا وجود۔ ’’اور کوئی حکم…؟‘‘ راحیل کی آواز اسے باہری دنیا میں واپس کھینچ لائی تھی۔ ’’آج شام سے ہم نے شاپنگ شروع کرنی ہے‘ بہت ساری شاپنگ ہے اور بچے کی آمد میں فقط آٹھ ماہ۔ اس کے آنے سے پہلے ہم نے پورا گھر اس کی چیزوں سے بھر دینا ہے۔ اس کے کپڑے‘ اس کے بستر‘ اس کے کھلونے‘ اس کے تولیے‘ ہر جگہ بس وہ ہی وہ‘ وہ ہی وہ‘ نہ میں نہ آپ‘ فقط ہمارا بچہ۔‘‘ روشین کی خواہش پہلے محبت کا روپ دھاری پھر دیوانگی کا اور اب دیوانگی انتظار میں ڈھل گئی تھی۔ وہ بے صبری سے منتظر تھی۔ …٭٭٭…
’’لو بھئی مل لو ان سے یہ ہیں شانزے اور شانزے یہ ہیں عدنان اور فاطمہ‘ اور ان کے دو پیارے پیارے بچے۔‘‘ عادل ان کا تعارف کروا رہا تھا۔ شانزے ہاتھ ملا کے سب سے ملی‘ بلیک کلر کے جارجٹ سوٹ میں وہ بہت دیدہ زیب لگ رہی تھی۔ ’’تم سے بہت بہت شکایتیں کرنی ہیں اس گدھے کی۔ اس کے ذرا کان کھینچ کے رکھا کرو۔‘‘ فاطمہ اپنی ازلی فرینک نیس کے تحت شانزے سے اس کی شکایت کر رہی تھی۔ ’’میاں اب تم بھی گئے کام سے‘ ہماری ہی طرح۔‘‘ عدنان نے عادل کے کندھے پہ دھپ دے مارا‘ وہ مسکرایا۔ ’’پتہ ہے شانزے ! یہ موصوف یونیورسٹی کی ہر لڑکی کو دیکھ کر سیٹیاں مارتے تھے‘ ہر ہفتے نئی گرل فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ مارتے تھے‘ میری سہیلیوں کو چٹھیاں لکھ لکھ کر اپنی محبت کا یقین دلاتے تھے‘ نجانے کتنی لڑکیوں سے جینے مرنے کے وعدے کر چکے تھے۔‘‘ فاطمہ نے لائونج میں بیٹھتے ہی مزاح کے طور پر کہا۔ ’’کیا واقعی عادل…؟‘‘ شانزے نے اسے گھورا‘ وہ سادگی سے مسکرا رہا تھا۔ ’’ارے نہیں نہیں شانزے جی! فاطمہ مذاق کر رہی ہے۔ عادل تو بہت شریف النفس اور ریزرو قسم کا بندہ تھا۔ اس سے تو کوئی لڑکی مکمل طور پہ دیکھی بھی نہیں جاتی تھی۔‘‘ عدنان نے حقیقت بتائی۔ ’’ایک بار میں نے ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا۔ ’’دیکھو عادل! اس پہ سبز چنری کتنی پیاری لگ رہی ہے‘ تو کہنے لگا کہ یہ چنری کیا ہوتی ہے؟‘‘ عدنان کی بات پہ فاطمہ اور عادل دونوں کھلکھلا کے ہنس دیئے۔ شانزے نے فقط مسکرانے پہ اکتفا کیا۔ ’’ہاں واقعی بہت بدھو تھا‘ کیفے ٹیریا میں جہاں سبھی لڑکے لڑکیوں کو لائن مارنے جاتے تھے‘ وہاں یہ موصوف بیٹھ کے زوالوجی کے پریکٹیکل لکھتے تھے۔ کوئی لڑکی بات بھی کرے تو باجی باجی کہہ کے اسے روانہ کر دیتے تھے۔‘‘ فاطمہ نے مزید اضافہ کیا۔ اس کے بعد بھی وہ دونوں بہت دیر تک عادل کی باتیں کرتے رہے‘ ہنستے رہے‘ کھلکھلاتے رہے‘ آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہے‘ تالیاں مارتے اور جو کس شیئر کرتے رہے‘ لیکن وہ ان میں نہیں تھی۔ اسے عادل کا اس طرح ان لوگوں سے ہنسی مذاق کرنا شانزے کو بالکل پسند نہیں آ رہا تھا۔ وہ ان تینوں کے درمیان خود کو بہت ان فٹ محسوس کر رہی تھی۔ بہت ان ایزی محسوس کر رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے؟ کیا بولے؟ کہاں ہنسے؟ کہاں مسکرائے؟ اجنبیت کا اک نادیدہ احساس اس کے رُوم رُوم میں پیدا ہو رہا تھا۔ ’’میں کیوں آ گئی عادل کے ساتھ یہاں؟ اس سے بہتر تھا کہ میں کسی شاپنگ پلازہ میں وقت گزار لیتی یا کہیں فاسٹ فوڈ لے لیتی‘ عادل کو بھی مجھے یہاں گھسیٹ لانا لازمی تھا؟ اس کے دوست ہیں‘ وہ خود ہی نبھاتا پھرے دوستیاں۔‘‘ وہ کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھی اسی طرح اندر ہی اندر کڑھ رہی تھی۔ فاطمہ نے بھی اس کا گریز اور اس کی اداسی بخوبی محسوس کی‘ اور وہ مستقل اسے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لوازمات کی چیزیں باری باری اٹھا کے اس کے سامنے پیش کر رہی تھی۔ بالآخر اس کا صبر جواب دے گیا‘ اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’میں جا رہی ہوں عادل! مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے۔‘‘ وہ اٹھی اور اپنا پرس سنبھالنے لگی۔ ’’کیا ہوا شانزے؟ کہاں جا رہی ہو؟‘‘ فاطمہ نے پیار سے پوچھا۔ ’’وہ مجھے یاد آ گیا کہ مجھے ممی ڈیڈی کے ساتھ کسی فنکشن میں جانا تھا‘ میں پھر کبھی آ جائوں گی۔‘‘ وہ بہانہ بنا کے بولی۔ ’’میں چلوں شانزے۔‘‘ عادل اپنی جگہ سے اٹھا۔ ’’نہیں اٹس اوکے‘ تم انجوائے کرو‘ میں چلی جائوں گی۔‘‘ وہ فوراً یہ کہتی پلٹی اور چلی گئی۔ عادل‘ فاطمہ اور عدنان تینوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ …٭٭٭…
|
||