Urdu Novels

Back | Home |  

رہی ‘اور جو کہ حقیقتاً اس کا تھا ہی نہیں۔
اس کے بعد راحیل نے اس سے رابطے کی بہت کوشش کی‘ لیکن وہ نہیں گئی، ماں باپ بھائی بہنوں نے بھی بہت کہا کہ اکثر مرد دوسری شادی کرلیتے ہیں‘ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، وہ تمہیں بھی اس کے ساتھ رکھنے کو تیار ہے‘ لیکن وہ اپنی محبت ہر گز بھی بانٹنے کو تیار نہ تھی‘ اس کے لئے اس کابیٹا ’’ابیل‘‘ ہی کافی تھا۔
اس کے پاس جو تھوڑا سا زیور اور رقم موجود تھی‘ اس سے اس نے ایک عمارت خریدی اور وہیں پہ ایک پرائیویٹ اسکول کھول لیا‘ جو کچھ مہینوںکی مشقت اور محنت کے بعد چل پڑا‘ اور بہت بہتر آمدنی ہونے لگی، روشین نے اپنے علاوہ تین اور ٹیچرز اپوائنٹ کر لیں، نازیہ بھی وہیں کام کرنے لگی۔ اور آہستہ آہستہ یہ عمارت یہ ادارہ ایک اچھے ادارے کی شکل اختیار کرتا چلا گیا، ابیل بھی بڑا ہو کر اسی اسکول میں پڑھنے لگا اور روشین کی زندگی نے ایک نئی سمت لے لی۔
وہ جان گئی تھی کہ اکائی کی طاقت بہت ہوتی ہے اور کچھ انسانوں کے اندر اللہ کی یہ صفت بھی ہوتی ہے کہ وہ اکیلے اپنی دنیا بنائیں اور اسے بنانے سنوارنے کی ہر ذمہ داری اپنے سر لے لیں‘ اور کن فیکون کہہ کر اپنا جہان بناتے جائیں، بناتے جائیں تو آج روشین کم از کم اپنی اور اپنے پروردگار کی آنکھوں میں سرخرو تھی۔

…٭٭٭…


یہ کسی مصروف سڑک کا ٹریفک سگنل تھا۔ عادل اپنے نئے دفتر سے واپس گھر کی طرف جا رہا تھا۔ اچانک اس کی طرف کا سگنل ریڈ ہوا اور تمام ٹریفک رک گئی، سڑک کے ایک طرف رکنے والی اس کی گاڑی پہلی تھی، باقی کا ٹریفک اسی کے پیچھے رکا تھا، دوسری طرف کا ٹریفک کھل گیا تھا‘ اورگاڑیاں اپنی رفتار سے جانے لگیں، انہیں گاڑیوں کی بھیڑ میں عادل کو فاطمہ کا چہرہ نظر آیا۔ وہ دور دوسری جانب بس اسٹاپ پر دونوں بچوں کے ہمراہ کھڑی تھی، نظر پڑتے ہی وہ اپنی گاڑی سے اترا انجن بند کیا اور گزرتے ٹریفک کے کچھ کم ہونے کا انتظار کیا۔
’’فاطمہ… فاطمہ… ذین۔‘‘ وہ دور سے ہی انہیں آوازیں دینے لگا۔ حیرت انگیز طور پر فاطمہ کی نظر بھی اس پہ پڑگئی، درمیان سے گزرتی گاڑیاں تھم نہیں رہی تھیں۔ وہ اس تک جلد سے جلد پہنچنا چاہ رہا تھا، فاطمہ نے اسی اثناء میں دونوں بچوں کے ہاتھوں کو تھاما اور تیزی سے آگے بڑھنے لگی، وہ ہولے ہولے قدموں سڑک کے کچھ درمیان میں آچکا تھا۔ ایک تیز رفتار گاڑی نے عین اس کے پاس آکے بریک لگائی، شدید چرچراہٹ کی آواز ہوئی، باوردی ٹریفک کانسٹیبل نے سیٹیاں بجائیں اور اسے ہٹ جانے کو کہا، لیکن وہ فاطمہ تک پہنچنا چاہ رہا تھا، جبکہ فاطمہ اس سے بھاگ جانا‘ چھپ جانا چاہتی تھی۔
اسی جنگ میں ایک بس سڑک کی دوسری طرف رکی اور فاطمہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی، وہ دوڑا دوڑا سڑک پار کرکے آیا‘ لیکن تب تک وہ بس میں بیٹھ چکی تھی، بس آگے بڑھ گئی تھی، وہ بس کے پیچھے دوڑنے لگا۔
’’رکو فاطمہ، میری بات سنو، ایک بار میری بات سن لو، مجھے موقع دے دو۔‘‘ وہ دوڑ دوڑ کے کہہ رہا تھا، اس کا سانس بھی پھولنے لگ گیا تھا، آنکھوں میں آنسو آگئے وہ اسے روک نہیںپایا، وہ پھر دنیا کی بھیڑ میں کھو گئی۔
مرے مرے قدموں سے وہ واپس گاڑی تک آیا، ٹریفک کانسٹیبل گاڑی کا چالان کر چکا تھا، اس نے کوئی مزاحمت نہیںکی‘ چالان کی رقم ادا کی اورگاڑی میں بیٹھ گیا، ایک ویران سڑک پہ آکے اس نے گاڑی روکی اور اسٹیئرنگ وہیل پہ گردن جھکا کے رونے لگ گیا۔
’’کیوں کر رہی ہو تم ایسا میرے ساتھ؟ کس جرم کی سزا دے رہی ہو مجھے؟ میرے جرم محبت کی ؟ کیاتم نے میری آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھی ہے؟ اپنے لیے وہ خاص مقام دیکھا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم میرے لئے کیا ہو؟ کہاں تلاش کروں تمہیں؟ کہاں ڈھونڈوں؟ کس پتھر کو کھود کے نہریں نکالوں؟ کس بستی میں قیس کی طرح کپڑے پھاڑ کے پھروں؟ کس گائوں میں مہینوال بن کے آئوں؟ بتائو مجھے کوئی اور سزا تجویز کرو میرے لئے، جدائی کی یہ سزا مجھے مت دو۔‘‘ وہ مضبوط باہمت مرد آج ایک کمزور سی لڑکی کے لئے آنسو بہا رہا تھا آج اس کے لئے ٹوٹ رہا تھا، ملتجی تھا کہ ’’میری آنکھیں خریدو گے؟ مجھے اک خواب کا تاوان بھرنا ہے۔‘‘

…٭٭٭…


ان گزشتہ چند مہینوں میں ارسلان نے ماہا کے اپنے تئیں محبت اور سچائی بہتر طور پہ محسوس کی تھی، وہ جس طرح اس کے لئے صبح اٹھتی، خود ناشتہ بناتی، کپڑے استری کرتی، اس کے ہر کام کا خیال رکھتی تھی، رات کو سونے سے قبل دودھ کا گلاس بلاناغہ اس کے کمرے میں پہنچاتی تھی، ارسلان نے اس محبت اور اپنائیت میںممتا کا روپ محسوس کیا تھا اور بیک وقت اس نے ذوالفقار کا رویہ بھی ماہا کے لئے بخوبی محسوس کیا تھا اور وہ بہتر طور پہ جان گیا تھا کہ ماہا بھی اسی کی طرح اس گھر میں ایک Unwanted چیز ہے‘ جس کی وقت اور جس کی ضرورت شایدکسی کو نہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ ماہا کے قریب آگیا تھا‘ اوراس سے دوستی کر لی تھی۔
گو کہ یہ رشتہ اوّل روز سے ایک ماں بیٹے کا ہی رشتہ تھا‘ لیکن پھر بھی اس رشتے نے ایک مقدس دوستی اور اٹوٹ بندھن کا روپ دھار لیا تھا‘ اور یہ دونوں کے لئے ہی اطمینان بخش تھا۔






ماں بیٹے کایہ عجیب سا رشتہ تھا‘ جسے ذوالفقار نے بھی بخوبی محسوس کیا، وہ دونوں ساتھ کالج آتے، ساتھ کھانا کھاتے، ماہا کی ہائوس جاب والے سال میں ارسلان نے میڈیکل کالج انٹر کیا او ر میڈیسن کے پہلے سال میں داخل ہوا، ذلفی کوتو توقع ہی نہ تھی کہ اس کا بیٹا کبھی میڈیکل میں داخل ہو بھی سکے گا‘ لیکن یہ ماہا ہی کی توجہ اور محبت تھی جس نے یہ سب کر دکھایا۔
ان گزرتے سالوں نے ماہا کو شارق کا بہترین دوست بنا ڈالا تھا، گو کہ شارق نے شادی کر لی تھی‘ اور شارق کی بیوی صنم، ارسلان ، ماہا اور شارق ان چاروں کی دوستی ایک مثالی دوستی بن گئی تھی۔ ان چاروں نے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا ایک دوسرے کو دوستی اور محبت کا ایک بھر پور احساس دیا تھا اور ان تمام رشتوں میں جکڑی ماہا کو اس بات کا غم ہی نہ تھا کہ ذوالفقار اس کے نہ ہوسکے تھے‘ اور ابھی تک اسی تخیل کی دنیا کے سہارے زندہ تھے۔ ماہا نے ان کی زندگی سے چلے جانے کی کبھی کوشش نہیں کی‘ کیونکہ اب اس کا بیٹا اس کا بہترین دوست ارسلان اس کی زندگی کاسرمایہ تھا‘ اور وہ اس کو بن ماں کے چھوڑ نہیں سکتی تھی، ارسلان کی تعلیم، تربیت اور پرورش ہی ماہا کی زندگی کا نصب العین تھا۔
علاوہ ازیں ماہا نے بطور چائلڈز اسپیشلسٹ اپنی پریکٹس کا آغاز کر لیا تھا‘ اور وہ شہر کی مشہور ڈاکٹر بن گئی تھی، ننھے بچوں سے اس کی محبت اس وقت زیادہ مطمئن ہوتی‘ جب کوئی ننھا فرشتہ اس کے ہاتھ سے شفا پاتا اور صحت یاب ہوتا اس نے بچوں کے لئے ایک ہاسپٹل بھی بنایا‘ جسے اس نے عین اپنی سوچ کے مطابق ڈھالا، یہ چھوٹا سا پرائیویٹ ہاسپٹل بچوں کے اسکول اور نرسری کی طرح لگتا تھا‘ جہاں آنے والے مریض بچے طرح طرح کے کھیل کھلونوں سے حرف و ہندسوں سے کھیلتے تھے، انجکشن لگانے والی نرسیں بچوں کو دوا کے ساتھ ٹافی اور چاکلیٹس دیتیں، ہر کمرے میں بچوں کے دیکھنے کے لئے ٹی وی اور کارٹون موویز ہوتیں‘ اور یہاں غریبوں اور یتیموں کامفت علاج کیاجاتا، شہر کے تمام اسپیشلسٹ ڈاکٹر یہاں سرجری اور دیگر چیزوں کے علاج کے لئے بلوائے جاتے تھے‘ اور اس طرح ماہا نے اپنی محرومیوں کوشکست دے کر زندگی کی زرد چادر کو خوبصورت رنگوں سے بنا تھا، آج وہ بالکل تہی داماں نہ تھی‘ بلکہ وہ ایک بھرپور زندگی جی رہی تھی، اپنے لئے اوراپنے آپ سے جڑے کئی ہزاروں لاکھوں زندگیوں کے لئے۔

…٭٭٭…
یہاں ہر شخص ہرپل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے
 کھلونا ہے جو مٹی کافنا ہونے سے ڈرتا ہے
میرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
عجب ہے زندگی کی قید میں دنیا کا ہرانسان
رہائی مانگتا ہے اور رہا ہونے سے ڈرتا ہے


ہولے ہولے اذین عدنان اپنی گاڑی آج شہید فائونڈیشن کی اس عمارت کی طرف بڑھا رہا تھا‘ جس کی مینیجنگ ڈائریکٹر اس کی اپنی ماں مسز فاطمہ عادل تھی‘ اور ہیڈ اس کے بابا عادل تھے، وہ خود اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یو کے میں سیٹل ہوگیاتھا‘ اور وہیں اچھی پوسٹ پہ کام کرتا تھا۔ حرا کی شادی ہوچکی تھی‘ اوروہ شادی کے بعد اسلام آباد شفٹ ہوگئی تھی۔ ان گزشتہ پچیس سالہ اپنی زندگی میں اس نے بہت کچھ دیکھا تھا۔ ننھی سی آٹھ سالہ آنکھوں نے والد کی شہادت دیکھی‘ پھر اس کے بعد اس کی والدہ ان دونوں بھائی بہن کو لے کر ایک ورکنگ ویمن ہاسٹل میں شفٹ ہوگئی‘ اور اس کے پیارے بابا سے تمام ناطے توڑ ڈالے، نجانے کن مشکلات سے گزر کے عادل نے ایک سال بعد انہیں ڈھونڈ نکالا‘ اوراس طرح انہوں نے عادل کو دوبارہ پالیا، اس کی چٹان سی مضبوط ماں نے اسی انسان کا سہارا قبول کر لیا کہ جس نے اس کے لئے دنیا چھوڑ دی تھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ صرف وہی انسان اس کے مرحوم شوہر سے ویسی محبت کر سکتا ہے‘ جیسی وہ خود کرتی ہے‘ اورایسا ہی ہوا، وہ اپنے شہید شوہر سے ہمیشہ جڑی رہی، عادل نے اس کے بچوں کو اڈاپٹ تو کیا پر کبھی باپ کے خانے میں اپنا نام نہیں لکھا اور وہ حرا عدنان اور اذین عدنان کاسرپرست بنا رہا، دونوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، بہترین زندگی اور بھر پور محبت دی۔
فاطمہ اور عادل نے مل کر شہید فائونڈیشن نامی ادارے کی بنیاد رکھی، جہاں تمام شہیدوں کی بیوائوں کو روز گار ملا، یتیموں کو تعلیم، خوراک اور کپڑے ملے ، فاطمہ اور عادل نے ہر شہید کے خاندان کا سرپرست ہونے کا ذمہ اپنے سر لیا‘ اور اس اللہ کے امر کی پیروی کر کے ان لوگوں نے دلی سکون اور اطمینان پالیا۔
اذین عدنان آج سالوں بعد سفید رنگ کی اس بلند وبالا عمارت کے اندر آیا تھا‘ دور سے ہی اس کے بیسٹ فرینڈ بابا کی مسکراہٹ اسے نظر آگئی، وہ گاڑی سے اترا، اس کی باوقار خوبصورت ماں نیلے رنگ کی کاٹن کی ساڑھی میں ملبوس مطمئن اور خوش تھی۔
ساتھ ہی بنے پلے گرائونڈ میںکئی سارے بچے کھیل رہے تھے‘ اور اذین اپنی کھلی آنکھوں سے اپنے ہی جیسے بچوں کو دیکھ رہا تھا، فاطمہ اور عادل نے جس طرح کی شفقت انہیں دی، اسی طرح کی شفقت وہ ان تمام یتیموں کے نام کر رہے تھے، تاکہ کل ان میں سے کوئی محرومی اور بھوک سے بھاگ کر دہشت گرد نہ بنے‘ اور کسی اور بچے کو یتیم نہ کرے‘ اور آگہی پھیلانے کا، زندگی کی زرد چادر کو خوشنما بنانے کا شاید یہی






طریقہ تھا۔
اذین عدنان بہت اطمینان اور سرشاری سے مسکرایا تھا‘ اور اپنی ماں کے قدموں تک اپنا ہاتھ لے گیا تھا، جواب میں سر پر شفقت سے آنے والا ماں کا ہاتھ اس کی متاعِ حیات تھا۔

…٭٭٭…


’’اور اب یونیورسٹی کے ٹاپ اسکورر کو اسٹیج پہ بلاتا ہوں کہ وہ آئیں اور اپنی ڈگری کے ہمراہ گولڈ میڈل حاصل کریں‘ اور وہ ہیں ڈاکٹر ارسلان احمد۔‘‘ اسٹیج پہ نام انائونس ہوتے ہی تالیوں کی گونج اور شور میں ارسلان اپنی کرسی سے اٹھا‘ اور انتہائی فخر مند چال چلتا ہوا اسٹیج تک آیا‘ اور میڈل پہننے اور ڈگری لینے کے بعد وہ بہت فخر سے مائیک پہ گویا ہوا۔

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں یہ سارا مقام تم سے ہے


’’آج میں جو کچھ ہوں جہاں ہوں‘ صرف ایک ہستی کی وجہ سے ہوں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو ارسلان احمد آج اپنی ہی محرومیوں تلے دب گیا ہوتا، آج ارسلان احمد یا تو خودکشی کر کے مرچکا ہوتا‘ یا پھر کسی کونے میں نشہ کر کے پڑا ہوتا۔ انہوں نے میری مردہ ممی میں روح پھونکی۔ انہوں نے ہی میرے اندر میرے ہونے کا ادارک دیا۔ انہوں نے ہی مجھ میں مجھی کو زندہ کیا۔ آج میں جو ہوں‘ انہی کی وجہ سے ہوں۔ ماں آپ ہی میری زندگی ہیں۔ گو کہ میری پیدائش میںآپ کا کوئی ہاتھ نہیں‘ لیکن میرے ہونے میں آپ کا ہاتھ ضرور ہے، اس میڈل کی حقدار آپ ہیں ماں، صرف آپ، آپ کی تالیوں میں میں بلاتا ہوں ڈاکٹر ماہا ذوالفقار کو، کہ وہ آئیں اور یہ میڈل مجھ سے لیں۔‘‘ ارسلان کی آنکھوں میں نمی تھی‘ اور ماہا کے آنسوئوں پہ بھی کوئی بند نہیں باندھا جارہا تھا‘ صنم نے اسے اٹھنے کو کہا‘ اور وہ اپنی نشست سے اٹھی‘ پورا ہال جذبات سے بھیگا بھیگا تھا اور پھر سبھی کی دھند لاتی آنکھوں نے دیکھا کہ کس طرح ایک تقریباً ہم عمر بیٹے نے ماں کو اعزاز بخشا‘ اور سب سے زیادہ یہ منظر ذوالفقار احمد کے لئے حیرت ناک تھا‘ آج اس کی آنکھوں سے اس کی انا کا خول اترا تھا۔ آج اس نے ماہا کے شدید عشق کو اپنے اندر اپنی روح کے بہت اندر محسوس کیا تھا۔

…٭٭٭…


آج وہ بہت عرصے بعد اکیلی ساحل سمندر پر آئی تھی، نہ اس نے صنم کو بتایا تھا‘ او رنہ شارق اور ارسلان کو، اکیلے بیٹھی لہروں کی لڑائی دیکھ رہی تھی کہ جب اسے اپنے پاس کسی کے بیٹھنے کا احساس ہوا، اس نے مڑ کر دیکھا وہ ذوالفقار تھے۔
’’ارسلان نے بتایا کہ تم یہیں ملو گی، اس لئے یہاں آگیا۔‘‘ وہ بولے۔
’’کیا کہنے آئے ہیں آپ اور …‘‘ وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔
’’بات بہت لمبی ہے، مختصر لفظوں میں کیسے کہوں؟ پھر بھی تمہارے اطمینان کے لئے صرف اتنا کہوں کہ مجھے معاف کر دو۔ ان تمام گزرے برسوں کے لئے کہ جب تم نے مجھے اپنا سب کچھ دیا‘ اور میں تمہیں کچھ نہیں دے پایا۔‘‘ وہ بولا۔
’’کیا برسوں کی تلافی لمحوں میں ہوسکتی ہے ذوالفقار۔‘‘ وہ بولی۔
’’نہیں ہوسکتی اسی لئے تو آئندہ کی پوری زندگی مانگ رہا ہوں تلافی کے لئے‘ جو میرا اور تمہارا رشتہ ہے کم از کم اس کا تو حق بنتا ہے ناں کہ میں تمام عمر تمہارے آگے دوزانو جھکا رہوں‘اور تم سے معافی مانگتا رہوں۔‘‘ ذلفی نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
’’آپ کی جگہ ہمیشہ میرے دل میں تھی اور رہے گی۔‘‘ وہ بولی۔
’’ تو پھر تیار ہو ایک نئی زندگی کے لئے نئے روز و شب کے لئے۔‘‘ ذلفی کی آنکھوں میں نئی امیدوں کے جگنو چمک رہے تھے۔
’’میں نے خواہشوں کی تتلیوں کا تعاقب چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’کبھی کبھی تتلیاں خود ہمارے باغوں کی طرف لوٹ آتی ہیں‘ جو خوشبوئوں کی سفیر ہوتی ہیں‘ کیا ان تتلیوں کو تم اب اپنی مٹھیوں میں پناہ نہیں دو گی؟ کیا مجھے تلافی کاموقع نہیں دو گی ؟‘‘ وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔
ماہا کی آنکھوں سے دواشک گرے اور ذلفی کی ہتھیلیوں پہ ٹھہر گئے‘ اور پھر لمبی تھکن کے بعد ماہا نے اپنا سر ذلفی کے کندھے پہ ٹکا دیا۔

ختم شد

of 32 
Go