’’اور اب یونیورسٹی کے ٹاپ اسکورر کو اسٹیج پہ بلاتا ہوں کہ وہ آئیں اور اپنی ڈگری کے ہمراہ گولڈ میڈل حاصل کریں‘ اور وہ ہیں ڈاکٹر ارسلان احمد۔‘‘ اسٹیج پہ نام انائونس ہوتے ہی تالیوں کی گونج اور شور میں ارسلان اپنی کرسی سے اٹھا‘ اور انتہائی فخر مند چال چلتا ہوا اسٹیج تک آیا‘ اور میڈل پہننے اور ڈگری لینے کے بعد وہ بہت فخر سے مائیک پہ گویا ہوا۔
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں یہ سارا مقام تم سے ہے
’’آج میں جو کچھ ہوں جہاں ہوں‘ صرف ایک ہستی کی وجہ سے ہوں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو ارسلان احمد آج اپنی ہی محرومیوں تلے دب گیا ہوتا، آج ارسلان احمد یا تو خودکشی کر کے مرچکا ہوتا‘ یا پھر کسی کونے میں نشہ کر کے پڑا ہوتا۔ انہوں نے میری مردہ ممی میں روح پھونکی۔ انہوں نے ہی میرے اندر میرے ہونے کا ادارک دیا۔ انہوں نے ہی مجھ میں مجھی کو زندہ کیا۔ آج میں جو ہوں‘ انہی کی وجہ سے ہوں۔ ماں آپ ہی میری زندگی ہیں۔ گو کہ میری پیدائش میںآپ کا کوئی ہاتھ نہیں‘ لیکن میرے ہونے میں آپ کا ہاتھ ضرور ہے، اس میڈل کی حقدار آپ ہیں ماں، صرف آپ، آپ کی تالیوں میں میں بلاتا ہوں ڈاکٹر ماہا ذوالفقار کو، کہ وہ آئیں اور یہ میڈل مجھ سے لیں۔‘‘ ارسلان کی آنکھوں میں نمی تھی‘ اور ماہا کے آنسوئوں پہ بھی کوئی بند نہیں باندھا جارہا تھا‘ صنم نے اسے اٹھنے کو کہا‘ اور وہ اپنی نشست سے اٹھی‘ پورا ہال جذبات سے بھیگا بھیگا تھا اور پھر سبھی کی دھند لاتی آنکھوں نے دیکھا کہ کس طرح ایک تقریباً ہم عمر بیٹے نے ماں کو اعزاز بخشا‘ اور سب سے زیادہ یہ منظر ذوالفقار احمد کے لئے حیرت ناک تھا‘ آج اس کی آنکھوں سے اس کی انا کا خول اترا تھا۔ آج اس نے ماہا کے شدید عشق کو اپنے اندر اپنی روح کے بہت اندر محسوس کیا تھا۔
…٭٭٭…
آج وہ بہت عرصے بعد اکیلی ساحل سمندر پر آئی تھی، نہ اس نے صنم کو بتایا تھا‘ او رنہ شارق اور ارسلان کو، اکیلے بیٹھی لہروں کی لڑائی دیکھ رہی تھی کہ جب اسے اپنے پاس کسی کے بیٹھنے کا احساس ہوا، اس نے مڑ کر دیکھا وہ ذوالفقار تھے۔
’’ارسلان نے بتایا کہ تم یہیں ملو گی، اس لئے یہاں آگیا۔‘‘ وہ بولے۔
’’کیا کہنے آئے ہیں آپ اور …‘‘ وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔
’’بات بہت لمبی ہے، مختصر لفظوں میں کیسے کہوں؟ پھر بھی تمہارے اطمینان کے لئے صرف اتنا کہوں کہ مجھے معاف کر دو۔ ان تمام گزرے برسوں کے لئے کہ جب تم نے مجھے اپنا سب کچھ دیا‘ اور میں تمہیں کچھ نہیں دے پایا۔‘‘ وہ بولا۔
’’کیا برسوں کی تلافی لمحوں میں ہوسکتی ہے ذوالفقار۔‘‘ وہ بولی۔
’’نہیں ہوسکتی اسی لئے تو آئندہ کی پوری زندگی مانگ رہا ہوں تلافی کے لئے‘ جو میرا اور تمہارا رشتہ ہے کم از کم اس کا تو حق بنتا ہے ناں کہ میں تمام عمر تمہارے آگے دوزانو جھکا رہوں‘اور تم سے معافی مانگتا رہوں۔‘‘ ذلفی نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
’’آپ کی جگہ ہمیشہ میرے دل میں تھی اور رہے گی۔‘‘ وہ بولی۔
’’ تو پھر تیار ہو ایک نئی زندگی کے لئے نئے روز و شب کے لئے۔‘‘ ذلفی کی آنکھوں میں نئی امیدوں کے جگنو چمک رہے تھے۔
’’میں نے خواہشوں کی تتلیوں کا تعاقب چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’کبھی کبھی تتلیاں خود ہمارے باغوں کی طرف لوٹ آتی ہیں‘ جو خوشبوئوں کی سفیر ہوتی ہیں‘ کیا ان تتلیوں کو تم اب اپنی مٹھیوں میں پناہ نہیں دو گی؟ کیا مجھے تلافی کاموقع نہیں دو گی ؟‘‘ وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔
ماہا کی آنکھوں سے دواشک گرے اور ذلفی کی ہتھیلیوں پہ ٹھہر گئے‘ اور پھر لمبی تھکن کے بعد ماہا نے اپنا سر ذلفی کے کندھے پہ ٹکا دیا۔
ختم شد